All posts by Muhammad Shafiq

ہتک عزت کیس: میشا شفیع پہلی مرتبہ عدالت میں پیش

لاہور کی مقامی عدالت میں اداکار علی ظفر کی جانب سے دائر کیے گئے ہتک عزت کے کیس میں گلوکارہ میشا شفیع پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوگئی، تاہم وہ اپنا بیان ریکارڈ نہ کرواسکیں۔صوبائی دارالحکومت کی سیشن عدالت میں جج امجد علی شاہ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔عدالت کے طلب کرنے پر میشا شفیع اپنی والدہ صبا حمید کے ہمراہ بیان ریکارڈ کرانے پہنچیں، تاہم عدالت نے کیس کی سماعت کل (ہفتہ) گیارہ بجے تک ملتوی کرتے ہوئے انہیں دوبارہ طلب کرلیا۔

میشا شفیع اپنی والدہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں — فوٹو: ڈان نیوز

جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج وہ میٹنگ کی وجہ سے مصروف ہیں اور میشا شفیع کل عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروانے آجائے جس پر میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے حامی بھرتے ہوئے کہا کہ وہ کل عدالت آجائیں گی۔

البتہ ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے عدالت کو یاد دلاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ علی ظفر کو بیان قلمبند کروانے کے لیے 3 دن دیے گئے تھے۔

اس پر جج نے کہا کہ میشا شفیع تین کی بجائے چار دن تک بیان قلمبند کروا لیں۔

اوبر گاڑیوں میں 2 سال کے اندر جنسی ہراسانی کے 6 ہزار واقعات

آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی امریکی کمپنی ’اوبر‘ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی گاڑیوں میں صرف امریکا میں ہی 2 سال کے اندر جنسی ہراسانی کے تقریبا 6 ہزار واقعات رپورٹ کیے گئے۔اوبر کی جانب سے 2017 اور 2018 کی جاری کی گئی سیفٹی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ 2 سال کے اندر اوبر گاڑیوں میں ڈرائیورز اور مسافروں سمیت مجموعی طور پر 5 ہزار 981 افراد جنسی ہراسانی کا نشانہ بنے۔رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ مذکورہ 2 سال کے دوران جنسی ہراسانی کے واقعات کے دوران کم سے کم 18 افراد بھی مارے گئے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ امریکا بھر میں 2017 سے 2018 کے درمیان سفر کے دوران جسمانی ہراسانی کی وجہ سے مرنے والے 19 سے 18 افراد ’اوبر‘ کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ہلاک ہونے والوں میں مرد و خواتین مسافروں سمیت ڈرائیورز اور راہ چلتے افراد بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ امریکا میں ہر 20 لاکھ اوبر سواریوں کے بعد کسی نہ کسی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور اس دوران مسافر خاتون کا زبردستی بوسہ لینے یا ان کے جنسی اعضا کو نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش کی جاتی ہے۔اوبر کے مطابق ہر 40 لاکھ سواریوں کے بعد کسی مسافر کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ نامناسب انداز میں چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے۔ساتھ ہی اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ اوبر گاڑیوں میں سب سے زیادہ جنسی چھیڑ خانی کے واقعات پیش آتے ہیں اور ہر 8 لاکھ سواریوں کے بعد کوئی نہ کوئی شخص ایسے رویے کا نشانہ بنتا ہے۔

نامناسب واقعات کا نشانہ بننے والوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں، کمپنی—فوٹو: اوبر بلاگ

رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ زیادہ تر مسافرین جنسی ہراسانی کا شکار بنتے ہیں، تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے عمل سے اوبر ڈرائیور بھی محفوظ نہیں ہیں۔

آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی نے رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ مذکورہ 2 سال میں ان کی کمپنی کی وجہ سے امریکا بھر میں 97 حادثات ہوئے جن میں 107 افراد ہلاک ہوئے۔

روڈ حادثات میں ہلاک ہونے والوں میں اوبر ڈرائیوروں اور مسافروں سمیت راہ چلتے افراد بھی شامل ہیں۔

ادارے نے رپورٹ کو ’ریپ، جنسی ہراسانی اور حادثات‘ سمیت 5 کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ تمام خطرناک کیٹیگریز کے رپورٹ کیے گئے کیسز میں 2016 کے مقابلے 16 فیصد کمی دیکھی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ 2 سال کے دوران اوبر گاڑیوں میں امریکا بھر میں 450 ریپ کیسز کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے زیادہ نشانہ بننے والوں میں مسافر شامل ہیں۔

رپورٹ میں امریکا بھر میں مرد و خواتین کے جنسی ہراسانی کے شکار بننے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا میں دنیا بھر کے مقابلے جنسی ہراسانی کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کی 44 فیصد خواتین جب کہ 25 فیصد مرد حضرات زندگی میں کبھی نہ کبھی جنسی ہراسانی کا شکار بنتے ہیں

