لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار خالد فاروقی نے کہا ہے کہ جیسے جیسے ن لیگ پر زوال آئیگا ایک زعیم قادری نہیں بلکہ آپکو قطار نظر آئیگی۔ چینل ۵ کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زعیم قادری صرف رکن اسمبلی نہیں تھے وہ ن لیگ کے رجمان بھی تھے، یہ پارٹی کیلئے شرمندگی کی بات ہے کہ پارٹی میں کوئی ضابطہ نہیں، نوازشریف سے ملنے کیلئے پارٹی ممبر ترستے تھے لیکن ملاقات نہیں کی جاتی تھی، زعیم قادری کا سیاست کا انداز بہت جارحانہ تھا، انکا پارٹی چھوڑنا معمولی بات نہیں، دیوار سے ایک اینٹ نکلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص ٹیکس چور اور اثاثے چھپا کر بیٹھا ہے، الیکشن میں آرمی کی تعیناتی کا مقصد شفاف الیکشن اور لوگوں کا خوف دور کرنا ہے، کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا کہ زعیم قادری جیسے لوگ علاقائی سطح کے لوگ ہیں انکے جانے سے پارٹی کو فرق نہیں پڑتا ، اس قسم کے لوگ شور مچاتے ہیں ، اسلئے انکو رکھا جاتا ہے، اس طرح کے لوگ مفادات کی خاطر جڑے رہتے ہیں اور کسی کے ساتھی نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اصول وضع ہونا چاہئے کہ سیاستدانوں کے اصل اثاثے سامنے آئیں۔ کالم نگار میاں حبیب نے کہا کہ میری رائے کے مطابق سعد رفیق کی سرگرمیاں بڑی مشکوک رہتی ہیں اس سے قبل وہ جاوید ہاشمی کے ساتھ نتھی تھے وہ بھی گھر چلے گئے اب زعیم قادری نے پارٹی چھوڑ دی ، لگتا ہے وہ منانے نہیں جاتے کان میں کہنے جاتے ہیں کہ ڈٹے رہو۔ لاہور میں بغاوت مسلم لیگ ن کے پاو¿ں اکھڑانے کے مترادف ہے، میں نے اپنے کانوں سے سنا ن لیگ کے سربراہان کہتے تھے یہ لوگ ہماری وجہ سے وزیر بنے انکی کیا اوقات ہے۔ کالم نگار میاں سیف الرحمن نے کہا کہ اس میں شک نہیں سیاسی حقائق تبدیل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ ہر چیز کو طاقت سے جوڑا نہیں جاسکتا‘ ابھی زعیم قادری سامنے آئیں گے اور اندورنی کہانی سامنے آئیگی، زعیم قادری کو ٹکٹ ملنے کی امید نہیں تھی، اثاثوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اثاثے ڈکلیئر کرنے کیلئے بھی ایک قانون ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ پولنگ ایجنٹ کی باقاعدہ تربیت ہونی چاہئے۔
































