All posts by Faisal Khan

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے، اپوزیشن

اسلام آباد (ویب ڈیسک)اپوزیشن جماعتوں نے گورننس اور کرپشن کے معاملات پر بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو حکومت کے منہ پر طمانچہ قرار دے دیا۔خیال رہے کہ دنیا بھر میں کرپشن اور اس کیخلاف اٹھائے جانے والے اقدامات پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے180 ممالک میں کرپشن سےمتعلق سال 2019 کی رپورٹ جاری کردی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2018 کے مقابلے میں 2019 کے دوران پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جب کہ زیادہ کرپشن والے ممالک میں پاکستان کا درجہ 117 سے بڑھ کر 120 ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ 10 برس میں یہ پہلی بار ہے کہ کرپشن سےمتعلق انڈیکس میں پاکستان آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے گیا ہے۔کرپشن میں اضافے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ترجمان پاکستان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے، جھوٹے دعووں سے ملک نہیں چلتے،اچھی گورننس سے چلتے ہیں۔مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ چور چور کے نعرے لگائے گئے لیکن اصل چوری ان 16ماہ میں کی گئی، جو چینی اور آٹے کے بحران کے ذمہ دار ہیں وہی اب صورتحال کو کنٹرول کررہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے حکومت کے دعووں کو بے نقاب کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی و بیروزگاری نے گزشتہ ایک سال میں غریب کی کمر توڑ دی ، 10 سال بعد ملک کا ٹرانسپیرنسی انڈیکس تنزلی کا شکار ہوا، رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اس سال کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی) کے رہنما زاہد خان نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں کرپشن کے خاتمے کا بیانیہ لے کر آئی تھی لیکن کرپشن کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔زاہد خان کا کہنا تھا کہ ہزار سے 1500درخت لگے، لیکن دعوے ایک ارب کے کررہے ہیں، حکمرانوں نے لوگوں کو بے روزگار کردیا ہے اورصنعتیں بند ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیوایم) کے رہنما فیصل سبزواری کابھی کہنا ہے کہ ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ وزیراعظم کے لیے پریشانی کی بات ہے، ملک کی معاشی صورتحال پر سب جماعتوں کو ساتھ بیٹھنا چاہیے۔رہنما مسلم لیگ ن اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحمزہ شہباز نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو پی ٹی آئی حکومت کےلیے مکافات عمل قرار دیا ہے۔پنجاب اسمبلی کے باہر گفتگو میں حمزہ شہباز کا کہنا تھاکہ نیا پاکستان تو بنا نہیں، اب ڈھونڈنے سے پرانا پاکستان بھی نظر نہیں آرہا۔

پاک سرزمین میں 11 سال بعد پاکستان اور بنگلادیش ٹکرانے کو تیار

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی جمعہ کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔قذافی اسٹیڈیم میں دونوں ٹیموں کی پریکٹس جاری ہے جبکہ سیریز کی ٹرافی کی بھی رونمائی کردی گئی۔قومی کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ متوازن ٹیم کے ساتھ میدان میں اتریں گے جبکہ بنگلا دیش ٹیم کے کپتان محمود اللہ نے کہا کہ پاکستان میں کوئی سیکیورٹی خدشات نہیں، اچھی کرکٹ کھیلنے کیلئے پرعزم ہیں۔’بنگلا دیش کے خلاف فوکس ٹی ٹوئنٹی میں پہلی پوزیشن برقرار رکھنے پر ہو گا‘11 سال بعد مہمان بنگلا دیش اور ٹیم پاکستان، پاک سرزمین پر مد مقابل ہوں گی۔تین میچز کی سیریز کا پہلا ٹاکرا قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا، ٹیم پاکستان میں تجربہ بھی ہے اور نوجوان جوش کا تڑکا بھی۔کپتان بابراعظم کو ساتھ حاصل ہے سینیئر ترین پلیئرز شعیب ملک اور محمد حفیظ کا جو کوئی بھی میچ تن تنہا جتوا سکتے ہیں۔پھر اسکواڈ میں شاداب خان، عماد وسیم اور شاہین شاہ آفریدی بھی ہیں جو اپنی بولنگ سے بڑے بڑے بلے بازوں زیر کر سکتے ہیں جبکہ نوجوان احسان علی، خوش دل شاہ، محمد حسنین، حارث رو¿ف، عماد بٹ اور موسیٰ خان بھی کچھ کر دکھانے کو تیار ہیں۔مد مقابل ٹیم بنگلا دیش پاکستان کے خلاف زیادہ کامیابیاں تو نہ سمیٹ سکی لیکن جیتی ضرور ہے اور جیت بھی سکتی ہے کیونکہ اس میں تجربہ کار بیٹسمین تمیم اقبال، سومیا سرکار، محمود اللہ اور لٹن داس ہیں جبکہ بولنگ میں مستفیض، روبیل اور شفیع الاسلام اہم کھلاڑی ہیں۔ٹی ٹوئنٹی میچز کیلئے قذافی اسٹیدیم میں بیٹنگ فرینڈیلی پچز تیار کی گئی ہیں جہاں کا موسم بھی آج کل کرکٹ کے لیے شاندار ہے، ایسے میں وہاں چوکے چھکوں کی برسات ہو گی۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے شروع ہوگا۔

شاہی حیثیت سے علیحدگی کے بعد شہزادہ ہیری اہل خانہ سمیت کینیڈا منتقل

برطانیہ (ویب ڈیسک)شاہی حیثیت سے علیحدگی کے چند دن بعد ہی شہزادہ ہیری مستقل طور پر رہائش کے لیے کینیڈا پہنچ گئے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس حیثیت میں مستقل طور پر وہاں رہائش اختیار کریں گے۔شہزادہ ہیری کی اہلیہ سابق اداکارہ میگھن مارکل اور ان کا شیر خوار بیٹا آرچی پہلے ہی کینیڈا میں موجود ہیں۔شہزادہ ہیری اپنی اہلیہ اور بیٹے سمیت گزشتہ ماہ دسمبر میں کرسمس سے قبل کینیڈا منتقل ہوگئے تھے اور ان کی اہلیہ اور بیٹا ابھی تک وہیں موجود ہیں تاہم شہزادہ ہیری خود شاہی حیثیت سے علیحدگی کے معاملات حل کرنے کے لیے برطانیہ آئے تھے۔کینیڈین نشریاتی ادارے ’گلوبل نیوز‘ کے مطابق شہزادہ ہیری شاہی حیثیت سے دستبرداری کے تمام معاملات 19 جنوری 2020 کے طے کرنے کے بعد 21 جنوری کو کینیڈا پہنچے۔شہزادہ ہیری کی اہلیہ اور ان کا بیٹا کینیڈین شہر وینکور میں رہائش پذیر ہیں اور امکان ہے کہ جوڑا کئی ماہ تک یہیں رہے گا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جوڑا مستقل بنیادوں پر کینیڈا رہے گا یا ہر 6 ماہ بعد برطانیہ جاکر وہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد پھر کینیڈا آئے گا، کیوں کہ ابھی تک جوڑے کی کینیڈا میں مستقل رہائش کے حوالے سے شاہی خاندان اور کینیڈین حکام کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔رپورٹس کے مطابق شہزادہ ہیری کے پاس نہ تو کینیڈین شہریت ہے اور نہ ہی ان کے پاس مستقل بنیادوں پر وہاں رہنے کے لیے کوئی ویزا ہے۔گلوبل نیوز کے مطابق شہزادہ ہیری اپنے اہل خانہ سمیت سیاحتی ویزا پر 6 ماہ تک مسلسل کینیڈا میں رہ سکتے ہیں تاہم بعد ازاں انہیں اپنا ویزا دوبارہ لینا پڑے گا یا پھر وہ 2 سالہ ملازمت کے ویزا پر کینیڈا میں رہ سکتے ہیں۔ابتدائی طور پر شہزادہ ہیری کو ویزا پر ہی کینیڈا میں رہنا پڑے گا جس کے بعد ہی وہ مستقل شہریت کی درخواست دے سکتے ہیں۔خیال کیا جا رہا ہے کہ شہزادہ ہیری اہلیہ اور بچے سمیت 6 ماہ کینیڈا میں گزارنے کے بعد واپس برطانیہ جائیں گے اور وہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد واپس کینیڈا آئیں گے اور وہ اسی طرح بقیہ زندگی گزاریں گے۔شہزادہ ہیری نے رواں ماہ 13 جنوری کو شاہی حیثیت سے دستبرداری کا اعلان کرتے وقت بھی کہا تھا کہ وہ اپنی بقیہ زندگی شمالی امریکی ملک یعنی کینیڈا اور برطانیہ میں گزاریں گے۔دوسری جانب برطانوی میڈیا میں یہ خبریں بھی ہیں کہ شہزادہ ہیری اس وقت کینیڈا کی مستقل شہریت لینے کے اہل نہیں۔برطانوی اخبار ’دی میٹرو‘ کے مطابق کینیڈین قانون کے تحت دوسرے ملک کے اس شہری کو ہی مستقل شہریت دی جا سکتی ہے جو یونیورسٹی تک پڑھا ہوا ہو اور اسے ملازمت کا اچھا خاصا تجربہ ہو۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ شہزادہ ہیری کا شمار دنیا کے معروف اور متاثر ترین افراد میں ہوتا ہے تاہم اس باوجود انہیں کینیڈین شہریت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہےکہ برطانوی شاہی محل اور برطانوی حکومت کے کینیڈین حکومت کے مذاکرات سے شہزادہ ہیری کو مستقل شہریت مل سکتی ہے تاہم تاحال شاہی محل نے ایسا عندیہ نہیں دیا کہ وہ شہزادہ ہیری کی رہائش کے حوالے سے کینیڈین حکومت سے مذاکرات کرے گا۔شہزادہ ہیری کی کینیڈا میں مستقل شہریت کے حوالے سے کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھی کہہ چکے ہیں کہ ابھی شہزادہ کے مستقل طور پر کینیڈا میں رہنے سے متعلق معاملات طے ہونا باقی ہیں۔خیال رہے کہ شہزادہ ہیری نے 13 جنوری کو شاہی حیثیت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ملکہ برطانیہ نے 13 جنوری کو شاہی محل میں اجلاس طلب کیا تھا اور انہوں نے شہزادہ ہیری کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔بعد ازاں 19 جنوری کو اچانک شاہی محل نے ملکہ برطانیہ کا بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ شہزادہ ہیری اب شاہی حیثیت سے کام نہیں کر سکیں گے۔شاہی محل کی جانب سے اچانک اور جلد شاہی حیثیت ختم کیے جانے پر شہزادہ ہیری نے 20 جنوری کو برطانیہ میں ایک تقریب میں خطاب کے دوران حیرانگی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ انہیں امید نہیں تھی کہ اتنا جلدی سب کچھ ہوجائے گا۔

بھارتی اداکار گِپی گریوال کی خواہش پر مہوش حیات کا رد عمل سامنے آگیا

کراچی (ویب ڈیسک)بھارت کے مقبول گلوکار گِپی گریوال کی مہوش حیات کے ساتھ کام کرنے کی خواہش پر اداکارہ نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔بھارتی گلوکار و اداکار روپندر سنگھ گِپی گریوال دو دن کے لیے پاکستان آئے تھے جہاں انہوں نے گوردوارہ ننکانہ صاحب پر حاضری دی تھی۔گزشتہ روز گِپی گریوال سے ایک انٹرویو کے دوران سوال کیا گیا کہ ’اگر آپ کو کسی پاکستانی اداکارہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کون سی اداکارہ ہوگی جس کے ساتھ آپ کام کریں گے؟‘۔اس سوال کے جواب میں بھارتی گلوکار نے کہا کہ ’میں تمام پاکستانی فلمیں دیکھتا ہوں، پاکستانی فلمیں کافی اچھا بزنس بھی کر رہی ہیں، ایک پاکستانی فلم دیکھی میں پنجاب نہیں جاو¿ں گی، اس میں نے مہوش حیات کو دیکھا، ان کا کام بہت اچھا لگا‘۔گِپی گریوال نے مزید کہا کہ اس لیے میں یہی چاہوں گا میں ان کے ساتھ کام کروں۔
مہوش حیات کا رد عمل
اداکارہ مہوش حیات نے ٹوئٹر پر بھارتی گلوکار کی خواہش پر جواب دیتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا۔مہوش حیات نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’پاکستان آنے پر خوش آمدید، آپ کی حوصلہ افزائی کا شکریہ، مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کے آپ پاکستانی فلموں اور یہاں کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوئے ہیں‘۔تاہم اداکارہ نے بھارتی گلوکار گِپی گریوال کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

چین میں کورونا وائرس کے پیش نظر پاکستان میں الرٹ جاری

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی حکومت کی وزارت قومی صحت سروسز نے چین میں پھیلنے والے ‘ایس اے آر ایس لائک کورونا وائرس’ کے پیش نظر خطرات سے بچنے کے لیے ہدایت نامہ جاری کردیا۔اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور مشہور جرنلز میں یہ رپورٹ کیا گیا کہ وسطی چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس پایا گیا۔اعلامیے کے مطابق چین کے قومی صحت کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ یہ وائرس لوگوں کے درمیان منتقل ہوسکتا ہے اوراس کے مزید کیسز سامنے آنے کا امکان ہے۔لہٰذا بیان کے مطابق بین الاقوامی خطرے کی روشنی میں یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ بیماریوں کی نگرانی کے ڈویڑن اور مرکزی ادارہ صحت اعلیٰ سطح پر اس کی نگرانی کرے۔علاوہ ازیں وائرس کی منتقلی کے خطرے کے پیش نظر چین سے پاکستان آنے اور جانے والوں کے طبی معائنے اور اس سلسلے میں وائرس سے بچاو¿ کے لیے ہوائی اڈوں پر بھی خصوصی کاو¿نٹر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت قومی صحت کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا کہ متاثرہ ممالک سے کورونا وائرس دیگر ممالک میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے، چین میں کورونا وائرس مچھلی، گوشت منڈی والوں کو ہوا ہے۔ہدایت نامے کے مطابق اس وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری شامل ہے، وائرس متاثرہ جانور یا حاصل شدہ غذا سے انسان کو منتقل ہوتا ہے اور یہ کورونا وائرس پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔مذکورہ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ دنیا میں کورونا وائرس کی ویکسین تاحال دستیاب نہیں تاہم اس سے بچاو¿ کا واحد حل بروقت احتیاطی تدابیر ہیں۔ہدایت نامے کے مطابق جاپان، جنوبی کوریا اور تھائی لینڈ میں بھی کورونا وائرس پایا گیا ہے۔واضح رہے کہ وسطی چین کے شہر ووہان سے پہلی مرتبہ سیویر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسا پراسرار کورونا وائرس سامنے آیا، جس کے نتیجے میں اب تک چین میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔یہ وائرس چین کے علاوہ دیگر ممالک جاپان، جنوبی کوریا اور تھائی لینڈ میں بھی پہنچ چکا ہے، جہاں اس سے لوگ متاثر ہیں۔اس سے قبل ایس اے آر ایس 2002 سے 2003 میں چین اور ہانگ کانگ میں پھیلا تھا جس کے نتیجے میں 650 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ناول کورونا وائرس کا پہلا کیس ووہان میں ایک سمندری غذا کی مارکیٹ میں سامنے آیا جہاں اسے جانور سے انسان میں منتقل ہونے والا وائرس کہا گیا لیکن اب یہ تصور کیا جارہا ہے کہ یہ انسان سے انسان کے درمیان پھیل رہا۔بدھ یعنی 22 جنوری تک تقریباً 440 افراد کے اس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوگئی جبکہ 9 افراد بیماری کے باعث ہلاک ہوگئے، جن میں نمونیا اور دیگر سانس کی علامات پائی گئی تھیں۔قبل ازیں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس وائرس کی بنیادی ذریعہ قوی حد تک جانور تھا لیکن کچھ قریبی رابطوں کی وجہ سے مخصوص انسان سے انسان کے درمیان منتقل ہورہا ہے۔

آصف علی زرداری سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی(ویب ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی کے صدر آصف علی زرداری سے کراچی کے نجی اسپتال میں ملاقات کی۔ ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے آصف علی زرداری سے ان کی خیریت دریافت کی اور ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔خیال رہے کہ 11 دسمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنسز میں طبی بنیادوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری کی ضمانت منظور کی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض سابق صدر کی ضمانت منظور کی تھی۔ضمانت پر رہائی کے بعد سے سابق صدر کراچی کے نجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

تناﺅ اور جِلد کے مسائل کے درمیان حیران کُن تعلق

لاہور (ویب ڈیسک)موجودہ دور میں تناﺅ ہم سب کی زندگیوں کا ایک حصہ بن گیا ہے تو ایسا کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم سب لوگ اپنی زندگیوں میں کسی نا کسی وجہ سے ذہنی تناﺅ کا شکار رہتے ہیں۔ذہنی تناو¿ کا ہمارے پورے جسم پر گہرا اثر پڑتا ہے، اگر کوئی انسان مسلسل ذہنی تناﺅ کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے تو یہ اس کے قوتِ مدافعت کے نظام، نظامِ ہاضمہ، میٹابولزم اور ہارمونس کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔علاوہ ازیں مسلسل ذہنی تناﺅ کی کیفیت امراضِ قلب، موٹاپا، ڈپریشن اور دماغی بیماریوں کا بھی باعث بن سکتی ہے۔اگرچہ ہم میں سے بہت ہی کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ تناﺅ اور جِلد کا براہِ راست تعلق ہے، اگر آپ کو اپنی جِلد ضرورت سے زیادہ خشک یا چہرے پر ریشز نظر ا?نے لگیں تو ہوسکتا ہے کہ اس مسئلے کی ایک وجہ تناﺅ ہو۔
ذہنی تناﺅ اور جِلد کے مسائل کے مابین تعلق
آپ کو یہ بات تو معلوم ہی ہوگی کہ تناﺅ کا ہماری دماغی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے، لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ اچانک سے صاف ستھری جِلد پر ایک پمپل (دانہ) نکل آئے تو اس کی ایک وجہ تناو¿ بھی ہوسکتی ہے۔کولمبیا ایشیا اسپتال کی ماہرِ جِلد ڈاکٹر کسومیکا کاناک کا کہنا ہے کہ جب کوئی بھی شخص تناو¿ کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے جسم میں ایڈرینالِن پیدا ہوتا ہے جو جِلد کو حساس بنا دیتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تناﺅ نا صرف جِلد کے مسائل کا باعث بنتا ہے بلکہ اگر آپ کو پہلے ہی جِلد سے متعلق مسائل کا سامنا ہے تو تناﺅ کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔تناﺅ پر قابو پانے کا سب سے بہترین حل مراقبہ اور یوگا ہے، اپنے دن میں سے کچھ وقت نکال کر مراقبہ اور یوگا کرنے سے اس کیفیت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