2019 میں پاکستانیوں کی پسندیدہ ترین یوٹیوب ویڈیوز کونسی رہیں؟

پاکستان میں ویڈیوز کے لیے یوٹیوب کا انتخاب ہی لوگوں کی اولین ترجیح ہوتی ہے اور 2019 میں بھی ایسا ہی کچھ دیکھنے میں آیا۔یوٹیوب نے دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کی بھی پسندیدہ ویڈیوز کی فہرست جاری کی ہے۔یوٹیوب نے 2019 کے لیے پاکستان میں مقبول ترین قرار دی جانے والی ان ویڈیوز کا انتخاب پاکستانی صارفین کی جانب سے ویڈیوز کو دیکھنے کے لیے صرف کیے گیے وقت، شیئر، تبصروں اور پسندیدگی کی بنیاد پر کیا۔تاہم ٹائپ وائرل یا ٹرینڈنگ میں جو ویڈیو نمبرون ہے، اسے دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ پاکستانی اب اپنے ملک میں بننے والی فلموں کو اہمیت دینے لگے ہیں جبکہ باقی ویڈیوز بھی کافی حیران کن ہیں۔ٹاپ نائن ٹرینڈنگ ویڈیوز کچھ اس طرح ہیں۔

10۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جانے والے تیسرے ون ڈے کی جھلکیاں

9۔ دنیا کی 10 چیزیں جن کا مقصد نہیں جانتے

8۔ موبائل وائس اوور کے پیچھے چھپی خاتون

7۔ لکس اسٹائل ایوارڈز 2019

6۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ لڑکا لڑکی باپ بیٹی ہیں

5۔ وہاب ریاض نے میزبان کو دنگ کردیا

4۔ ڈرامے عہد وفا کی پہلی قسط

3۔ ننجا بیگم

2۔ پیچھے تو دیکھو

1۔ فلم لوڈ ویڈنگ

بھارت: ریپ کا شکار لڑکی کو عدالت جاتے ہوئے جلادیا گیا

لکھنؤ: بھارت میں ریپ کا شکار لڑکی کو عدالت جاتے ہوئے ریپ کرنے والے مرکزی ملزم نے اپنے ساتھیوں سمیت آگ لگادی۔مذکورہ واقعہ سامنے آنے کے بعد عوام میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل گزشتہ ہفتے ہی حیدرآباد دکن میں 27 سالہ ڈاکٹر پریانکا ریڈی کے ریپ کے قتل کے بعد ہزاروں افراد نے کئی شہروں میں احتجاج کیا تھا۔مظاہرین اور اراکین اسمبلی کی جانب سے عدالت پر زور دیا گیا تھا کہ ریپ کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جائے اور قصورواروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔یہ بھی پڑھیں: بھارت: 22 سالہ لڑکی کا ریپ کے بعد قتل، لاش جلادی گئیادھر بھارت کی شمالی ریاست اُتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے سول ہسپتال کی ڈاکٹر نے بتایا کہ خاتون کو جمعرات کی صبح جلایا گیا، جس کے بعد اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔اس حوالے سے پولیس نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کیس کی سماعت میں پیش ہونے کے لیے اناؤ جانے والی ٹرین میں سوار ہونے جارہی تھی کہ اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی گئی۔پولیس سپرنٹنڈنٹ وکرانت ویر نے بتایا کہ ’متاثرہ لڑکی کے بیان کے مطابق اسے آگ لگان میں 5 افراد ملوث تھے، جن میں اس کا ریپ کرنے والا ملزم بھی شامل تھا‘۔مزید پڑھیں: بھارت: خاتون کا ریپ کے بعد قتل، عوام کا احتجاجپولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث پانچوں ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔علاوہ ازیں پولیس دستاویز کے مطابق متاثرہ لڑکی نے مارچ میں اناؤ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی کہ اسے 12 دسمبر 2018 کو اسلحے کے زور پر ریپ کا نشانہ بنایا گیا

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان کے لیے قرض کی منظوری بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے دی گئی، پاکستان کو خصوصی پالیسی کی بنیاد پر قرض کی رقم فوری طور پر ادا کی جائے گی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے وسط سے پیدا ہونے والی مالی خرابیوں کو استحکام دینے کے لیے قرض جاری کر رہے ہیں۔اے ڈی بی کے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پالیسی بیس قرض آئی ایم ایف کی سربراہی میں ملٹی ڈونر ریفارم پروگرام کا حصہ ہے اور پاکستان کو ایک ارب ڈالر فنانسنگ ضرورت اور سست معیشت کی بحالی کے لیے دیا گیا ہے جب کہ 30 کروڑ ڈالر توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے ہوں گے۔یشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے سپورٹ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار ہے۔اے ڈی بی کے مطابق پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے حکام کے درمیان اس حوالے سے معاہدے پر پیر کو دستخط ہوں گے۔

فاسٹ باﺅلر کی تیز رفتار باﺅلنگ ،حسن، سامعہ پھر دولہا دلہن بن گئے

گوجرانوالہ( آن لائن ) قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باﺅلر حسن علی اور ان کی اہلیہ سامعہ آرزو ایک بار پھر دلہن دولہا بن گئے۔حال ہی میں شادی کے بعد پہلی بار پاکستان آنے والی سامعہ نے حسن علی کے آبائی شہر گوجرانوالہ میں عروسی جوڑا زیب تن کیا اور دلہن کے روپ میں تصویریں اپلوڈ کیں۔سسرالیوں کی جانب سے نوبیاہتا جوڑے کے اعزاز میں منعقد کی گئی فیملی تقریب میں حسن علی اور ان کی اہلیہ نے دوبارہ عروسی جوڑا زیب تن کیا۔بھارت کے شہر ہریانہ سے تعلق رکھنے والی سامعہ آرزو پاکستان آنے پر بہت خوش ہیں جس کا اظہار وہ اپنے سوشل میڈیا پر تصویریں اور پیغامات شیئر کر کے کر رہی ہیں۔یاد رہے کہ حسن علی اور ان کی بھارتی اہلیہ سامعہ شادی کے بعد پہلی بار 30 نومبر نجی ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے دبئی سے سیالکوٹ پہنچی تھیں۔سامعہ کا تعلق بھارتی ریاست ہریانہ سے ہے، انہوں نے انگلینڈ سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے ، وہ اپنے والدین کے ساتھ دبئی میں رہائش پذیر ہیں اور ایمرٹس ایئر لائن میں بطور فلائٹ انجینئر کام کررہی ہیں۔دونوں رواں برس 20 اگست کو دبئی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔

’مصباح کو 3 عہدے دینا سمجھ سے باہر ہے، عمران خان دیکھ لیں کرکٹ ٹیم کا کیا حشر ہو گیا‘

کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری بلے باز جاوید میانداد نے وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ دیکھ لیں کرکٹ ٹیم کا کیا حشر ہو گیا ہے۔جاوید میانداد نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں پروفیشنلزم کی کمی ہے جو ڈپارٹمنٹ کرکٹ سے آتی ہے۔قومی ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جاوید میانداد نے کہا کہ وہ ایک بہترین وکٹ کیپر ہے اور اس کی ٹیم میں جگہ بنتی ہے۔سرفراز کو کپتانی سے ہٹانے سے متعلق بات کرتے ہوئے جاوید میانداد نے کہا کہ سرفراز کو کپتانی سے ہٹانا بورڈ کا فیصلہ ہے لیکن انہیں ٹیم سے نکال کر زیادتی کی گئی۔جاوید میانداد نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ وکٹ کیپر ہمیشہ اپنی بُری وکٹ کیپنگ کی وجہ سے باہر ہوتا ہے۔سابق کپتان جاوید میانداد نے آسٹریلیا میں شکست کے حوالے سے کہا کہ آسٹریلیا میں شکست کا ملبہ کپتان اظہر علی پر ڈالنا درست نہیں ہے،  ٹیم جب 70 کے اسکور پر آؤٹ ہو جائے تو کپتان کیا کے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ٹیم بڑا اسکور کرتی ہے تو اس وقت کپتان کی پلاننگ دیکھی جاتی ہےa

لاہور میں سموگ ،بھٹے بند نہیں ہوئے ،عدالت خود گواہ،کیوں نہ وزیر اعلی کو طلب کیا جائے،ہائی کورٹ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ عدالت خود گواہ ہے کہ بھٹے بند نہیں ہوئے، کیوں نہ وزیر اعلی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو طلب کرلیا جائے۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ غیر پیٹرول سلفر میں اضافے اور بیماریوں کا سبب ہے۔عدالت نے کہا کہ کیوں نہ وزیر اعلی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو طلب کرلیا جائے۔ وعدے اور دعوے تو بہت کیے جا رہے ہیں مگر عملی اقدامات کا فقدان ہے، سڑکیں بنانے کے لیے کتنے درخت کاٹے گئے تفصیلات دی جائیں۔عدالت نے کہا کہ جب تک انہیں نہیں بلایا جائے گا اس وقت تک کوئی ذمے داری نہیں لے گا۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ پنجاب بھر میں 3 ہزار بھٹے بند کر دیے گئے ہیں۔عدالت نے کہا کہ عدالت خود گواہ ہے کہ بھٹے بند نہیں ہوئے۔ ملتان کے قریب چلتے بھٹے دیکھے ہیں عملہ بھی گواہ ہے۔ مقدمہ عدالت کی یا عملے کی مدعیت میں درج کیا جائے۔سرکاری وکیل نے کہا کہ 36 محکمے اسموگ کے خاتمے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ذمے داری ایک فرد یا ادارے پر ڈالنے تک کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔عدالت نے کہا کہ چیف سیکریٹری کو طلب کیا تو کہا جائے گا ابھی تعینات ہوا ہوں، کچھ پتہ نہیں۔ اتنی جلدی تبادلے کیے جا رہے ہیں کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں چل رہا۔درخواست گزار نے کہا کہ شہر میں آلودگی کی بڑی وجہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہے، دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروا دی گئی ہیں۔ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی بنائی گئی لیکن عمل نہیں ہو رہا۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت حکومت کو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کا حکم دے۔

