All posts by Saqib Nasir

بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئیں

معروف اداکارہ کنگنا رناوت بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئیں۔

بھارتی حکومت کے خلاف متنازع بیانات کے باعث کچھ روز قبل اداکارہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کیا گیا تھا جس کے بعد وہ انسٹاگرام پر کافی سرگرم دکھائی دے رہی تھیں۔

کنگنا نے انسٹاگرام پر اپنی یوگا کرتے ہوئے تصویر شیئر کی اور مداحوں کو بتایا کہ ان کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آچکا ہے۔

اداکارہ نے طویل کیپشن میں لکھا کہ کچھ روز سے میں تھکاوٹ اور آنکھوں میں جلن محسوس کر رہی تھی، گزشتہ روز میں نے کووڈ کا ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ آج آئی ہے۔

کنگنا نے بتایا کہ میں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے، مجھے اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ وائرس جسم میں موجود ہے۔

اداکارہ نے مضبوظ لہجے میں کہا کہ اب مجھے اس بات کا علم ہے کہ مجھے یہ بیماری ہو چکی ہے، اسی لیے میں اسے ہرا دوں گی، برائے مہربانی کسی کو بھی خود پر طاقت نہ آزمانے دیں، جس چیز سے آپ جتنا ڈریں گے یہ آپ پر اتنی حاوی ہوگی۔

کنگنا نے پر امید ہوتے ہوئے کہا کہ آئیں مل کر اس وبا کو شکست دیتے ہیں، یہ کچھ بھی نہیں ہے سوائے عام سے فلو کے۔

پاکستان کی مشکل صورتحال میں مدد کیلئے تیار ہیں، آئی ایم ایف

واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کے بحران اور سست معیشت کی وجہ سے پاکستان جس مشکلات سے دو چار ہے، ایسے حالات میں اس کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے بدھ کے روز اسلام آباد میں کہا تھا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے اپنے قرضوں سے منسلک ‘سخت شرائط’ پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف نے مئی 2019 میں 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے وقت پاکستان کی معیشت قرضوں میں جکڑی ہوئی تھی جس میں کووڈ 19 کے بحران سے مزید اضافہ ہوگیا۔

جمعرات کو واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر برائے مواصلات گیری رائس نے باور کرایا کہ صرف ایک ماہ قبل ہی آئی ایم ایف نے پاکستان کو اپنی توسیع شدہ قرض کی سہولت کا تیسرا، چوتھا اور پانچواں جائزہ مکمل کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘اور اس وقت ہمارے بورڈ کے فیصلے سے فوری طور پر 50 کروڑ ڈالر کی فراہمی کی اجازت دی جس سے پاکستان کو مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر کی فراہمی ہوئی ہے’۔

موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کووڈ بحران کی وجہ سے پاکستان جس مشکل صورتحال کا سامنا کررہا ہے ہم ان حالات میں اس کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ تاکہ مضبوط اور پائیدار نمو کے لیے مدد مل سکے

انہوں نے کہا آئی ایم ایف پاکستانی حکام کے ساتھ وقت آنے پر چھٹے جائزے پر بات چیت کرے گا، جیسا کہ میں نے بتایا کہ دیگر جائزے تقریباً ایک ماہ قبل ہی مکمل ہوچکے ہیں۔

آخری جائزے کے بعد 8 اپریل کو جاری کردہ ایک بیان میں آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ کووڈ 19 سے آئی ایم ایف کے حمایت یافتہ پروگرام کے تحت پاکستان کی ترقی کو عارضی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی پالیسیاں ‘معیشت کی مدد کرنے اور جانوں اور روزگار کو بچانے میں اہم رہی ہیں’۔

بیان میں پاکستان نے اپنی معاشی حالت میں بہتری لانے کے لیے اصلاحی اقدامات کی تعریف کی تھی۔

تاہم آئی ایم ایف نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر آرہی ہے جس سے غیر یقینی صورتحال اور اہم پہلوؤں کو خطرات لاحق ہیں۔

