تازہ تر ین

بھارتی مظالم بس اور چند برس کا کھیل ،کشمیری آزادی لیکر رہیں گے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر پر پورے پاکستان کے ہر شہر میں جلوس نکلے، ریلیاں نکالی گئیں۔ صدر پاکستان عارف علوی نے آزاد کشمیر اسمبلی میں خطاب کیا اور ایک روایت ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے اس خطاب میں انہوں نے رسمی باتیں نہیں کیں بلکہ بڑے بھرپور طریقے سے پرجوش انداز میں مطالبہ کیا کشمیریوں کا قتل عام بند کیا جائے اور جس طرح سے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگا جا رہا ہے یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جتنے گرفتار شدگان ہیں مسلمان جن کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے ان سب کو رہا کیا جائے۔ ان کی بات میں پہلی مرتبہ سچائی کی آواز بلند کی گئی دوسرا یہ کہ نہ صرف پاکستان کے اندر ساری جگہوں پر ریلیاں نکلیں ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی اور تقاریر ہوئیں۔ اخبارات نے خصوصی ایڈیشن چھاپے ٹی وی چینلز نے خصوصی پروگرام کئے اور جگہ جگہ پر دکھایا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر زندگی کتنی تنگ ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں جو بڑا ایک مظاہرہ ہوا ہے وہ یہ ہے برطانیہ کی ایک خاص اہمیت ہے۔ کیونکہ برطانیہ ہی سے ہندوستان اور پاکستان نے آزادی حاصل کی تھی تو اس لئے برطانوی پارلیمنٹ میں ایک کانفرنس ہوئی کشمیر کے سلسلے میں اس میں پاکستان سے اازاد کشمیر کے صدر وہاں پہنچے سردار مسعود خان صاحب، پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشاہد حسین جو اپوزیشن کے کمیی کے سربراہ تھے وہ پہنچے اور اس میں برطانوی کانگریس کے بھی بہت سے مسلمان اور پاکستانی جو تھے اس میں تقاریر کیں، بعض غیر مسلموں نے تقاریر کیں۔ اس میں کشمیری لیڈروں نے شرکت کی۔ یہ ایک بھرپور دن تھا کہ کشمیری عوام امن سلامتی کے لئے حق رائے دہی چاہتے ہیں۔ آج جو آدھے صفحہ کا اشتہار چھپا ہے اس میں حبیب جالب کا ایک شعر ہے۔
ظلم رہے اور امن بھی ہو کیا ممکن ہے تم ہی کہو
اس شعر کو پڑھتے ہی میرے فوراً ذہن میں آیا کہ یہ پاکستان کی ایک معروف فلم ہمارے فلمساز، رائٹر اور ہدایت کار ریاض شاہد جو فلم ایکٹریس نیلو کے شوہر تھے عابدہ ریاض ان کا گھریلو نام ہے اور آج کل کے فلم ایکٹر شان کے والد تھے۔ ریاض شاہد نے ایک فلم بنائی تھی۔ انہوں نے کافی فلمیں بنائیں۔ ”فرنگی“ انہوں نے لکھی تھی۔ ”زرقا“ انہوں نے لکھی اور بنائی۔ شہید انہوں نے لکھی اور بنائی، لیکن یہ ایک فلم بنائی تھی ”یہ امن“ تو یہ میں درخواست کروں گا کہ اس کا ایک سین دیا جائے۔ اس میں ایک جدبہ بھی ہے۔ ریاض شاہد کو اس فلم کی تیاری میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سال تک فلم سنسر سے پاس نہیں ہو رہی تھی کیونکہ بڑے اعتراصات انڈین حکومت نے لگائے ہوئے تھے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ یوم یک جہتی کشمیر صرف چھٹی منانے کا دن نہیں۔ ہم لوگ گھروں میں نہیں بیٹھے ہمارے نوجوان خاص طور پر سڑکوں پر نکل آئے ریلیاں نکالی گئیں۔ ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی اور وعدے وعید کئے گئے۔ تقریریں ہوئیں اور یہ یوم یک جہتی کشمیر یہ تھا کہ اپنے آپ کو ہم نے کشمیر میں جو جدوجہد جاری ہے جو آزادی کے لئے جو کوشش جاری ہے اس کے ساتھ اپنے آپ کو ملایا ہے۔ پاکستان جب بنا تو برطانیہ نے ہی کشمیر کا جو مسئلہ تھا برطانیہ کی شرارت کی وجہ سے ہوا تھا۔
ڈوگرہ حکومت نے جب کشمیر کا الحاق زبردستی بھارت کے ساتھ کیا تو پورے کشمیر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ سلامتی کونسل میں یہ مسئلہ پاکستان نہیں بھارت لے کر گیا تھا کہ قبائلیوں نے حملہ کر دیا ہے سری نگر پر قبضہ کرنے چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ھے پایا کہ کشمیر سے بھارتی فوج واپس جائے گی اور آزادانہ استصواب رائے سے طے کیا جائے گا کہ اہل کشمیر کس سے الحاق چاہتے ہیں۔ بھارت نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور آج بھی ہٹ دھرمی سے اپنے موقف پر کھڑا ہے تاہم کشمیر میں آزادی کی تحریک دن بدن بڑھ رہی ہے۔ بھارت 2019ءمی کسی کو زبردستی ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ بھارت کا یہ ظلم کا کھیل اب زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا، چند برس کا کھیل باقی ہے یہ بھارت کو کشمیری کو آزادی دینا ہی ہو گی۔
نوازشریف کی طبی رپورٹ میں سامنے آ گیا ہے کہ دل کی بیماری نہیں ہے بلڈ پریشر، گردے میں پتھری شریانوں کا مسئلہ سامنے آیا ہے جس کا پاکستان میں ہی بہترین علاج ممکن ہے۔ بیرون ملک جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نوازشریف سے پرانی دوستی ہے تاہم ابن کے سیاسی خیالات سے متفق نہیں ہوں۔ مریم نواز نے نوازشریف کے حوالے سے جذباتی بیان دیا ہے ورنہ وہ کیوں جیل جانا چاہیں گے، نوازشریف کا ہسپتال میں ہی علاج ہونا چاہئے۔ سروسز ہسپتال میں بہترین ڈاکٹرز موجود ہیں، دیگر ہسپتالوں سے سینئر ڈاکٹرز کو بلایا جا سکتا ہے، نوازشریف کے ذاتی معالج سے بھی مشورہ کیا جا سکتا ہے۔ بعض ناراض بلوچ رہنما کبھی لندن کبھی جنیوا احتجاجی مظاہرے کرتے رہتے ہیں اب پیرس میں بھی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی گئی جسے پاکستانیوں نے ناکام بنا دیا۔ سی پیک، پاکستان، چین کے خلاف کوئی بھی آواز اٹھائے گا تو کوئی کان نہ دھرے گا۔ بلوچستان کی بڑی آبادی نے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا، صوبائی حکومت بنی، چیئرمین سینٹ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند رجحان ختم ہو چکا ہے۔ اب گنتی کے جو لوگ شور مچاتے ہیں وہ بھارت کی اشیر باد پر ایسا کرتے ہیں۔ بھارت کلبھوشن کی گرفتاری پر پریشان ہے اس نے اپنے دو ٹی وی چینلز صرف بلوچستان بارے پروپیگنڈا کیلئے مختص کر رکھے ہیں۔ کبیروالا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ لڑکی کے ساتھ زیادتی پر شکایت درج کرائی گئی تو پولیس کو ایکشن لینا چاہئے تھا لیکن وہ روایتی طور پر بے حس بیٹھی رہی اور ماں بیٹی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اس واقعہ پر آئی جی کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔ پنجاب میں گورننس کی صورتحال پر وزیراعظم لاہور آئے اور اجلاس ہوئے، حکومت کا مختلف محکموں کے سیکرٹریوں کو تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، آئی جی کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ گورنر اور وزیراعلیٰ نے آئی جی کی تعریف کی تو عمران خان نے کہا کہ آئی جی اگر محنت کر رہے ہیں تو لوگ کیوں مطمئنن نہیں ہیں۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv