لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جب کوئی شخص جیل میں ہو تو قانونی طور پر اس کا علاج پرائیویٹ ڈاکٹر نہیں کر سکتا۔ خدشہ ہوتا ہے کہ علاج غلط نہ ہو جائے کیونکہ ذمہ داری، جیل حکام کی ہوتی ہے حکومت کی ہوتی ہے۔ ذاتی معالج سے مشورہ تو ضرور لیا جا سکتا ہے لیکن اس کو علاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ صرف نوازشریف کے لئے نہیں ہے یہ گاندھی اور نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی اور مولانا حسرت موہانی اور مولانا ظفر علی خان کے زمانے سے یہ ایک رجیم جاری ہے وقت کے ساتھ ساتھ کہ ان کا علاج سرکاری ڈاکٹرز ہی کریں گے زیادہ سے زیادہ ان کے ذاتی معالج کو مشورے کے لئے شامل کر سکتے ہیں۔ نوازشریف کو ہسپتال داخل کروا دیا گیا ہے اس وقت ہی مجھے اندازہ تھا کہ ان کو ہارٹ کی کوئی تکلیف نہیں نکلے گی کیونکہ اس سے پہلے بھی ڈاکٹر یہی کہہ چکے تھے چنانچہ وہی ہوا کہ ڈاکٹروں نے کلیر قرار دیا کہ ان کا ہارٹ بالکل صحیح ہے اور یہ ان کے ہسپتال کے سیکشن سے بھی ظاہر ہوتا تھا سروسز ہسپتال میں ہارٹ کا کوئی وارڈ نہیں ہے ہارٹ کے کوئی سپیشلسٹ ڈاکٹر سروسز ہسپتال میں نہیں البتہ اس کے فوراً بعد صرف ایک دیوار ہے درمیان میں انسٹی ٹیوٹ ااف کارڈیا لوجی جو ہے ہارٹ کے سپیشل امراض کا جو سب سے بڑا پنجاب کا ہسپتال ہے وہ اس کے ساتھ ہی ہے اگر نوازشریف صاحب کو دل کی تکلیف ہوتی تو اس کو پھر اس میں داخل کیا جاتا سروسز ہسپتال میں نہ داخل کیا جاتا ہم نے کل خبریں کے صفحات پر سروسز ہسپتال کے ایم ایس کا ایک انٹرویو بھی چھاپا تھا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے پاس نہ کوئی ہارٹ کا مریض ہے نہ ہی ہمارے پاس کوئی سپیشلسٹ ہے اس لئے ہمارے ہسپتال میں ہارٹ کا کوئی علاج نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود آ گئے نواز شریف صاحب ان کو کمرہ مل گیا بڑی اچھی بات ہے۔ بڑی کیئر کرنی چاہئے اچھی بات ہے لیکن وہی ہوا جس کا خطرہ تھا کہ سوائے پتھری کے ان کے گردے میں نکلی ہے اس کے سوا ان کو کوئی تکلیف نہیں ہے اور جہاں تک گردے میں پتھری کا تعلق ہے یہ اتنا عام مرض ہے کہ میرا خیال ہے اس فلور پر جتنے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان کے چیک کروائے جائیں تو ہر چار پانچ بندوں میں سے ایک بندے کے گردے میں پتھری نکلے گی۔ سب سے دلچسپ ریمارکس تو شیخ رشید صاحب کے ہیں انہوں نے کہا کہ نوازشریف لال حویلی آ جائے بجائے ہسپتال داخل ہونے کے میں ان کو کسی بندے سے دم کروا دوں گا اور وہ پتھری نکل جائے گی۔ آج کا اس کا ماڈرن طریقہ علاج اس کے لئے آپریشن ضروری نہیں ہے لیزر سے بھی پتھری نکالی جا سکتی ہے۔ اب نوازشریف کے سارے حامیوں کی خواہش ہو گی کہ کسی طرح سے دل کا مرض نکل آئے وہ شریف آدمی نہیں بھی بیمار یہ بیمار کر کے چھوڑیں گے۔ ابھی اس پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ نہیں تھی تو دل کی تکلیف لیکن سرکاری ڈاکٹروں نے ہیرا پھیری کی ہے۔ یہ سیاسی پارٹیوں کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے کہ کسی بات کو بہت بڑا کر کے پیش کرنا اگر ان کے لیڈر ہیں اور ان کے گردے میں پتھری نکل آتی ہے اور تکلیف ثابت بھی ہو گئی تو ظاہر وہ کہیں گے کہ ان کے پرسنل معالج کا مشورہ یہ ہے کہ لندن میں علاج ہو۔
