(ویب ڈسک )اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بحریہ آئیکون ٹاور کراچی سے متعلق کرپشن ریفرنس میں بحریہ ٹاو¿ن کے چیئرمین ملک ریاض، ان کے داماد زین ملک اور دیگر نامزد ملزمان کو طلب کرلیا۔ 13 فروری کو طلب کیے گئے دیگر افراد میں سابق سینیٹر یوسف بلوچ، ڈاکٹر ڈنشا انکل سریا، لیاقت قائم خانی، وقاص رفعت، غلام عارف، خواجہ شفیق، عبدالسبحان میمن، جمیل بلوچ، افضل عزیز، سید محمد شاہ، خرم عارف، عبدالکریم پلیجو اور خواجہ بدیع الزمان شامل ہیں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر 13 فروری کو ریفرنس پر باضابطہ کارروائی کا آغاز کریں گے۔واضح رہے کہ بحریہ آئیکون ٹاور کیس جعلی اکاو¿نٹس کیس کا ہی ایک حصہ ہے، یہ پہلا ریفرنس ہے جس میں ملک ریاض کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ریفرنس کے مطابق ملزمان نے باغ ابنِ قاسم سے متصل رفاہی پلاٹ کو غیر قانونی طور پر الاٹ کرکے بحریہ ٹاو¿ن نے ٹاور تعمیر کیا ہے، جس سے قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔واضح رہے کہ یہ بلند و بالا عمارت کراچی میں بحیرہ عرب کے ساحل کے نزدیک واقع ہے جس کی 62 منزلیں ہیں اور اس میں سے 40 منزلیں مختلف استعمال کی ہیں۔قومی احتساب بیورو (نیب) نے احتساب عدالت کے رجسٹرار کے پاس ریفرنس دائر کیا تھا جو جانچ پڑتال کے بعد رجسٹرار آفس نے احتساب عدالت کے انتظامی جج محمد بشیر کو بھجوایا تھا۔معمول کے طریقہ کار کے مطابق، ابتدائی کارروائی میں عدالت تمام ملزمان کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرتی ہے اور اگلے مرحلے میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے اور پھر باضابطہ ٹرائل شروع ہوتا ہے۔بحریہ ٹاو¿ن کی قانونی ٹیم کے سینئر وکیل نے کہا کہ یہ ریفرنس ملک ریاض کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں، انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹائیکون درخواست ضمانت دائر کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف ثبوت کمزور ہیں۔سینئر وکیل نے کہا کہ حال ہی میں قومی احتساب آرڈیننس میں ترمیم سے متعلق نافذ کیے گیے صدارتی آرڈیننس سے بھی ملک ریاض کو فائدہ ہوسکتا ہے۔وکیل کے مطابق ملک ریاض پلی بارگین کے تحت بری ہوسکتے ہیں۔خیال رہے کہ پلی بارگین کے تحت نیب کو متفقہ رقم ادا کرنے کے بعد ملزم رہا ہوسکتا ہے، تاہم اس معاہدے کے تحت ملزم سرکاری عہدہ نہیں رکھ سکتا کیونکہ پلی بارگین سے سزا معاف نہیں ہوتی۔وکیل نے کہا کہ ملک ریاض انتخابات میں حصہ لینے یا سرکاری عہدہ رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تو پلی بارگین سے ان کے کاروباری منصوبوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔خیال رہے کہ گزشتہ برس جون میں سندھ ورکس اینڈ سروسز کے سابق سیکریٹری سجاد عباسی کو آئیکون ٹاور کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا جو بعد میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔عدالت میں دیے گئے بیان میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ جب ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ا?فیسر ریونیو تعینات تھے تو اس وقت انہوں نے یہ رفاہی پلاٹ ڈاکٹر ڈشنا انکل سریا کو فروخت کیا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر ڈشنا انکل سریا نے یہ پلاٹ ملک ریاض کو فروخت کیا جنہوں نے اس پر بحریہ آئیکون ٹاور کی تعمیر کی۔
بریکنگ نیوز
- لارنس بشنوئی گینگ کا ٹی 20 ورلڈ کپ میچ فکسنگ میں کردار؟ ٹیم کے کپتان سے ممکنہ تعلقات
- پاک بھارت فضائی حدود کی بندش کا ایک سال، زیادہ نقصان کسے ہوا؟
- پی ایس ایل: کراچی کنگز کے اسکواڈ میں اہم کھلاڑی کی واپسی
- وزیراعظم کا ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تیزی لانے کا حکم
- صوبائی حکومت کا ملازمین کی تنخواہ سے متعلق بڑا فیصلہ
- جائزہ لے رہے ہیں، جنگ بندی مذاکرات پر اپنے فیصلے سے جلد آگاہ کریں گے؛ ایران
- ایران کے اربوں ڈالر کہاں پھنسے ہوئے ہیں؟ حیران کن تفصیلات منظر عام پر آگئیں
- ’اسرائیل سے معاہدہ معطل کیا جائے‘، اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا کا یورپی یونین سے مشترکہ مطالبہ
- ٹام کروز کا اپنے مداحوں کے لیے بڑا اعلان
- بھارتی ایوارڈ شو میں بولڈ ڈریس پہننے سے انکار کردیا تھا، ریما خان
- فضا علی کی نئی ویڈیو وائرل، شوہر کی قلابازیوں نے سب کو حیران کر دیا
- میرا نے شان شاہد کو شاہ رخ خان سے بڑا اداکار قرار دے دیا
- زیادہ پھل اور سبزیوں پر مشتمل غذا بھی کینسر کا سبب ہوسکتی ہے!
- غیر قانونی ادویات کی آن لائن فروخت اور تشہیر پر ڈریپ کا سخت نوٹس
- دنیا کا معمر ترین برطانوی خرگوش
- 114 سال پرانی یادگار، ٹائی ٹینک سے بچنے والی خاتون کی لائف جیکٹ ریکارڈ قیمت پر نیلام
- آئی ایم ایف شرائط کے مطابق نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ بنانے کی تیاریاں تیز
- ونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت کم ہو گئی
- ’یورپی یونین کی عمر تصدیقی ایپ صرف 2 منٹ میں ہیک ہو سکتی ہے‘
- آبنائے ہرمز پر ایران کی مستقل بالادستی کا خوف: خلیجی ممالک اسلام آباد مذاکرات سے پریشان

