اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف مذہبی سکالر کل جماعتی کشمیر کونسل کے کنونیئر عبدالرشید ترابی نے کہا ہے کہ بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کے مقابلے میں کشمیری جس جرات کا مظاہرہ کر رہے ہیں ہمیں یقین ہے کشمیری آزادی لینے میں کامیاب ہوں گے‘ ہندوستانی فوج کا کشمیر سے نکلنا نوشتہ دیوار ہے۔ شکر ہے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر اجاگر ہوا۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ 7 میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں‘ معصوم بچوں، عورتوں نوجوانوں کو بڑی تعداد میں شہید کیا جا رہا ہے‘ کشمیریوں کی نسل کشی کی کوشش کی جا رہی ہے۔گزشتہ پاکستان حکومتیں کشمیر کی حمایت کے لئے تقاریر تو کرتی رہیں لیکن جس ہمہ گیر حمایت کی کشمیریوں کو ضرورت تھی اس کو عملی طور پر نہیں کیا گیا۔ البتہ نئی حکومت نے بلاشبہ اچھی کوشش شروع کی ہے۔ بطور ممبر کشمیر اسمبلی ہم مقبوضہ کشمیر کی حمایت کےلئے ہر فورم استعمال کر رہے ہیں آزاد کشمیر کی ساری پارٹیاں متفق ہیں۔ جب بلایا جاتا ہے ساری قیادت جمع بھی ہوتی ہے ہم اپنے مورچے پر بیٹھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ کشمیر میں بھارت کی پوزیشن ایک قابض کی ہے کشمیریوں کو آزادی کے لئے لڑنے کا پورا حق ہے۔ امریکہ پہلے جن کو دہشت گرد کہتا تھا آج ان سے مذاکرات کر رہا ہے۔کشمیریوں کی جدوجہد نے بھارتی ڈھونگ کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو بھی بہت کچھ کرنا چاہئے تھا لیکن نہیں کیا البتہ انہوں نے کشمیری قیادت سے تعلق رکھا۔ ہمیں توقع تھی وزیرعظم عمران خان سب سے پہلی میٹنگ کشمیر کے حوالے سے رکھیں گے لیکن ماضی کی طرح اب بھی اس کا فقدان نظر آیا۔ ہماری حکومت اورکشمیر کمیٹی کو بڑی جرات، اعتماد سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق نے کہا کہ کشمیریوں نے قیام پاکستان سے بہت پہلے بھی بہت قربانیاں دیں جدوجہد کی ایک طویل داستان ہے۔ بھارت اپنی ساری عسکری قوت کشمیر میں لگا چکا ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبا نہیں پایا۔انسانی حقوق کی پامالی کے لئے بھارت نے اسرائیل کی تقلید بھی کی۔ آج کشمیر پر پوری دنیا میں بات ہو رہی ہے بھارت کے تمام حربے ناکام ہو گئے۔گزشتہ دس سالوں کی حکومتوں نے کشمیر کے لئے آواز بلند نہ کی لیکن موجودہ حکومت پھر سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر رہی ہے۔نریندر مودی ہندوستان کے ترکش کے آخری تیر تھے جو کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر پائے۔ ماضی میں جو ہوا ہوگیا اب موجودہ حکومت کو چاہئے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو دنیا بھر میں اجاگر کرے۔ نائن الیون کا واقعہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو لڑانے کی امریکی سازش تھی۔انسانی حقوق کے کمیشن کی جو رپورٹ آئی اس پر پوری دنیا میں پاکستانی سفارتکاری مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔گزشتہ دس سالوں کی حکومتوں سے قبل کشمیری قیادت سے پاکستان سال میں دو مرتبہ ملاقات کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا اب فوری طور پر کشمیر کی حریت قیادت کو پاکستان آنے کی دعوت دینی چاہئے۔ ہندوستان کو کشمیر پر مذاکرات کرنا پڑیں گے۔ فضل الرحمن باصلاحیت آدمی ہیں اپنی صلاحتیوں کا دسواں حصہ بھی مسئلہ کشمیر کے حل پر لگاتے تو بھارت پر دباﺅ بڑھتا۔
































