لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار میاں حبیب نے کہا ہے کہ نواز شریف، مریم نواز کی سزا معطلی پر سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ یہ ڈیل ہے یا ڈھیل حالانکہ یہ عدالتی فیصلہ ہے اس پر بحث نہیں کرنی چاہئے۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس قسم کے معاملات ملک میں ہوتے ہیں چہ مگوئیاں تو ہوتی ہیں عوام سمجھتے ہیں شاید کوئی ڈیل ہوئی ہے۔ میرے خیال میں شریف برادران کو تکنیمکی بنیادوں پر ریلیف ملا۔ جو بھی ہے پیسے واپس آنے چاہئیں۔ تبدیلی ہمیشہ لیڈر شپ لاتی ہے۔ سیاستدانوں سے قانونی طریقوں سے پیسہ نکلوانا مشکل ہے یہ گھی سیدھی انگلی سے نکلنے والا نہیں۔ لوٹ مار کرنے والوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا ہے کہ اگر کوئی فیصلہ آتا ہے تو بدقسمتی سے ڈیل کا نام دے کر پوائنٹ سکورنگ کی جاتی ہے۔ احتساب کے عمل میں حکومت کا کوئی ہاتھ نظر نہیں آ رہا۔ اگر کسی کی سزا معطل ہے تو یہ کمزور پراسیکیوشن کا نتیجہ ہے۔ اگر کچھ ہوا ہے تو نیب کو ثابت کرنا چاہئے تھا۔ کسی کی طرف سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں۔ لوگوں کی سوچ میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ عوام پارٹی کے پروگرام کو ووٹ دیں اوپر کون بیٹھا ہے مت دیکھیں۔ سیاستدانوں کی سیاسی لڑائیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ کالم نگارضمیر آفاقی نے کہا کہ میں اس بات سے متفق ہوں عدالتی فیصلے سے نیب کے نظام پر سوال اٹھتے ہیں۔ نیب کو غیر جانبداری ثابت کرنی چاہئے۔ شریف برادران پہلے ہی کہہ چکے جو کہتا ہے این آر او مانگ رہے ہیں سامنے آئے۔ تحریک انصاف کی چھ ماہ کی کارکردگی کچھ نہیں۔ کالم نگار میاں افضل نے کہا کہ جاتے جاتے ثاقب نثار ن لیگ کو ریلیف دے گئے ہیں اس کا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہوا۔ بہرحال نیب میں کافی کوتاہیاں ہیں۔ جو ملزمان پکڑے گئے ہیں ان کے خلاف کچھ ثابت کرسکے۔ اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا شہباز شریف نیب کی حراست میں ہیں لیکن چیئرمین پی اے سی بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں علیمہ خان کا ٹیکسٹائل کا کام ہے۔ تحریک انصاف کو فرد واحد ہی چلا رہا ہے عمران خان کے قریبی رشتے دار بھی اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے جو قابل تعریف بات ہے۔ اس ملک کو نوچا گیا۔
































