وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کشمیر کے قیمت پر نہیں ہوسکتی۔
کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کابینہ نے بھارت کے ساتھ چینی کپاس کی درآمد کی منظوری نہیں دی، ای سی سی نے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی تجویز دی تھی، بھارت کے ساتھ تجارت کشمیر کے قیمت پر نہیں ہوسکتی، 23 مارچ کے بھارتی وزیراعظم کے خط کا جواب دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 98 فیصد پاکستانیوں کو مفت کورونا ویکسین لگائی جائے گی، 2 فیصد لوگ ایسے ہیں جو لائن میں نہیں لگنا چاہتے، کمپنیوں کی دوائیوں کی قیمتوں کا تعین کیا گیا ہے، کسی دوائی کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا، نالائق بیوروکریٹس کو نکالنے کا طریقہ آسان کر دیا ہے۔ تمام محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جو ملازمین سہل پسند ہیں ان کو نکالنے کی ہدایات کابینہ نے دے دی ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ میں نامزد پانچ افراد کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا ہے، احمر بلال ، حسن ثاقب، غلام رسول، عبدالباسط، شاہد علی بیگ کے خلاف کریمنل کارروائی کی منظوری دے دی ہے جبکہ ای سی سی کے فیصلے کو حکومتی فیصلہ کہنا درست نہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چینی ساختہ ویکسین کنسائینو کی قیمت 4 ہزار 225 روپے رکھی گئی ہے جبکہ کنسائینو کی ایک ہی ڈوز کافی ہے باقی ویکسینز دو دو لگتی ہیں اور روسی ویکسین کی قیمت کا تعین عدالتی فیصلے کے بعد کریں گے، روسی ساختہ ویکسین کی قیمت کے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کورونا کا مقابلہ کیا، کورونا کی دو لہروں کا ہم نے بہترین مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جو اپنے پیسوں سے ویکسین لگوانا چاہتے ہیں ان کے لئے سہولت پیدا کرنا چاہتے ہیں، کابینہ نے دو ویکسین کی پرائیویٹ سیکٹر کو اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
