جب میں نے یہ سنا کہ قندیل بلوچ پہ کوئی کتاب لکھ رہا ہے تو مجھے اس کتاب کو پڑھنے کی رتی برابر بھی تشنگی نہ ہوئی۔وہ اس لیے کیونکہ جولائی 2016 کے بعد سے، یعنی وہ مہینہ و سال جسکے بعد قندیل ہم میں نہ رہی، اسکی کہانی پر ہر چینل، ہر اخبار، ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پہ موجود ہر جاننے والے نے اتنا تبصرہ فرمایا کہ اب قندیل کی کہانی عبرت کی نشانی بن کے رہ گئی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ قندیل کی زندگی کی ہر چیدہ حقیقت متعدد ڈاکومنٹریوں کا مرکز بن چکی ہے۔
































