Tag Archives: News 7

وزیراعظم نے روپیہ گرنے کا نوٹس لیا جس سے بہتری آئی: شاہد حسن صدیقی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہر معاشیات شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم نے روپیہ گرنے کا نوٹس لیا تھا جس سے کچھ بہتری آئی۔ اس میں شک نہیں آئی ایم ایف کا دبا? تو ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ 7میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا افراط ز ر پڑوسی ملکوں سے زیادہ ہے ،لگتا ہے ابھی روپے کی قدر پھر گرے گی۔اب بھی دیکھنا ہے حکومت ایکشن لیتی ہے کہ نہیں کہنے اور ایکشن لینے میں فرق ہے۔ سینئرقانون دان شاہ خاور نے کہا کہ لگتا ہے نیب کے پاس علیم خان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا جو انہیں لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مل گئی اس سے تو نیب کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے۔تمام سیاسی جماعتیں یکجا ہو کر دیکھیں کیوں نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھا رہا ہے۔اگر مقدمات ایک ہی نوعیت کے ہیں تو انہیں یکجا کر کے کم کر دینا چاہئے۔نیب کے تفتیشی بھی اتنے زیادہ ایکسپرٹ نہیں اگر ایکسپرٹ ہیں بھی تو ان کی تعداد کم ہے۔پھر نیب کو چاہئے مضبوط بنیادوں پر مقدمات بنائے۔ جنرل ر امجد شعیب نے کہا ہے کہ شہریوںکو ریاست سے تعاون کرنا چاہئے۔کسی بھی شخص کو حق نہیں کہ اپنی دنیا بناکر حکومت کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا رہے پہلے ہی حالات بہتر نہیں ایسے اقدام بہتر نہیں۔کالعدم ہونے کے باوجود اگر کوئی جماعت کارروائیاں جاری رکھتی ہے تو یہ مناسب نہیں اور پھر حکومت کی بھی نرمی ہے۔حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے یہ سلجھے ہوئے معاشرے کی نشاندہی ہے اگر کوئی نہ مانے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔اگر کوئی اشتعال انگیزی کرےگا تو ریاست کو کارروائی کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم پہلے بھی کبھی کامیاب نہیں ہوئی ایمنسٹی سکیم حکومتی بے بسی کا اظہار ہے یہ نہیں لانی چاہئے تھی پتہ نہیں حکومت کی عقل پر پتھر پڑ گئے ہیں۔ف

ہم چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے: طاہرہ اورنگزیب ، الیکشن میں تحریک انصاف نے بھونڈے ہتھکنڈے نہیں اپنائے، اجمل خان ، پاکستانی الیکشن کمیشن بھارتی الیکشن کمیشن کے برابر آگیا: کنور دلشاد کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7“ میں گفتگو

چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کے باوجود، نواز شریف کو ضمنی انتخابات میں اللہ نے کامیابی عطا فرمائی ہے۔ن لیگ اور تحریک انصاف نے دو ،دو سیٹیں حاصل کی ہیں۔ انتخابات کے نتائج رکنے سے قوم کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ سے سیٹ لینے کے لیے جمع تفریق کی جارہی ہے۔ این اے 60 کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے، ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے درخواست کریں گے۔ فواد چوہدری کے حلقے سے مسلم لیگ ن صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیتی ہے، اب وہ کچھ دن چپ رہیں گے۔ فواد چوہدری مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک کے حوالے سے لحاظ نہ کریں، کھلی دعوت ہے کہ فارورڈ بلاک والوں کا نام لیں۔سیاست میں عدم برداشت نہیں ہونی چاہئے ۔ خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں نادیدہ قوتیں عوام کے دباﺅ کا سامنا نہیں کر سکیں۔52 دن میں تحریک انصاف کی حکومت کو عوام نے مسترد کیا ہے، ضمنی انتخابات میں شکست کا عمران خان نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت مدت پوری کرے۔حنیف عباسی کی سیٹ پر سجاد خان کو ٹکٹ دینے میں انکی مرضی شامل تھی۔2018ءکے انتخابات میں تاریخی دھاندلی ہوئی جسے عوام پہچان چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن پر موروثی سیاست کا الزام کیوں جب حکومت میں شامل وزراءکے بچے بھی سیاست میں ہیں۔ حمزہ شہباز سمیت مسلم لیگ ن میں ہر شخص اپنی محنت سے سیاستدان بنا ہے ۔ اندر کی خبر ہے کہ عمران خان جیتی ہوئی سیٹیں ہارنے پر پریشان ہیں۔ لوگوں کو دکھ تھا کہ یہ سیٹیں تحریک انصاف کے پاس کیسے گئیں اور انہوں نے وہ سیٹیں مسلم لیگ ن کو واپس لے دیں۔ پروگرام میں شریک مہمان سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ دھاندلی پاکستان کے الیکشن سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ 2018 ءکے انتخابات پاکستان کی تاریخ میں مثالی اور شفاف الیکشن تھے، ضمنی انتخابات جمہوریت کی بحالی کی مثال بنے ہیں۔ نومبر 1988ءکے بعد 38 سیٹوں پر ضمنی انتخابات کا نتیجہ بھی موجودہ ضمنی انتخابات جیسا تھا۔ عمران خان کی جانب سے دلائی گئی توقعات اور امیدوں پرعملی اقدامات نظر نہ آنے پرعوام کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔ مہنگائی ، لا قانونیت، قبضہ گروپوں کے غلبہ اور عمران خان کے لندن اور کینیڈا کے اپنے دوستوں کو اہم عہدے دینے پر عوام سراپا احتجاج ہیں۔ 31اکتوبر 2011 ءکے جلسے میں عمران خان نے جووعدے کیے اور منشور دیا اسی سے انحراف کیا۔عمران خان جو بات نیک دلی سے کرتے ہیں انکے وزراءانکی تشریح کسی اور طرز پر کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے وزراءسوئے رہے ہیںکوئی کام نہیں کیاجس پر ناراضگی کا پیغام عمران خان کوعوام نے انتخابات میں پیش کر دیا ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں کو ہمیشہ سازشی ذہن رہا ہے ۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے 172 نمائندے آگئے ہیںجبکہ 176 حکومتی نمائندگان ہیں۔ عمران خان بند گلی میں کھڑے ہیں انہیں ہر قدم سنبھل کر چلنا پڑے گا۔ عمران خان بطور پارٹی چئیرمین ضمنی انتخابات میں حکومتی امیدواروں کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہیں توانہیں فوراً پارٹی کا سیاسی سٹرکچر معطل کر کے نیا سٹرکچر بنانا چاہئے کیونکہ وقت بہت کڑا ہے۔نواز شریف کی مدفون جماعت کے تن من میں نئی روح پیدا ہوگئی ہے۔ سعد رفیق ، شاہد خاقان عباسی ، مولانا فضل الرحمان کی جماعت سے ایک ایم این اے بن گیا اور پورے پنجاب کی سیاست بدل گئی جسکی وجہ حکومت کی غلط پالیسی تھی ۔ عمران خان کو پالیسی بنانے والوں کو سزا دینی چاہئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان ، بھارتی الیکشن کمیشن کے برابر آگیا ہے۔خواجہ سعد رفیق کو شٹ اپ کال دینا بہترین عمل تھا۔الیکشن کمیشن تعریف کا مستحق ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اجمل خان وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ ق نے ضمنی انتخابات میں دو سیٹیں تحریک انصاف کی وجہ سے جیتی ہیں اور ٹوٹل 6 سیٹیں جیتی۔ اگر ساری سیٹں جیت جاتے تو مسلم لیگ ن پھر دھاندلی کا رونا روتے۔ ماضی کی حکومتوں کی طرح تحریک انصاف نے بھوندے ہتھکنڈے نہیں اپنائے، الیکشن شفاف ہوئے ،حکومت نے کوئی مداخلت نہیں کی اور ہم نے نتائج کو تسلیم کیا۔ بنوں کا الیکشن تحریک انصاف اپنے ہی امیدوار کی وجہ سے ہاری ،جو بطورآزاد رکن مدمقابل تھا، ایم ایم اے کیوجہ سے یہ سیٹ نہیں ہارے۔ عمران خان کے سخت فیصلوں کا اثر بھی انتخابات پر ہوا ہے۔ مگر کرپٹ لوگوں نے واویلہ کرنا ہے اور حکومت نے اپناکام کرنا ہے۔