علاوہ زیں وزیر خزانہ نے دوسری لہر سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا بھی ذکر کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان اب آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ‘سخت شرائط’ کو پورا نہیں کرسکتا۔

شوکت ترین نے اپنی نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا۔

انہوں نے آئی ایم ایف سے کہا تھا کہ ‘ہمیں کچھ مہلت دیں جس پر انہوں نے ہمدردی کا اظہار کیا تھا’۔

مالی سال 22-2021 کا بجٹ چند ہفتوں بعد متوقع ہے اور حکام کو لگتا ہے کہ متوازن بجٹ بنانے کے لیے انہیں مزید مہلت کی ضرورت ہے لیکن آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے ایسا نہیں کرسکے۔

گزشتہ برس قومی معیشت میں 0.4 گراوٹ ہوئی اور افراط زر اپریل میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی جو 11 ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔

حکومت نے مالی سال 21-2020 سے 3 فیصد کے ترقیاتی تخمینوں پر نظرثانی کی ہے لیکن آئی ایم ایف نے 1.5 فیصد کی بہت کم شرح کی پیش گوئی کی ہے۔

ایف آئی اے نے شہباز شریف کو عدالتی احکامات کے باوجود بیرون ملک سفر سے روک دیا، مریم اورنگزیب

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو مبینہ طور پر ہفتے کی صبح لاہور ایئرپورٹ سے براستہ قطر برطانیہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مبینہ طور پر ان کا نام ‘ایک اور فہرست میں’ رکھتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے سے روک دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو علاج کے لیے ایک بار بیرون ملک سفر کرنے کی مشروط اجازت دی تھی۔

ہفتے کی علی الصبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ جب لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی اس وقت ایف آئی اے کے دو اہلکار عدالت میں موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ عدالتی حکم میں مسلم لیگ (ن) کے صدر کے قطر جانے والی فلائٹ نمبر کا بھی ذکر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘جب شہباز شریف آج ایئرپورٹ پہنچے تو ایف آئی اے کے عہدیداروں نے انہیں روکا اور کہا کہ وہ سفر نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا نام ایک ‘پرسن ناٹ اِن لسٹ’ (پی این آئی ایل) فہرست میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کا سسٹم عدالتی حکم کے بعد بھی اپ ڈیٹ نہیں ہوا۔

مریم اورنگزیب نے اسے ‘بدنیتی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات شہریوں کو بجلی، پانی، چینی اور گندم کی فراہمی کے بجائے ‘شہباز شریف’ اور سیاسی مخالفین پر مرکوز ہیں۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر یہ بیان جاری کر رہے ہیں کہ وہ اس حکم کو ‘قبول نہیں کرتے’ ہیں اور وہ ‘شہباز شریف کو روکنے کے لیے مکمل کوششیں’ کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے ایف آئی اے کے نوٹس کو ‘جھوٹ’ اور لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ توہین عدالت کے مترادف ہے اور ہم اس پر قانونی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روکنے سے حکومت کیا حاصل کرسکتی ہے، حکومت کو جواب دینا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انہیں معلوم ہے کہ عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے چاہے وہ ڈسکہ، وزیر آباد یا کراچی ہو، اسی وجہ سے انہوں نے اس طرح کی گری ہوئی حرکتوں کا سہارا لیا ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ‘انہیں ڈر ہے کہ مسلم لیگ (ن) متحد ہے، پاکستانی عوام مسلم لیگ (ن)، نواز شریف اور شہباز شریف کی خدمات کو ووٹ دے رہے ہیں’۔

انہوں نے الزام لگایا کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم اور شہزاد اکبر کے ‘حکم’ پر روکا گیا ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ یہاں ‘دو پاکستان’ ہیں، ایک وہ جہاں وزیر اعظم ‘اپنے معاون خصوصی ذوالفقار بخاری کا نام ای سی ایل سے ڈیڑھ گھنٹوں میں نکلوا سکتے ہیں’ اور دوسرا جس میں سسٹم عدالتی حکم کے باوجود اپ ڈیٹ نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں نہیں تھا جس کے بعد نیب نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا لیکن اسے مسترد کردیا گیا، اس کے بعد نیب-نیازی گٹھ جوڑ نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کی کوشش کی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہاں ایک فہرست ہے ‘پرسن ناٹ اِن لسٹ’ جو غیر قانونی ہے اور یہ ایک ناقص حکمت عملی ہے جس کے ذریعے کسی شخص کو عارضی طور پر بیرون ملک جانے سے روکا جاسکتا ہے۔

