لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین برابری پارٹی پاکستان جواد احمد نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت کا مہنگائی بڑھنے کا اعتراف دراصل عوام کے مزید استحصال کا اعلان ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا، صوبائی اور وفاقی بجٹ غریب مار بجٹ اور عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہیں ان باتوں کا اظہار انھوں نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین سے پوسٹ بجٹ اثرات کے حوالے گفتگو میں کیا اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ میں پنجاب کے بڑے شہروں میں ہسپتالوں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے مگر صوبے کے دارالحکومت لاہور کے سروسز ہسپتال کی حالت یہ ہے کہ وہاں مریضوں کو ادویات اور ڈرپ سیٹس میسر نہیں صوبائی وزیر صحت کو اس طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے کیونکہ مہزب اور جمہوری معاشروں میں عوام تک صحت کی سہولیات پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور یہی وجہ ہے کہ برابری پارٹی اپنے موقف پر قائم ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں وسائل کے تحت منصوبے نہیں بنائے گئے بلکہ پکڑ دھکڑ کر کام چلایا جارہا ہے ایک طرف تو تحریک انصاف کی حکومت سادگی مہم کا پرچار کرتی ہے تو دوسری جانب بجٹ میں گورنر ہاو¿س اور سیکرٹیریٹ کے سالانہ بجٹ کو 46 کڑور بڑھاکر 49 کڑور کرنے کی تجویز دی جاتی ہے ایک طرف تو عوام کے لئے ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں ٹیسٹوں اور بیڈ چارجز کی مد میں اضافہ کیا جاتا ہے تو دوسری جانب ایوان وزیر اعلی کے فنڈز کو 60کڑور سے بڑھا کر 78کڑور 80لاکھ تک کردیا جاتا ہے مگر غریب اور محکوم طبقات کی فلاح بہبود اور مہنگائی میں اضافہ روکنے کے لئے اس بجٹ میں آہوں اور سسکیوں کے سوا کچھ نہیں.
