مودی کے دورہ جموں و کشمیر اور وہاں پوری وادی میں ہڑتال اور پوری وادی سراپا احتجاج ہے۔ نریندر مودی کا 5 جنوری سے پہلے وہاں جانا بالکل اسی طرح سے جس طرح سے جلتی کو آگ دکھانے والی بات ہے۔ لہٰذا اس لئے لوگ پہلے ہی مودی کی شکل سے بیزار ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مودی مسلمانوں کا دشمن ہے۔ کشمیر کی آزادی کا دشمن ہے۔ 4 تاریخ کو آ کر ایک دفعہ چلے جانا حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی وہ 5 تاریخ کے بعد بھی آ سکتا تھا گویا یہ دوبارہ معاملے کو گرم کرنے والی بات تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں جو آگ لگی ہوئی ہے اور پورے ملک میں احتجاج ہو رہا ہے اس کا منظر بھی لوگوں کے سامنے آ گیا۔ آزادی کشمیر کے لئے تڑپ کو آپ کس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ پوری دنیا ہر جگہ پر چھوٹی سے چھوٹی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر احتجاج ہوتے ہیں لیکن کشمیر میں بھارت کر رہا ہے۔ اس پر سارے یورپین ممالک کیوں خاموش ہیں حتیٰ کہ برطانیہ میں اگر پاکستانیوں اور کشمیریوں نے اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہا تو باقاعدہ مطالبہ ہوا بھارتی سفارتخانے کی طرف سے یہ جناب اس کی اجازت نہ دی جائے لیکن یہ بھارتی دباﺅ کے باوجود اس کو نہیں روک سکا۔ اور اس کے اثرات عالمی دنیا میں مرتب نہیں ہوتے اور عالمی ضمیر جو ہے وہ جاگ نہیں رہا۔وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کی ہے۔ اس سے پہلے حکومتیں نرم پالیسی اختیار کرتی تھیں۔ مسلہ کشمیر کے حل کے بغیر بھارت سے تعلقات نارمل نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں اس وقت فضا بن رہی ہے۔ پاکستان کو دوبارہ سلامتی کونسل جا کر مسئلہ اٹھانا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ بھارت نے شملہ معاہدے کے مطابق دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کے حل کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ سلامتی کونسل اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو انصاف فراہم کرے۔ہیلتھ کارڈ کی فراہمی حکومت کا ایک بڑا اقدام ہے۔ اگلے فیز میں پنجاب میں ایک کروڑ لوگوں کو کارڈ دیا جائے گا جس سے غریبوں کو علاج کی سہولت حاصل ہو گی۔ عمران خان کا کیریئر بتاتا ہے کہ اس نے جس کام کا بھی بیڑا اٹھایا اسے پورا کیا۔ 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا کام بھی شروع ہو جائے گا۔
بلاول بھٹو نے شیخ رشید کے حوالے سے غلط زبان استعمال کی جس پر شیخ رشید نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میرے خیال میں بلاول کو معذرت کرنی چاہئے۔ سیاست میں ایسی زبان چل نکلی تو پھر سب کیلئے بڑی مشکل ہو جائے گی۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ سیاست میں بداخلاقی کو روکیں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں بلکہ سختی سے روکیں۔
ماڈل ٹاﺅن سانحہ کے بعد ہی اگر مظلوم خاندان کو انصاف ملتا تو ساہیوال واقعہ نہ ہوتا۔ ہمارے یہاں انصاف ملنے کا عمل بہت سست ہے۔ یہاں کیسز کو تاخیر کا شکار کیا جاتا ہے جس سے جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بڑھتے ہیں۔ جرائم کی سزا اگر جلد اور کڑی نہ دی جائے تو ان میں کمی کے بجائے بڑھوتری آتی ہے۔
سینئر تجزیہ کار شمع جونیجو نے کہاکہ 80 اور90 کی دہائی میں محترمہ بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کیخلاف جو گندی زبان استعمال ہوتی تھی اس میں شیخ رشید کا بڑا کردار تھا جسکی بعد میں کئی بار انہوں نے معافی بھی مانگی تاہم اب پھر انہوں نے ویسی ہی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ میں نے بلاول کو ٹویٹ کیا کہ انہیں ایسا بیان دینا زیب نہیں دیتا کیونکہ ان کی اور شیخ رشید کی پرورش میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جواب میں بلاول نے جواب دیا کہ مجھے احساس ہے کہ غلطی ہو گئی ہے۔ جب بلاول نے اپنی غلطی کا احساس کر لیا ہے تو پھر شیخ رشید کا یہ کہنا کہ معافی مانگے مناسب نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں اخلاقیات کے حوالے سے کمیٹی بنائیگئی ہے جس میں ایسے ممبران ہیں جن کو خود پتہ نہیں اخلاقیات کس چڑیا کا نام ہے وہ کیا کریں گے۔ ہم سب کو اخلاقیات کا دائرہ خود سے شروع کرنا ہو گا اس سے ہی بہتری ممکن ہے۔
