انہوں نے شہباز شریف کے نام کو ‘پی این آئی ایل’ میں شامل کرنے کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جب ہائی کورٹ بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دے رہی ہے تو شہباز شریف کو اس طرح روکنے کے لیے وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کے پاس ‘کوئی قانونی جواز’ نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ‘عدالتی احکامات پر عمل کرنا حکومت کا کام ہے، ایک ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں موجود تھا، آپ کب تک روک سکتے ہیں؟ ہمارے پاس احکامات موجود ہیں اور ہم ان پر عمل درآمد کروائیں گے’۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے صدر نے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے سے قبل امیگریشن سے کلیئرنس لی تھی تو عطااللہ تارڑ نے جواب دیا کہ پارٹی ‘جلد از جلد تمام قانونی آپشنز استعمال کرے گی’۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے پاس وزارت داخلہ کا ایک خط تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شہباز کا نام ای سی ایل سے خارج کردیا گیا ہے۔

عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ ماضی میں شہباز شریف جب علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے اور پھر واپس پاکستان آئے تھے تو ان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے حکومت کے پاس مسلم لیگ (ن) کے صدر کو روکنے کے لیے ‘کوئی اخلاقی یا قانونی بنیاد’ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ شہباز شریف نے دو روز قبل لاہور ہائی کورٹ سے اپنا نام ٹریول بلیک لسٹ کی فہرست سے نکلوانے کے لیے رجوع کیا تھا اور ایک بار علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت طلب کی تھی۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ ‘ماضی کے رویے اور سفری معلومات کے پیش نظر درخواست گزار کا نام اس وقت ایگزٹ کنٹرل لسٹ (ای سی ایل) پر نہیں ہے’۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ‘درخواست گزار کا نام بلیک لسٹ میں ہے اور موجود ہو تو بھی درخواست گزار کو ایک مرتبہ 8 مئی 2021 سے 3 جولائی 2021 تک اپنے طبی معائنے کے لیے عدالت کے سامنے کیے گئے وعدے کے تحت برطانیہ جانے سے نہیں روکا جاسکتا’۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ‘شہباز شریف نے نواز شریف کے باہر جانے کے لیے یہ گارنٹی عدالت میں جمع کروائی تھی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اب بجائے اس کے کہ شہباز شریف کو جعلی گارنٹی دینے پر نوٹس کیا جاتا اور نواز شریف کو واپس بلایا جاتا، خود شہباز شریف کو باہر بھیجا جارہا ہے’۔

اداکارہ سنبل شاہد کورونا وائرس سے انتقال کرگئیں

پاکستان کی سینئر اداکاراؤں بشریٰ انصاری اور اسما عباس کی بہن اور اداکارہ سنبل شاہد کورونا وائرس سے انتقال کرگئیں۔

سنبل شاہد تقریباً ایک ماہ سے سی ایم ایچ لاہور میں کورونا وائرس کے باعث زیر علاج تھیں۔

انہیں 22 اپریل کو طبیعت بگڑنے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا اور آج (6 مئی) کی دوپہر کو سنبل شاہد کا انتقال ہوا۔

ٹی وی ہوسٹ سیدہ بشریٰ اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کی گئی ٹوئٹ میں کہا کہ ‘بشریٰ انصاری کی بہن سنبل شاہد لاہور میں کورونا سے انتقال کرگئیں’۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ‘اللہ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، برائے مہربانی سب ان کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔

اسکرین رائٹر سجی گل نے فیس بک پر شیئر کی گئی پوسٹ میں بتایا کہ ‘سنبل آپا اب نہیں رہیں’۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ‘اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے’۔

سنبل شاہد کی بہن اور اداکارہ بشریٰ انصاری نے 10 اپریل کو اپنی بہن سنبل شاہد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے آگاہ کیا تھا اور ے مداحوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کی بہن کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کریں۔

بشریٰ انصاری نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ‘میری پیاری بہن سنبل شاہد ان دنوں کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑرہی ہیں’۔

بعدازاں اسما عباس نے 22 اپریل کو انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں ان کی حالت بگڑنے سے متعلق بتایا تھا۔

اسما عباس نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ‘میری پیاری باجی وینٹی لیٹر پر ہیں، برائے مہربانی ان کی صحتیابی کے لیے دعا کریں’۔

اداکارہ اسما عباس نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی پوسٹ میں سنبل شاہد کی تصویر بھی شیئر کی تھی۔

گزشتہ دنوں بشریٰ انصاری نے کورونا سے متاثرہ اپنی بہن کے نام ایک جذباتی پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔

انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر سنبل شاہد کے ساتھ تصویر شیئر کی تھی اور لکھا تھا کہ ‘میری پیاری بہن سنبل شاہد اٹھ جاؤ، ہم پریشان ہیں، جلد ٹھیک ہوجاؤ، خدا کے لیے سنبل ٹھیک ہوجاؤ’۔

شہباز شریف نے اپنا نام بلیک لسٹ سے نکلوانے کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کے لیے اپنا نام بلیک لسٹ سے نکلوانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

عدالت میں دائر درخواست میں شہباز شریف نے وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو فریق بنایا ہے۔

شہباز شریف نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ سے آشیانہ اقبال اور رمضان شوگر ملز ریفرنس میں ضمانت ملی۔

انہوں نے کہا کہ ضمانت کے بعد بیرون ملک گیا اور پھر وطن واپس بھی آگیا تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے درخواست گزار کا نام بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے درخواست گزار کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

بعدازاں لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے شہباز شریف کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کل (7 مئی) کو شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کریں گے۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ اور اعظم تارڑ صدر مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عدالت میں پیش ہوں گے۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے بینچ سے ضمانت پانے والے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی منی لانڈرنگ ریفرنس میں جیل سے رہائی تاخیر کا شکار ہے۔

شہباز شریف کو 28 ستمبر 2020 کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع منظور نہ کرنے پر منی لانڈرنگ ریفرنس میں گرفتار کیا گیا تھا جس نے ابتدائی طور پر 3 جون کو قبل از گرفتاری ضمانت منظور کی تھی۔

وہ تین ہفتوں سے زیادہ عرصے تک نیب کی تحویل میں رہے جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے انہیں 20 اکتوبر کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔

اس سے قبل نیب نے شہباز شریف کو 5 اکتوبر 2018 کو آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم اور بعد ازاں رمضان شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا تھا۔

دونوں ہی کیسز میں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں 17 فروری 2019 کو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

سمندر پار پاکستانیوں کی وجہ سے ہی اب تک ملک چل رہا ہے، وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں اور ان کی وجہ سے آج ملک چل رہا ہے۔

دنیا بھر میں تعینات پاکستانی سفرا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دیگر مصروفیات کی وجہ سے میں اس جانب اتنی توجہ نہیں دے سکا جتنی مجھے دینی چاہیے تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اقتدار میں آنے کے بعد وزارت خارجہ کو رہنمائی بھی دی کہ ہم نے سمند پار پاکستانیوں کے لیے کیا کیا چیزیں کرنی ہیں کیونکہ وہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں اور ان کی وجہ سے ہی پاکستان اب تک چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی وجہ سے ہی ہمارا ملک اب تک دیوالیہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ میں انگلینڈ میں کھیلنے کے لیے گیا تھا اس لیے مجھے انداز ہے کہ ہمارے سفارتخانوں کا رویہ کیا ہوتا ہے لہٰذا جب میں وزیراعظم بنا تو میں سب سے بڑی خواہش بنے کہ ہمارے سفارتخانوں میں عوام سے سمندر پار پاکستانیوں سے روا رکھے جانے والا رویہ بدلے۔

انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے اور پوش لوگوں سے ہمارے سفارتخانوں کا رویہ اچھا رہتا ہے لیکن نچلے طبقے کو ہمیشہ بڑے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 70 اور 80 کی دہائی میں انگلینڈ میں ہمارے سفیروں اور سفارتخانے کے عملے کا مزدور طبقے سے رویہ بہت خراب ہوتا تھا، مزدور کی توقعات تو اپنی سفارتخانے سے ہی وابستہ ہوتی تھیں لیکن کچھ سفیروں اور اہلکاروں کا رویہ بہت برا ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سعودی عرب سے شکایات آنا شروع ہوئیں، ڈیڑھ سال سے ہمارے محنت کش لوگوں کی شکایات آ رہی تھیں کہ سفارتخانہ کوئی جواب نہیں دیتا اور اس کے بعد ایک دو واقعات ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا جن پاکستانیوں سے زیادہ رابطہ رہا ہے ان سے میں نے کہا کہ مجھے سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے حوالے سے رائے دیں تو انہوں نے جو رائے دی اس سے بہت بڑا دھچکا لگا کہ عوام کی کوئی پروا نہیں، کوئی سروسز فراہم نہیں کی جا رہیں جبکہ ہمارے سٹیزن پورٹل پر بھی شکایات دیکھیں جو بالکل یکساں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ شکایات اس بات کی شاہد ہیں کہ ہمارے سفارتخانے اپنے سمندر پار پاکستانیوں سے انتہائی برا رویہ اپناتے ہیں لیکن میں بتا دوں کہ اس طرح ہم نہیں چل سکتے۔

عمران خان نے کہا کہ انگریزوں کا پرانا کالونیوں کا نظام تو اس طرح چل سکتا ہے لیکن موجودہ پاکستان میں یہ نظام نہیں چل سکتا، سفارتخانے کا کام اپنے لوگوں کو سروسز فراہم کرنا ہے اور اس کے بعد ان کی پوری کوشش اپنے ملک میں سرمایہ لانے کی ہونی چاہیے۔

 

دیپیکا پڈوکون بھی کورونا وائرس میں مبتلا

نامور بھارت ادکارہ دیپیکا پڈوکون بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دیپیکا پڈوکون نے ابھی تک اس حوالے کوئی اپڈیٹ نہیں دی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ان کا کورونا وائرس ٹیسٹ 4 مئی کو ہی مثبت آیا ہے جبکہ وہ اس وقت اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بنگلور میں مقیم ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ دیپیکا کے والد اور سابق بھارتی بیڈمنٹن پلیئر پراکاش پڈوکون بھی کورونا وائرس کے شکار ہوئے اور انھیں اسپتال میں داخل کروادیا گیا۔

ان کے اہلِ خانہ میں اہلیہ اور چھوٹی بیٹی نے بھی کورونا وائرس ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا۔

اسی طرح دیپیکا نے بھی کورونا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آگیا ہے۔

آئی پی ایل کی منسوخی سے بھارت کو 2500کروڑ تک نقصان کا خدشہ

کورونا کیسز کی وجہ سے منسوخ ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے باعث بھارتی کرکٹ بورڈ کو 2500 کروڑ بھارتی روپے تک نقصان کا خدشہ ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئی پی ایل کی منسوخی کے باعث بی سی سی آئی کو براڈ کاسٹ اور اسپانسر شپ کی مد میں 2000 سے 2500 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہو گا۔

خیال رہے کہ متعدد بھارتی کرکٹرز اور کوچنگ اسٹاف کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باعث بی سی سی آئی نے گزشتہ روز آئی پی ایل غیر معینہ مدت کے لیے منسوخ کر دی تھی۔

52 روز اور 60 میچوں پر مشتمل ٹورنامنٹ کا فائنل 30 مئی کو کھیلا جانا تھا تاہم بائیور سکیور ببل کے باوجود کورونا کیسز سامنے آنے کے باعث لیگ کے صرف 29 میچز ہی ممکن ہو سکے۔

گزشتہ برس بھی آئی پی ایل کے میچز کورونا وائرس کے باعث بھارت سے متحدہ عرب امارات منتقل کر دیے گئے تھے جس کے باعث بھارتی کرکٹ بورڈ کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا

کروناویکسین نا خریدنا حکومت کی سب سے بڑی نا اہلی ہے :شہباز شریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر  اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کاکہنا ہے کہ وزیراعظم کی سرپرستی میں قوم کا آٹا چینی نہ لوٹا جاتا تو آج قوم آٹا چینی کے لیے یوں دھکے نہ کھا رہی ہوتی۔

(ن) لیگ کے ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ صرف تماشے جاری ہیں، حکومت اب بھی کورونا، معیشت، مہنگائی اوربے روزگاری جیسے سنگین مسائل پر توجہ دینے میں سنجیدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمران خداترسی کریں اورچینی کے لیے قطاروں میں کھڑی ماؤں بہنوں کو اس توہین سے نجات دلائیں، خیبرپختونخوامیں قطاروں میں لگےلوگوں کو آٹا نہیں مل رہا۔

شہباز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق کے اسسٹنٹ کمشنر پر برہمی کے واقعے پر کہا کہ اپنی غلط پالیسیوں سے ہونے والی مہنگائی کا غصہ خاتون افسر پر نکالنا انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔

آئی پی ایل: 2 کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد میچ ملتوی

انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) میں بائیوسیکور ببل کے باوجود دو کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد آج کا میچ ملتوی کردیا گیا۔

آئی پی ایل کے رواں سیزن میں یہ پہلا موقع ہے جب کورونا وائرس کے باعث کوئی میچ ملتوی کیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق کھلاڑی ورون چکراوَرتھی اور سندیپ واریئر کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج مثبت آنے کے بعد کولکتہ نائٹ رائیڈرز اور ویرات کوہلی کی رائل چیلنجرز بنگلور کا میچ آغاز سے چند گھنٹے قبل منسوخ کردیا گیا۔

یہ مثبت کیسز اس وقت سامنے آئے ہیں جب بھارت میں وائرس کے تیزی سے سامنے آنے والے کیسز نے آئی پی ایل پر سوالات کھڑے کیے تھے، جبکہ اکتوبر اور نومبر میں بھارت کی ٹی20 ورلڈ کپ کی میزبانی کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

آئی پی ایل منتظمین کے مطابق چکراورتھی اور واریئر نے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد خود کو آئیسولیٹ کر لیا ہے جبکہ ٹیم کے دیگر اراکین کے کورونا ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔

لیگ نے ایونٹ کے آغاز سے قبل تمام 8 ٹیموں کے لیے بائیوسیکور ببل بنایا تھا۔

کووڈ-19 کی نئی قسم کی روک تھام کے پیش نظر افغان، ایران سرحد مسافروں کیلئے بند

نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی روک تھام کے پیش نظر ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد پر مسافروں کی آمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے قواعد میں سختی کی ہدایت کردی۔

این سی او سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں وائرس کی مختلف اقسام سامنے آنے اور پاکستان میں مزید نئے وائرس کی درآمد روکنے کے لیے افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی پالیسی کے تحت شہریوں کی پیدل آمد اور بارڈر ٹرمینلز پر مؤثر کووڈ پروٹوکولز کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے جائزہ لیا گیا۔

دونوں ممالک کے ساتھ سرحد میں درج ذیل اقدامات پر عمل کیا جائے گا:

نظرثانی شدہ لینڈ بارڈر منیجمنٹ پالیسی 4 اور 5 مئی کی درمیانی شب سے 19 اور 20 مئی کی درمیانی شب تک مؤثر ہوگی اور اس اطلاق صرف مسافروں پر ہوگا۔

این سی او سی کے مطابق ان اقدامات کا افغانستان کے ساتھ دو طرفہ کارگو تجارت پر اطلاق نہیں ہوگا۔

بیان کے مطابق بارڈر ٹرمینلز پورے ہفتے کھلے رہیں گے۔

کووڈ کے قواعد اور ٹیسٹنگ کے پروٹوکولز پر سختی سے عمل کرنے کے لیے سرحد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور طبی عملے کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔

این سی او سی نے کہا کہ مسافروں کی آمد پر پابندی 4 اور 5 مئی کی درمیانی شب سے شروع ہوگی لیکن افغانستان اور ایران میں موجود پاکستان کے شہریوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا جو واپس آنا چاہتے ہیں یا جنہیں ہنگامی بنیاد پر طبی امداد کی ضرورت ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ باہر جانے والے مسافروں کو اجازت ہوگی۔

ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے قواعد کے تحت باہر سے آنے والے مسافروں کو ٹیسٹ کروانا ہوگا اور ٹیسٹ مثبت آنے والے مسافروں کو قریبی قرنطینہ مراکز میں تبدیل کردیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ افغانستان سے آنے والے استثنیٰ کے حامل مسافروں کو بھی ٹیسٹ کروانا ہوگا اور مثبت کیس کی صورت میں ایسے مسافروں کو واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔

سرحد پر تمام ڈرائیورز اور ان کے معاونین کی تھرمل اسکیننگ بھی ہوگی اور علامات کی صورت میں ان کا ٹیسٹ ہوگا اور مثبت کیسز پر مذکورہ قواعد کے تحت عمل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ایران نے 28 اپریل کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد جزوی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تفتان بارڈر پر امیگریشن گیٹ غیر معینہ مدت کے لیے بند ہوجائے گا اور تفتان سے لیویز فورس کے افسر نے بتایا تھا کہ ایرانی حکام نے تفتان کی مقامی انتظامیہ کو اپنے اس فیصلے سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتان اور میر جاویح سرحد پر آمد و رفت کا عمل رُک جائے گا تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بدستور جاری رہیں گی۔

دوسری جانب 29 اپریل کو این سی او سی نے 10 سے 15 مئی تک عید الفطر کی چھٹیوں کا اعلان اور 5 سے 20 مئی تک مسافر پروازوں کی پاکستان آمد پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں فورم کی جانب سے ملک بھر میں 8 سے 16 مئی کے دوران عوام کی نقل و حرکت روکنے کے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔

عالمی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کے پیشِ نظر پاکستان آنے والی مسافر پروازوں کو 5 سے 20 مئی تک روکنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔

این اے-249 ضمنی انتخاب: مفتاح اسماعیل کی دوبارہ گنتی کی درخواست منظور

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے-249 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل کی دوبارہ گنتی کی درخواست منظور کر لی۔

کراچی کے حلقہ این اے-249 کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل نے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کو محض 683 ووٹوں کے فرق سے شکست دی جبکہ 731 ووٹ مسترد کیے گئے تھے۔

مسلم لیگ(ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے ضمنی انتخاب کے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 30اپریل کو ریٹرننگ افسر کو دوبارہ گنٹی کی درخواست دی تھی لیکن انہوں نے اسے مسترد کردیا تھا۔

درخواست ریٹننگ افسر سے مسترد ہونے کے بعد مفتاح اسماعیل نے الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 95(6) کے تحت الیکشن کمیشن سے حلقے میں ڈالے گئے تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرنے کی درخواست کی۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ فارم 45 اور فارم 47 میں ریکارڈ کیے گئے کُل ووٹوں میں فرق ہے جبکہ درخواست گزار نے فارم 45 کے فارنزک آڈٹ کی بھی درخواست دائر کی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق نتائج کو حتمی شکل نہیں دی گئی لیکن فتح کا مارجن ڈالے گئے ووٹوں سے 5 فیصد یا 10ہزار ووٹوں سے کم ہونے کی وجہ سے کمیشن محسوس کرتا ہے کہ بادی النظر میں مداخلت کی گنجائش موجود ہے اور دوبارہ گنتی کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔

کمیشن نے کہا کہ تمام امیدواروں کو نوٹس جاری کردیے جائیں اور 4 مئی کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے الیکشن کمیشن میں سماعت ہو گی۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار قادر خان مندوخیل کراچی کے حلقہ این اے-249 کے ضمنی انتخاب میں فاتح قرار پائے تھے۔

