تازہ تر ین

عوام اتنے تنگ نہیں کہ اپو زیشن انہیں سڑکوں پر لا سکے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ دو ڑی تبدیلیاں آئی ہیں ایک تبدیلی تو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جوابی وار کریں گے کہ وہ اس بات کو اٹھانا چاہتے ہیں کہ علیمہ خان جو عمران خان کی بہنیں ہیں انہیں جو 3 کروڑ روپے جرمانہ بھی ہوا تھا ان کے ذرائع آمدن کیا تھے اور پیسے کیسے باہر گیا یعنی وہ منی ٹریل مانگیں گے۔ اب تو خورشید شاہ نے کہہ بھی دیا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ مل کر جدوجہد کی جائے چنانچہ نوازشریف اور آصف زرداری کی ملاقات میں یہ فائنل ہو جائے گا کہ دونوں پارٹیاں کس طرح سے آگے چلیں گی۔ نوازشریف نے اپنے ورکروں کو کہہ دیا ہے کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آ گیا تو خاموش رہیں اگر فیصلہ خلاف آتا ہے تو احتجاج کے لئے تیار رہیں۔ دوسری طرف آصف زرداری کے ورکروں کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ تیار ہو جائیں، کل صبح کی ایوننگرز کی یہ خبر تھی کہ اگر بلاول بھٹو اور زرداری گرفتار ہو گئے تو صنم بھٹو جو بے نظیر بھٹو کی بہن ہیں اور جواس سے پہلے سیاست میں آمد کے لئے تیار نہیں ہوتی تھیں ان کو تیار کیا گیا ہے تا کہ خاندانی قیادت برقرار رہے۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ پاکستان کے ہر شہر میں احتجاجی مظاہروں کے لئے تیار رہیں۔ یہ ایک نئی صورت حال ہے جوابی وار کے طور پر عمران خان کی بہن، جہانگیرترین اور دیگر کچھ لوگ تلاش کئے جا رہے ہیں جن کے بارے میں کوئی نہ کوئی شکایت تلاش کی جا سکے الیکشن کمیشن کو، نیب کو دونوں فریق اپنے اپنے طور پر تیاری کر رہے ہیں نوازشریف کا 24 دسمبر کو فیصلہ ہو جائے گا اس کے لئے انہوں نے دونوں راستے بنا دیئے ہیں۔ آصف زرداری کے بارے میں چیزیں کھل کر سامنے آ جائیں گی۔
خرم شیرزمان کی طرف سے جو ریفرنس دائر کیا گیا ہے اس سے تو ان کو زیادہ نااہل قرار دیا جا سکتا ہے یہ اصل میں منی لانڈرنگ کے کیس میں ان کی زیادہ تفصیلات اب حکومت کے پاس آ گئی ہیں اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے علاوہ، بینکنگ کورٹ آف کراچی جو ہے اس میں بہت زیادہ ثبوت سامنے آئے ہیں اور اس میں تو اعداد و شمار بھی آ گئے ہیں کہ اربوں روپے باہر بھیجے گئے اور مبینہ طور پر ان کے پیچھے آصف زرداری تھے۔ اس لئے میں سمجھتا ہو ںکہ صرف یہ نہیں ہے کہ ان کو نااہل قرار دینے کی کوشش ہو رہی ہے بلکہ انہیں گرفتار کروانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ 10 والیم پر مشتمل یہ رپورٹ ہے، 104 بنک اکاﺅنٹس تھے جن سے 2 کھرب سے زیادہ کی ٹرانزکشن ہوئی ہے ہے۔ یہ اعداد و شمار اتنے خوفناک ہیں کہ میں سمجھتا ہو ںکہ اگر 5 فیصد بھی زرداری صاحب کا ہاتھ ہے تو ان کا بچنا مشکل نظر آتا ہے لگتا ہے بینکنگ کورٹ کے ان معاملات کے چکر میں خود ایک وعدہ معاف گواہ بھی ان کے پاس تیار ہے جو شخص انور مجید کے مالی معاملات دیکھتا رہا تھا جس کو باہر سے گرفتار کیا گیا ہے اس نے یہ ساری چیزیں مان لی ہیں اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ آنے والے چند روز میں یعنی دکھائی دیتا ہےکہ کوئی نہ کوئی بڑا ایکشن ضرور ہو گا۔ زرداری صاحب نے تمام ارکان اسمبلی اور کارکنوں کو بینکنگ کورٹ میں پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی ہے یہ ایک تیاری ہے پنجاب میں لاہور یا دوسشرے شہروں میں نہیں سمجھتا کہ پیپلزپارٹی اس پوزیشن میں ہے کہ کوئی بڑے ہنگامے کر سکے۔ لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت بھی سندھ میں ہے اور جیتے ہوئے لوگ بھی ان کے ساتھ کافی ہیں۔ ہر ایم پی اے، ایم این اے اور سنیٹر بھی ان کے ساتھ کافی تعداد میں ہیں لہٰذا اگر کوئی بھی ایسا معاملہ ہوا تو وہ نہ بھی چاہیں تو یہ ایک طرح سے سندھ کارڈ استعمال ہو گا۔حکومت کی خواہش ہو گی کہ سندھ کے دوسرے گروپوں، پیر صاحب پگاڑا اور چھوٹے چھوٹے جتنے بھی گروپوں کو جو پیپلزپارٹی کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں ان کو تقویت دے کر اور انن کو اس رو میں ان کے ساتھ شامل نہ ہونے دیا جائے ورنہ پاکستان بھر میں صرف ایک ہی صوبہ ہے جس میں پیپلزپارٹی کی اکثریت ہے۔ ان کے دیرینہ مخالف اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے اور بانی متحدہ کے بارے میں عدالت عالیہ لاہور کا فیصلہ جو ہے اس کی بنیاد پر جب سے ان کے بیانات چھپنے بند ہوئے ہیں اس سے ایم کیو ایم بُری طرح ڈیمج ہوئی ہے۔ کیونکہ ایم کیو ایم پاکستان وضاحت کرتی رہتی ہے کہ اس کا بانی متحدہ سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے بارے میں شکوک شبہات پائے جاتے ہیں کہ اندر کھاتے اپنے لندن والے لیڈر کو ہی سپورٹ کرتے ہیں انہی سے رہنمائی لیتے ہیں۔ نئے سرے سے نئی سیاسی سرگرمیو ںکا آغاز ہونے والا ہہے۔ دونوں فریق فائنل شو ڈاﺅن کے صف بندیاں شروع ہو رہی ہیں۔ عوام میں بڑے پیمانے پر بے چینی دکھائی نہیں دیتی۔ مہنگائی ایشو ضرور ہے تجاوزات کے خلاف ایکشن کا جو عدالتوں کی طرف سے جو آرڈر ہوا ہے اس میں جو تنگ آئے ہیں بجنگ آمد تک آ سکتے ہیں ایسے لوگ موجود ہیں چاہے وہ محدود ہیں جو موجودہ حکومت سے کافی تنگ ہیں ان کو متحرک کرنے کی اپوزیشن پارٹیاں کریں گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت فائٹ کرے گی اور اس کے پاس اچھے کارڈز ہیں۔ اور دوسری طرف سے یہ پراپیگنڈا جاری ہے ملک میں غربت ہے اور یہ جو پارٹیوں کے بڑے بڑے لیڈر ہیں ان کی بیرون ملک پراپرٹیاں ہیں کتنی ہیں اور منی لانڈرنگ کے کتنے ثبوت سامنے آ رہے ہیں۔ اس سے ایک عوام کا حقلہ بڑا متنفر ہے اگر زرداری کو گرفتار کیا گیا تو اگر پیپلزپارٹی مہم چلائے گی تو میں نہیں سمجھتا کہ پوورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا اور سندھ میں کچھ ہنگامے ہو سکتے ہیں لیکن پنجاب اور خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تو پیپلزپارٹی کی ایسی مضبوط صورتحال نظر نہیں آتی۔ جہاں تک مسلم لیگ ن کا تعلق ہے تو انہوں نے بھی اپنی ٹیم تشکیل دے دی ہے جس میں احسن اقبال، خواجہ آصف، حمزہ شہباز اور شاہد خاقان عباسی کا نام ہے۔ حمزہ کے والد گرفتار ہیں۔ ان کی رہائی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ن لیگ کی کافی سیٹیں ہیں پنجاب میں لہٰذا پنجاب میں وہی پوزیشن ہے جو سندھ میں پیپلزپارٹی کی ہے البتہ ایک مدت سے وہ اتنے ایکٹو نہیں رہے۔ اکثر لوگ ان میں سے اپنی جان بچانے کے لئے گھروں میں چھپ گئے ہیں کھل کر سیاست میں بھی نہیں آ رہے ہیں تحریک سامنے آتی ہے تو پھر پتہ چلے گا کتنے لوگ آ کر سڑک نعرہ لگاتے ہیں۔
سیاسی رہنماﺅں کی بڑی بڑی جائیدادیں، منی لانڈرنگ کے کیسز سامنے آنے سے عوام ان سے متنفر نظر آتے ہیں، اس لئے گرفتاریوں کی صورت میں عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلتی دکھائی نہیں دے رہی۔ مہنگائی اور تجاوزات کے باعث لوگوں میں بے چینی ضرور ہے اس کو اپوزیشن کیش کرانے کیلئے کوشش کر سکتی ہے کہ ان لوگوں کو سڑکوں پر لائے حکومت کے پاس بھی کھیلنے کے اچھے کارڈ موجود ہیں۔ آصف زرداری کی گرفتاری پر سندھ کے چند شہروں میں احتجاج ضرور ہو سکتا ہے تاہم باقی تینوں صوبوں میں ایسا نظر نہیں آتا۔ نوازشریف احتجاجی تحریک کی کوشش کرنے لگے جس کے لئے انہوں نے ایک ٹیم بھی تشکیل دیدی ہے ن لیگ کی پنجاب میں کافی سیٹیں بھی ہیں تاہم ان کے ارکان اسمبلی میں بھی اکثر خاموشی میں ہی عافیت سمجھ رہے ہیں۔ ن لیگ کوشش کرے تو پنجاب میں کافی لوگوں کی باہر نکال سکتی ہے کیونکہ پنجاب میں ن لیگ کی وہی صورتحال ہے جو سندھ میں پی پی کی ہے۔ میڈیا اکثر ایسی رپورٹیں سامنے لاتا ہے جو ابھی پبلک نہیں ہوتیں تاہم اس پر اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ اس کا یہ کام ہے کہ اندر کی معلومات باہر لائے۔ عوام کا اپنی لیڈر شپ پر اعتماد کم ہوا ہے اس لئے گرفتاری کی صورت میں وہ دیوانہ وار باہر سڑکوں پر نہیں نکلیں گے۔ پاکستان میں حرام دولت کمانے والوں نے بہت پیسہ اکٹھا کر رکھا ہے دو چار کروڑ کسی کے گھر سے برآمد ہونا تو معمولی بات بن چکی ہے۔ نیب کے پلی بار گین قانون پر اعتراض اور تنقید تو عرصہ سے جاری ہے۔ سپریم کورٹ نے اس قانون پر ٹھیک نوٹس لیا ہے پارلیمنٹ پر بھی دباﺅ ہے کہ اس قانون کو ختم کر دے۔ میرے نزدیک اگر یہ قانون رکھنا بھی ہے تو ریکوری رقم 75 فیصد ہونی چاہئے۔ کرپشن پکڑنے والے سرکاری عہدیداروں کو ریکوری میں سے پیسے دینے پر بھی اگر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ تو ان کی ڈیوٹی تھی ہاں عوام اگر کرپٹ عناصار کی نشاندہی کر کے ریکوری کرائیں تو انہیں انعام ضرور ملنا چاہئے۔ شہباز شریف کیلئے نیب ریفرنس سخت ثابت ہو گا۔ تجاوزات آپریشن میں تعمیر شدہ عمارت کو گرانے کے بجائے ان کا کوئی دیگر بہتر متبادل فائدہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ ان املاک کی قیمت وصول کی جا سکتی ہے ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے جس سے قومی خزانے کو فائدہ ہو گا۔ حکومتدودھ کے نام پر زہر فروخت کرنے والوں کو کیوں نہیں پکڑتی۔ جس ریٹ پر یہ لوگ دودھ فروخت کر رہے ہیں وہ تو اس کی اصل قیمت سے آدھے سے بھی کم ہے۔ مختلف کیمیکل اور مضر صحت اشیا کے استعمال سے دیارا یہ جعلی دودھ عوام میں طرح طرح کی بیماریاں پھیلا رہا ہے جو عناصر اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں ان کی فوری بیخ کنی ضروری ہے۔
سینئر رپورٹر میاں افضل نے کہا کہ تجاوزات آپریشن کے نام پر یہ لوٹ مار کا نظام بنا دیا گیا ہے حکومت ابھی تک طے بھی نہیں کر پائی کہ تجاوزات کیا ہیں۔ لوگوں کے پاس مختلف عدالتوں کے سٹے آرڈر موجود ہیں تاہم انتنظامی افسران کو خاطر میں لائے بغیر املاک پر بلڈوزر چلا رہے ہیں۔ 50 لاکھ گھر بنانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت ابھی تک تو لوگوں کے سروں سے چھت چھینتی نظر آتی ہے۔
سٹی رپورٹر محمد افضل نے کہا کہ شہر بھر میں کیمیکل ملا زہریلا دودھ سرعام فروخت کیا جا رہا ہے جس کے باعث مختلف امراض بڑھ رہے ہیں ہسپتالوں میں رش بڑھ گیا ہے۔ دودھ کے نام پر زہر فروخت کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ فوڈ اتھارٹی نے ایسی ہی ایک مشہور دکان سردار لطیف ملک شاپ کو سیل کر دیا لیکن تین دن بعد ہی دکان دوبارہ کھل گئی اور پہلے سے زیادہ جوش و خروش سے زہر بھیجا جانے لگا ہے۔ فوڈ انسپکٹر ان زہر بیچنے والے دکانداروں سے منتھلیاں لیتے ہیں۔ یہ کیمیکل ملا دودھ ڈیریوں پر تیار کر کے گاڑیوں کے ذریعے دکانوں پر سپلائی کیا جاتا ہے۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv