اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وفاقی وزیرا طلاعات فواد چوہدری کا کہناتھا کہ ایئرمارشل ارشد ملک کوقائم مقام چیف ایگز یکٹو آفیسرز تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے،ایئرمارشل ارشدملک کوپی آئی اے کے ایڈیشنل ایم ڈی کاعارضی چارج دیاہے، کابینہ نے 20 افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش مستر د کر دی ہے ، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ ابھی موصول نہیں ہواہے ، ملنے کے بعد عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے فواد چوہدری نے کہا کہ آصف زرداری،مرادعلی شاہ اورفریال ٹالپورکرپشن اسکینڈل میں مرکزی کردارہیں،سندھ کے عوام کے حقوق پربہت بڑاڈاکاڈالا گیا،یہ افرادبے نامی اکاو¿نٹس سے اربوں ڈالربیرون ملک بھجوانے میں ملوث ہیں،جے آئی ٹی کی سفارشات پر172افرادکے نا م ای سی ایل میں ڈالے گئے تھے،وزارت قانون نے بتایاہے کہ سپریم کورٹ کافیصلہ ابھی تک انہیں نہیں ملا ، تحریری فیصلہ آتے ہی اس پرعملدرآمدکیاجائےگا،سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں ، ہو سکتا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے پرنظرثانی اپیل دائر کریں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں فروغ نسیم ، شہزاد اکبر ، سیکریٹر داخلہ شامل ہیں ، جو ایس ایل میں شامل ناموں کاجائزہ لےگی،کمیٹی جائزہ لے گی کہ فیصلے کےخلاف عدالت جاناہے یانہیں، وفاقی کابینہ نے20افراد کے نا م فوری نکالنے کی سفارش مستردکردی، آصف علی زرداری،فریال تالپور،مراد علی شاہ سمیت دیگر افرادپر سنگین الزام ہیں۔ان کا کہناتھا کہ وفاقی کابینہ نے مو جودہ معاشی صورتحال پراطمینان کااظہارکیاہے، اوورسیزپاکستانیوں کیلئے ملک کےاندرروزگارکے مواقع وسیع کرناچاہتے ہیں، ایسی نوکریوں کی فہرست بنانےکی ہدایت کی گئی ہے جو اوور سیز پاکستانی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بڑی اکثریت سوئی گیس سے محروم ہے،وزارت پٹرولیم کوگیس سے متعلق جامع پالیسی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے،سابق وزیراعظم شاہد خاقان خودکو گیس کا آئن اسٹائن سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہدخاقان عباسی نے گیس سیکٹر کواربوں روپے کامقروض کرکے چھوڑا،وزیراعظم نے گیس کی جامع پالیسی فوری طورپرتیارکرنے کی ہدایت کردی،ہرسال 50ارب روپے کی گیس چوری کاسامنا ہے،63فیصدعوام ایل پی جی استعمال کررہے ہیں ، پاکستان میں 28فیصد عوام کوموجودہ سسٹم کی عام گیس فراہم کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہناتھا کہ موجودہ وزیراعظم تووزیراعظم ہاو¿س میں مقیم نہیں توبل 44ہزاریونٹ کیسے آیا،نوازشریف دورمیں وزیراعظم ہاو¿س میں 88 ہزار یونٹ بجلی استعمال ہوتی تھی، بجلی کے اس بل پروزیراعظم نے برہمی کااظہارکیاہے،وزیراعظم نے رپورٹ طلب کی ہے کہ بجلی کابل زیادہ کیسے آیا۔وزیراعظم نے کہا ہے سی ڈی ا ے کا چیئرمین نجی شعبے سے لیاجائے،سی ڈی اےکاچیئرمین پرائیوٹ سیکٹر سے لینے کافیصلہ کیا گیا، اشتہار دےدیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ وزیراعظم عمران خان اوورسیزپاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں،پاکستان کے اندرکاروبار کے مواقع وسیع کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے بیرون ملک پاکستانیوں کوسرکاری نوکریوں کے مواقع کی پالیسی بنانے کا کہاہے۔
