غیر حتمی نتیجے کے مطابق ضمنی انتخاب کے دوران مجموعی طور پر 73 ہزار 471 ووٹس ڈالے گئے لیکن انتہائی کم ووٹر ٹرن آؤٹ کے باوجود نتائج انتہائی تاخیر کا شکار ہوئے اور رات بھر نتیجہ نہ آ سکا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسمٰعیل 15 ہزار 473 ووٹ حاصل کر کے دوسرے اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مفتی نذیر احمد کمالوی 11 ہزار 125 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے۔

غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال چوتھے نمبر پر 9 ہزار 227 ووٹ حاصل کرسکے اور اس سے قبل اس حلقے سے کامیاب ہونے والی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) محض 8 ہزار 922 ووٹ کے ساتھ پانچویں نمبر پر آئی۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار 683 ووٹ کے فرق سے کامیاب ہوئے جبکہ ڈالے گئے 731 ووٹ مسترد کر دیے گئے اور ٹرن آؤٹ 21.64 فیصد رہا۔

واضح رہے کہ حلقہ این اے-249 کراچی غربی سال 2018 میں این اے-239 اور این اے-240 میں شامل کچھ علاقوں کو ملا کر تشکیل دیا گیا تھا۔

مذکورہ نشست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نومنتخب سینیٹر فیصل واڈا کی جانب سے مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کے بعد خالی ہوئی تھی جو اپنی نچست سے مستعفی ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ فیصل واڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں کراچی غربی ٹو کے اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو محض 718 ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔

پاکستان کا کورونا کے پیش نظر ایئر ٹریفک کو 80 فیصد کم کرنے کا فیصلہ

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر ایئر ٹریفک کو 80 فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

این سی او سی سے جاری ایڈوائزری کے مطابق دنیا کے بیشتر حصوں اور ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایئر ٹریفک کو 20 فیصد پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ممالک کی ‘سی’ کیٹیگری میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے تاہم پاکستانی شہریوں کو کمیٹی سے رعایت ملنے کی صورت میں وطن واپسی کی اجازت ہوگی۔

پاکستان آنے والے مسافروں کو زیادہ سے زیادہ 72 گھنٹے قبل کیے گئے کورونا کے پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ دکھانا لازم ہوگا جبکہ مسافروں کی پاکستان آمد پر ایئرپورٹ پر دوبارہ ریپڈ اینٹیجِن ٹیسٹ کیا جائے گا۔

این سی او سی نے کہا کہ ٹیسٹ منفی ہونے پر مسافر 10 دن خود کو گھر میں قرنطینہ کرنے کے پابند ہوں گے، مثبٹ رپورٹ پر مسافر کو 10 روز کے لیے صوبائی یا ضلعی انتظامیہ کے زیر انتظام قرنطینیہ سینٹر بھیجا جائے گا، قرنطینہ کے آٹھویں روز مسافر کا دوبارہ پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا اور اس بار بھی رپورٹ مثبت آنے کی صورت میں مسافر کو قرنطینہ میں اضافی وقت گزارنا ہوگا یا انہیں ہسپتال منتقل کردیا جائے گا۔

اس کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے تمام مسافروں کی پاس ٹریک ایپ میں رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی ہے، تاہم بےدخل کیے گئے مسافروں کو اس رجسٹریشن سے استثنیٰ ہوگا۔

فضائی سفر محدود رکھنے کی پابندیاں 5 سے 20 مئی تک نافذ العمل رہیں گی اور 18 مئی کو موجودہ پابندیوں کے پلان کا جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ دنیا کے کئی ممالک کو کورونا وبا کی نئی لہر کا سامنا ہے جبکہ پاکستان میں بھی تیسری لہر کا زور کسی طور ٹوٹتا دکھائی نہیں دے رہا۔

ملک میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران وائرس کے 4 ہزار 696 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 146 مریض جاں بحق ہوئے۔

کیسز میں حالیہ اضافے کے پیشِ نظر تعلیمی اداروں کی بندش، کاروبار کے اوقات مختصر، دفاتر میں کم حاضری سمیت متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور صورتحال بہتر نہ ہونے پر لاک ڈاؤن کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