لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ٹرمپ جیسے شخص سے جو مسلمانوں کے خلاف بولتا ہے، پاکستان سے ڈومورکے مطالبے سے نیچے آتا ہی نہیں ہے۔ ان کے منہ سے ایسی بات سن کر تسلی ہوتا ہے انقلابات ہیں زمانے کے کہ ٹرمپ نے ایک دن کہنا تھا کہ میں پاکستان کی نئی قیادت سے ملاقات کا منتظر ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ عمران خان سے ملاقات کے لئے سٹیٹ گیسٹ کے طور پر امریکہ بلائیں گے کیونکہ عمران خان کا جو طالبان کے بارے میں نقطہ نظر ہے دوسری طرف ابوظہبی میں امریکی وفد کے مذاکرات مسلسل طالبان کے لیڈروں کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ اس سے بھی لگتا ہے کہ اب یہ معاملہ کسی منطقی انجام کی طرف کھسکتا جا رہا ہے۔ آہستہ چل رہا ہے ہے مگر چل ضرور رہا ہے۔ امریکہ نے تو شاید قسم کھائی ہوئی تھی کہ ہم جب ایک دفعہ دورے پر گئے تو ہم تلخمی میں آ کر باقاعدہ یہ پوچھا تھا کہ جی آپ انڈیا کو بہت ترجیح دیتے ہیں تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس خاتون کا نام فرانس تھا اور وہ فلاڈلفیا کی سربراہ بھی تھی اور ساتھ وہ یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں اور وہ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ بھی تھی پولیٹیکل سائنس کی انہوں نے کہا تھا کہ اس لئے America is over first love انہوں نے کہا تھا کہ آپ لوگ یہودیوں سے ہمیشہ مخالفانہ باتیں کرتے ہو جبکہ یہودی جو ہیں امریکہ کی بہت بڑی عالب آبادی ہے اور یہاں ان کا بڑا اثرورسوخ ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ آبادی کے لحاظ سے انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ ہم نے اس پر کہا کہ کوئی جمہوریت نہیں ہے کشمیر میں وہ کیا کر رہا ہے اس پر انہو ںنے کہا کہ بہرحال انڈیا ہماری پہلی محبت ہے اور آپ یہ بات اپنے ذہن میں رکھ لو کہ پاکستان کو ہم سے بات چیت کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ اگر تو آپ کا مطالبہ، یا خواہش ایسی ہے جو انڈیا کو نقصان پہ چائے بغیر یا اسے ناراض کئے بغیر ہے پھر تو امریکہ اس کے لئے تیار ہے لیکن امریکہ کسی قیمت پر انڈیا کو ناراض نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ میری سوچ نہیں ہے یہ امریکہ کی سٹیٹ پالیسی ہے۔ اب جو انہوں نے جو پہلی دفعہ کہا ہے اور یہ کھلم کھلا بات پہلی دفعہ کہی ہے کہ انڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ طالبان سے جا کر لڑے۔ یہ ایک کریٹیکل بات بھی ہے کہ اگر واقعی اڈیا نے اس کی بات مان لی اور اپنے کچھ دستے وہاں بھیج دیئے تو جس طرح پورس بارڈر ہے اور یہاں طالبان بھی کرتے جاتے رہتے ہیں تو انڈیا کے فوجی دستے اور ان کے ایجنٹ جو ہیں وہ پاکستانکے سر پر آ کر بیٹھ جائیں۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ کسی فوجی ماہر سے پوچھنا چاہئے کہ اس سے پاکستان کو کیا سکیورٹی کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آج اس پر بات کرنا ضروری ہے کیونکہ عمران خاں کو بہرحال ٹرمپ سے ملنا ہے اور ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے اس بات کا فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ کیا پاکستان اس بات کی اجازت دے گا کہ انڈیا کے فوجی دستے افغانستان میں رول کریں۔
