وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں نیم متوسط طبقے کے لیے کبھی ایسے منصوبے پیش نہیں کیے گئے جہاں وہ اپنا گھر بنا کر ساری زندگی سکون سے گزار سکیں جبکہ محض کراچی میں 40 فیصد لوگ کچی آبادی میں رہنے پر مجبور ہیں۔
سرگودھا میں کم قیمت ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ 10 برس کے دوران 10 ہزار روپے ماہانہ کی قسط پر نیم متوسط طبقہ اپنا گھر حاصل کرسکے گا اور اس منصوبے کے آغاز پر ہر اس شخص کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جس نے منصوبے کے لیے کوششیں کیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 31 سائٹس کا انتخاب کیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہاؤسنگ اسکیم کے منصوبے نہ ہونے سے کچی آبادیوں نے جنم لیا۔
اس موقع پر عمران خان نے کراچی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بریفنگ دی گئی کہ پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر میں 40 فیصد لوگ کچی آبادی میں رہنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اس لیے کچی آبادی میں رہنے پر مجبور ہیں کہ کبھی ان کے لیے کوئی ہاؤسنگ اسکیم بنی ہی نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ کچی آبادی میں نظام زندگی تباہ حال ہے کیونکہ ایسے طبقے کی کبھی کسی نے پرواہ نہیں کی۔
عمران خان نے کہا کہ کچی آبادی میں مالکانہ حقوق اور نہ ہی سہولتیں میسر ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور تمام تحصیلوں میں رواں سال کے آخر تک ہاؤسنگ اسکیم کے منصوبے شروع ہوجائیں گے۔
علاوہ ازیں انہوں نے واضح کیا کہ لوگوں کی طلب زیادہ ہے اور ہمارے پاس اتنے گھر نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بینکوں میں نیم متوسط طبقے کو ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق معلومات کے حصول یا دیگر امور کی انجام دہی کے لیے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے متعدد شکایات موصول ہورہی ہیں۔
تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے بینک آف پنجاب کے صدر کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ اپنے عملے کی اضافی ٹریننگ کرائیں تاکہ اس صورتحال سے نمٹا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بینکوں نے کم آمدن سے وابستہ ہاؤسنگ اسکیم کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کردیا تو پاکستان میں معاشی انقلاب آجائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ شعبہ تعمیرات کے ساتھ 30 دیگر صنعتیں منسلک ہیں اور جیسے ہی تعمیرات کا عمل شروع ہوتا ہے بڑے پیمانے پر روزگار ملنا شروع ہوجاتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے ہاؤسنگ اسکیم کے لیے این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہت وقت بچ گیا کیونکہ اشتہارات کے بعد ٹینڈر ہوتے ہیں، اس میں انتخاب کرنا اور پھر لوگوں کو قومی احتساب بیورو (نیب) سے ڈر ہوتا ہے اس لیے سیدھا سیدھا دونوں اداروں کو کہا کہ وہ اس منصوبے میں شرکت کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر ہو تو دونوں ادارے اپنا کام نہیں روکتے کیونکہ ان کے پاس اپنے بہت وسائل ہیں۔
قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کو سرگودھا میں 64 کنال اراضی پر 320 گھر بنانے کے منصوبہ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
