لاہور (جنرل رپورٹر) نوازشریف کو مزید علاج کے لئے سروسز ہسپتال میں ہی رکھا جائے گا ، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے کارڈیک سپیشلسٹ ان کا سروسز ہسپتال میں آکر ہی میڈیکل چیک اپ کریں گے ،قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ سروسز ہسپتال سے کسی بھی دوسرے ہسپتال میں بر اہ راست منتقل کیا جا ئے ذرائع، سروسز ہسپتال میں زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جانے سے انکار کرتے ہوئے فوری طور پر جیل بھجوانے پر اصرار کیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں جیل بھجوا دیا جائے وہ پہلے بھی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ وہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سی سی یو 3 کے کیبن نمبر 6اور7میں داخل رہ چکے ہیں جبکہ پی آئی سی انتظامیہ کی جانب سے ہسپتال کے سی سی یو 3کے کیبن نمبر 4اور 5کو تیار کر دیا جا چکا ہے ۔ذرائع کا کہناہے کہ نوازشریف سروسز ہسپتال میں مکمل میڈیکل چیک اپ کےلئے داخل کیے گئے ہیں قانون کے مطابق نوازشریف کو سروسز ہسپتال سے پہلے جیل منتقل کیا جائے گا اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ فیصلہ کرے گی کہ انہیں جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی یا پھر اتفاق ہسپتال میں منتقل کر نا ہے جبکہ اس کے بعد متعلقہ ہسپتال کو سب جیل قرار دیا جائے گا تا ہم گزشتہ روز پنجاب حکومت نے نواز شریف کو سروسز ہسپتال میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور پی آئی سی کے ڈاکٹرز کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ سروسز ہسپتال آ کر ان کا معائنہ کریں گے جبکہ سروسز ہسپتال میں نوازشریف خون کی ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق ان کی کی فاسٹنگ شوگر ہائی ہے جس میں خالی پیٹ شوگر 155 ہے جبکہ نارمل 70 سے 100 ہونی چاہیے۔ لیپڈ پروفائل ٹیسٹ میں ٹرائی گلائے سیرائڈ بھی 219 ہے جو کہ نارمل سے زیادہ ہے جبکہ اس کا نارمل ریٹ 80 سے 150 ہونا چاہئے ۔نواز شریف کے کو لیسٹرول اور ایچ ڈی ایل کا تناسب بھی زیادہ ہے جو کہ 5.1ہے جبکہ نارمل 5 سے کم ہونا چاہیے ۔رینل فنکشنل ٹیسٹ میں بلڈ یوریا بھی 63ہے یہ نارمل 50 سے کم ہونی چاہئے لیکن نوازشریف کی 63 ہے۔نوازشریف کا سریم کریٹینین بھی 1.4ہے جو کہ معمول سے زیادہ ہے جبکہ اس کی نارمل رینج 1.3 سے کم ہونی چاہیے۔ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول بھی معمول سے کم نارمل رینج 55 سے 35 ہونی چاہیے جبکہ نوازشریف کی 28 ہے ۔ ذرائع کے مطابق سپیشل میڈیکل بورڈ کی متفقہ طور پر یہ رائے ہے کہ نواز شریف کودل کی شریانوں کامرض لاحق ہے نواز شریف کو ایسے ہسپتال میں رکھاجائے جہاں 24 گھنٹے اچھی طبی سہولیات میسر ہوںاور بلڈ شوگر اور بلڈچارٹ کومینٹین رکھا جائے۔رپورٹ میں تجویز یہ بھی تجویز کی گئی کہ نوازشریف کے دل کے مرض کی وجہ سے ان کے پرانے معالج سے بھی مشورہ کیا جائے اور انہیں مستقل آرام اور ان کی ادویات کو تبدیل کرنی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
































