لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ضلعی سطح کی بجائے تحصیل کی سطح پر اختیارات کی تقسیم یک نیا تجربہ ہے اس لحاظ سے تو یہ ایک بہتر سسٹم ہے کہ تحصیل کو بنیاد بنا کر ڈویلپمنٹ کی سرگرمیاں مرکوز کرنا چاہتے ہیں لیکن بنیادی طور پر جس طرح سے پہلا نظام چلا تھاپھر دوسرا نظام آیا پھر تیسرا آیا باری باری تجربہ کرنا پڑتا ہے جب کوئی سسٹم آتا ہے تو اس کی خرابیاں بھی پتہ چلتی ہیں اور اس کے نقائص کا بھی پتہ چلتی ہیں جب باقاعدہ اس پر عمل نہیں آئے گا تواس کا پتہ چلے گا کہ اس میں کہاں کہاں خرابی تھی اور کہاں کہاں خوبی تھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ کاغذ پر لکھے ہوئے سسٹم کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پرفیکٹ ہے پرفیکٹ تو اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں ہے البتہ یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ ڈسٹرکٹ کی بجائے ڈسٹرکٹ بہت پھیلا ہوا ایریا ہوتا ہے ضلع کی بجائے تحصیل کو بنیاد رکھا گیا ہے دیکھیں جب یہ سسٹم سامنے آئے گا تو پھر اس کی خوبیوں خامیوں کا پتہ چلے گا۔ ایک سال کافی ہوتا ہے لیکن میں ایک بات دیانتداری کے ساتھ سمجھتا ہو ںکہ پریکٹس کرتے وقت ہی پتہ چلتا ہے کہ اور نظام کاغذ پر سارے اچھے ہوتے ہیں اصل صورت حال پریکٹس کے وقت اس کی خوبی خرابی کا پتہ چلتا ہے۔سانحہ ساہیوال کے ورثاءسے وزیراعظم کی ملاقات ہوئی امدادی چیک بھی دیئے گئے امدادی چیک ان کے پیاروں کو واپس نہیں لا سکتے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ جتنی ظالمانہ اقدام تھا میں یہ سمجھتا ہوں کہ دیکھنے والی چیز یہ ہے کہ اس سانحہ کے مرتکب افراد تھے ان کو سزائیں کتنی مل رہی ہیں اب تک کہاں پہنچی ہیں یہ سزائیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان سزاﺅں کا عمل جو ہے وہ کافی ہے کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آئندہ کوئی بلنڈر نہیں ہوگا۔ دیکھنے والی بات ہے کہ پولیس کی وردی کے سوا کچھ نہیں بدلا جس طرح سے پولیس ویسے ہی ہے اور اس کا مزاج، سٹائل ویسے ہی ہے عمران خان صاحب کے بارے دعوﺅںکے باوجود خیبر پختونخوا کی پولیس نے کارنامہ انجام دیا وہ انجام دیا کم از کم پنجاب میں شروع میں کہا بھی گیا فلاں صاحب کو لا رہے ہیں مجھے تو پولیس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ پولیس نظام سے زبردست قسم کی بنیادی تبدیلیاں ہونی چاہئیں اور پولیس کا سارا ڈھانچہ تبدیل کر کے ہی ہم نئے معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں گے۔ضیا شاہد نے کہا کہ ہر طرف یہ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہا جاتا ہے کہ نوازشریف صاحب کے سلسلے میں مریم نواز کے حوالے سے شیخ رشید نے پہلے کہا کہ بات چیت کر رہی ہیں این آر او کے لئے کوشش ہو رہی ہے پھر اس کے بعد عمران خان صاحب نے خود یہ کہا کہ نوازشریف پیسے جمع کرائیں اور بے شک ملک سے باہر چلے جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کچھ نہ کچھ چل ضرور رہا ہے اور اب تو یہ کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف صاحب جو لندن یاترا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے بھتیجوں سے بات کرنے گئے ہیں کہ شاید وہ لم سم اماﺅنٹ 450 سو ارب روپے مالیت کے فلیٹ تھے وہ بڑی آسانی سے ان کے لئے 6 ارب ڈالر دینا جو رقم اب تک کہی گئی ہے۔ کراچی کے دو اخبارات نے بھی 6 ارب ڈالر کوٹ کی ہے کہ نواز شریف صاحب کے بارے میں سنا ہے کہ وہ اتنی رقم دینے کو تیار ہو گئے ہیں ان چیزوں کی تصدیق تو کہیں نہیں ہو سکی کیونکہ اس قسم کی باتیں کوئی کھل کر نہیں کی جاتیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ عدالت نے فیصلہ دیا تھا یہ نوازشریف کوصحت خراب ہونے کی بنا پر ضمانت پر رہائی ضرور دی تھی لیکن واضح کر دیا گیا تھا کہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ اس لئے وہ پلی بار گیننگ کے قانون کے تحت جب وہ سرنڈر نہیں کریں گے جب تک وہ رقم طے نہیں کریں گے تب تک ان کو باہر جانے کی اجازت نہیں مل سکتی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے یہ پلی بار گیننگ حمزہ شہباز سمیت سارے لوگوں کے لئے ہو۔ پیسے بہت زیادہ ہیں یہ تو 450 ارب جو ہیں یہ تو صرف ان 4 فلیٹوں کی قیمت ہے اور جتنے ٹاور دبئی میں بنے ہوئے ہیں ہمارے سابق وزیر خزانہ ڈار کصاحب کے پیسوں کی تو کوئی کمی نہیں ہے۔ضیا شاہد نے راجہ بشارت سے سوال کیا کہ سودی کاروبارکے سلسلے میں جس کی طرف سے ہم نے پروگرام میں آپ کی توجہ دلائی تھی فریقین کو یہاں طلب کیا تو اپنے ناظرین کے لئے جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے بڑی محبت کی اور فوراً ایکشن بھی لیا کہاں تک یہ مسئلہ پہنچا اور کتنے دنوں کے اندر اس کی رپورٹ مل جائے گی۔ مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ مظفر گڑھ کے ڈی پی او کے حوالہ سے کہ وہاں سے آپ کے حکم پر لوگوں کو لاہور طلب بھی کیا گیا۔بلاول بھٹو نے تھر میں ترقی کے لئے اچھا منصوبہ پیش کیا جس کی کامیابی کیلئے دُعا گو ہیں تھر کوٹ میں اس سے پہلے بڑے مسائل تھے اور قومی سطح پر اس بارے بحثیں ہوتی رہی ہیں۔آئی ایم ایف کی رپورٹ حقائق پر مبنی ہے۔ وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ معیشت آئی سی یو سے نکل آئی مستحکم ہونے میں ڈیڑھ سال لگے گا اُمید کرتے ہیں معیشت مستحکم ہونے کی جانب آئے گی۔ پلی بار گین کا قانون موجود ہے پیسے والے اگر کچھ حصہ دے کر جان چھڑا سکتے ہیں تو بارگین کر لینا چاہئے۔ شریف خاندان اور زرداری خاندان میں تو جیسے ریس لگی ہے زیادہ سے زیادہ پیسے باہر لے جانا چاہتے ہیں۔ پیسے باہر لے جانے میں تقریباً تمام ہی بااثر خاندان ملوث ہیں۔ لگتا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ میں تو یدطولیٰ رکھتے ہیں۔بھارت میں الیکشن شروع ہو رہے ہیں جو مستقبل کے حوالے سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں، کون کامیاب ہوتا ہے اس کا پانی اور کشمیر کے مسئلہ اور دو طرفہ مداکرات پر بڑا اثر پڑے گا۔ پورا پاکستان اس وقت بھارتی الیکشن کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا ہے۔ نریندرمودی کے خلاف جس طرح اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں، وہاں کے ادیب، فلم سٹار اور لبرل طبقہ جس طرح بی جے پی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے، نئے نئے اتحاد بن رہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ مودی کو ماضی والی اکثریت حاصل نہیں ہو گی۔وزیرقانون راجہ بشارت نے کہا کہ اہم انسانی مسئلہ کی نشاندہی پر ضیا شاہد صاحب کا مشکور ہوں، مظفر گڑھ سے کیس سے متعلق تمام لوگوں کو بلوایا، تفتیشی اور سرکل افسر بھی ساتھ آئےجن سے کیس بارے ساری تفصیل لی ہے، ان کا موقف تھا کہ ملزم سودی کاروبار نہیں کرتا نہ ہی بڑا زمیندار ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بچی اغوا ہوئی یا نہیں، اگر اغوا نہیں ہوئی تو اس و قت کہاں ہے، گمشدہ ہے تو پولیس کیا کر رہی ہے۔ انہیں 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے کہ تمام معاملات نمٹا کر رپورٹ کریں جیسے ہی رپورٹ آئے گی آپ تک پہنچا دوں گا۔ متاثرہ فریق کی مکمل دادرسی اور مطمئن ہونے تک خاموش نہیں بیٹھوں گا۔وزیراعظم اور پارلیمانی پارٹی نے مجوزہ بلدیاتی نظام کی منظوری دیدی ہے، یہ نظام دو درجوں پر مشتمل ہو گا۔ پہلا ماضی کی سطح پر ہو گا جس کی پنچائت کا نام دیا دوسرا تحصیل کی سطح پر ہو گا جس میں رورل اور میونسپل ایریا کا الگ الگ سیٹ اپ ہو گا تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز ہوں گی اضلاع میں میونسپل کمیٹیاں ہوں گی۔ ماضی اور اس نظام میں فرق یہ ہے کہ اس نظام میں ترقیاتی کام اور فنڈز نچلی سطح پر پنچائت کو براہ راست ٹرانسفر کئے جائیں گے۔ پنچائت ایک موضع پر محیط ہو گی جہاں تمام ترقیاتی کام ان کی نگرانی میں ہوں گے۔ جو سرگرمیاں ضلع کی سطح پر ہوتی تھیں اب انہیں تحصیل کی سطح پر لا رہے ہیں۔ پنچائت کا الیکشن غیر جماعتی جبکہ تحصیل الیکشن جماعتی بنیاد پر ہو گا۔ ضلع کی سطح کا درجہ ختم کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم تحصیل کی سطح پر براہ راست الیکشن کرانا چاہتے ہیں۔ ضلع کی سطح پر براہ راست الیکشن کی صورت میں انتخابی رقبہ بہت بڑا بن جاتا ہے جس کے باعث ایک آدمی کا براہ راست الیکشن لڑنا مشکل ہےے جو کام ضلع کی سطح پر ہوتے تھے اب تحصیل کی سطح پر ہوں گے۔ پنچائت اور تحصیل کونسل خود مختار ہوں گے ان کے درمیان ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے کوئی تعلق نہ ہو گا۔ وزیراعظم کی سوچ تھی کہ ایسا بلدیاتی نظام لایا جائے جس میں عوام کو نچلی سطح پر با اختیار بنایا جائے اور وہ اپنے انتظامی اور ترقیاتی کاموں کے فیصلے مقامی طور پر کریں۔ احمدی کمیونٹی کی طرف سے گوگل پلے سٹور پر قرآن پاک کی ایپ لوڈ کرنے کے معاملہ پر وزیر قانون نے کہا کہ ہم حساس معاملات پر بڑی ذمہ داریسے نمٹانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس معاملے پر مکمل معلومات لوں گا، متعلقہ ادارے سنجیدگی سے اس کو دیکھیں گے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

