شہباز 70،سلمان کے اثاثوں میں 8ہزار گنا اضافہ

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاداکبر نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ پر کرپشن اور ٹیلی گرافک ٹرانسفر (ٹی ٹی) کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے اور پیسہ بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ
پنجاب شہبازشریف کے اثاثوں میں 10سال میں 70 گنا ،بیٹے سلمان شہباز کے اثاثوں میں 8ہزار گنا اضافہ ہوا، جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے رقم منتقل کی اور 33 کمپنیاں بنائیں، شہبازشریف نے کرپشن کا الزام لگانے پر ڈیلی میل کےخلاف عدالت جانے کا اعلان کیا تھا ، اب تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی، اگر قانونی کارروائی کےلئے مالی مدد سمیت جو مدد درکار ہے وہ ہم دیں گے،عوام کا پیسہ واپس کیا جائے، ہمیں کسی کو جیلوں میں رکھنے کا کوئی شوق نہیں، شہباز شریف اٹھارہ سوالات کے جواب دیں ،نیب شہباز شریف خاندان کی گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنی کے خلاف تحقیق کرے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور وزیر مواصلات مراد سعید نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ نیب کی تحقیقات کے مطابق شہباز شریف فیملی اثاثوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔شہزاد اکبر نے کہاکہ سلمان شہباز کے اثاثوں میں دس سال کے دوران8 ہزار گنا اضافہ ہوا۔ ٹی ٹیز کی رقم سے 32،33 کمپنیاں بنائی گئیں،جس سےکاروبارکے ایمپائر کھڑے کیے گئے۔مبینہ منی لانڈرنگ میں ملوث گڈ نیچر کمپنی(جی این سی) کی تفصیلات بتاتے ہوئے معاون خصوصی نے بتایا کہ اس کے تین ڈائریکٹرز ہیں۔معاون خصوصی نے بتایا کہ نثار احمد گل ، ملک علی احمد، طاہر نقوی کمپنی ملازمین تھے۔ نثار احمد گل نیب کے زیر حراست ہیں اور اس کو پنجاب میں وزیراعلیٰ کے سیکرٹریٹ سے چلایا جاتا تھا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی نے شہبازشریف سے کمپنی ملازمین کے متعلق 18 سوال پوچھے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ عوام کا پیسہ واپس کیا جائے، ہمیں کسی کو جیلوں میں رکھنے کا کوئی شوق نہیں۔انہوںنے کہاکہ ٹی ٹی پہلے بھی ناجائز نہیں تھی اب بھی نہیں، جی این سی میں ایشو ٹی ٹی نہیں بلکہ کاغذی فیک ٹی ٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری نیب سے درخواست ہے کہ ہنگامی بنیاد پر ان کیسز کو چلائیں۔ کیسز میں پلی بارگین کا آپشن موجود ہے اور چیئرمین نیب کو اختیار حاصل ہے۔معاون خصوصی برائے احتساب نے بتایا کہ مذکورہ جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے 20 سے 22 چھوٹی کمپنیوں کاائماپر کھڑا کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق نیا انکشاف کاتعلق اتفاق گروپ نہیں تھا۔انہوں نے جی ایم سی نامی کمپنی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا مذکور کمپنی کے تین ڈائریکٹرز تھے جن میں نثار احمد گل، ملک علی احمد اور طاہر نقوی شامل تھے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبرنے بتایا کہ شہباز شریف نے 2009 سے نثار احمد کل کو چیف منسٹر ہاوس ڈائریکٹر پولیٹیکل افیئر مقرر کیا،اس ضمن میں شہزاد اکبر نے نثار احمد کل کے دو مرتبہ جاری ہونے والی نوٹیفیکشن بھی دکھائے۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ڈیلی میل کے خلاف شہباز شریف نے مقدمہ تو درکنار ایک بھی جواب نہیں دیا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف نے ملک علی احمد نامی شخص ڈائریکٹر پالیسی اور طاہر نقوی کو بھی اعلی عہدوں پر فائز کیا گیا اور جب طاہر نقوی کی تفیش کی گئی تو اس کا اسسٹنٹ جنرل ایڈمن شریف گروپ آف کمپنیز سے تھا۔انہوں نے کہا کہ نثار احمد کِل نیب کی حراست میں ہے اور انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ جی ایم سی محض کاغذی کمپنی تھی اور اس کو سلمان شریف چلاتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سلیمان شہباز کے اثاثوں کی ضبطگی شروع ہوچکی۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ ‘کمپنی کے زیر حراست دو کیش بوائز نے بھی جعلی ٹی ٹیز کا اعتراف کرلیا ہے’۔مسلم لیگ (ن) کے صدر کیلئے شہزاد اکبر نے 18سوالات کئے جن میںسوال نمبر 1: کیا نثار احمد گل وزیر اعلی کے ڈائریکٹر برائے سیاسی امور اور ملک علی احمد وزیر اعلی کے پالیسی ساز کے عہدوں پر تعینات نہیں تھے؟