لاہور (رپورٹنگ ٹیم) وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ حکومت اخبارات کو زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مسائل حل کریں گے حکومت بڑے اور موثر اخبارات کو میرٹ پر اشتہارات جاری رکھے گی۔ ڈمی اخبارات کو اشتہارات نہیں دئیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت نے ایک کمیٹی بنا دی گئی جو فہرست تیار کرے گی۔ ڈی جی پی آر پنجاب سے ہفتے میں دو بار ان سے ملاقات ہو گی۔ علاقائی اخبارات کو بھی میرٹ پر اشتہارات جاری کئے جائیں اس سلسلے میں سی پی این ای کا تعاون اور مشاورت درکار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جب سے وزارت اطلاعات سنبھالی ہے کرپشن کے خاتمے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں اور ثقافت کے شعبے میں جامع اصلاحات کی ہیں۔ بہت سے مستحق فنکاروں کے ماہانہ وظائف لگائے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ وظائف ان قومی فنکاروں کو بروقت مل سکیں جبکہ سابق دور میں من پسند فنکاروں کو وظائف دئیے جاتے تھے اور درجنوں فنکار اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے۔ اسی طرح تھیٹر میں مافیا کا خاتمہ کیا ہے۔ ان اداروں میں تمام تر ٹھیکے نواز حکومت میں بیٹھے افراد کے رشتہ داروں کو دئیے جاتے تھے ہم نے آکر اس ناانصافی کو ختم کر دیا ہے اور ثقافت کے تمام شعبوں میں میرٹ پر فیصلے کر رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ میڈیا کی آزادی حکومت کی آزادی ہے۔ انہوں نے کہا چھوٹے علاقائی اخبارات کے مسائل کے لئے سی پی این ای مدد بھی درکار ہو گی اور تنظیم کی تجاویز پر عملدرآمد بھی کریں گے۔ ان خیالات انہوں نے سی پی این پنجاب کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے اور تحریک انصاف کی حکومت میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ پنجاب میں کسی بھی قومی یا ریجنل اخبار کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں چند ایک اخبارات اور ٹی وی چینلز کو نوازا جاتا تھا اب ایسا نہیں ہے۔ دو ادارے ایسے تھے جو قومی اداروں کے خلاف بولتے تھے انہیں سمجھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اخبارات کو میرٹ پر اشتہارات دیئے جائیں گے جبکہ ریجنل اخبارات کو پالیسی کے مطابق اشتہارات جاری ہوں گے۔ سی پی این ای کے سینئرنائب صدر امتنان شاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو علاقائی اخبارات کا کوٹہ مختص کرنا ہو گا تبھی یہ اخبارات زندہ رہیں گے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سی پی این ای کے سابق سیکرٹری جنرل اعجاز الحق نے سوال اٹھایا کہ مرکز اور صوبوں میں اخبارات کی روٹیشن میں کئی ریجنل اخبارات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ روٹیشن صرف میڈیا لسٹ کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئے بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کون سے ریجنل اخبارات عملی طور پر مارکیٹ میں موجود ہیں۔ ان کی تجویز پر صوبائی وزیر نے کہا کہ سی پی این ای کا ایک وفد سیکرٹری اطلاعات اور ڈی جی پی آر سے ملاقات کر کے اس معاملے پر بات کرے گا۔ اجلاس کے اختتام پر اعجاز الحق نے انہیں 18 جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والے نیشنل میڈیا کنونشن میں شرکت کی دعوت دی اور بتایا کہ اس کنونشن میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا سے متعلق شخصیات شریک ہوں گی، اور کنونشن کے آخری سیشن میں وزیراعظم عمران خان کی شرکت بھی متوقع ہے۔اجلاس میںایاز خان، جنرل سیکرٹری سی پی این ای جبار خٹک، اعجاز الحق، رحمت علی رازی، ارشاد عارف، سید انتظار زنجانی، کاظم خان، علی احمد ڈھلوں، محمد ارشد روحانی، اجمل شفیق، ملک لیاقت، اشرف سہیل، اکمل چوہان، ایم اسلم میاں، عبدالودود ربانی، ذوالفقار راحت ، ملک فرزند علی، عثمان غنی، وقاص طارق، زبیر محمود، توفیق شیخ، امتیاز روحانی، بشیر احمد، سردار عابد علیم نے بھی شرکت کی۔
































