لاہور(ویب ڈیسک)اویس لغاری جنوبی پنجاب کے بے تاج بادشاہ رہے لیکن کچھ نہیں کر پائے وڈیروں کو ایک غصہ ہے چھوٹے قبیلے کا شخص سردار عثمان کیوں وزیر اعلی بن گیاجنوبی پنجاب فارس کمپنی اربوں روپے کا سکینڈل ہے اس میں حصہ اویس لغاری کا بھی ہے انہوں نے اندھی زمینیں تقسیم کیں عمران خان کی سکیورٹی کےلئے چھ ہزار رینجرزاور دو ہزار پولیس ہیں لیکن پہلے کیاہوتارہاایک لاکھ اسی ہزار پولیس چوالیس ہزار آل شریف اور عزیز و اقارب پر تعینات ہوتی تھی کیا پہلے یہاں اشرف غنی، حسینہ واجد یا نریندر مودی وزیر اعلی رہے آج خط غربت کے وہ زمہ دار ہیں جو وزارت اعلی کی کرسی پر براجمان رہے جنوبی پنجاب کےلئے سابق وزیر اعلی نے بتیس فیصد آبادی پر سولہ فیصد بجٹ رکھا جس میں سے دو سو بیس ارب روپے میٹرو اور رنج حبیب جالب اپنی قبر میں ٹکریں مارتے رہے کہ کس طرح ان کے اشعار کو پڑھاگیانیب کی حوالات میں جو جو سامان گیا اس میں پاﺅں ،ہاتھ اور منہ پر لگانے والی الگ الگ کریمیں تھیں اسپغول دو قسم کےلے کر گئے تھےکہتے رہےکون سی سائٹ اور کون سی دھج ہے جنوبی پنجاب کےلئے شہباز شریف حکومت نے بڑا ڈرامہ کیاہیلتھ کارڈ تھما دیاگیاجنوبی پنجاب کا غریب رکشہ اور ریڑھی والا ہیلتھ کارڈ لے کر جب ڈسٹرکٹ ہسپتال گیا تو ایم ایس نے کہا کہ یہ فراڈ ہے ہیلتھ کارڈ فراڈ کے فراڈ اعلی کی طرف سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کے منہ پرطمانچہ مارا گیا،دوہزاد انیس بیس کے بجٹ میں پینتیس فیصد ڈویلپمنٹ بجٹ جنوبی پنجاب کےلئے رکھا گیا جنوبی پنجاب کےلئے بجٹ کو صرف جنوبی پنجاب کےلئے مختص کیاگیافیاض الحسن چوہان کی تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کا شور، سپیکر نے خاموش کروادیا، ملتان، راجن پور اور بہاولپور میں ساٹھ لاکھ بیس ہزار کی مالیت سے ہیلتھ کارڈ جو ڈرامہ بازی اور دکھاوے کےلئے نہیں عملی طورپر ہیلتھ کارڈ دئیے جارہے ہیں اب کوئی چھلاوے کی طرح اچھلا اور ڈرامہ بازی نہیں ہوگی سردار عثمان اور وزیر اعظم کی عزت و وقار میں اضافہ ہوگا،
































