All posts by Saqib Nasir

کراچی ٹیسٹ: فواد عالم کی سنچری، پاکستان نے برتری حاصل کر لی

پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں فواد عالم کی عمدہ سنچری کی بدولت پہلی اننگز میں برتری حاصل کر لی۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز 33 رنز چار کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی۔

دن کے آغاز میں فواد عالم اور اظہر علی دونوں نے محتاط انداز اپنایا اور ذمے دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقی باؤلرز کا ڈٹ کر سامنا کیا۔

پہلے سیشن کے دوران جنوبی افریقہ کو ایک وکٹ لینے کا بھی موقع ملا لیکن وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔

91 کے مجموعی اسکور پر کیشپ مہاراج کی باؤلنگ پر گیند فواد عالم کے بلے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی سلپ میں گئی لیکن ڈین ایلگر کیچ لینے میں ناکام رہے۔

اس کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے مہمان ٹیم کو کوئی موقع نہ دیا اور پہلے سیشن میں کوئی بھی وکٹ نہ گرنے دی۔

کھانے کے وقفے کے بعد اظہر علی نے انی نصف سنچری مکمل کی لیکن کیشپ مہاراج کی گیند کو کٹ کرنے کی کوشش میں وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔

اظہر نے آؤٹ سے قبل فواد کے ہمراہ پانچویں وکٹ کے لیے 94 رنز کی شراکت قائم کی۔

دوسرے اینڈ پر فواد عالم ڈٹے رہے اور انہوں نے بھی ففٹی مکمل کرنے کے بعد محمد رضوان کے ہمراہ 55 رنز جوڑے، رضوان 33 رنز بنانے کے بعد لنگی نگیدی کا شکار بنے۔

فواد عالم اور فہیم اشرف نے ٹیم کو خسارے نکالتے ہوئے برتری دلا دی اور فواد نے مہاراج کو چھکا لگا کر اپنی تیسری سنچری مکمل کی۔

فواد عالم 100 رنز بنا کر وکٹ پر موجود ہیں جبکہ فہیم اشرف 31 رنز کے ساتھ ان کا ساتھ نبھا رہے ہیں۔

پاکستان نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 246 رنز بنا کر 26 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ نے میچ کے پہلے دن ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور پوری ٹیم 220 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

ڈین ایلگر 58 رنز کے ساتھ سب سے کامیاب بلے باز رہے تھے جبکہ جیارج لنڈے نے 35 اور فاف ڈیو پلیسی نے 23 رنز بنائے تھے۔

پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے تھے جبکہ پہلا میچ کھیلنے والے نعمان علی اور شاہین شاہ آفریدی نے دو، دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔

جواب میں پاکستان کی ٹیم پہلے دن کے اختتام پر 33رنز پر چار وکٹیں گنوا بیٹھی تھی۔

آؤت ہونے والے بلے بازوں میں پہلا میچ کھیلنے والے عمران بٹ، عابد علی، کپتان بابر اعظم اور نائٹ واچ مین شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم 14سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کا دورہ کررہی ہے جس میں وہ دو ٹیسٹ اور تین ٹی20 میچوں کی سیریز کھیلے گی۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

جنوبی افریقہ: کوئنٹن ڈی کوک (کپتان)، ڈین ایلگر، ایڈن مرکرم، فاف ڈیو پلیسی، راسی وین ڈر ڈوسن، ٹیمبا باووما، جیورج لنڈے، کیشپ مہاراج، کگیسو ربادا، اینرچ نورجے اور لنگی نگیدی

پاکستان: بابر اعظم(کپتان)، عمران بٹ، عابد علی، اظہر علی، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، نعمان علی، یاسر شاہ اور شاہین شاہ آفریدی

آئی سی سی کی نئی ون ڈے رینکنگ جاری،بابر اعظم تیسرے نمبر پر براجمان

بیٹنگ میں ویرات کوہلی پہلے جبکہ بابر اعظم تیسرے نمبر پر براجمان ہیں، آئرلینڈ کے پال اسٹرلنگ 20 ویں نمبر کے بیٹسمین بن گئے، آل راؤنڈر میں شکیب الحسن بدستور پہلے، عماد وسیم پانچویں نمبر پر ہیں۔

آئی سی سی نے ون ڈے کی تازہ رینکنگ جاری کر دی، بنگلادیش کے مہدی حسن نو درجے ترقی کر کے چوتھے نمبر کے بولر بن گئے، محمد عامر کو 2 درجے تنزلی کی کڑوی گولی نگلنا پڑی۔

دبئی سے جاری تازہ ون ڈے رینکنگ کے مطابق بولرز میں ٹرینٹ بولٹ کی ٹاپ پوزیشن برقرار ہے، بنگلا دیش کے مہدی حسن 9 درجے ترقی کر کے چوتھے نمبر پر پہنچ گئے، محمد عامر کی 2 درجے تنزلی ہوئی جس سے قومی بولر کو نویں نمبر پر جانا پڑا۔

جو سوال سیاستدانوں سے کرنے ہیں وہ ججوں سے بھی کریں:شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے  براڈشیٹ سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے لانےکا مطالبہ کردیا۔

احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا قومی احتساب بیور (‏نیب) ملک میں سیاست کو ناکام اوربدنام کرنےکا طریقہ ہے، ان عدالتوں میں جو کیس بن رہے ہیں وہ جھوٹ کے پلندے کے علاوہ کچھ نہیں۔

انہوں نے کہا ملک میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہے کہ سیاست دان کرپٹ ہیں، سیاستدانوں سے جس معیار پر سوال کیے جاتے ہیں بیوروکریٹ، جج اور جرنیل سے بھی کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں آج خاموش کیوں ہیں جو ایک ویزے پر وزیراعظم کو نااہل کرتی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ تو ایک کیس ہے، نیب کا ریکارڈ سامنےآئے تو نا انصافی اور کرپشن کی داستان ملیں گی، انصاف ہو تو 3 نیب چیئرمین جیل جائیں گے، انصاف کا ایک معیار نہ ہو تو احتساب عدالتوں میں چلنے والے کیس پولیٹیکل انجینرنگ اور سیاستدانوں کو بدنام کرنےکا ذریعہ ہیں۔

شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ احتساب کا ادارہ سمجھنے جانے والا ادارہ آج خود قابلِ احتساب ہے لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں۔

براڈ شیٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ  جو وزیراعظم کہتا تھا کہ اتنی کرپشن ہو گئی وہ آج کہتا ہے میرا براڈشیٹ سے کوئی تعلق نہیں، کون سے جنرل صاحب تھے جو کاوے موسوی سے جا کر ملے اور پیسے مانگے، ان سوالوں کے جواب دینے والا کوئی نہیں کیونکہ پوچھنے والا کوئی نہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ براڈشیٹ کے تمام دستاویزات عوام کے سامنے رکھیں، کئی پردہ نشینوں کے نام سامنے آئیں گے، جنرل مشرف کا نام آتا ہے تو ان کا بھی ریمانڈ لیں اور جیل بھیجیں۔

براڈ شیٹ انکوائری کمیشن حدیبیہ پیپر ملز ،سرے محل کی بھی انکوائری کرے گیا:وفاقی کا بینہ

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیدی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی کابینہ نے بھی براڈ شیٹ تحقیقات کے لیئے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیدی جس کے سربراہ جسٹس (ر) عظمت سعید ہونگے۔

ایک رکنی براڈشیٹ کمیشن صرف جسٹس (ر) عظمت سعید پر مشتمل ہوگا اور کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت تشکیل دیا جائیگا۔ کمیشن نہ صرف براڈ شیٹ کے معاملے کی جامع تحقیقات کریگا بلکہ حدیبیہ پیپر ملز اور سرے محل کی بھی انکوائری کریگا۔

کابینہ اجلاس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورت حال پر غور کیا گیا اور ایف نائن پارک اسلام آباد کے عوض سکوک بانڈز اجراء کیلئے وزارت خزانہ کی سمری پر بھی بحث ہوئی، تاہم کابینہ نے ایف 9 پارک کی زمین کے بدلے سکوک بانڈز اجرا کی سمری مسترد کردی۔

وفاقی کابینہ نے قرض لینے کیلئے بطور ضمانت ایف نائن پارک کی بجائے اسلام آباد کلب کو گروی رکھنے کی منظوری دیدی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں ایک رکن نے طنزیہ تجویز دی کہ ایوان صدر میں کیا ہوتا ہے؟ اسے گروی رکھ دیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ایف نائن پارک کو گروی رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے سیکرٹری فنانس سے کہا کہ عوام کیلئے بنایا گیا ایف 9 پارک گروی رکھوانے کی تجویز کیوں آئی؟۔ سیکرٹری فنانس نے سکوک بانڈز پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا یہ اسلامی بانڈ ہے، ماضی کی غلطیاں درست کرنے کیلئے ان بانڈز کا اجراء کرنے کا سوچا، یہ گروی رکھنا صرف علامتی طور پر ہے، عملی طور پر اس سے فرق نہیں پڑتا، سکوک بانڈز کیلئے زمین کی ویلیو بھی دیکھنا پڑتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ مجھے پتا ہے کہ سکوک بانڈ کیا ہوتا ہے، عوام کے استعمال میں پارک علامتی طور پر بھی گروی نہیں ہونا چاہیے، اس سے غلط تاثر گیا، اگر یہ عملی طور پر گروی رکھنا نہیں ہوتا تو وزیراعظم ہاوس کو گروی رکھ دیتے، عوام کیلئے بنایا گیا پارک گروی نہ رکھا جائے۔ ایک وفاقی وزیر نے طنزاً کہا کہ اگر علامتی ہی تھا تو پھر صدر ہاؤس رکھوا دیتے۔

علاوہ ازیں اجلاس میں وزارت دفاع نے کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی سمری واپس لے لی۔

پاکستان کیخلاف جھوٹا پروپیگنڈا،بھارت کو ایک اور ہزیمت کا سامنا،یورپی پارلیمنٹ نے نوٹس لے لیا

یورپین پارلیمنٹ نے بھارت سے متعلق فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے ’ای یو ڈس انفولیب‘ کے انکشافات پر نوٹس لے لیا۔

ای یو ڈس انفولیب کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بھارت کا مکروہ چہرہ بےنقاب کرتے ہوئے یورپی پارلیمانی کمیٹی کو معاملے پر بریفنگ دی ہے۔

بریفنگ میں پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا سے آگاہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں یورپی تنظیم ’ای یو ڈس انفو لیب‘ نے بھارتی جھوٹ کی فیکٹری ’انڈیا کرونیکل‘ اور ’ای یو کرونیکل‘ کو بے نقاب کیا تھا جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔

انٹرنیٹ پر جعلی خبروں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم  ’ای یو ڈس انفولیب نے بڑے انکشافات کئے تھے۔

تنظیم کے مطابق بھارت ویب سائٹ ’ انڈین کرونیکل‘ کے ذریعے جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔ انڈین کرونیکل اقوام متحدہ کی تنظیموں اور صحافیوں کے جعلی اکاؤنٹس سے جعلی خبریں پھیلاتی ہے۔

این جی او کے مطابق ’انڈین کرونیکل ‘ نے یورپی یونین کے لیے نئی ویب سائٹ بنائی ہے جس کے ذریعے یورپی قانون سازوں اور صحافیوں کے جعلی اکاؤنٹس بنا کر ان سے جعلی مضامین شیئر کرائے جاتے ہیں۔

بھارتی نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ ان جعلی خبروں کو بھارت میں پھیلاتی ہے۔ بھارت میں بزنس ورلڈ میگزین اور دیگر ادارے انہیں شائع کرتے ہیں۔ اس سے بھارت اور یورپی یونین میں پاکستان مخالف بیانیہ پھیلایا جاتا ہے۔

بھارتی ادارہ Srivastava اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان اور چین کے خلاف منفی مواد کی تشہیر میں ملوث ہے۔

جعلی خبروں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف مہم کو غلط رنگ دیا جاتا ہے۔

ای یو ڈس انفو لیب کی تحقیق کے مطابق بھارت 15سال سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کو غلط مواد کے ذریعے گمراہ کر رہا ہے۔

مذکورہ مقصد کے لیے ساڑھے سات سو جعلی میڈیا گروپ اور دس سے زائد جعلی این جی اوز سے پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔

ُٰپی ڈی ایم میں اختلافات شدید ،فضل الرحمن اتحاد بچانے کے لیے متحرک

پاکستان کی گیارہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا مقصد تو تحریک انصاف کی حکومت کو گھر بھیجنا ہے لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ جماعتیں کسی ایک حکمت عملی پر اتقاق کرتی نظر نہیں آتیں۔

پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے گذشتہ دنوں دیے گئے متضاد بیانات نے اپوزیشن اتحاد میں موجود نااتقافی کو مزید عیاں کر دیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب مسلم لیگ نواز اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فصل الرحمان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کی تاریخوں پر بات کرتے نظر آ رہے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ ان کی جماعت حکومت کو ہٹانے کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ اپناتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز پی ڈی ایم کی سامنے پیش کرے گی۔

تاہم مسلم لیگ نواز کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کے پاس نمبرز پورے ہیں تو سامنے لائیں۔

محض رائے کا اختلاف یا اندرونی تنازعات کی طرف اشارہ؟

محمد زبیر نے پیپلز پارٹی کی عدم اعتماد سے متعلق تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا جن قوتوں سے مقابلہ ہے وہ صرف پاکستان تحریک انصاف نہیں اور اگر اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لاتی ہے اور وہ اس تحریک عدم اعتماد کی طرح ناکام ہو جاتی ہے جو صادق سنجرانی کے خلاف لائی گئی تھی تو یہ پی ڈی ایم کے لیے بڑا دھچکا ہو گا اور اس ناکامی کے بعد تحریک کو زندہ رکھنا ایک بڑا چیلینچ ہو گا۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کا ماننا ہے کہ حکومت کو ہٹانے کے لیے زیر غور تمام ہی آپشنز آئینی ہیں، پھر وہ چاہے لانگ مارچ ہو یا پُرامن احتجاج یا تحریک عدم اعتماد اور پیپلز پارٹی نے ان تمام ہی آپشنز کو کھلا رکھا ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پی ڈی ایم کی جانب سے بار بار اپنے بیانات اور حکمت عملی تبدیل کرنا اس کے بیانیے کے لیے نقصان دہ ہے لیکن یہ پی ڈی ایم میں کسی سخت اختلافات کی طرف اشارہ نہیں کرتا کیونکہ اگر اختلافات اتنی شدت اختیار کر چکے ہوتے تو یہ اتحاد اب تک قائم نہ رہتا۔

IPL کی وجہ سے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کی تاریخ تبدیل

نئی دہلی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)نے انڈین پریمیئرلیگ (آئی پی ایل) 2021 کی وجہ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کےفائنل کی تاریخ تبدیل کر دی ۔

ٹیسٹ چیمپئن شپ کو پہلے 10 جون سے لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ اسٹیڈیم پر کھیلا جانا تھا جب کہ آئی پی ایل کا فائنل بھی اسی تاریخ کے آس پاس ہونے کا امکان ہے۔

لیکن ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ فائنل اب 18 جون سے کھیلا جائے گا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے مطابق ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل اب 18 سے 22 جون تک کھیلا جائے گا اور 23 جون کا دن ریزرو رہے گا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ فائنل کی تاریخوں کو تھوڑا آگے بڑھایا گیا ہے، جس سے آئی پی ایل ختم ہونے کے بعد ٹورنامنٹ کے لئے ضروری علیحدگی کو مکمل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں آئے۔

یاد رہے کہ آئی پی ایل کا پروگرام ابھی طے نہیں ہوا ہے، لیکن اس ٹورنامنٹ کے مئی کے آخر میں ختم ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں جگہ یقینی بنانے کے لئے بھارت (430 پوائنٹس)، نیوزی لینڈ (420 پوائنٹس) اور آسٹریلیا (332 پوائنٹس) کے ساتھ پہلی تین پوزیشنز پر براجمان ہیں جب کہ انگلینڈ نے بھی سری لنکا کو 0-2 سے شکست دے کر اس دوڑ کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

سری لنکا کے خلاف فتح کے بعد انگلینڈ اب آسٹریلیا سے محض کچھ پوائنٹس پیچھے ہے۔

اداکار علی عباس کورونا وائرس میں مبتلا

جیو انٹرٹینمنٹ کے معروف ڈرامہ سیریل ‘خالی ہاتھ’ میں بہترین اداکاری کے جوہر دکھانے والے اداکار علی عباس بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔

اداکار علی عباس نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے اپنے چاہنے والوں کو بتایا کہ ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

علی عباس نے بتایا کہ ‘کبھی کبھی اپنی مصروف ترین زندگی پر روشنی ڈالنا کافی ضروری ہوتا ہے اور مجھے اگلے 15 دنوں کے لیے یہ موقع ملا ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور مجھے آپ سب کے پیار اور دعاؤں کی ضرورت ہے’۔

اداکار علی عباس کی اس پوسٹ کے بعد شوبز انڈسٹری کی متعدد خصیات سمیت ان کے چاہنے والوں کی جانب سے ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آزادی مارچ نہ ہوتا تو نوازشریف آج بھی جیل میں ہوتے مولانا شیرانی ،حافظ حسین احمد

جمعیت علما ء اسلام پاکستان کے رہنمائوں مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کو نقصان ہم سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے پہنچے گا، الیکشن کمیشن نے ایک جماعت کے دستور، لیٹر ہیڈ کو نہیں دیکھا تو صاف ظاہر ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ہے ،سیاسی زعماء کو اسٹیبلشمنٹ کی آپسی لڑائی کا حصہ نہیں بننا چاہیے، حکومت اور اپوزیشن دونوں کا ساتھ ایک ہی قوت دے رہی ہے، جمعیت علماء اسلام پاکستان نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی ہے،مولانا

