قصور(بیورورپورٹ)قصور کے نواحی گاﺅں علی پور چک نمبر6 میں بااثر زمیندار کے اوباش بیٹے اور اس کے ساتھیوں نے محنت کش خاندان کے سربراہ کی طرف سے بیٹی کا رشتہ نہ دینے پر پورے خاندان پر خدا کی زمین تنگ کر دی محنت کش منیر احمد اور اس کی جواںسالہ زیر تعلیم بیٹیاں گھر میں محصور ہوکر رہ گئیں بااثر ملزمان نے رشتے سے انکار کرنے پر جدید اسلحہ سے مسلح ہوکر اپنے حواریوں کے ہمراہ منیر احمد کے گھر پر دھاوا بول دیا اور بدترین تشددکرکے منیر احمدکا بازو اور جسم کی کئی ہڈیاں توڑ دیں ملزمان نے خاوند کو چھڑانے کے لیے آگے آنیوالی اس کی اہلیہ اور بیٹیوںکو بھی تشددکا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاںدیتے ہوئے واپس چلے گئے پولیس نے اس امر کی اطلاع ملنے پر مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کر دی ہے منیر احمد اسکی اہلیہ شائستہ بی بی اور انکی بیٹیوںنے بتایا کہ وہ علی پور چک نمبر6 کے رہائشی ہیں منیر احمد کے مطابق اس کی چار بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا ہے ایک بیٹی کی شادی ہوچکی ہے جبکہ تینوںبیٹیاں زیر تعلیم چلی آرہی ہیں بڑی بیٹی فرسٹ ایئر جبکہ دونوںچھوٹی بیٹیاں میٹرک کی طالبہ ہیں اس کی بیٹیاں جب بھی گھر سے سکول اور کالج کے لیے روانہ ہوتیں تو پہلے سے مسلح حالت میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موجود ملزم چوہدری عباس جٹ ،غلام شبیر اور ان کے دوسرے ساتھی انکا راستہ روک لیتے اور منیر احمد کی ایک بیٹی حفیظہ کو زبردستی پکڑ لیتے چوہدری عباس جٹ کہتا کہ وہ حفیظہ پر دل سے فدا ہے اور اگر اس نے شادی کے لیے ہاںنہ کی تو وہ اسے زبردستی اغواءکرکے لیجائے گا حفیظہ اور اس کی بہنوںنے بتایا کہ دو مرتبہ ملزمان نے انہیں زبردستی گاڑی میںڈال کر لیجانے کی کوشش کی تاہم ان کے شور مچانے اور مزاحمت کرنے پر ملزم دھمکیاںدیتے ہوئے غائب ہوجاتے حفیظہ کی والدہ شائستہ بی بی نے بتایا کہ ملزمان کے خوف سے اس نے اپنے بیٹے کو اپنے رشتہ داروں کے ہاں بھجوا دیا تاکہ ملزم اکلوتے بیٹے کو نقصان نہ پہنچا سکیں اسی طرح تینوںبیٹیوں کو سکول اور کالج جانے سے روک لیا جس کے بعد وہ گھر میں قید ہوکر رہ گئے ظلم کی انتہاءیہ ہے کہ گاﺅں کے بااثر زمینداروں کے علاوہ کئی ایک سیاستدان بھی ملزم کے والد کے ذاتی دوست ہیں اور اسی وجہ سے کوئی غریب آدمی ان کے سامنے آواز بلند کرنے کی جرات نہیں کرتا شائستہ بی بی نے بتایا کہ گھر میں قید رہنے کی وجہ سے زیر تعلیم چلی آنیوالی اس کی دونوںبیٹیاںمیٹرک کے حال ہی میں ہونیوالے امتحانات میںا پنے دو پیپرز بھی نہیں دے سکیں جب ہم اپنے گھر میں محصور ہوکر رہ گئے تو ملزمان نے ہمارے گھر کے سامنے ڈیرہ جما لیا اور اسلحہ کی نمائش کرنا اور ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاںدینا معمول بنا لیا وقوعہ کے روز منیر احمد اپنے مویشیوںکو چارہ ڈال رہا تھا کہ ملزمان دروازہ توڑ کر اس کے گھر میں داخل ہوگئے اور جدید اسلحہ کے بٹ اور آہنی راڈمار مار کر منیر احمد کو شدید زخمی کر دیا جب اس کی اہلیہ شائستہ بی بی اور بیٹیاں باپ کو بچانے کے لیے آگے بڑھیںتو انہیں بھی تشددکانشانہ بنایا گیا تشدد کی وجہ سے منیر احمد کا بازوٹوٹ گیا اور جسم پر کئی ایک زخم آئے اسی طرح اس کی بیوی بھی بری طرح زخمی ہوگئی منیر احمد کی بیٹیوںنے روتے ہوئے بتایا کہ وہ دو بار اغواءہوتے ہوتے بچی ہیں وزیر اعظم عمران خاں پاکستان کے نوجوانوں کے لیڈر ہیں اور ان غنڈہ عناصر نے ناصرف ہمارے اوپر ظلم کی انتہاءکر رکھی ہے ہم وزیر اعظم عمران خاں سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ قوم کی ان غریب بیٹیوں کو تحفظ فراہم کریں انہوںنے کہاکہ ان غنڈہ عناصر کی وجہ سے ہماری زندگیوں کے ساتھ ساتھ ہماری تعلیم او رہمارے والدین کی زندگیاںبھی داﺅ پر لگی ہوئی ہیں ملزم عباس جٹ اور شبیر وغیرہ بار بار کہتے ہیں کہ اگر حفیظہ کا رشتہ نہ دیا گیا تو تمہارے اکلوتے بھائی کو تمہاری آنکھوںکے سامنے قتل کر دیںگے اور اس کے بعد تم تینوںبہنوںکو اٹھا کر لے جائیںگے ہمیں خدا کے بعد صرف وزیر اعظم پاکستان عمران خاں سے مدد کی امید ہے دوسری طرف منیر احمد کے گھر پر دھاوا بولنے اور پورے خاندان کو زخمی کرنے کے واقعہ کی اطلاع جب پولیس حکام کو ملی تو ڈی پی او قصور کے حکم پر مقامی پولیس حرکت میں آئی اور انہوںنے زخمی ہونیوالے منیر احمد اور اس کی اہلیہ کو سرکاری ہسپتال پہنچایا روزنامہ خبریں نے جب اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ پولیس قصور کے ترجمان سے رابطہ کیا تو انہوںنے کہاکہ منیر احمد کی مدعیت میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیاجاچکا ہے اور پولیس نے مرکزی ملزم چوہدری عباس جٹ کو چھاپہ مار کر گرفتار بھی کرلیا ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

































