وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں لال حویلی میں لال حویلی کا ایک کردار ہے۔
راولپنڈی میں یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو ہم سلام پیش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی تاریخ لکھے گا تو کشمیر کی جدوجہد آزادی میں لال حویلی میں لال حویلی کا ایک کردار ہے اور جب بھی پاکستان پر وقت آیا تو لال حویلی اپنی عظیم افواج کے قائد قمر جاوید باجوہ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستران کا دفاع کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان میں جو سلوک کیا جا رہا ہے اور میں کشمیریوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ راولپنڈی شہر کا تعلق چاہے کسی پارٹی سے کیوں نہ ہو لیکن یہ غیرت مندوں کا شہر ہے اور کشمیر کی آزادی کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ میں نے آپ کہا تھا کہ یہ استعفے نہیں دیں گے، اچھی بات ہے مت دو، میں نے آپ سے کہا تھا کہ یہ سینیٹ کا الیکشن لڑیں گے لیکن مجھ دکھ ہے کہ جس اسمبلی پر مولانا فضل الرحٰن نے لعنت بھیجی ہے، آج اسی اسمبلی سے اپنے اراکین کے لیے ووٹ مانگنے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمیں کہتے ہیں یوٹرن لیتے ہیں لیکن تم تو ‘اباؤٹ ٹرن’ لیتے ہو، ہمیں یوٹرن کا طعنہ دینے والو تم تو اباؤٹ ٹرن لیتے ہوں، اب یہ 26مارچ کو لانگ مارچ لے گئے ہیں، آ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ میری بحیثیت وزیر داخلہ پوری کوشش ہو گی کہ ہم آپ کے راستے میں کوئی رکاوٹیں کھڑی نہ کریں لیکن اگر آپ نے قانون کو ہاتھ میں لیا تو یاد رکھنا آپ سے وہ سلوک کروں گا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے سیاسی مخالف ہیں لیکن ہم آپ سے کہنا چاہتے ہیں کہ 26 مارچ میں دو مہینے پڑے ہیں، ہم اپوزیشن کے لیے کوئی رکاوٹ کا باعث نہیں بننا چاہتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تین سال گزرنے والے ہیں، ایک سال کے بعد الیکشن مہم شروع ہو جائے گی، کیا تم اس ملک میں سیاسی انتشار پھیلانا چاہتے ہو۔

































