لاہور: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کی بہتری کیلئے سب کو آ گے آنا ہو گا، ایسا ملک جسے قدرت نے وسائل سے مالا مال کیا ہے وہ اس وقت مشکلات کا شکار ہے، بہتر منصوبہ بندی سے 22 کروڑ لوگوں کی زندگی بدلی جا سکتی ہے، دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے اورہر ملک نئی صلاحیتیں پیدا کر رہا ہے۔
سی ای او کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جسے اللہ تعالی نے بے شمار وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان کو ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کیلئے سیاسی استحکام کا ہونا ضروری ہے، سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام آ ئے گا۔انہوں نے کہا کہ1997 میں ہم نے وژن 2010 شروع کیا تھا،اگر اس پر کام پورا ہو جاتا تو ہم بھارت تک کو بجلی فروخت کر سکتے تھے لیکن 1998میں ایک جمہوری حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا،2013 میں مسلم لیگ( ن) کی دوبارہ حکومت آ ئی تو ملک سنگین صورت حال سے دوچار تھا، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا شکار تھا اور سولہ سولہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی۔
احسن اقبال نے کہا کہ 1999 تک پاکستان جنوبی ایشیا کی لیڈنگ اکانومی تھا،ملک بھارت سے بھی آ گے تھا اور بنگلادیش سے بھی لیکن آج بنگلا دیش اور بھارت دونوں ممالک نے ہمیں پیچھے چھوڑ دیا ہے،اگر اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا اور پاکستان نے ماضی سے سبق سیکھ کر اپنے آ پ کو درست سمت میں نہ ڈالا تو کوئی بعید نہیں کہ اگلے دس پندرہ سال میں شائد افغانستان بھی ہم سے آ گے نکل جائے یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے، ہر ملک اپنے اندر نئی جدت اور صلاحیتیں پیدا کر رہا ہے،1997میں جب ہم نے وژن 2010 کا آغاز کیا تھا تو پاکستان انرجی سیکٹر میں سرپلس تھا جبکہ 2006 میں ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں ہرروز خود کش حملوں میں درجنوں پاکستانی شہید ہوتے تھے،اس وقت کراچی میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بہت خراب تھی، 2013 میں جب مسلم لیگ( ن) کی دوبارہ حکومت آئی تو ہم نے 2025 کاوژن دیا اور اس میں ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا،اس وژن پر صوبہ خیبر پختونخواہ،سندھ اور بلو چستان کے وز را اعلیٰ سے مشاورت کی گئی اور ان کے دستخط لئے گئے،اس وژن کے بارے میں ہمارے مخالفین نے مذاق اڑایا کہ ملک میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا دوردورہ ہے، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہے جبکہ کوئی بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار نہیں،مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوام کو شیخ چلی کے خواب بیچ رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کی بہتری کیلئے اگر کوئی منصوبہ شروع کیا جائے تو سی پیک کی شکل میں غیبی مدد بھی شامل حال ہوجاتی ہے، 1980 میں پاکستان کی فی کس آمدن 300 ڈالر تھی اور چائنہ کی 200 ڈالر تھی ،2017 میںدنیا کہنے لگی کہ 2030 تک پاکستان دنیا کی بیس بہترین معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ2018 میں جب ہم نے حکومت چھوڑی تو پاکستان کا ترقیاتی بجٹ 1000 ارب روپے تھا جو تحریک انصاف کی حکومت میں سکڑ کر 550 ارب روپے رہ گیا تھا ۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

