تازہ تر ین

گیس پائپ لائن دھماکہ ، بھارت یا کسی اور پاکستان دشمن طاقت کی سازش : ضیا شاہد ، طالبان نے پیغام بھیجا تھا کہ وہ امریکی ایجنڈے سے متفق نہیں ، مذاکرات نہیں کرینگے : سردار آصف ، نواز شریف پلی بارگین کرنا چاہیں تو جرائم کے اقرار کا حلف نامہ دینا ہو گا : بریگیڈئیر (ر ) فاروق حمید ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ گیس کے بحران میں بدانتظامی تو ہے ہی لیکن اس میں ایک نیا عنصر دہشت گردی کا شامل ہو گیا ہے رحیم یار خان سے جو گیس پائپ لائن اسلام آباد جا رہی تھی اس میں دھماکہ ہوا ہے اور وہ پھٹ گئی ہے۔ دھماکہ ظاہر ہے کہ بلاوجہ نہیں ہوا اور گیس کی پائپ لائن کافی موٹی ہوتی ہے جس میں گیس گزرتی ہے اس طرح وہ کوئی ہاتھ لگانے سے نہیں پھٹ جاتی ہے۔ ظاہر ہے کسی نے کارروائی کی ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ ملک دشمن طاقتیں جس میں انڈیا بھی ہو سکتا ہے اور بھی کوئی ملک ہو سکتا ہے ان کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان کی جو عام زندگی ہے وہ ڈسٹرب ہو اور اس لئے جو معاملات گیس کے بارے میں تھے اور جس وجہ سے دو ایم ڈیز کو نکالا گیا وہ تو اپنی جگہ پر ہیں لیکن اب یہ جو اپنا عنصر ہے کہ جا بجا دھماکے ہونے لگے ہیں اس کا مطلب ہےکہ اس کے پیچھے ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور جو گیس کے دھماکے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاملہ معمولی یا فنی خرابی کا نہیں ہے۔ گیس کا دھماکہ عام طور پر بڑا خطرناک ہوتا ہے اس لئے کہ جب کوئی چیز ٹوٹتی ہے اور جگہ پر خواہ وہ کارروائی کی جائے یا جس کے پیچھے دہشت گردی ہو یا اچانک ہو جائے یا کسی وجہ سے اتفاقی حادثہ قرار دے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گیس کا دھماکہ بہت بڑی تباہی لے کر آتا ہے کیونکہ جہاں جہاں گیس ھیلتی جاتی ہے اس میں سے شعلے اٹھتے رہتے ہیں۔ چنانچہ دھماکہ ایک جگہ متعین اور مخصوص نہیں رہتا بلکہ یہ آگ کی طرح سے پھیلتا ہے۔
ضیا شاہد نے کہا گیس بحران پر اس وقت فوری معاملہ تو یہ ہے کہ اس گیس کو بحال کیا جائے جس طرح سے کہا گیا ہے کہ 12 سے 14 گھنٹے لگیں گے یہ تو بہت بڑی لیپس ہوتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صرف گھریلو کنکشن ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ انڈسٹری بھی متاثر ہوتی ہے یہ بہت بڑا نقصان ہوتا ہے خاص طور پر جو انڈسٹری ہوتی ہے جس کی سپلائی بند ہونے سے دوبارہ سرکل میں آنے کے لئے وقت درکار ہو وہجو خاص طور پر بڑا نقصان دہ ہوتا ہے۔ جہاں دو سربراہوں کو ہٹانے کا سوال ہے یہ چین آف کمانڈ ہوتی ہے اگر نمبر ون چلا گیا تو اس کی جگہ نمبر2 جو ہے وہ وقتی طور پر چارج سنبھال لیتا ہے بعض اوقات ڈائریکٹ تقرری بھی ہو جاتی ہے لہٰذا یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ ان کا گیپ کور نہ ہو البتہ یہ چیز ضروری ہے کہ اگر یہ حادثہ کسی شر انگیزی کی وجہ سے ہے تو پھر اس پر قابو پانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے آپ گیس پائپ لائن درست کریں گیس بحال کریں اور تھوڑے فاصلے پر دوبارہ خدانحواستہ کوئی اور واقعہ ہو جائے۔
