واشنگٹن (07 اپریل 2026): ناسا کے آرٹیمس II مشن کے چار رکنی عملے نے تاریخ رقم کر دی، جس نے آج اپنے اورائن خلائی جہاز میں چاند کا چکر لگایا۔ تقریباً 7 گھنٹوں تک انھوں نے چاند کی سطح کی مختلف خصوصیات کا مشاہدہ کیا اور تصاویر بھی لیں۔
ناسا کا کہنا ہے کہ آرٹیمس II زمین سے سب سے زیادہ دور جانے والا پہلا انسانی خلائی مشن بن گیا ہے، امریکی خلائی مشن آرٹیمس ٹو کا رابطہ چاند کے گرد چکر لگاتے ہوئے عقبی حصے میں جانے کے باعث منقطع ہو گیا تھا، رابطے میں اس تعطل کا خدشہ پہلے سے تھا، 40 منٹ تک رابطہ منقطع رہنے کے بعد اب بحال ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چاند پر جانے والے خلائی مشن سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا، اور آرٹیمس پر موجود خلابازوں سے گفتگو کی، ٹرمپ نے کہا چاند کے گرد کامیابی سے چکر لگانے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، امریکی عوام آپ کی کامیابی سے واپسی کے منتظر ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ آپ سب کو اوول آفس آنے کی دعوت دیتا ہوں اور آپ سے اوول آفس میں آٹو گراف بھی لوں گا، امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے اپنے پہلے دور میں خلائی فورس قائم کی تھی۔
ناسا کے مطابق مشن کے دوران اپنے قریب ترین مقام پر عملہ چاند کی سطح سے تقریباً 4,067 میل کے فاصلے تک پہنچا۔ خلانوردوں نے چاند کے ایسے حصوں کا مشاہدہ کیا جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے، خاص طور پر وہ علاقے جو چاند کے پچھلے حصے میں واقع ہیں اور زمین سے نظر نہیں آتے۔ حتیٰ کہ اپالو مشن کے خلاباز بھی اپنے سفر کے راستوں اور وقت کی وجہ سے اس انداز میں چاند کے پچھلے حصے کو نہیں دیکھ سکے تھے۔
زمین سے اپنے سب سے دور مقام پر خلاباز 252,000 میل سے زیادہ فاصلے پر پہنچ گئے، اور انھوں نے اپالو 13 کا وہ ریکارڈ توڑ دیا جس میں انسان زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک گیا تھا۔
خلانورد بدھ کے روز فلوریڈا کے کیپ کیناورل میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوئے تھے، جس کے بعد انھوں نے تقریباً 25 گھنٹے زمین کے گرد چکر لگایا۔ جمعرات کی شام اورائن خلائی جہاز نے زمین کا مدار چھوڑا اور آج صبح چاند کے اثرِ کشش کے دائرے میں داخل ہو گیا، جہاں چاند کی کششِ ثقل زمین سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔
توقع ہے کہ یہ عملہ جمعہ کی شام بحرالکاہل میں لینڈنگ کے ذریعے زمین پر واپس آ جائے گا۔