فضل الرحمن کو واپس آنا ہوگا ہمیں انہیں واپسی کا موقع فراہم کررہے ہیں،یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں پیر عالم زیب شاہ،مولانا شجاع الملک ، مولانا گل نصیب خان، ڈاکٹر شہاب سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ جماعت کے دستور کی شق نمبر 1کے مطابق پارٹی کا نام جمعیت علماء اسلام پاکستان ہے یہی نام الیکشن کمیشن میں بھی رجسٹرڈ تھا اور اسی نام سے خط وکتابت ،رکن سازی فارم سمیت دیگر کاغذی کاروائی ہوتی تھی لیکن 2002میں کسی کی خواہش پر ان نام کو جمعیت علماء اسلام (ف) کردیا گیا 2008اور2013میں بھی ایسا ہی کیا گیا انہوں نے کہا کہ 2013میں مجلس عمومی میں عزیز اللہ ساتکزئی نے بھی مولانا سے اس متعلق دریافت کیا اور کہا کہ اس غلطی کا ازالہ کیا جائے اگر واقعی نام جمعیت علماء اسلام (ف) ہے تو کہ جماعت نہیں بلکہ ایک گروپ ہے جس کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام (ف) نہیں بلکہ جمعیت علماء اسلام پاکستان جماعت کا نام ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ 2008اور 2013کے انتخابات میں یہ نام جمعیت علماء اسلام (ف) ہی دیا گیا 2018میں بھی مولانا فضل الرحمن ،مولانا عبدالغفور حیدری، مولوی قمر الدین نے انتخابی نشان قلم الاٹ کرنے کے لئے جو خط و کتابت کی اس میں بھی پارٹی کا نام جمعیت علماء اسلام (ف) لکھا گیا اس کے بعد میر حاصل بزنجو مرحوم کی وفات کے بعد خالی ہونے والی نشست پر غوث اللہ نامی امیدوار نے بھی جمعیت علماء اسلام(ف) کے نام پر ضمنی انتخاب میں حصہ لیاجب ہم نے اس مسئلے کو اٹھایا اور انہیں احساس ہوا تو کامران مرتضی ایڈوکیٹ کے توسط سے الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں انہوں نے اس عمل کو کلیرکل غلطی قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان نے مولانا شجاع الملک کے توسط سے الیکشن کمیشن درخواست دائر کی ہے کہ یہ غلطی نہیں بلکہ دانستہ طور پر کیا گیا اور پارٹی کے آئین کے مطابق جماعت کا نام صرف جنرل کونسل ہی تبدیل کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ابھی ہم مشاورت کر رہے ہیں کہ آیا مولانا فضل الرحمن نے دستور کے مطابق پارٹی کی رجسٹریشن کروائی ہے یا نہیں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ساتھیوں کو ہدایت کی ہے کہ ہر ضلع اور مسجد میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے عہدیداروں اور کارکنوں کے ناموں سمیت تمام تفصیلات اکھٹی کرکے مرتب کریں ہم ہر ضلع میں رابطہ آفس بھی کھولیں گے جبکہ ژوب و شیرانی میں دفاتر کھول دئیے گئے ہیں مارچ میں لورالائی اور موسیٰ خیل جبکہ لسبیلہ ،نصیر آباد سمیت دیگر علاقوں میں بھی مراکز کھولے جائیں گے پہلے مرحلے میں تربیتی اجتماعات کا سلسلہ شروع کرکے جماعت کی تشکیل کریں گے انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کو نقصان ہم سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے پہنچے گا الیکشن کمیشن نے ایک جماعت کے دستور، لیٹر ہیڈ کو نہیں دیکھا تو صاف ظاہر ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ہے انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے وقت ہی کہا تھا کہ یہ لوگ جس طرح گئے ہیں اسی طرح واپس آئیں گے ایک ہی قوت ہے جو اپوزیشن اور حکومت دونوں کا ساتھ دے رہی ہے اسٹیبلشمنٹ کے اندرونی اختلافات میں سیاسی زعماء کا استعمال ہونا مناسب نہیں لگتا پی ڈی ایم کا کوئی مستقبل نہیں ہے اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ ملک توڑنے کے درپے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم تحریک کا کوئی بھی مطالبہ عوامی نہیں ہے یہ عوام کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اپنے موقف پر قائم ہوں انہوں نے کہا کہ خون ریزی امریکہ کی ضرورت ہے اسلام کی نہیں مولوی اور قوم پرستوں سے کہتا ہوں کہ اگر جنگ اور خون ریزی سے اسلام اور قومیت کو کچھ بھی حاصل نہیں ہورہا تو اس میں امریکہ کی خوشنودی ہے جس کے لئے ہمیں کام نہیں کرنا چاہیے ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت اسلام پاکستان کے رہنماء حافظ حسین احمد نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر جماعت میں جمہوریت ہو پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) میں سنیئر رہنماء پیچھے کھڑے ہوتے ہیں جبکہ بلاول، آصفہ، مریم تقریر کرتے ہیں مریم نواز کے پاس ایک ہی قابلیت ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی بیٹی ہیں اسی طرح مولانا فضل الرحمن نے مولانا عبدالواسع سمیت کئی دیگر سنیئر رہنمائوں کے ہوتے ہوئے اپنے بیٹے کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بنایا اسی طرح خبیر پختونخواء میں اپنے بھائیوں کو فوکیت دی ہم کسی بھی عہدے کے لئے نہیں بلکہ جماعت میں جمہوریت کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اگر آزاد اور شفاف انتخابات کا نعرہ لگا رہی ہیں تو وہ یہ عمل اپنی جماعتوں سے شروع کرتے ہوئے موروثیت کے عنصر کو ختم کریں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے متعلق پہلے ہی کہا تھا کہ نہ یہ استعفیٰ دیں گے نہ لانگ مارچ کریں گے اور نہ ہی سندھ اسمبلی توڑیں گے اب مولانا فضل الرحمن تحریک کی ناکام کو چھپانے کے لئے ہمارے ناموں کو استعمال کر رہے ہیں کہ ہماری وجہ سے تحریک ناکامی سے دوچار ہوئی انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم فروٹ چاٹ ، چنا چاٹ کے بعد اب تھوک چاٹ بن چکی ہے پی ڈی ایم میں ویٹو اختیار صرف بلاول بھٹو کے پاس ہے اور وہی تحریک کے فیصلے کر رہے ہیں جس اسمبلی کو غیر آئینی کہا جاتا تھا اسی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن نے صدر اور انکے بیٹے نے ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیوں لڑا اور اب تحریک عدم اعتماد لاکر اسی اسمبلی کی حیثیت کو تسلیم کیا جارہا ہے اگر تحریک عدم اعتماد لاکر کامیابی بھی بنا دی جائے تو جو وزیراعظم منتخب ہوگا وہ کیسے پاک صاف ہوگا، حافظ حسین احمد نے کہا کہ ہم 2007سے پارٹی میں جمہوریت کی بات کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ میلے کپڑے گھر میں ہی دھل جائیں میاں نواز شریف نے جو بیانات دئیے تو ملک مخالف تھے اور جب ان کے بیانات سے لاتعلقی اور مذمت کا اظہار کیا تو اسے بہانا بنا کر جماعت سے نکال دیا گیا کہ پارٹی پالیسی کے مخالف بات کی گئی انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اسٹیبلمشنٹ کے ساتھ ملکر جعلسازی کے ذریعے جعلی رپورٹ بنوا کر بیرون ملک گئے اور 11ماہ تک خاموش رہے اگر آزادی مارچ نہ ہوتا تو میاں نواز شریف آج بھی جیل میں ہوتے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی وعدے کے باوجود بھی آزادی مارچ میں نہیں آئیں پی ڈ ی ایم کے معاہدے اور تحریک عدم اعتماد لانے کی بات کے بعد اسکے اپنے بیانیے میں تضاد آگیا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں مولانا فضل الرحمن کو ہی واپس آنا پڑیگا واپسی کا موقع انکے پاس ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان نے شجاع الملک کو اپنا ترجمان مقرر کردیا ہے ۔

