لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آصف زرداری حکومت کے خاتمے کے لئے اس لئے تُلے ہوئے ہیں کہ ان کو نظر آ رہا ہے اگر یہ حکومت برقرار رہتی ہے تو انہیں نظر نہیں آ رہا کہ وہ اس مصیبت سے جان چھڑا سکیں یعنی منی لانڈرنگ کے ان پر الزامات لگ چکے ہیں جتنے ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔ جتنے لوگ اقرار کر چکے ہیں اب تو وعدہ معاف گواہ بھی بننے لگے ہیں لہٰذا ان کے پاس اس کے سوا چارہ کار نہیں ہے کہ جب تک عمران خان کی حکومت قائم ہے اس وقت تک ان کو بچنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا لہٰذا وہ دن رات اس بات پر تلے ہوئے ہیں اور ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جس طرح سے کہا جاتا ہے جس طرح جو تنہا ہے وہ کافی وزنی ہے مولانا فضل الرحمن ان کے کسی بھی اسمبلی میں ان کی سیٹ نہیں لیکن بہر حال وہ سیاستدان ہیں اس کام میں ماسٹر سمجھے جاتے ہیں کہ وہ چھوٹے چھوٹے عناصر کو ملا کر وہ کوئی بڑی فورس تیار کر سکتے ہیں لہوذا اب سمجھا جا رہا ہے کہ نوازشریف کے لئے خطرہ ہے عمران خان کی حکومت اور آصف زرداری کے اقتدار کے لئے عمران خان خطرہ ہے اس لئے دونوں کا اشتراک اس پر ہے کہ کس طرح اس وقت کا خاتمہ کیا جائے۔ فضل الرحمان کوشش کریں گے کہ ظاہر ہے کوشش ہی کی جا سکتی ہے لگتا یہی ہے کہ ایک نہ ایک دن جس طرح سے کہا جاتا ہے رمصان المبارک کے بعد کہا جاتا ہے تحریک چلائیں گے حکومت کے خلاف اس وقت تک ہو سکتا ہے نوازشریف بھی اس کے لئے تیار ہو جائیں فی الحال تو وہ کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں سنا ہے درپردہ ان کی ڈیل بھی چل رہی ہے۔ آصف زرداری اور نوازشریف دونوں کی اس میں جان چھوٹتی ہے اگر موجودہ حکومت کا خاتمہ کیا جائے۔
حنیف عباسی کی ضمانت پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ معلوم یہی ہوتا ہے آہستہ آہستہ سارے باہر آ جائیں گے سمجھ میں نہیں آتا کہ انصاف کا جو نظام ہے وہ کس طرح منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے چونکہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ جو بھی کوئی غلط کام کرے گا اس کو بالآخر پکڑ لیا جائے گا لیکن آہستہ آہستہ لوگ نکلتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کے بچاﺅ کے راستے نظر آ رہے ہیں اور مختلف قسم کی عدالتی نظام میں بھی ان کے لئے سہولتیں ہیں لگتا نہیں ہے۔ عمران خان کہتے ضرور ہیں بالآخر زرداری صاحب کا ٹھکانہ جو ہے وہ جیل ہے لیکن بظاہر تو اس کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ کیونکہ عبوری ضمانت ان کی منظور ہوتی جا رہی ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ہر طریقے سے جن کو جیل میں ہونا چاہئے تھا وہ باہر ہیں۔ اپوزیشن کوشش تو کر رہی ہے۔ رمضان المبارک میں کوئی تحریک نہیں چلتی روزہ رکھ کر کوئی دھوپ میں باہر نہیں نکلتا۔ عید کے بعد شاید کوئی موومنٹ بن سکے بظاہر تو اس کے بھی چانسز نظر نہیں آ رہے۔ پاکستان کے عوام کو سوائے اس کے کوئی کام نہیں ہے کہ ہر کرپٹ آدمی کو چومے اور کندھوں پر سوار کرے اور پھر اس کے نعرے لگائے لگتا یہی ہے پیسے ہونے چاہئیں آدمی کے پاس اور اگر وہ پیسہ خرچ کر سکتا ہے۔ پاکستان میں ایسا کیو ںہے ہر شخص جو جرم کا مرتکب ہوتا ہے لوگ اس کو سر آنکھوں پر بٹھائے اور اس پر گل پاشی کرتے ہیں پھر اگر اس کی ضمانت ہوتی ہے یا سہولت ملتی ہے تو لوگ اس پر خوشیاں مناتے ہیں۔ کیا پاکستان کے لوگ لوٹ مار کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔ ان کو ہیرو سمجھتے ہیں۔ اس کا وطیرہ یہی ہو گا۔ جو لوگ قانون کو توڑیں گے ان کو ہیرو سمجھا جائے گا۔ اس ملک کے جتنے ہیرو ہیں وہ بدمعاش کیوں ہیں۔ نظام انصاف میں کمی ضرور ہے۔ ثابت یہ ہوتا ہے ایفی ڈرین منگواتے ہیں وہ ٹھیک ہی کر رہے ہیں۔ گھوٹکی کی دو لڑکیوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا کو شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی ہے جہاں تک اعداد و شمار کا تعلق ہے ایک لڑکی کی عمر 18 سال دوسری کی 19 سال ہے۔ دونوں عاقل ہیں اور مرضی سے مذہب قبول کیا ہے اب یہ بھی ثابت ہو گا ہے ان پر جبر یا تشدد نہیں برتا گیا اب وہ اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حالات کافی بہتر ہیں۔ عبدالعلیم خان صاحب کے جوڈیشل ریمانڈ میں 20 اپریل تک توسیع کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ تفتیش کے لئے یقینا وقت چاہئے غیر متعین وقت تو نہیں چاہتے۔ نیب کے قوانین میں بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ایک مدت مقرر کرنی پڑے گی کہ اس عرصہ میں کیس کا فیصلہ ضرور ہو جائے گا۔
نیب کی تفتیش کے لئے وقت ضرور درکار ہوتا ہے تاہم سالوں کا وقت تو نہیں دیا جا سکتا، نیب کی تفتیش کے طریق کار کے معاملات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، مختلف جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے ایک خاص وقت مقرر ہونا چاہئے تا کہ کیسز منطقی انجام تک پہنچ سکیں سلہا سال تک تفتیش جاری نہیں رہنی چاہئے۔
مستعفی ہونے والے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس بڑی اچھی شخصیت کے مالک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے دوست حمید گل مرحوم کے داماد ہیں، اگر انہوں نے مرضی سے استعفیٰ دیا ہے تو کوئی ہرج نہیں ہے اور اسے ایشو نہیں بنانا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھارتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا گیا ہے ٹرن آﺅٹ 10 فیصد تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ بی جے پی اس الیکشن میں ماضی جیسی اکثریت لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہاں اپوزیشن بھی متحد ہے، فنکار برادری، ادیب، شعراءتک مودی کیخلاف ہیں۔ مودی کو اترپردیش گجرات سے بھی اتنی بڑی کامیابی نہی ںملے گی جتنی پہلے ملتی رہی ہے۔ بھارت کی پروپیگنڈا وار میں دنیا میں بری طرح شکست ہوئی ہے پاکستان کے خلاف جارحیت کے بعد اس نے جو جھوٹ بولے جتنے دعوے کئے وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ کے بڑے اخبارات اور میڈیا تک نے بھارتی پروپیگنڈے کو جھوٹ قرار دیا جس سے مودی سرکار کے دعوﺅں کی قلعی کھل گئی بھارتی افسران تو سوالوں کا جواب دینے کے بجائے پریس کانفرنس چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نریندر مودی کو مشکلات کا سامنا ہو گا۔

































