یہ تحقیق رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی جانب سے شائع کی گئی
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قدرت اور انسانی اعضا میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کی جو مقدار سمجھی جا رہی تھی، وہ ممکنہ طور پر سائنس دانوں کے لیبارٹری دستانوں میں موجود ایک مرکب کی وجہ سے بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہے۔
حالیہ برسوں میں تشویشناک رپورٹس سامنے آئی ہیں جن کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس (یعنی پانچ ملی میٹر سے چھوٹے ذرات) دریاؤں، مٹی، انٹارکٹکا کی برف، خون، پیشاب اور ماں کے دودھ میں پائے گئے ہیں۔
ایک رپورٹ میں تو یہاں تک کہا گیا کہ انسانی دماغ میں ایک چائے کے چمچ کے برابر پلاسٹک بھی پایا گیا ہے۔
تاہم یونیورسٹی آف مشیگن کے سائنس دانوں نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ نمونے دراصل لیبارٹری کے دستانوں پر موجود نہایت باریک مرکبات سے آلودہ ہو سکتے ہیں۔
یہ تحقیق رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی جانب سے شائع کی گئی.
تحقیق کے مطابق دستانوں سے خارج ہونے والی نہایت معمولی باقیات، جنہیں اسٹیریٹ سالٹس کہا جاتا ہے، آسانی سے مائیکرو پلاسٹک پولی ایتھائلین سمجھ لی جاتی ہیں۔
































