اسلام آباد(انٹروےو:ملک منظور احمد )سےنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشرےات کے چےئر مین سےنےٹر فےصل جاوےد نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت آزادی صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر ے گی وزےراعظم عمران خان مےڈےا کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں لگائےں گے حکومت کی مجوزہ نئی اشتہاری پالیسی پر ہماری کمیٹی کو شدےد تحفظات ہیں وزےر اطلاعات و نشرےات فواد حسےن چوہدری نے پالیسی کا مسودہ ہماری کمیٹی کے ساتھ شےئر کر دیا ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہےں الیکڑانک ، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کو کسی ایک اتھارٹی میں ضم کرنا بلکل مناسب نہیں ہے کیونکہ ان تےنوں میڈیا کا تعلق الگ الگ شعبوں سے ہے ،ہم نے وزارت اطلاعات و نشرےات کو کہا ہے کہ اس معاملے پر کمیٹی کو تفصےلی برےفنگ دےکر قائل کیا جائے کمیٹی کا اجلاس آئندہ دو ہفتوں کے اندر طلب کیا جائےگا ہم نے حکومت کو تجوےز دی ہے کہ تمام اداروں کا مارکیٹنگ بجٹ مختص کیا جائے تاکہ عوامی آگاہی کی مہم شروع کی جائے علاقائی اخبارات کا کوٹہ ختم نہ کیا جائے کیونکہ علاقائی اخبارات اطلاعات کی فراہمی او ر رائے عامہ کو ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہےں ان خیالات کا اظہار انہوںنے خبرےں کو انٹروےو دےتے ہوئے کیا سےنےٹر فےصل جاوےد نے کہا کہ وزےر اطلاعات و نشرےات فواد حسےن چوہدری بہترےن کام کر رہے ہےں اور ان کو ہماری کمیٹی نے اپنے ان پٹ دےدےا ہے اور ہماری کمیٹی کی سفارشات انتہائی قابل عمل ہیں اس لئے ان کو نئی مجوزہ پالیسی میں شامل کیاجائے پوری دنےا مےں یہ ایک حقےقت ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا الگ الگ فےلڈ ہے ہم نے نئی اشتہاری پالیسی کےلئے وزرات اطلاعات و نشرےات کے حکام کو دس نکات دئےے ہیں پروڈکشن ہاﺅسز میڈیا پلان نہیں بنا سکتا وزارت اطلاعات و نشرےات کے حکام سے ہم نے کہا ہے کہ اگر مجوزہ میڈیا رےگولےٹر ی اتھارٹی میں پیمرا ، پرےس کونسل آف پاکستان اور دےگر اداروں کو ضم کرنا مقصود ہے تو اس کا پلان ہمارے ساتھ شےئر کیا جائے کیونکہ یہ قابل عمل نہیں ہے تمام اداروں کو ایک اتھارٹی میں ضم نہیں کیا جا سکتا ماضی کے حکمران ذاتی تشہیر کےلئے اشتہارات دےتے رہے ہےں ہم ذاتی نمود و نمائش کے خلاف ہیں لیکن اشتہارات دےنا انتہائی ضروری ہے اور اس کی تےن بنےادی وجوہات ہےں ایک عوام الناس میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا، دوسرا مےڈیا کی گروتھ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے جب ان سے پوچھا گےا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے غےر اعلانیہ چار ماہ سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کےلئے اشتہار کی بندش سے بڑی تعداد مےں مےڈےا ورکر بے روزگار ہو رہے ہےں اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا شدےد مالی مشکلات کا شکار ہے اس سوال کے جواب مےں انہوںنے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشرےات پاکستان مےں مےڈےا کی گروتھ اور اشتہارات میرٹ پر ریلیز کرنے کے حق میں ہیں اور مےری اس سلسلے مےں وزےراعظم عمران خان سے بھی بات ہوئی ہے وہ آزادی اظہار رائے اور مےڈےا کی ترقی پر کوئی قدغن نہیں لگنے دےں گے ہم نے اطلاعات تک رسائی کے حوالے سے قانون سازی کی ہے اور پہلی مرتبہ انفارمےشن کمیشن قائم کر دےا گےا ہے نئی اشتہاری پالیسی اور مجوزہ مےڈےا رےگولےٹری باڈی کے حوالے سے اخباری تنظےموں اور دےگر سٹےک ہولڈر کے ساتھ مشاورت ضروری ہے تاکہ باہمی مشاورت سے ایک ایسا لائحہ عمل تربےت دےا جا سکے جس پر تمام فرےقےن آمادہ ہو سکےں ۔
































