لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف نہیں دے رہی ۔لگتا ہے موجودہ حکومت نے دوبارہ الیکشن نہیں لڑنا ۔وزیراعظم نے گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرانے کا بھی حکم دیا تھا ایسا تو بادشاہت میں نہیں ہوتا۔چینل فائیو کے پروگرام کالم نگارمیں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجوہ حکومت کا کوئی ویژن نہیں۔انور مجید کے گھر توکئی مرتبہ چھاپہ مارا گیا۔حکومت کے معاملات لگتا نہیں آگے چلیں گے سب کے خلاف محاذ کھول دیا گیا ہے۔مجھے تو انتشار نظر آ رہا ہے۔سرمایہ وہیں جاتا ہے جہاں تحفظ ملے۔سب آپس میں لڑتے رہیںگے تو مسائل کون حل کریگا۔اس وقت ڈیموں کی اشد ضرورت ہے۔چھوٹے ڈیمز کوترجیح دینا چاہئے۔کالم نگار میاں افضل نے کہا ہے کہ پہلے تو یہ بتایا جائے ناجائز تجاوزات ہیں کیا۔تجاوزات کے زمرے میں 1928 کا نقشہ لے کر کارروائی کیسے ہو سکتی ہے۔اس سے نفرت کا عنصر پیدا ہو گا۔عدالتوں کا ادارے ہمیشہ احترام کرتے ہیں۔لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔جلد بازی سے کام نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی صفوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جن کا احتسا ب ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا ترک وزیر دفاع کا جی ایچ کیو کا دورہ خوش آئند ہے۔پانی کی تقسیم پر پنجاب سے پہلے بھی زیادتی ہوتی رہی اب بھی ہو رہی ہے۔سندھ 92فیصد پانی لے رہا ہے ۔ کالم نگارامجد سلیم نے کہا کہ ریاست ماں جیسا کردار ادا نہیںکر رہی ، بڑھتی آبادی جیسے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی لوگوں کے مکانات گرائے جا رہے ہیں ناجائز تجاوزات بے شک ایشو ہے لیکن ریاست شہریوں کو تحفظ بھی دے۔انہوں نے کہا بہت ہی خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ملک کو عدم استحکام کی جانب کیوں لے جایا جا رہا ہے۔میرے خیال میں مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالا جائے۔انہوں نے کہا ہمیں پراکسی وار سے بچنا چاہئے۔ کالم نگار آغا باقر نے کہا کہ تجاوزات ایک مسئلہ ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن تجاوزات گراتے ہوئے عام لوگوں کے گھر دیکھ لئے جائیں۔ منی لانڈرنگ کو کیسے حق بجانب ٹھہرایا جا سکتا ہے۔پھر یہی رقم اگر دہشت گردی میں استعمال ہو رہی ہوتو کیسے برداشت کیا جائے۔
