ضیا شاہد نے کہا ہے پنجاب کے لوگ خاص طور پر وسطی پنجاب کے لوگ جس عداب میں مبتلا ہیں وہ بجلی کا نہ ہونا ہے۔ بجلی نہ ہونے پانی ن ہونا اور پانی کے نہ ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی کمیابی اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے دفتر میں بھی لوگوں سے پوچھا تھاکہ ان میں سے ٓادھے سے زیادہ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ انہیں بمشکل اتنا پانی ملا ہے کہ وہ نہ ہاتھ دھو سکیں۔ لوگوں کو بنانے کے لئے تو پانی ہی نہیں ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جو موجودہ دنیا ہے جب یہ پی ٹی سی ایل کے نمبر ہوتے تھے تو اس وقت تو ضرورت نہیں محسوس ہوتی تھی جب سے موبائل فون زندگیوں میں آیا ہے اب تقریباً 90 پرسنٹ کمیونٹی کمشن پر شفٹ ہو گیا ہے ااج صبح سویرے پوچھنے کے لئے نیا اخبار والے فون کرتے ہیں کہ یہ خبریں ہیں وہ کوئی پون گھنٹہ تلاش کرتے رہے ان کو میرے گھر کا پرانا نمبر نہیں مل رہا تھا کیونکہ یہ نمبر تقریباً میسر نہیں رہا اور اس کی وجہ سے یہ جو بہت زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ یہ جو موبائل ٹیلی فون چارجز پر چلتے ہیں جب بجلی نہیں ہوتی تو یہ چارج نہیں ہوتے۔ چارج نہ ہوں یہ مٹی کا کھلونا ہے یہ کچھ نہیں ہے۔ کمیونی کیشن آپس میں ختم ہو گئی ہے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں کافی لوگوں سے پوچھا اپنے ڈرائیور سے بھی پوچھا۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور میں خاص طور پر ٹیوب ویل کے بھی چلنے کے اوقات ہیں کہ وہ ان چار گھنٹوں میں پانی سپلائیں کریں گے۔ اتفاق سے اگر ان چار گھنٹوں میں بجلی بھی بند ہے دو تھنٹے یا تین گھنٹے تو پھر بھی پتہ صاف ہو گیا کہ پانی بھی نہیں آئے گا جب پانی نہیں آئے گا اور پھر آگے سارے زندگی جو پانی سے چلتی ہے ساری رک جاتی ہے اور آحر میں یہ کہوں گا کہ میری اپنی فیملی کے 6 افراد وہ عمرے پر مکہ شریف اور مدینہ شریف آج دس دن کے بعد وہ واپس آئے ہیں تو پہلے پتہ چلا صبح آٹھ بجے فلائٹ ہے اور پھر پتہ چلا 10½ بجے فلائٹ ہے۔ پھر پتہچلا کہ دو بجے معلوم کر لیجئے گا شاید آ جائے ورنہ 5 بجے آئے گی۔ خیر 2 بجے ان کا جہاز اتر گیا حالانکہ دھوپ نکلی ہوئی تھی لیکن مدینہ سے لاہور 4 گھنٹے کا فیصلہ ہے اور یہ 14 گھنٹے میں میرے خاندان کے لوگوں نے یہ فاصلہ طے کیا ہے اور یہ کس طرح بجلی کی کمی اور جو مناسب روشنی کا رقدان کس خوفناک طریقے سے زندگیوں کو اثر ڈال رہا ہے۔ کئی ٹیکنیکٹ ایکسپرٹ لائن پر لائیں میں نے کل بھی یہ ایشو چھیڑا تھا کہ بارشیں، دھند، کہر بھی ہوتی ہے اور سموگ بھی ہوتی ہے اس کے باوجود کسی ملک سے آج تک مجھے نہیں پتہ امریکہ سے یورپ کے کسی ملک تک جس میں اس وجہ سے کہ بجلی ٹرپ کر گئی ہے اور شہروں کے شہر ہیںان کی بتی گل ہو گئی ہو۔ اور کئی کئی گھنٹوں تک غائب ہو جاتی ہے اب تو انتہا ہو گئی کہ اب یہ پتہ چلا کہ ہمارے جو ٹرانسفارمر تھے صرف ان کے ٹرانسفارمر ٹرپ کر جاتے تھے اب جو ہے کل کہا کہ چار پاور ہاﺅس بجلی پیدا کرنے والے ٹرپ ہو گئے ہیں۔ سموگ کیا ان کے اندر گھس گئی تھی۔ وہ تیل سے چلتے ہیں اور مشینیں تیل سے چلتی ہیں کیا اس میں سموگ چلی گئی۔ یہ نالائق لوگ ہیں نا سچی بات بتاتے ہیں نہ عوام کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ عوام کو جواب دیں۔ بڑی بڑی تنخواہوں پر مگر مچھ بن کر بیٹھے ہیں اس کو کان سے پکڑ کر نکال دینا چاہئے۔ یہ سڑک پر کھڑا کر دینا چاہئے یا سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر جے آئی ٹی کے بارے میں یہ جو طاہر القادری کے گھر پر جو حملہ ہوا اور جس پر 14 آدمی شہید ہو گئے اور 80 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ جے آئی ٹی بننے سے امیدکرتا ہوں کہ جہاں جہاں بھی جے آئی ٹی بنی ہے اس نے بڑے خوفناک انکشافات کئے ہیں جے آئی ٹی ایسا ادارہ ہے جس میں تینوں اداروں سے لوگ ہوتے ہیں۔ جے آئی ٹی بننے کا ضرور فائدہ ہو گا کہ اصل بات سامنے آئے گی کہ کس نے حکم دیا تھا کہ کہاں سے جاری ہوا تھا اور کون اس کے پیچھے طاقت کے طور پر بیٹھا تھا کیونکہ شہباز شریف کی یہ بات جو تھی یہ تو اس 6 گھنٹے کے دوران میں ٹی وی کی سکرین پر مسلسل چاہے کوئی ایک شخص نے بھی یہ بات مانی کہ جناب شہباز شریف جن کا گھر ایک ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ہے طاہر القادری کے گھر سے جہاں ان کی خود اپنی رہائش گاہ ہے اور اس کا عالم ہے کہ جب انہوں نے شام کے 4 بجے کے قریب کہا کہ مجھے تو معلوم بھی نہیں کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ سارے ٹی وی چینل دکھا رہے تھے کہ کس طرحی سے گلو بٹ گاڑیاں توڑ رہا تھا کس طرح سے پولیس افسروں کی طرف گلو بٹ کی پیٹھ ٹھونکی جا رہی ہے۔
سینئر دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ بھارت کا افغانستان میں امن یا جنگ کیلئے کوئی کردار نہیں ہے، بھارت افغانستان میں صرف اس لئے بیٹھا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کیسے کرائے، مسائل کیسے کھڑے کرے، بھارت اگر اتحادی فورس میں شامل ہوتا ہے تو امریکی اس کی فوج کو جہاں چاہیں گے تعینات کرینگے جسے بھارت برداشت نہیں کرسکتا، اسی لئے بھارت نے فوری اس تجویز کی مخالفت کی اور فوج بھیجنے سے انکار کیا ہے ، بھارت خوب آگاہ ہے کہ لیڈ فورس امریکہ بھی طالبان کو قابو کرنے میں ناکام ہے تو وہ بھی بیچ میں کود کر صرف لاتیں ہی اٹھائے گا، افغانستان میں بھارتی ایجنسی ”را“ فعال ہے جو صرف پاکستان کیخلاف کام کررہی ہے، بھارت کو فوج بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ، اس لئے وہ امریکہ کی یہ ڈیمانڈ کہ فوج بھیجو کبھی نہیں مانے گا، بھارتی فوج افغانستان چلی بھی جاتی ہے تو اسے اس جنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے ، وہ طالبان کے آگے ڈھیر ہو جائیگی اور طالبان سے بھی مستقل دشمنی مول لینا ہوگی جو بھارت کبھی نہیں چاہے گا، بھارت تو طالبان سے روابط بڑھانے کی کوشش میں ہے کہ اگر کل کو وہاں حکومت میں طالبان کو حصہ ملتا ہے تو بھارت کا بھی اثر و رسوخ قائم رہے، افغانستان میں بھارتی ایئرفورس کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ امریکہ نے وہاں ایئرفورس کے بڑے بڑے اڈے قائم کررکھے ہیں، بھارت امریکہ کا قریبی اتحادی ہے جس کیلئے نیو کلیئر ٹیکنالوجی دینے کیلئے امریکہ نے اپنے قانون تک بدل دیئے اور پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں دھکیل دیا، امریکہ کیلئے پاکستان کی اب اتنی اہمیت نہیں ہے ، وہ پاکستان کو صرف افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے ، وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ امریکہ کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں، امریکہ کو صرف یہ کہا جائے کہ ہم صرف افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں جس کیلئے کوئی بھی ملک اگر کوشش کرتا ہے تو اس کے ساتھ تعاون کرینگے، طالبان کو آج روس، چین اور ایران سے بھی پذیرائی مل رہی ہے ، امریکہ روس چین پر تو دباو¿ نہیں ڈال سکتا تھا اس لئے صرف پاکستان پر دباو¿ ڈال کر میچ میں سے نکال لیا۔
پٹواری کا دفتر کرپشن کا گڑھ ہے، پٹواری کبھی اپنے دفتر میں نہیں ملتا۔ دفتروں میں ان کے ذاتی ملازم کام کرتے ہیں، پٹواری کے ہاتھ میں اتنی طاقت ہے کہ سیاہ کو سفید کر سکتا ہے۔ محکمہ نے اگر سارا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر لیا ہے تو پٹواریوں کا کردار بیچ میں سے نکال دینا چاہئے۔ چیف جسٹس نے فیصلہ کر دیا ہے تاہم پٹواری اتنی آسانی کے ساتھ اپنا رول ختم نہیں ہونے دے گا۔ پٹواری کرپشن کی اماں ہے ایک پٹواری بارے پتہ چلا کہ اس کے پاس 3 گاڑیاں ہیں بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
