تازہ تر ین

روف ٹاپ سولر سے پاکستان کو ایل این جی مد میں 12 ارب ڈالر کی بچت

پورٹ کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے

برطانیہ کے توانائی تھنک ٹینک ایمبر کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کے تیزی سے فروغ نے معیشت کو بڑا فائدہ پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں مائع قدرتی گیس کی درآمدات پر تقریباً 12 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2022 میں 7.7 ٹیراواٹ آور سے بڑھ کر 2025 میں 36.6 ٹیراواٹ آور تک پہنچ گئی، جو اوسطاً سالانہ تقریباً 68 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ایمبر کے مطابق اب پاکستان میں شمسی توانائی بجلی پیدا کرنے کے بڑے ذرائع، جیسے ہائیڈرو پاور اور گیس، کے برابر آ چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں گیس سے بجلی کی پیداوار میں تقریباً 9 فیصد کمی آئی جبکہ کوئلے کا استعمال تقریباً مستحکم رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دیگر فوسل فیولز کی طلب میں بھی کم از کم 37 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ ڈیزل سے بجلی کی غیر ریکارڈ شدہ پیداوار میں بھی ممکنہ طور پر کمی آئی ہے۔

اگر شمسی توانائی کے بجائے یہی اضافہ فوسل فیولز سے پورا کیا جاتا تو گیس کے استعمال میں 15 فیصد اضافہ ہوتا، جس کے باعث درآمدی لاگت بڑھتی۔ اس طرح شمسی توانائی کے فروغ نے ایل این جی درآمدات میں تقریباً 12 ارب ڈالر کی بچت ممکن بنائی۔

ایمبر کے مطابق 2020 کے بعد بجلی کے شعبے میں مالی دباؤ اور اصلاحات، خصوصاً آئی ایم ایف سے جڑی پالیسیوں کے تحت بجلی کے نرخ بڑھنے کے بعد صارفین نے بڑی تعداد میں روف ٹاپ سولر کا رخ کیا۔ اس کے علاوہ نیٹ میٹرنگ پالیسی اور کم قیمت چینی سولر پینلز کی دستیابی نے بھی اس رجحان کو تیز کیا۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی کے باعث فی یونٹ نرخ بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ نظام کے مستقل اخراجات کم صارفین میں تقسیم ہوں گے۔ مزید کہا گیا کہ سولر کے پائیدار فروغ کے لیے ایک مستحکم اور مالی طور پر مضبوط گرڈ ضروری ہے، خاص طور پر اس وقت جب بیٹری اسٹوریج محدود ہے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق اس وقت تقریباً 55 فیصد بجلی صاف ذرائع سے پیدا ہو رہی ہے، جسے 2034 تک 90 فیصد سے زائد کرنے کا ہدف ہے، جبکہ مقامی توانائی ذرائع کا حصہ بڑھا کر 96 فیصد تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی



آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv