تازہ تر ین

وفاقی بجٹ کا کھربوں کا خسارہ متوقع ، سگریٹ ، مشروبات مہنگے کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بجٹ 11جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، کابینہ 6ہزار 800ارب روپے سے زائد کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے گی جس میں سے 3 ہزار ارب روپے کا خسارہ متوقع ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2500ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، وفاق کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 925ارب روپے مختص ہوں گے۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5ہزار 5سو 50ارب روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ 14سو ارب روپے کے قریب ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا،چینی پر سیلز ٹیکس 8 سے بڑھا کر 17فیصد کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے، پولٹری مصنوعات، الیکٹرونک مصنوعات سمیت درجنوں اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافے، لگڑری اشیا کی درآمد پر 2فیصد اضافی ڈیوٹی کو بڑھا کر 3فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ وفاقی بجٹ میں پانچ برآمدی شعبوں کیلئے زیرو ریٹنگ ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، کھادوں کی قیمتوں میں کمی کی منظوری بھی متوقع ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10سے 15 فیصد اضافے کی تجاویز زیرغور آئیں گی۔تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی حتمی منظوری کابینہ منگل کو دے گی جبکہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس چھوٹ میں بھی ردو بدل کیا جائے گا۔۔کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔حکومت پاکستان نے نئے مالی سال میں 5 ہزار 550 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کا فارمولا طے کر لیا۔ذرائع کے مطابق نئے مالی سال 20-2019 کے بجٹ کی ترجیحات کا تعین کر لیا گیا، نئے مالی سال میں ایک ہزار 400 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کالا دھن رکھنے والوں سے کی جائےگی۔نجی ٹی وی کے مطابق امرائ پر ٹیکس بڑھانے اور اورموجودہ ٹیکس گزاروں کو ریلیف فراہم کرنے کی بھی حکمت عملی بھی طے کر لی گئی ہے، بجٹ میں پسماندہ اور غریب طبقات کی فلاح بہبود پر بھرپور توجہ دینے کا ویڑن بھی شامل کیا گیا ہے اور اس ضمن میں احساس پروگرام کے لیے مختص رقم 100 ارب روپے سے بڑھا کر180 ارب روپے کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق 85 فیصد بجلی کے چھوٹے صارفین اور 40 فیصد چھوٹے گیس صارفین کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال میں 200 سے 250 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جائے گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے ٹیکس اور لیوی میں ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ اسی طرح بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو درست کرنے کے لیے درآمدات کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے گی اور غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے ان پر اضافی ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔نجی شعبے میں درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے ان کے زرمبادلہ میں کیش مارجن کی شرح بڑھانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔حکومت نے مالی سال 2019-20ئ کے بجٹ میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس (مشروبات)پر ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی۔ میڈیا رپورٹ میں دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سگریٹ کے فی پیکٹ پر 10روپے جبکہ کاربونیٹڈ ڈرنکس (مشروبات)کی 250ملی لیٹر کی بوتل پر ایک روپے ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔دستاویزات کے مطابق ہیلتھ ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم صحت کے شعبے کی ترقی پر خرچ کی جائے گی جبکہ بجٹ میں سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کے خلاف اقدامات کی تجویز بھی زیر غور ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ سگریٹ اور دیگر مصنوعات کی غیر قانونی پیداوار اور تجارت کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی اور اس سلسلے میں وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈ ریگولیشنز مجوزہ اقدامات کا مسودہ پیش کرے گی۔ خیال رہے کہ پاکستان میں سالانہ 143ارب 21کروڑ روپے کی تمباکو نوشی کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ 60ہزار افراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کے ترجمان برائے انسداد تمباکو نوشی بابر بن عطا ئ نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ہیلتھ ٹیکس کی منظور دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 20روپے والے سگریٹ کے پیکٹ پر 10روپے اور مشروبات پر بھی ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہیلتھ ٹیکس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم صحت کارڈ کے ذریعے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے ٹیکس لگائے جارہے ہیں جس سے 40سے 50ارب روپے کے وسائل حاصل ہوں گے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر جرات مندانہ فیصلہ کیا گیا اور دعوی کیا کہ موت کے سودا گروں کے دبا ?میں نہیں آئیں گے۔ حکومت نے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر ترجمانوں کے اجلاس میں مشاورت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ترجمانوں کے اجلاس میں آیندہ بجٹ کی تیاری اور خدوخال پر بھی مشاورت کی گئی، اس اجلاس میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس میں بجٹ کی تیاری سے متعلق حکومتی ترجمانوں کو آگاہ کیا گیا، اور اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شور شرابے سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی بنائی گئی۔دریں اثنا، وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بجٹ میں پس ماندہ علاقوں کی ترقی اور کم زور طبقات کی معاونت پر توجہ دی جا رہی ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انضمام شدہ علاقوں کے عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں ہیں، ان علاقوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ یہ اپنی صلاحیتوں کو برو¿ے کار لا سکیں۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم ہدایت کر چکے ہیں کہ بجٹ میں اخراجات میں ممکنہ حدتک کفایت شعاری اختیار کی جائے۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv