خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں ایرانی پاسداران انقلاب نے یکم اپریل سے امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس دھمکی آمیز بیان کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سیکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کے جواب میں خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے خاص طور پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فوری طور پر خطہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے، جن میں Microsoft، Apple، Google، Meta، Tesla اور HP شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے دفاتر، تنصیبات اور آپریشنز ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں، اس لیے نہ صرف کمپنیوں کو بلکہ ان کے ملازمین اور قریبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو بھی فوری طور پر ان مقامات سے کم از کم ایک کلومیٹر کے فاصلے پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا، اسرائیل، ایران جنگ! دنیا میں نئی ایٹمی دوڑ کا آغاز ہوگیا
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اعلان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے، جہاں براہ راست معاشی اور ٹیکنالوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس دھمکی پر عملدرآمد ہوتا ہے تو اس کے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کیے جانے کا امکان ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے بھی الرٹ جاری کر دیے ہیں جبکہ متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے ہنگامی حکمت عملیوں پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔

































