قلت برقرار رہی توپیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 100روپے اضافہ ہو سکتا ہے’ وائس چیئرمین پیاف
پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف )کے وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ رواں مالی سال میں معیشت نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نمایاں بہتری دکھائی تاہم مشرق وسطی میں پھیلی کشیدگی کی وجہ سے حالات تبدیل ہو سکتے ہیں،رواں مالی سال کے پہلے آٹھ میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ کی سطح پر رہی تاہم اب اس کے دوہرے ہندسے کی طرف بڑھنے کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بہترین حکمت عملی کی وجہ سے حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان منفی جھٹکوں سے نبرد آزما ہے جو خوش آئند ہے لیکن آنے والے دنوں میں منفی اثرات سامنے آئیں گے جس سے اشاریے تبدیل ہوں گے،یہ خوش آئند ہے کہ پاکستان کے پاس 2027ء کے اختتام تک 7.2ارب ڈالر کے قرض پر مشتمل جاری آئی ایم ایف پروگرام کی سہولت موجود ہے لیکن مالی سال کی آخری سہ ماہی کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا اثر جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر پڑے گا اور وہ شعبے زیادہ متاثر ہوں گے جہاں ایندھن کا استعمال زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمت بڑھ کر اس وقت 112ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے اور اندازہ ہے کہ اگر عالمی قلت برقرار رہی تو یہ 150ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے جس سے فی لیٹر قیمت میں مزید 100روپے سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے جسے سے لا محالہ مہنگائی بڑھے گی اور اس کے وسیع تر اثرات ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے طول پکڑنے سے ترسیلات زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں،پاکستانی محنت کشوں کی عالمی ترسیلات زر کا تقریباً 55فیصد مشرقِ وسطی سے آتا ہے جس میں بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے ۔

































