لاہور (خبرنگار) قومی احتساب بیورو (نیب) نے پانامہ سکینڈل میں جاری تحقیقات میں ہم پیشرفت کرتے ہوئے پنجاب کے سینئر وزیر اور پاکستان تحریک انصاف مرکزی رہنما عبدالعلیم خان کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا جنہیں ریمانڈ کے حصول کےلئے آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا، تفصیلات کے مطابق نیب لاہور سینئر وزیر پنجاب علیم خان کے خلاف بیرون ملک جائیداد، آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنی کے حوالے سے تفتیش کررہا ہے، وہ آخری مرتبہ 8 اگست کو نیب کے سامنے پیش ہوئے جس کے بعد انہیں ایک سوالنامہ دیا گیا اور 6 فروری کو طلب کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں علیم خان چوتھی بار پیش کرنے کے لئے پونے گیارہ بجے کے قریب ٹھوکرنیاز بیگ پر موجود نیب کے دفتر پہنچے جہاں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج جس حوالے سے طلب کیا گیا اس پر واپسی پر بات کروں گا۔ نیب کے دفتر سے عبدالعلیم خان کا اسٹاف اکیلے روانہ ہوا اور سینئر وزیر نیب کے دفتر سے باہر نہیں آئے۔ نیب آفس میں پیشی کے موقع پر ان سے مختلف سوالات کیے گئے جبکہ 2گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی تحقیقات میں وہ نیب حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ نیب لاہور کی جانب سے جاری گرفتاری کی وجوہات کے مطابق عبدالعلیم خان کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کوآپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے بطور سیکرٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس کی بدولت پاکستان و بیرون ممالک میں مبینہ طور پر آمدن سے زاہد اثاثہ جات بنائے۔ ملزم عبدالعلیم خان نے ریئل اسٹیٹ بزنس کا آغاز کرتے ہوئے کروڑوں روپے مذکورہ بزنس میں انویسٹ کیے، علاوہ ازیں ملزم کی جانب سے لاہور اور مضافات میں اپنی کمپنی میسرز اے اینڈ اے پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام مبینہ طور پر 900کنال زمین خریدی جبکہ 600کنال مزید زمین کی خریداری کےلئے بیانہ رقم بھی ادا کی گئی تاہم ملزم عبدالعلیم خان مذکورہ زمین کی خریداری کےلئے موجودہ وسائل کے حوالے سے تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے ۔ملزم عبدالعلیم خان نے مبینہ طور پر ملک میں موجود اثاثہ جات کے علاوہ 2005اور 2006ءکے دوران متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں بھی قائم کیں جن میں ملزم کے نام موجودہ اثاثہ جات سے کہیں زیادہ اثاثے خریدے گئے جن کے حوالے سے نیب افسران تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم ملزم کی جانب سے ریکارڈ میں مبینہ ردو بدل کے پیش نظر ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے تاہم دوران گرفتاری ملزم کے اپنے اور دیگر بے نامی اثاثہ جات کے حوالے سے قانون کے مطابق تحقیقات رکھی جائیں گی ۔ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کا کہنا تھا کہ نیب بہتر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات سرانجام دے رہا ہے جس میں پسند نا پسند کا تصور نہیں۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے ویژن کے مطابق کرپٹ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی جب کہ تمام میگا کرپشن مقدمات کی انتہائی شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں جنہیں جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سرکرداں ہیں۔ نیب لاہور نے علیم خان کو نیب حوالات منتقل کر دیا گیا جہاں طبی ماہرین نے عبدالعلیم خان کا طبی معائنہ کیا ۔ طبی معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے انہی مکمل صحت مند قرار دے دیا۔ نیب نے اس موقع پر علیم خان کو اپنے استعمال کی اشیا گھر سے منگوانے کی اجازت دے دی ہے۔ سینئر وزیر پنجاب علیم خان کوآج نیب عدالت نے پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا تھا۔عبدالعلیم خان دن گیارہ بجے کے قریب ٹھوکرنیاز بیگ پر موجود نیب کے دفتر پہنچے۔ جہاں نیب نے علیم خان سے 18سوالات کئے جن میں سے وہ صرف3سوالات کے جواب دے سکے اور نیب کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد نیب نے انہیں حراست میں لے لیا۔ عبدالعلیم خان چوتھی بار قومی احتساب بیورو کے روبرو پیش ہو ئے تھے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنما کی ایف زیڈ سی اور اے این اے نامی کمپنیوں میں 90 کروڑ روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔اس حوالے سے بھی ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ صوبائی وزیر بلدیات اس سے پہلے سال 2018 میں تین بار نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں لیکن تاحال نیب حکام ان کے جمع کروائے گئے ریکارڈ اوت بیانات سے مطمئن نہیں ہو سکے۔ نیب کی جانب سے اس بار بھی حکومتی رکن کو فنانشل مینجمنبٹ یونٹ، ایف بی آر اور سیکیورٹیز ایکسچینبننج کمیشن آف پاکستان کی اہم دستاویزات ساتھ لانے کا کہا گیا تھا۔واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو تحریک انصاف کے رہنما علیم خان سے آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کر رہی تھی انہیں آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ علیم خان سال 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ گزشتہ سات سال سے وہ اس جماعت سے وابستہ ہیں۔ اس سے قبل وہ سابق صدر مشرف کے دور میں وزیر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ نیب میں گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ میں اپنے کیسز کا دفاع کروں گا ۔مجھے انصاف کی پوری امید ہے۔ پی ٹی آئی رہنما علیم خان نے بھرپور عدالتی جنگ لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔اس سلسلے میں علیم خان نے اپنی قانونی ٹیم کو بھی تیاری کا پیغام بھجوا دیا ہے۔
































