لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کیلئے سنجیدہ ہے، باراک اوباما بھی فوجیں واپس لانا چاہتے تھے تاہم امریکی اسٹیبلشمنٹ، فوج اور پینٹا گون کے دباﺅکے باعث ایسا نہ کر سکے۔ صدر ٹرمپ کے گرد بھی شروع میں 3 جرنیل اہم عہدوں پر تھے تاہم ان سے ایک ایک کر کے جان چھڑا لی کیونکہ وہ تینوں بھی افغانستان سے نکلنے کے حق میں نہیں تھے۔ افغانستان میں روایتی جنگ نہیں گوریلا وار ہے امریکہ آئندہ 50 سال بھی یہ جنگ نہیں جیت سکتا۔ صدر ٹرمپ اوباما کے مقابلے میں مضبوط ثابت ہوئے کسی دباﺅ کو خاطر میں نہ لائے اور فوجیں واپس بلا رہے ہیں۔ امریکہ اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہے کہ جب وہ جنگ نہیں جیت سکتا تو کیو ںاپنے فوجیوں کی جانیں ضائع کرے۔ یہ بات تو ٹھیک ہے تاہم اس میں پاکستان کیلئے بڑے خدشات اور خطرات ہیں امریکہ اگر ماضی کی طرح بھی خاموشی سے افغانستان سے نکل گیا تو وہاں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی جس کے نتیجہ میں طالبان کیلئے متحدہ افغانستان پر حکومت ناممکن ہو گی اس لئے طالبان نمائندے نے ماسکو میں کہا کہ وہ پورے افغانستان پر قبضہ نہیں چاہتے خواتین کے حوالے سے بھی نرمی کرنے کی بات کی۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ افغانستان میں جولائی میں الیکشن سے پہلے عوامی حکومت بنے جس میں طالبان اور افغان حکومت کے نمائندے شامل ہوں امریکہ جنگ بندی چاہتا ہے تاہم طالبان نے واضح کیا ہے کہ جب تک غیر ملکی افواج موجود ہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ امریکہ نے کہا کہ وہ دہشتگردی کیخلاف ایکشن کیلئے افغانستان میں اپنی بیسز پر چھوٹے دستے رکھنا چاہتا ہے۔ اس بات کی شروع میں طالبان نے مخالفت نہیں کی تاہم لگتا ہے کہ روس اور ایران نے طالبان کو قائل کر لیا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے مستقل اڈے نہیں ہونے چاہئیں ذاتی رائے ہے کہ وہاں امریکہ کے نہیں البتہ یو این یا او آئی سی کے تحت فوجی دستے تعینات رہنے چاہئیں۔ افغانستان میں اس سٹرکچرنگ کیلئے امریکہ اور یورپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ عبوری حکومت کیلئے طالبان کی ملاقاتیں شروع ہو چکی ہیں۔ طالبان کسی صورت امن کا کریڈٹ اشرف غنی کو نہیں دینا چاہئے۔ طالبان جو اتحاد بنا رہے ہیں اس میں اشرف غنی کے مخالف ہیں جس کا مقصد افغان صدر پر دباﺅ بڑھانا ہے۔ اشرف غنی کوغصہ ہے کہ طالبان اس سے بات کرنے سے انکاری ہیں اس لئے وہ پاکستان سے ناراض ہے اور غصہ نکال رہا ہے۔ پاکستان تو چاہتا ہے کہ طالبان افغان حکومت سے بات کریں لیکن طالبان ہماری بات ماننے کے پابندن نہیں ہیں۔ اشرف غنی اسی وجہ سے طالبان اور امریکہ کے بجائے پاکستان پر غصہ نکال رہا ہے۔ اشرف غنی کو سمجھ جانا چاہئے کہ طالبان اس کی حکومت کو محض پٹھو حکومت سمجھتے ہیں۔
This will not only be quicker but it is a lot less costly than hiring affordable-papers.net an expert.
































