کراچی(این این آئی)وزارت خزانہ نے عالمی مارکیٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو 35 ارب روپے کا ریلیف دینے کے بجائے پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ کردیاگیا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی22روپے ،پیٹرول14 روپے اور مٹی کے تیل پر7 روپے فی لٹر کردی گئی ۔185ارب روپے ریونیو شارٹ فال کے باعث وزارت خزانہ نے عوام سے اضافی وصولیاں کرنے کا فیصلہ کیا۔ پٹرولیم لیوی میں اضافے کا نوٹیفکیشن پیٹرولیم ڈویژن سے جاری کرایا گیا مگر وزارت خزانہ سمیت کسی بھی متعلقہ ادارے نے نوٹیفکیشن پبلک نہیں کیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول پمپس پر فروخت ہونیوالے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم لیوی 10 سے بڑھا کر 14روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر8 سے بڑھا کر 22روپے فی لٹر کردی گئی ہے ۔ پیٹرول کی بلک خریداری کرنے والی کمپنیوں پر پیٹرولیم لیوی 10 سے بڑھا کر 17روپے 47پیسے ، ہائی سپیڈ ڈیزل پر 8 سے بڑھا کر 22روپے فی لٹر کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ کی ہدایت پر یکم فروری سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی دسمبر کے مقابلے میں 4تا16فیصد بڑھاتے ہوئے 17فیصد کی سطح پر لے جایا گیا۔ لیوی کی مد میں جمع ہونیوالی اضافی رقم صوبوں میں تقسیم ہونے کے بجائے وفاقی حکومت کے زیر استعمال آئے گی۔ حکام کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 55ڈالر فی بیرل کے تناسب سے پاکستان میں پیٹرول کی زیادہ سے زیادہ قیمت 65روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 73روپے فی لٹر مقرر ہوسکتی ہے ۔
