پی ڈی ایم اتحاد ٹوٹنا نہیں چاہیے،نواز شریف کا زرداری کو پیغام

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نون کی نائب صدر  مریم نواز  نے کہا ہے کہ وہ پارلیمانی پارٹی کے لیے نواز شریف کا خاص پیغام لائی ہیں، نواز شریف کا پیغام یہ ہے کہ حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے۔

حکومت کو اب این آر او نہیں ملے گا جبکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کروں گی۔

مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب این آر او نہیں ملے گا جبکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کروں گی۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجلاس میں عدم اعتماد کا معاملہ زیر بحث لائیں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ آصف زرداری نے کہا کہ حکومت کے آخری دن ہیں، حکومت کی نالائقی اور نااہلی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

وزیراعظم سے آرمی چیف ،ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات

اسلام آباد: وزیراعظم سے آرمی چیف نے ملاقات کی جس میں قومی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔     

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شریک تھے جب کہ ملاقات میں قومی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بلال عباس، سجل علی اور ایمن خان ’30 انڈر 30 گلوبل ایشین اسٹارز’ میں شامل

ہر سال مختلف عالمی اداروں کی جانب سے دنیا بھر میں یا خطوں کے حساب سے کامیابی حاصل کرنے والے فنکاروں اور شوبز شوبز شخصیات کی فہرست جاری کی جاتی ہے۔

