وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی معاشرے کی یہ پہچان نہیں ہوتی کہ وہاں امیر لوگوں کا رہن سہن کیا ہے، معاشرے کی پہچان کمزور طبقے سے ہوتی ہے جبکہ طاقتور طبقہ قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) جیسے اتحاد بناتا ہے۔
نوشہرہ میں جلوزئی ہاؤسنگ اسکیم کے آغاز سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو معاشرہ اپنے کمزور اور غریب طقبے کا دھیان نہیں رکھ سکتا، دنیا کی تاریخ میں وہ معاشرہ ترقی نہیں کرسکا۔
انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ریاست مدینہ کی بنیاد رکھ کر انسانی تاریخ میں انقلاب لے کر آئے جہاں قانون کی بالا دستی کی بنیاد رکھی گئی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے مدینے کی ریاست کو ماڈل بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی کا مطلب سمجھانا چاہتا ہوں جس کے بارے میں لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالا دستی کا مطلب ہے کہ طاقتور کو قانون کی گرفت میں لے کر آنا جبکہ کمزور طبقے کو طاقتور سے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طاقتور طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے کہ اگر وہ ڈاکے بھی مارے تو کوئی گرفت نہ کرے۔