اورنج ٹرین کا جو معاملہ تھا اور جو شش و پنج میں عوام میں متلاشی ہو سکتا ہے کہ حکومت اس کو بند کر دے چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ مجوزہ تاریخوں تک ہر صورت کام مکمل کیا جائے گا کہ لاہور کی عوام کے لئے تحفہ ہے جب گاڑی چلے گی تو ہمیں بھی بتایا جائے میں بھی اورنج ٹرین پر سفر کروں گا۔ اس حوالے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ چیف جسٹس بادشاہ آدمی ہیں موجی بھی آپ کہہ سکتے ہیں ان کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں اور اب خاص طور پر جب ان کے گنتی کے چند روز باقی ہیں۔ وہ جاتے جاتے دو چار بڑے بڑے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے واقعات جو ہیں ان کو کسی کام کو مکمل ہونے نہیں دیتے۔ کیونکہ جب اس قسم کے واقعات ہو جائیں اورنج ٹرین کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا بالکل ٹھیک ہے اور بڑی اچھی بات ہے جب یہ کام شروع ہو جائے گا لیکن اگر پچھلے بیانات دیکھیں تو جہاں جناب چیف جسٹس صاحب نے اورنج ٹرین پر ہی بہت ہی اعتراضات کئے تھے اور اس کے وجود کو اور اس پر جو اخراجات ہو رہے تھے ان پر بڑی تنقید کی تھی اب ظاہر ہے کہ ان کی خواہش ہو گی کہ جلد سے جلد یہ معاملہ درست ہوجائے لیکن دیکھیں جو چیزیں خراب ہو چکی ہوتی ہیں ان کو بننے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ میں سمجھتا ہو ںکہ چیف جسٹس صاحب جاتے جاتے قدرتی طور پر یہ چاہیں گے کہ اپنی زندگی کے معاملات وقت پر آ جائیں اور اس قسم کے معاملات پر قابو پایا جائے لیکن یہ انسان کے اپنے بس میں نہیں ہوتا خاص طور پر دہشت گردی کے معاملات یہ انسان کے کبھی بھی بس میں نہیں ہوتے۔ جہاں تک بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی کا سوال ہے ضیا شاہد نے کہا کہ میں اس پابندی کے خلاف نہیں ہو سکتا مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ متبادل بندوبست نہیں کیا گیا مثال کے طور پر مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب انڈین فلمیں کھولی گئی تھیں تو پاکستان بھر کے سینما اونرز نے ہڑتالیں کی تھیں اور کہا تھا کہ ہمارے پاس را میٹریل اتنا کم ہے اور فلمیں اتنی کم بنتی ہیں کہ تیار ہونے کے بعد جو ایک فلم 6 یا 8 مہینے کے بعد مارکیٹ میں آتی ہے اور اس وقت تک سینکڑوں نہیں ہزاروں سینما ہال جو ہیں وہ خالی پڑے رہتے ہیں چنانچہ اس بنیاد پر انڈیا کی فلموں کو لگانے کی اجازت دی گئی تھی اب دیکھیں کہ انڈیا کے فلموں کی جو چیف جسٹس گفتگو فرما رہے ہیں ان کی بات میں وزن ہے کہ ان کی معاشرت جو ہے وہ ہماری معاشرت کو خراب کر رہی ہے لیکن یہ دیکھتے کہ اس میں تضاد بیانی ہے ایک طرف ہم نے اجازت دی ہوئی ہے انڈین فلموں کی کہ پاکستان کے سینماگھروں میں امپورٹ ہو سکتی ہے دوسری جب انڈیا کی رپورٹ ہوتی ہے تو پھر اس میں ایسے مناظر بھی رکھے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ان کی تہذیب ہے ان کی تہذیب کے حوالے سے کافی رعایتیں دی جاتی ہے اور خود بھی انڈین فلم انڈسٹری جو ہے انتہائی درجے کی ولگر فلمیں بناتے ہیں اور وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری فلم کس طرح سے ہٹ ہو گی۔ کتنے فخر سے کہا جاتا ہے کہ لندن فلم لگنے سے دو دن کے بعد اتنے کروڑوں روپے کما گئی۔ اس سے ظاہر وہتا ہے کہ وہی فلم چلے گی جس میں کوئی مال مسالہ ہے۔ ایک طرف ہم مغرب اخلاق فلموں پر سٹرائیک کر رہے ہیں دوسری طرف ہم خود ان کو اجازت دے رہے ہیں کہ آئیے آپ کو اس معاشرے کو جو بگاڑ سکتے ہیں بگاڑ لیں۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ آئی پی پیز سے معاہدے ہمارے گلے کا پھندا بن چکے ہیں پوری دنیا میں ایسے معاہدے ختم کیا جا رہا ہے ضیا شاہد نے کہا کہ بجلی بنانے والے کارخانوں سے اس وقت جب یہ ہمارے معاہدات ہوئے تھے۔ انہوں نے اس وقت کی حکومت کو اس طرح سے اپنی مٹھی میں جکڑ رکھا تھا کہ ضرورت تھی کہ جلد سے جلد بجلی پیدا کی جائے اور اس چکر میں انہوں نے بہت ساری ایسی رعایتیں حاصل کر لیں اور اتنی مراعات حاصل کرلیں کہ اب ایک طرح سے وہ عقل کل بنے ہوئے ہیں اگر یہ معاہدے پڑھے جائیں تو چیف جٹس صاحب صحیح کہتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ کس حکومت نے اس قسم کے معاہدات کر لئے اور حکومت اس بات کو بالکل خیال نہ آیا کہ یہ معاہدے ہمارے گلے پڑ جائیں گے۔ اس قسم کے معاہدات کئے گئے کہ خواہ بجلی استعمال کریں نہ کریں ایک فکس تعداد میں جو بجلی کے یونٹ ہیں اس کے پیسے ضرور دیں گے۔ اس قسم کے معاملات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ونز فار آل اس قسم کے معاہدات ختم کرکے پھر صحیح معنی میں جو کاروباری طور پر فیرڈیل کی جائے اور جن لوگوں سے ہم نے بھی لینی ہے ان کو بروقت ادائیگیاں ہوں۔ وہ ہمیشہ روتے رہتے ہیں کہ ہمیں ادائیگی نہیں ہوتی۔ جتنی بجلی کی کھپت ہوتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ انہوں نے ایسے دروازے کھول رکھے ہیں بجلی لیں نہ لیں ایک خاص فکس بل ہمیں دینا پڑتا ہے۔ 17جنوری کو چیف جسٹس اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے تو نوازشریف کے کیس کی سماعت کے لئے یہ بنچ ٹوٹ نہیں جاتے اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ نوازشریف کی سزا کے خلاف درخواست پر ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا اب بنچ ٹوٹے گا اور نئے سرے سے بنچ بنے گا۔ اس لئے سمجھتا ہوں کہ بہت سارے کیسز میں تعطل پیدا ہو گا زیادہ بہتر ہوتا کہ چیف جسٹس اتنے میں معاملات پر کھولتے جتنے نمٹا سکتے تھے کیونکہ ان کی ریٹائرمنٹ قریب ہے۔ شاہد خاقان عباسی اور ان کے ساتھی پاکستانی بھی تو ہیں ان کا فرض ہے کہ معاملات کی اصلاح کیلئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کریں۔ ہر کام کو پچھلی حکومت کے سر ڈالنے کا طریقہ کار درست نہیں ہے ہر کسی کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔ نیب کے حوالے سے بہت شکایات ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ادارہ اپنے فرائض ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے پا رہا۔ اتنے زیادہ معاملات کھول دیئے جاتے ہیں کہ کوئی ایک بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتا۔ نیب کو چاہئے کہ تیزی سے کام کرائے اور یہ کیس کو لٹکانے کا سلسلہ چھوڑ دے۔ امریکہ طالبان مذاکرات ختم ہونے کا خدشہ اسی وقت پیدا ہو گیا تھا جب بھارت کو طالبان کے خلاف کارروائی کاکہا گیا جبکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ بھارت کے اندر خانے طالبان سے تعلقات ہیں اور وہ ان کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشتگردی کراتا ہے۔ امریکہ اس خطے سے مکمل طور پر اپنی افواج کا انخلاف نہیں چاہتا وہ یہاں رہنا چاہتا ہے طالبان سے کوئی معاہدہ ہونے کی صورت میں امریکہ افغانستان سے جانا پڑے گا جس کے لئے وہ تیار نہیں ہے، امریکہ اب مذاکرات سے دامن چھڑانا چاہتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر فاروق احمد نے کہا کہ نیب کے ایس او پیز کے مطابق کیس کی انکوائری کیلئے 4 ماہ کا وقت ہوتا ہے انکوائری سے پہلے ڈیڑھ دو ماہ میں شکایات کی تصدیق کی جاتی ہے۔ نیب قریباً 10 ماہ بعد اس پوزیشن میں آئی ہے کہ ملزم کے خلاف ریفرنس دائر کر سکے انکوائری میں بھی ملزم کو دفاع کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نیب میں کیسز برسوں لٹکتے رہتے ہیں اور فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ چیئرمین نیب کی پالیسی ہے کہ انکوائری میں ثبوت نہیں تو کیس کو لٹکانے کے بجائے بند کیا جائے نیب قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے تاہم ان ترامیم کی نہیں جن کا میڈیا پرڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ وائٹ کالر کرائم اور عام جرم میں بہت فرق ہے۔ عام عدالتوں میں تو 4 دن کا ریمانڈ کافی ہوتا ہے تاہم نیب کو 90 دن کا ریمانڈ اس لئے دیا جاتا ہے کہ وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ نیب نے 18 سال میں پلی بار گین کے تحت 700 ارب ریکور کئے جبکہ دیگر سول سسٹم کے ذریعے اس عرصہ میں محض 30 کروڑ ریکور ہوئے۔ پلی بار گین کی اجازت عدالت ہی دیتی ہے۔ اس قانون میں سارا عوام سال ریکور کرنا ہوتا ہے تاہم پیپلزپارٹی اور ان لیگ کے ادوار میں گڑ بڑ کی گئی اور 70 سے40 فیصد ریکوری کر کے ملزمان کو چھوڑ دیا گیا۔ ملزم جب پلی بار گین کرتا ہے تو حلف نامہ دیتا ہے اپنے جرم کو قبول کرتا ہے۔ قانون کی نظر میں وہ مجرم ہوتا ہے باعزت بری نہیں ہوتا۔ نوازشریف بھی پلی بارگین کرنا چاہیں تو انہیں اپنے جرائم کے اقرار کا حلف نامہ دینا ہو گا۔ پلی بارگین کرنے والا بنک سے قرضہ نہیں لے سکتا اور پبلک آفس کیلئے 10 سال کیلئے نااہل ہوتا ہے۔
رحیم یار خان سے نمائندہ خبریں عبدالقدوس نے کہا کہ سہیون شریف سے اوچ شریف تک جانے والی 36 انچ کی گیس پائپ لائن دھماکے سے پھٹی اور کئی گھنٹے تک شعلے آسمان سے باتیں کرتے رہے۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ فنی فراہمی نہیں تھی تخریب کاری لگتی ہے۔ انچارج سوئی گیس رحیم یار خان وقاص بخاری کے مطابق گیس کی بحالی میں 12 سے 14 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ جس جگہ لائن پھٹی وہ سندھ پنجاب بارڈر کے قریب نو گو ایریا میں ہے۔ سندھ کشمور، بلوچستان سے ڈکو اور جرائم پیشہ افراد اس علاقے میں دندناتے پھرتے ہیں وہ بھی اس واقعہ میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
سابق وزیرخارجہ آصف احمد علی نے کہا کہ طالبان نے سعودیہ میں مذاکرات سے انکار کا جواز یہ دیا ہےکہ اشرف غنی کے نمائندوں کو مغاکرات میں شامل کرنے کیلئے دباﺅ ڈالا جا رہا تھا جبکہ وہ ایسا نہیں چاہتے تھے۔ مداکرات کا ایجنڈا پہلے تیار ہوتا ہے جو دونوں فریق ایک دوسرے کو بھجواتے ہیں یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہو گا۔ طالبان نے پیغام بھیجا کہ وہ مذاکرات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کہ انہیں امریکی ایجنڈے سے اتفاق نہیں ہے۔ طالبان نے امریکی ایجنڈے کو رد کر دیا ہے۔ امریکہ میں بھی اس وقت دو نکتہ نظر موجود ہیں۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ افغانستان میں رہنا چاہتی ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے برعکس طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس جنگ میں کھربوں ڈالر جھونک کر بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv