اسلام آباد (ناصر کاظمی) ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور دہشتگردوں کو فوری انجام تک پہنچانے کے لیے جنوری 2015ءمیں آئین میں ترمیم کے ذریعے قائم فوجی عدالتوں کی مدت میں کی گئی توسیع 6جنوری کو مکمل ہونے کے بعد آج سے فوجی عدالتیں غیر فعال ہو جائیں گی، فوجی عدالتوں کی بحالی کے لیے آئین میں پھر ترمیم کی ضرورت ہوگی، فوجی عدالتیں اب تک 717کیسز میں سے 549 کیس نمٹا چکی ہیں ،جبکہ 168 مقدمات زیر سماعت ہیں، آئینی ماہرین کے مطابق جب تک آئین میں ترمیم نہ کی گئی فوجی عدالتوں کی مدت میں دوسری مرتبہ توسیع نہیں ہوگی، فوجی عدالتیں 6جنوری 2015کو آئین میں اکیسویں ترمیم کے ذریعے قائم کی گئیں جن کا مقصد ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث مجرموں کو جلد ازجلد انجام تک پہنچانا تھا ،فوجی عدالتوں کا قیام 16دسمبر 2014ءکو پشاور میں آرمی پبلک سکول میں دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم طلباءو اساتذہ کی شہادت کے بعد عمل میں لایا گیا جس پر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا، فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد دہشتگردی کے مقدمات کے جلد فیصلوں کے نتیجے میں ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی کے بعد سابق حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے جنوری 2016میں فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال توسیع کی اور اسے آئینی تحفظ دیا گیا،بعد ازاں اس حکومتی فیصلے کو سپریم کورٹ چیلنج کردیا گیا تاہم عدالت کے 13رکنی بنچ میں مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے 5کے مقابلے میں 8ججز کے اکثریتی فیصلے سے فوجی عدالتوں میں کی گئی دو سالہ توسیع کو درست قرار دیدیا، فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے 717دہشتگردوں کے مقدمات میں اب تک 549 مقدمات کے فیصلے کیے ہیں جن میں 299 دہشتگدوں کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ 192ملزمان کو مختلف سزائین سنائی گئی ہیں، فوجی عدالتون نے بعض تکنیکی وجوہات کی بناءپر 54مقدمات دراپ کردئیے، سزائے موت پانے والے 56مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے جبکہ باقی مجرموں کی اپیلیں مختلف عدالتوں میں زیر التواءہیں ،آئینی ماہرین کے مطابق فوجی عدالتوں کی توسیع کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہوگی جب تک پارلیمنٹ آئین میں ترمیم نہیں کرے گی فوجی عدالتیں غیر فعال رہیں گی۔
































