آسا م (ویب ڈیسک)بھارت کی ریاست آسام میں نفرت اگلتے جنونی ہندوو¿ں نے ایک اور مسلمان پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگا کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کردیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہجوم نے ایک مسلمان بزرگ 68 سالہ شوکت علی کو گھیر رکھا ہے جن کے کپڑے زدوکوب کرنے کے باعث کیچڑ میں لت پت اور پھٹ چکے ہیں۔بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اسی واقعے کی دوسری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ تنہا شخص کو گھیر کر انتہا پسند ہندوو¿ں نے ایک پیکٹ میں سے سور کا گوشت نکال کر انہیں وہ گوشت کھانے پر مجبور کیا۔ویڈیو میں جنونی افراد بزرگ شخص سے ان کی شناخت ثابت کرنے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔واضح رہے کہ بھارتی ریاست آسام میں گائے کے گوشت پر پابندی نہیں ہے اور ا?سام کے قانون کے مطابق 14 سال کی عمر سے زائد مویشی کو کاٹنے کی اجازت ہے جس کے لیے جانور کی صحت سے متعلق سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہے۔مقامی پولیس کے مطابق شوکت ایک کاروباری شخص ہیں اور گزشتہ 35 سال سے اس علاقے میں ہوٹل چلا رہے ہیں ہجوم نے ان پر ہر ہفتے لگنے والے بازاروں میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگایا۔

