خدمت خلق فاﺅنڈیشن کی آڑ میں متحدہ والے بھتہ اکٹھا کرتے اور پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے لندن میں الطاف حسین کو بھیجا جاتا تھا موجودہ متحدہ قیادت صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں یہ قتل کو سب کچھ الطاف کے کہنے پر ہوتا تھا۔ الطاف تو لندن سے حکم دیتا تھا کام تو یہی سارے کرتے تھے۔
ترکی سعودی عرب کی طرح پاکستان کی کمیشن کے ذریعے مدد نہیں کر سکتا شریف برادران کے دور میں ترکی کے ساتھ بہت سے مشترکہ معاہدے ہوتے نیب بہت سست ہے ورنہ وہ پتہ چلا سکتی ہے کہ ترکی کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں جو کمپنیاں کام کر رہی ہیں وہ شریف خاندان کے لوگوں کی ہی ہیں ان کمپنیوں کے ذریعے بھی پیسہ بیرون ملک بھجوایا جاتا تھا۔ گوجرانوالہ کے بعد بھکر میں بھی 7 سالہ بچے سے زیادتی اور قتل کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے پولیس مکمل طوور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ایسے سفاک ملزمان کی عبرت ناک سزا دینی چاہئے لیکن ہماری عدالتیں بھی سزائے موت دینے سے ڈرتی ہیں کہ یورپ، امریکہ ناراض ہو جائے گا۔ ضیا دور میں ایک بچے سے زیادتی اور قتل کا واقعہ ہوا اس کے مجرموں کو سرعام پھانسی دی گئی جس کے بعد عرصہ دراز تک کوئی ایسا واقعہ نہ ہوا۔ پھانسی کے مخالف کہتے ہیں کہ غیر انسانی فعل ہے ایسی بات کرنے والوں سے پوچھتا ہوںکہ کیا بچے کو زیادتی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا عمل غیر انسانی فعل نہیں ہے۔ بچوں کے اغوا قتل کے واقعات روکنے کیلئے ملزموں کو عبرت ناک سزائیں دینا ضروری ہے۔
سینئر صحافی میاں افضل نے کہا کہ پٹواری کلچر کا خاتمہ بہت مشکل ہے لاہور میں 70 اربن سرکل میں جہاں پٹواریوں نے اپنی فوج بٹھا رکھی ہے۔ چیف جسٹس نے اچھا فیصلہ دیا ہے تاہم اربن سرکل میں آج بھی پٹواری کلچر کا راج ہے وہاں ریکارڈ بھی کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا جا سکا۔ پٹواری راج کا خاتمہ کرنا ہے تو اربن سرکل کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ہو گا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گاکہ کیا ہماری ضلعی انتظامیہ بھی پٹواری کلچر کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ لاہور میں پٹواری کلچر کا خاتمہ نظر نہیں آتا کیونکہ پرانا ریکارڈ تو سارا پٹواریوں نے گھروں میں رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ارکان اسمبلی کی سیاست بھی پٹواریوں کے گرد ہی گھومتی ہے من پسند پٹواری کی تعیناتی کے لئے بڑی بڑی سفارشیں چلتی ہیں نیب، اینٹی کرپشن جیسے ادارے میں پٹواری کلچر کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ ٹھوکر نیاز بیگ میں تعینات پٹواری رضوان بٹ نے کھوکھر برادران کے ساتھ مل کر پراپرٹی کا کام شروع کیا آج اس کے اربوں کھربوں کے اثاثے ہیں۔
مرکزی سیکرٹری جنرل این ٹی ڈی سی محمد نواز نے کہا کہ دھند کے باعث بریک ڈاﺅن ہوتا ہے، فریکونسی آﺅٹ ہوجائے تو پاور سٹیشن ٹرپ کر جاتے ہیں، جب تک دھند رہے گی ایسے ہی چلے گا، پاور ہاﺅس ٹرپ کر جائے تو اسے نارمل ہونے میں سات آٹھ گھنٹے درکار ہوتے ہیں ہمارے یہاں فوگ اور بھٹوں کا دھواں بہت ہے جس کا باعث کاربن جم جاتا ہے اور پاور سٹیشن ٹرپ کرتے ہیں، پاور سٹیشن ٹرپ ہونے میں پرانی تاروں کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
خبریں کے نمائندہ بھکر بشیر غوری نے کہا کہ سات سالہ بچے حبیب سے زیادتی اور قتل کا اندوہناک واقعہ کوٹلہ جام میں پیش آیا۔ بچہ 13 دسمبر کو سکول جاتے لاپتہ ہوا پولیس کو والدین نے بروقت اطلاع دی لیکن پولیس نے روایتی سستی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ بچے کے دھر کا آدھا حصہ ابھی تک نہیں مل سکا اس کے والدین غم سے نڈھال ہیں۔ خاتون ڈی پی او بھی صرف طفل تسلیوں سے کام چلا رہی ہیں۔
