اسی طرح برطانوی اخبار ایسٹرن آئی نے بھی سال 2021 میں 30 انڈر 30 گلوبل ایشین اسٹارز کی فہرست جاری کی ہے۔

فہرست میں ان باصلاحیت فنکاروں کو شامل کیا گیا ہے جو بہت کم عمر میں دنیا بھر میں مقبول ہورہے ہیں۔

اس فہرست میں اداکار بلال عباس خان، سجل علی، ایمن خان جبکہ گلوکار و اداکار علی ظفر کے بھائی دانیال ظفر بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ مہینے ایسٹرن آئی نے بلال عباس کو ایشیا کی 50 مقبول شخصیات میں شامل کیا تھا اور اب انہیں اس فہرست میں بھی شامل کیا ہے۔

ایک پی ڈی ایم اور کئی بیانیے، اس کا شیرازہ بکھرنے کا واضح ثبوت ہے، وزیر اطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پی ڈی ایم اور کئی بیانیے، اس تحریک کا شیرازہ بکھرنے کا واضح ثبوت ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹوئٹ میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ایک پی ڈی ایم اور کئی بیانیے، بلاول کا (تحریک) عدم اعتماد پر زور، احسن اقبال کے اس پر شکوک و شبہات اور مریم کا لانگ مارچ پر اصرار، پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھرنے کا واضح ثبوت ہے‘۔

انہوں نے لکھا کہ یہ شاہراہوں پر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے نکلے تھے لیکن عوام کی جانب سے مسترد ہونے کے بعد واپس ایوانوں کا رخ اختیار کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر کا ٹوئٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب دو روز قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے بلاول بھٹو کے گزشتہ ہفتے کے بیان پر کہا تھا کہ وہ موجودہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کرنے کے لیے ‘مطلوبہ تعداد’ ظاہر کریں کیونکہ اس طرح کی ایک کوشش پہلے ناکام ہوچکی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ ہفتے خطاب کے دوران حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیا تھا۔

موہنجو داڑو میں ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘پیپلز پارٹی، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جمہوری، آئینی و قانونی طریقے سے اس حکومت کو گھر بھیجے گی، ہم پی ڈی ایم رہنماؤں کو مناتے ہیں کہ ہمیں وار کرنا ہے تو اسمبلی میں کرنا ہے، ہمیں حملہ کرنا ہے تو تحریک عدم اعتماد کے جمہوری طریقے سے کرنا ہے، ہم اپنے اتحادیوں کو جب اس اسٹریٹجی کے لیے منائیں گے اور ایک پیج پر لے کر آئیں گے پھر ہماری چائے پر ملاقاتوں سے بھی ان کے جتنے پسینے نکلیں گے اتنا 10 جلسوں سے بھی ان پر اثر نہیں ہوتا’۔

اس کے اگلے روز احسن اقبال نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اگر بلاول بھٹو زرداری کے پاس عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے تو انہیں یقینی طور پر ظاہر کرنا ہوگا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے (ماضی میں) سینیٹ انتخاب میں دیکھا جہاں پیپلز پارٹی اکثریت میں تھی لیکن اس کے باوجود عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوسکی، لہٰذا صرف ایک ہی راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن لانگ مارچ کو آگے بڑھایا جائے’۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما جولائی 2019 میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کی ناکامی کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

اپوزیشن جماعتوں کے متعدد اراکین نے اپنی قرارداد کے خلاف ووٹ ڈال کر یا جان بوجھ کر اپنے ووٹ ضائع کرکے پارٹی قیادت کو مایوس کردیا تھا۔

صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے موقع پر 64 اپوزیشن اراکین نے نشستوں سے اٹھ کر اس کی حمایت ظاہر کی تھی تاہم جب خفیہ رائے شماری ہوئی تو تحریک کے حق میں صرف 50 اپوزیشن سینیٹرز کے ووٹ آئے تھے۔