سوال نمبر 2: کیا نثار احمد گل اور علی احمد آپ کے فرنٹ مین نہیں تھے؟سوال نمبر 3: کیا یہ دونوں کاغذی کمپنی گڈ نیچر کے مالک نہیں تھے؟سوال نمبر 4: کیا نثار احمد گل نے اپنے بینک اکانٹ کے اوپنگ فارم میں اپنا عہدہ مشیر برائے سیاسی امور وزیر اعلی پنجاب اور پتہ چیف منسٹر آفس نہیں لکھوایا تھا؟سوال نمبر 5: کیا آپ کا ڈائریکٹر سیاسی امور نثار احمد کل آپ کے صاحبزادے سلیمان شریف کے ساتھ مختلف دوروں پر لندن، دبئی اور قطر نہیں گیا تھا؟سوال نمبر 6: کیا انہوں نے بھاری رقم آپ کے ذاتی اکانٹ میں منتقل نہیں کیے تھے؟سوال نمبر 7: کیا آپ نے ان پیسوں سے تہمینہ درانی شریف کے لیے وسپرنگ پائن کے دو ویلاز نہیں خریدے تھے؟سوال نمبر 8: کیا آپ کے کیش بوائیز مسرور انور اور شعیب قمر نے جی ایم سی سے اربوں نکال کر آپ کے دونوں حمزہ اور سلیمان کے اکاونٹ میں منتقل نہیں کیے تھے؟سوال نمبر 9: نثار گل ان کے اکاونٹس سے آپ کے اور آپ کے بیٹوں کو یہ رقم منتقل نہیں کی گئی تھی؟سوال نمبر 10: کیا جی ایم سی سے اربوں کیش کی صورت میں نکال کر آپ اور آپ کے خاندان کے اندورنی اور بیرونی اخراجات کے لیے استعمال نہیں کیے گئے؟سوال نمبر 11: کیا جی ایم سی نے بلواسطہ آپ کے چپڑاسی ملک مقصود کے اکاونٹ میں کروڑوں روپے جمع نہیں کرائے تھے؟سوال نمبر 12: کیا جی ایم سی کے مالکان کو وزیراعلی کے آفس میں اعلی عہدوں پر فائز کرکے آپ براہ راست کالا دھن کو سفید کرنے کے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے سرپرستی نہیں کرتے تھے؟سوال نمبر 13: کیا آپ کی رہائش گاہ 56 ایچ ماڈل ٹان میں کمیشن رقوم وصول ہوتی نہیں رہی؟سوال نمبر 14: کیا ان رقوم کو شریف گروپ کے دفتر واقع 55 کے ماڈل ٹان میں منتقل کرنے کے لیے آپ کی ذاتی گاڑی استعمال نہیں ہوتی رہی؟سوال نمبر 15: کیا دبئی کی چار کمپنیوں جو بیگم نصرت شہباز اور سلیمان شہباز کے اکاونٹ بذریعہ ٹی ٹی رقوم منتقل کرتی رہی؟سوال نمبر 16: کیا یہ وہی کمپنیاں نہیں ہیں جو آصف زرداری اور اومنی گروپ کے لیے بھی منی لانڈرنگ کرتی رہی؟سوال نمبر 17: کیا ڈیفٹ کے دیے ہوئے پیسے کی آپ کے داماد علی عمران نے بذریعہ نوید اکرام لوٹ مار نہیں کی؟ اور سوال نمبر 18: کیا آپ ہمیں بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان کی عزت بحال کرنے کے لیے لندن کی عدالتوں میں ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ روس اور میرے خلاف حرجانے کا دعوی دائر کریں گے؟شہزاد اکبر کا کہنا تھا شہباز شریف کی لندن کی نیوز کانفرنس ٹھس تھی، وہ ایک دھیلے کی کرپشن کی بات کرتے ہیں لیکن یہاں تو اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ نومبر 2018 میں نیب نے کچھ تحقیقات شروع کیں تو پتہ چلا کہ شہباز شریف کے اثاثوں میں 10 سال کے دوران 70 گنا اضافہ ہوا ہوا، سلمان شہباز کے اثاثوں میں ایک ہزار گنا اضافہ ہوا ہے اور حمزہ شہباز کے اثاثوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا، سلمان شہباز ایک بھگوڑا ہے اور اس کی جائیداد ضبطگی شروع ہو چکی ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ برطانیہ سے 190 ملین پانڈ کی رقم سپریم کورٹ میں جمع ہو گی۔ نھوں نے تصدیق کی ہے کہ 190 ملین پانڈ کی رقم برطانیہ سے پاکستان کو ٹیلی گرافک ٹرانسفر (ٹی ٹی)کے ذریعے موصول ہوئی ہے۔ لیکن ایک رازداری کے حلف نامے پر دستخط کرنے کے بعد اس تصفیے کی تفصیلات نہیں بتا سکتے ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ملک کو اتنی زیادہ رقم واپس ملی ہو۔ شہزاد اکبر نے جواب دیا کہ نیشنل کرائمز ایجنسی(این سی اے) کی پریس ریلیز میں لکھا ہوا ہے کہ یہ پیسہ برطانیہ کی طرف سے ریاست پاکستان کو منتقل کیا جائے گا۔انھوں نے کہا رازداری کے حلف نامے کے تحت اس کی مزید تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔جب صحافیوں نے مزید سوالات کیے تو انھوں نے کہا بالکل یہ رقم سپریم کورٹ میں جمع ہو گی۔ شہزاد اکبر نے صحافیوں سے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیسے آتے ہیں تو کیا وہ سٹیٹ آف پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا یہ پیسے عدالت میں جمع ہوں گے اور ہم نے عدالت سے (یہ پیسے)مانگے ہوئے بھی ہیں کہ یہ پیسے سندھ کو نہیں ملنے چائیں، وفاق کو ملنے چائیں۔

پختون ،بلوچ طلبہ کو یونین سازی کا حق مگر صوبائیت کے ٹھپے سے بچیں،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہنہ مشق صحافی ضیا شاہد نے کہا کہ آج گفتگو کے لئے ہم نے روگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے رضا گیلانی اور اسلامی جمعیت طلبہ اسلامی کے جنرل سیکرٹری ارسلان بلوچ کو دعوت دی ہے۔ پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو تنظیم کا نام بھی نیا ہے لیکن آتے ہی انہوں نے بڑا کھڑاک کیا اور لاہور اور کراچی میں بہت بڑے بڑے جلوس نکالے اور مال روڈ لاہور میں ھی اور کراچی میں بھی۔ ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کی تنظیم کیسی ہے اور جو لاہور کے مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے حوالے جو الزام لگاتے ہیں کہ کس طرح تک صحیح ہے۔ رضا گیلانی صاحب! خود آپ ابھی تک سٹوڈنٹ ہیںپروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو جو آپ نے تنظیم کا نام بتایا ہے مال روڈ پر جو مظاہرہ ہوا تھا کیا وہ اسی تنظیم نے کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں بہت ساری این جی اوز تھیں کیا آپ کا تعلق بھی کسی این جی او سے ہے۔ لاہور کے مظاہرے کے سلسلے میں بڑی باتیں ہوئی کچھ لوگوں نے اس کی بڑی حمایت کی لیکن لوگوں نے کہا کہ یہ این جی اوز کا مظاہرہ تھا اس میں سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ تھی۔ آپ بتائیں آپ کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہے یا آپ کسی سیاسی لیڈر کو پسند کرتے ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ یہ جو بلوچ لیڈر ہیں اور پختون لیڈر ہیں یا پشین موومنٹ ہے اس سے آپ کا کوئی تعلق ہے۔ ارسلان بلوچ صاحب! 29 نومبر کو لاہور اور کراچی میں مظاہرے کے حوالے سے بات ہوئی تو رضا گیلانی صاحب نے بتایا کہ پچاس شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے۔ مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے سہیل بٹ نے جو اپنے زمانے میں طالب علم لیڈر رہے ہیں وہ یہ کہہ رہے تھے یہ ان کے الفاظ ہیں کہ ایک نان سیریس اجتماع تھا ڈھول ڈھمکے کے ساتھ لڑکیاں ناچ رہی تھیں اور ان میں اکثر طالب علم تھے ہی نہیں اور مختلف این جی اوز نے یہ کسی جگہ سے فنڈنگ ہوئی تھی۔ یہ پشین صاحب کی لائن کو ٹو کر رہے تھے۔ اس لئے وہ ساری جماعتوں کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور فوج کو انہوں نے برا بھلا کہا۔آپ ان الزامات بارے میں کیا کہتے ہیں۔
شروع میں الزام لگا کہ یہ ایلیٹ کلاس کا طبقہ ہے۔ پھر الزام لگایا گیا کہ یہ ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ پھر مختلف الزامات سامنے آئے۔ ہمیں جو اطلاع ملی آپ کے اس مظاہرے پر بہت لکھا گیا بہت خبریں، کالم چھپے بالعموم لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا۔ یہ سٹوڈنٹس تنظیموں کی بحالی کا مظاہرہ نہیں تھا کہ خاص مخصوص نظریات کے لوگوں کاتھا مجھے بتایا گیا ہے کہ جو پینتیس تیس لوگ تھے اس میں ایک صاحب سیفما کے تھے جن کی عمر اس طرح کی ہے کہ وہ اب طالب علم ہو ہی نہیں سکتے۔ یہ آپ کو چن چن کے پاکستان مخالف ایلی منٹ کیوں نظر آیا کیسے آپ نے ہر جگہ سے پولوں کو چنا اور گلدستہ بنایا جو سارے کا سارا پاکستان کے خلاف ہے فوج کے خلاف، سیاستدانوں کے خلاف ہے۔ ارسلان بلوچ صاحب لاہور کا مظاہرہ طلبہ تنظیموں کا مظاہرہ تھا۔ بائیں بازو کے جو طالب علم ہیں ان کی کوئی تنظیم موجود نہیں تھی یہ اچھا ہوا کہ تنظیم بن گئی۔ کراچی، لاہور اور بقول رضا صاحب کے پچاس اور شہروں میں مظاہرے ہوئے ان کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر میں پروگریسو ہوں، بائیں بازو کے نظریات رکھتا ہوں میں قوم پرست ہوں تو مجھ سے کوئی یہ حق نہیں چھین سکتا کہ میں انجمن سازی یا سٹوڈنٹس سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا۔ ان کو آپ کو برداشت کرنا پڑے گا بلکہ ان کو موقع دینا پڑے گا جو کرنا چاہتے ہیں کر لیں۔ لیکن رضا گیلانی صاحب میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ کے مظاہرے کا کوئی اچھا تاثر نہیں پڑا۔ جس جس طبقے سے بات کی۔ مخالفت کی کسی کو کوئی شکایت ہے کسی کی کوئی شکایت۔ کوئی کہتا ہے کہ این جی اوز نہیں کوئی کہتا ہے کہ سب پیسے دے کر بلائے گئے۔ ہو سکتا ہے واقعی نہ ہو واقعی ترقی پسند ہوں۔ یہ الزامات سامنے رکھ کر آگے چلنا پڑے گا۔ یہ میرے الزامات نہیں ہیں یہ وہ ہیں جو پریس میں آ چکے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں پختونوں اور بلوچوں کو حق ہے کہ خود کو آرگنائز کریں خوبصورتی گلدستہ کی یہ ہو گی وہ مختلف سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں میں شامل ہو جائیں۔ وہ وہاں جا کر اپنیقوتیں بنائیں۔ اگر لیبل کر کے صوبائیت، ایک تحریک چلانا آپ کا اختیار ہے لیکن یہ نہیں ہونا چاہئے ہم یہ سنیں کہ بلوچ طلبہ یہ کر رہے ہیں، پختون طلبہ نے یہ کیا۔ وہ کسی سے گائیڈ لائن لے رہے ہیں وہ انتہا پسند کی سیاست کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ میں نے اپنے بیٹے کو کالج میں پڑھنے بھیجا۔ کالج کا ماحول ایسا ہے کہ وہ اے کے ساتھ مل گیا یا بی کے ساتھ مل گیا اور اس کے بعد کیا وجہ تھی کہ یونینوں پر پابندی لگانا پڑے اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ کلاشنکوف کلچر کی وجہ سے اسلامی جمعیت کے دور میں ڈاکٹر رفیق احمد اپنے دفتر میں نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ اگر دوبارہ یہی کرنا ہے تو میں سب سے زیادہ یونینوں کا مخالف ہوں اگر آپ واقعی صحت مند سرگرمیاں دینی ہیں ضابطہ اخلاق جو بھی بنا لیں اس پر عمل پیرا ہونا ہے تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔

ہم بیماریوں سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

’’ اگر ہم حفظانِ صحت کے اُصولوں پر عمل کریں گے تو بیمار نہیں ہوںگے ۔اگر بیمار ہو جائیں تو اس کا علاج کرسکتے ہیں‘۔ (تاریخِ طب بحوالہ طبِ نبویﷺ)۔حفظانِ صحت کا علم بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ چنانچہ حالت بدنِ انسانی تین میں سے ایک ضرور ہوتی ہے:1۔صحت مند، 2۔متوسط،3۔ لاغرصحت مند رہنے کے لیے حفظان ِصحت کے اصولوں پر عمل مع ریاضت(ورزش)کیا جائے ۔ متوسط الصحت رہنے کے لیے حفطان صحت کے اصول کی پابندی ضروری امر ہے، تاہم ایسے اشخاص وقت کے ساتھ لاغری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لاغر اشخاص میں تین طبقات داخل ہیں:1۔نابالغ، 2۔ بوڑھے، 3۔ بیمارچنا نچہ نابالغ بلوغت کی عمرکو پہنچنے پر درست غذا اور کھیل کود کی عادت اپنانے پر صحت مندوں میں داخل ہوتے ہیں ورنہ نازک اور حساس ہی رہتے ہیں۔ بیمار اشخاص کی اگر دیکھ بھال کی جائے اور انھیں رقیق مگر طاقتور اغذیہ استعمال کرائی جائیں تو متوسط طبقے میں شامل ہوسکتے ہیں، سنِ شباب میں اگر ہوں تو مزید عادات یعنی مناسب ورزش کے ذریعے صحت مند طبقے میں شمار ہوسکتے ہیں۔ بوڑھے اشخاص کی صحت ان کی عمر کے لحاظ سے رہتی ہے مثلاً اکثر اشخاص ستّر برس کی عمر میں گنٹھیا کے درد،  گردوں اور قلب کے عوارض میں مبتلا نظر آتے ہیں، اگر کوئی بزرگ اس عمر میں بھی کسی مرض میں مبتلا نہ ہو تو وہ اپنے ہم عصروں میں صحت مندکہلائے گا۔البتہ بیمار اشخاص میں بھی چند طبقات ہیں ، ایک طبقہ ایسا ہے جو بیمار ہونے پر علاج کر انے کی بجائے پیغام اجل کا انتظار کرتاہے مثلاََ1۔ ایک شخص جنھیںادھیڑ عمری میں لقوہ ہوگیا،اس کا بیٹااسے بغرض ِعلاج لے آیا مگر مریض کو کوئی دلچسپی نہ تھی، جب پوچھا گیا کہ کیوں نہیں علاج کراتے؟ تو کہنے لگا کہ مرنا تو ایک دن ہے ہی ، بیمار نہیں ہوںگے تو مریں گے کیسے؟2۔کچھ اشخاص ایسے ہوتے ہیں، لواحقین ان کا علاج کروانا چاہتے ہیں تو مریض صاحب مختلف اطباء ، اداروں کی کتب کے ڈھیر اگلے دن اٹھا کے لے آتے ہیں، یہ دکھانے کے لئے کہ ان کا علاج ہے ہی نہیں۔ ایک شخص جس کی بڑھتی ہوئی عمر تھی، اس کا جگر متورم تھا ، ایک رپورٹ لے آیا جس کے مطابق اسے یرقان تھا ، جب اسے اس کی بیماری کا احوال بتایا گیا تو وہ اپنے علاقے کے معمر اطباء کے اقوال پیش کرنے لگا اور بضد رہا کہ اسے’ آئی ۔بی ایس ‘ ہے، جو علامات یرقان کی ہوتی ہیں، قبض ، ریح ،چکر ، قلتِ اشتہا وغیرہ کا اقرار بھی کرتا تھا ، تاہم جو رپورٹ ’یرقان‘ کا بتا رہی تھی،کا منکر بھی تھا۔

3۔کچھ اشخاص ایسے ہوتے ہیں جنہیں دواء لکھ کردی جائے تو کہتے ہیں کہ ہم نے بچپن سے دوا استعمال نہیں کی، ہماری تکلیف شاید پیغام اجل ہے ۔

بھارتی فورس کے مسلم اہلکار نے 5 ساتھی اہلکاروں کو بھون ڈالا

رائے پور: انڈین بارڈر فورس کے اہلکار نے اپنے ساتھی اہلکاروں پر گولیاں برسا دیں جس کے نتیجے میں 5 اہلکار ہلاک اور دو شدید زخمی ہوگئے، بعد ازاں اہلکار نے خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کرلی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں انڈین بارڈر فورس کے کانسٹیبل مسعود الرحمان نے اپنے ساتھی اہلکاروں پر سرکاری رائفل سے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 5 اہلکار ہلاک اور 2 شدید زخمی ہوگئے۔ واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کیلیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔زخمی اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے رائے پور کے بڑے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں دونوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ کانسٹیبل مسعود الرحمان نے بھی سرکاری رائفل سے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔معدنی وسائل سے مالا مال بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز جنگجو مزاحمتی تحریک چلا رہے ہیں جسے سبوتاژ کرنے کیلیے حکومت نے لاکھوں فوجی اور نیم فوجی اہلکارتعینات کیے ہیں۔ اس علاقے میں باغیوں نے 2016 سے اب تک 300 خود کش حملے کیے ہیں۔مزاحمت کاروں کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں، حکومتی عہدیداروں اور اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے باعث اس ریاست میں تعینات فوجی اہلکار ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہوکر خودکشی کرلیتے ہیں یا آپسی جھگڑے میں ایک دوسرے کی جان لے لیتے ہیں

عدالت کا دودھ کی مقررہ قیمت سے زائد وصولی پر دکانداروں کےخلاف کارروائی کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے دودھ کی مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی پر دکانداروں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائی کورٹ میں دودھ کی قمیتوں میں اضافہ کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوراٹر کراچی نے کمشنر کراچی کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی۔پیش کردہ رپورٹ میں انہوں نے کہا کہ 27 مارچ 2018 کے اجلاس کے ایجنڈے میں موجود ہے جس کے تحت دودھ کی قیمت 94 روپے تک مقرر کی گئی۔عدالت میں اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ 453دکانداروں پر جرمانہ عائد کرکے 27 لاکھ 94 ہزار 5سوروپے وصول کیے گئے۔عدالت میں بتایاگیا 453 دکاندار وہ ہیں جنہوں نے عدالتی حک اور کمشنر کراچی کے آرڈ کی خلاف ورزی کی۔بعدازاں عدالت نے کمشنر کراچی کو مقررکردہ قمیت سے زائد دودھ فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی