لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بڑا افسوسناک واقعہ ہے پاکستان میں جس بھی سیاست دان کو دیکھیں معلوم یہ ہوتا ہے اس نے کوئی کسر نہیں چھوری ہے پاکستان سے باہر پیسے بھیجنے میں اور نوازشریف، شہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ اور ان کے بھائی سلمان شہباز کے بارے میں پتہ چلا کہ سب سے زیادہ پیسے انہوں نے بھجوائے ہیں اس سے لگتا ہے کہ جتنی مرضی تقریریں کر لیں مان بھی لیا جائے کہ وہ صحیح کہتے ہیں ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تب اس بات سے کیسے انکار کر سکتے ہیں آپ باہر پیسے بھیج رہے تھے جب پیسے بھیجنے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کرنے کے لئے گئے تو آپ کے ورکروں نے بدنامی کی اور اگر نیب کو عدالت کے احتیار حاصل ہیں اگر اِس کے لوگ کسی کو پکڑنے کے لئے جاتے ہیں یا پوچھ گچھ کے لئے جاتے ہیں تو کیا ان کے کپڑے پھارنے چاہئیں۔ جس قسم کی بدمعاشی کا سلسلہش روع ہو گیا ہے یہ پاکستان کو کہاں لے جائے گا۔ کیا ملزموں کو اس بات کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ جب جی چاہیں بیان دیں جب جی چاہے نہ بیان دیں۔ جس نہج پر سلسلہ چل نکلا ہے حکومتی مشینری کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔ اس بات سے لوگ ہیرو بنتے ہیں اور اکڑتے ہیں۔ کیا آپ کا گھر کوئی قلعہ ہے اس میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔ آصف زرداری نے جو کہا تھا کہ جب چاہوں لات مار کر حکومت گرا دوں گا عمران خان نے جواب دے دیا کہ عنقریب زرداری صاحب جیل جائیں گے۔ عدالتوں کے نظم نسق کو چلنے دینا۔ اگر کوئی گرفتار کرنے آتا ہے اس کو آگے سے اکڑ فوں دکھانا یہ تو کسی بھی طور پر پسندیدہ فعل نہیں ہے۔ نوازشریف اور شہباز شریف نے بھی گرفتاریاں دی ہیں نئی نسل لگتا ہے زیادہ اکڑفوں میں ہے۔ بلاول بھٹو صاحب جو ہیں وہ دھمکیاں دے رہے ہیں وہ اپنے واہد صاحب کی منی لانڈرنگ کے کیس کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیتے کوئی وضاحت نہیں کرتے ذرا اس کی وضاحت کر دیں کہ یہ پیسے کیوں باہر بھیج رہے تھے اور کس لئے بھیج رہے تھے اور سلمان شہباز صاحب جو اپنی بیگم صاحبہ کو لے کر پاکستان سے باہر چلے گئے۔ انہوں نے سب سے زیادہ پیسے بھجوائے تھے اب جس طریقے سے یہ سلسلہ چل رہا ہے یہ تو لگتا ہے کہ ماریں بھی اور رونے بھی نہ دیں۔ فواد چودھری نے کہا ہے کہ 80 ارب سے 100 ارب روپے تک باہر بھیجے گئے ہیں جہ چھوٹی رقم نہیں ہے۔ اس سے قطع نظر کہ کون کیا ہے کون بڑے باپ کا بیٹا ہے جرم اور سزا کا جو قانون ہے وہ ظاہر کرتا ہے جو بھی کوئی ہے اسے قانون کی پکڑ میں آنا چاہئے۔ یہ ملک کے معاشرے کے لوگوں کا فیصلہ کرنا چاہئے کہ ہم نے اس ملک کا نظام کس قانونن یا ضابطے کے مطابق چلنا ہے یا جس کی بدمعاشی اس کی دھونس اس کے مطابق چلنا ہے۔ شہباز شریف کے صاحبزادوں کو حق حاصل ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی ہے ضرور پریس کانفرنس کریں گے لیکن آج میں نے حمزہ شہباز کی جو گفتگو سنی ہے میری سمجھ میں نہیں آیا آخر وہ کیا چاہتے ہیں۔ اگر واقعی ان کو پہلے بھی بلایا گیا تھا جب بھی بلاتےے ہیں وہ آ جاتے ہیں ان کو حق حاصل ہے کہ وہ شکایت کریں۔ لیکن یہ اس بات کا جواب نہیں ہے کہ 85 ارب سے لے کر 100 ارب روپے تک تو باہر بھیجے گئے سلمان شہباز کے ذریعحے اور شہباز شریف کے ملازموں کے ذریعے یا حمزہ صاحب نے باہر بھیجے۔ آصف زرداری کے صاحبزادے ہوں تو وہ بھی اس کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ اس پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہماری پکڑ دھکڑ کیوں ہے اس بات کا کیا جواب ہے کہ اس غریب قوم کا پیسہ باہر کیوں بھیجا جا رہا ہے جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے اور ملک کے معاملات جو ہیں جس طریقے سے عام آدمی کو کوئی دکھ اور تکلیف ہے اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کی پرفارمنس معیشت کے سلسلے میں بہت بری ہے لیکن اس کا بھی جواب دیا جا سکتا کہ خواہ آصف علی زرداری ہووںیا آپ لیڈران کرام ہں ان کے حوالے سے ہر تیسرے دن یہ بات کیوں سامنے آتی ہے فلاں نے باہر پیسے بھیجے آخر یہاں پیسے رکھنے میں کیا حرج ہے۔ یہاں رہ کر خرچ کریں ملک سے باہر تو نہ لے جائیں۔ 8 تاریخ کو شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کے سلسلے میں طلب کر لیا گیا ہے اگر انہوں نے کوئی منی لانڈرنگ کی ہے انہیں جواب دینا پڑے گا اگر نہیں کی ہے تو بری ہو جائیں گے۔ عمران خان نے خطاب میں زرداری کو جواب دیا ہے کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی ہے زرداری صاحب جیل میں جانے والے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جس طرح مریم اورنگزیب صاحبہ نے کہا کہ نوازشریف کے بیٹوں کے بارے میں کہا کہ وہ باہہر کاروبار کر رہے ہیں جناب منی ٹریل کا مقصد اتنی دیر سے پاکستان میں تنازعہ ہے کہ جو ان کے دونوں صاحبزادے ہیں انہوں نے اتنے پیسے وہاں کیسے پہنچا دیئے۔ اور اتنا مال اسباب ان کے پاس کہاں سے آیا۔ اگر نوازشریف نے ان کو پیسے نہیں دیئے تو پھر کس نے دیئے اور جب وہ پاکستان سے باہر گئے تو وہ نابالغ تھے۔ کوئی ایسا طریقہ پاکستان کے لوگوں کو بتایا جائے کہ ان کی نابالغ اولادیں جب باہر جائیں تو پھر وہ دنوں میں اَرب پتی بن جائیں تو باقی لوگ بھی ارب پتی بن سکیں۔ ہمارے جو بھائی بھتیجے جو ہیں یہ یہاں چھوٹی چھوٹی نوکریاں کرتے ہیں 40,30 ہزار روپے میں اور بمشکل اپنی دال روٹی پوری کرتے ہیں۔ ہم ان کو بتائیں کہ یہ طریقہ ہے اس طریقے سے آپ لندن کی سب سے بڑی پراپرٹیو ںکے مالک بن سکتے ہیں۔ آج لفظی جنگ ہوئی بلاول بھٹو صاحب نے بڑا زبردست جملہ کہا کہ ایک لات مار کر حکومت گرا سکتا ہوں اس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ حکومت تو نہیں جا رہی زرداری صاحب جیل جا رہے ہیں۔ سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کے بارے میں منی لانڈرنگ کی شکایات آئی ہیں۔ اس سے پہلے آصف زرداری کے حوالہ سے بھی مختلف شکایات آتی رہی ہیں اور اب کہا جا رہا ہے عمران خان کے بقول کہ وہ جیل جائیں گے۔ کیا وجہ ہےکہ پاکستان میں کوئی بھی بڑا لیڈر نہیں ہے جو منی لانڈرنگ کے الزام میں ملوث نہ ہو۔ پیپلزپارٹی کے لیڈروں پر یہ الزامات کیوں ہیں وہ پاکستان سے باہر پیسے بھیجتے رہے ہیں۔
بھارت میں 600 سے زائد فنکاروں کا بی جے پی حکومت کے خلاف بیان بڑی اہم خبر ہے۔ اس فہرست میں بڑے فنکارو ںکے نام بھی شامل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ فنکار لوگ بڑے حساس ہوتے ہیں انسانیت کیلئے ان کے دل میں درد عام آدمی کی نسبت زیادہ ہوتا ہے یہ لوگ کسی سے زیادتی پسند نہیں کرتے۔ بھارت کے فنکاروں نے بھی جب دیکھا کہ وہاں اقلیتوں کے ساتھ اور ایک عام معتدل ہندو کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے تو انہوں نے مودی سرکار کے خلاف عوام سے اپیل کر دی ہے کہ اسے ووٹ نہ دیئے جائیں کیونکہ یہ نفرت کی سیاست کے علمبردار ہیں۔

































