All posts by Muhammad Afraz

اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر عمر اکمل معطل، پی ایس ایل سے باہر

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر ملک کے معروف بلے باز عمر اکمل کو معطل کردیا جس کے سبب وہ پاکستان سپر لیگ میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے قبل ہی لیگ کو ایک اور کرپشن اسکینڈل نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنے والے عمر اکمل کو بورڈ اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر معطل کردیا ہے۔اس حوالے سے پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت عمر اکمل کو فوری طور پر معطل کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے عمر اکمل کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور اس کے مکمل ہونے تک عمر اکمل کرکٹ سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔حریر جاری ہے‎مذکورہ اعلامیے میں معطلی کی وجہ نہیں بیان کی گئی تاہم یہ کہا گیا کہ اس وقت تحقیقات جاری ہیں لہٰذا پی سی بی اس معاملے پر مزید کوئی بیان جاری نہیں کرے گا۔دوسری جانب یہ بھی واضح کیا گیا کہ عمر اکمل کی معطلی کے باعث کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پی ایس ایل 2020 کے لیے ان کے متبادل کے انتخاب کی اجازت ہوگی۔واضح رہے کہ پی ایس ایل 5 کا آغاز آج (جمعرات) سے ہورہا ہے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز آج ہی اپنا پہلا میچ اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کھیلے گی

کراچی میں بے نظیربھٹو کے پھوپھی زاد بھائی کے پلاٹ پر قبضے کا انکشاف

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو کے پھوپھی زاد بھائی کے 2000 گز کے آبائی پلاٹ پر قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیراعظم بے نظیربھٹو کے پھوپھی زاد بھائی کے کلفٹن میں واقع 2000 گز کے آبائی پلاٹ پر قبضے کا انکشاف ہوا ہے، ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے جب کہ پلاٹ پر قبضے کے لیے سرکاری دستاویزات میں یوسی سیکریٹری، پراپرٹی ڈیلراور نادرا کا عملہ ملوث ہے۔ واضح رہے کہ پلاٹ سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنی ہمشیرہ اور طارق اسلام کی والدہ منور بھٹو کو بطور تحفہ دیا تھا۔

چین میں پھنسے طلباءکے والدین کا حکومت کو 3دن کا الٹی میٹم

کابل(نیٹ نیوز)افغانستان کے صدارتی انتخابات کے سرکاری نتائج کا 5ماہ بعد اعلان کر دیا گیا ہے جس میں موجودہ صدر اشرف غنی ہی فاتح قرار پائے ہیں۔افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن(آئی ای سی)کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق گزشتہ برس 28ستمبر کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں اشرف غنی نے 50.64 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مخالف امیدوار عبداللہ عبداللہ کو 39.52فیصد ووٹ ملے۔ دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار عبداللہ عبداللہ نے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اشرف غنی کے متوازی اپنی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم، شفاف اور بائیو میٹرک سسٹم کے تحت جیتی ہے اور ہم اپنی فتح کا اعلان کرتے ہیں۔عبداللہ عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ فراڈ کرنے والوں کی تاریخ ہی شرمندگی کا باعث ہے لہذا ہم کابل میں اپنی علیحدہ حکومت بنانے کا اعلان کرتے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ برس 28 ستمبر کو ہونے والے افغان صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان 19اکتوبر کو ہونا تھا لیکن آزاد الیکشن کمیشن کی جانب سے تیکنیکی خرابی، فراڈ کے الزامات اور احتجاج کے باعث نتائج کا اعلان بار بار ملتوی ہوتا رہا۔آئی ای سی نے دسمبر میں ابتدائی نتائج کا اعلان کیا تھا جس میں اشرف غنی کو تھوڑی برتری کے ساتھ کامیاب قرار دیا گیا تھا لیکن عبداللہ عبداللہ نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مکمل نتائج سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔افغان طالبان نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دوبارہ انتخاب کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج امن عمل کے خلاف ہیں۔طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے قطر کے دارالحکومت دوحہ سے جاری بیان میں کہاکہ متنازع افغان صدارتی الیکشن کے نتائج کا اعلان غیرقانونی اور غیر آئینی ہے۔ اسے کسی بھی قیمت پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا اشرف غنی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے نتائج قابل قبول نہیں ہیں۔

فضل الرحمن اور بلاول بھٹو کے الگ الگ مارچ سے حکومت گرانا مشکل ہو گا،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو نے مارچ میں مارچ کرنے کا ذکر کیا ہے اور کوشش کریں گے کہ پنجاب سے ہر جگہ سے منظم کر سکیں، لگتا ہے تو یہی ہے کہ لوگ بہت تنگ ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ حکومت روزانہ آج کی خبروں میں آپ دیکھیں کچھ نہ کچھ قیمتوں میں کمی رہی ہے اور سبسڈی بھی دے رہی ہے، لکن پھر بھی لوگوں کو سڑکوں پر لانا کافی مشکل ہے۔ اور بالکل حکومت کے سامنے کھرے ہو جانا۔ حکومت بہرحال حکومت ہوتی ہے اس کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے بہت ہمت اور جرا¿ت ہوتی ہے اور خاص طور پر جب سیاسی جماعت میں بہت دم خم نہ ہو تو۔ جس طرح مولانا فضل الرحمن کہہ رہے ہیں کہ بڑی پارٹیوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ اس طرح پیپلزپارٹی بھی تنہا کچھ زیادہ بڑی کارروائی نہ کر سکے لیکن اگر پیپلزپارٹی کے ساتھ ن لیگ بھی شامل ہو گئی تو مارچ میں ہونے والا مارچ زیادہ موثر ہو سکے گا۔ اس وقت تک نوازشریف کا آپریشن بھی ہو چکا ہو گا۔ اور میرا خیال ہے مسلم لیگ ن کے ہاتھ زیادہ بندھے ہوئے نہیں ہوں گے۔ شیخ رشید کی میڈیا سے گفتگو پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہر شخص کا اپنا نقطہ نظر ہے میرا خیال ہے کہ مارچ کسی بھی تبدیلی کی توقع رکھنا زیادہ مشکل ہو گا۔ البتہ جو دباﺅ بڑھے گا اس کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی کی طرف بات بڑھ سکے۔ن لیگ کی اصل قوت شہباز شریف صاحب کے پاس ہے۔ جب تک شہبازشریف واپس نہیں آتے مسلم لیگ ن کوئی بڑا سیاسی سٹیپ نہیں لے سکتی۔ چاہے شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، رانا ثناءاللہ موجود ہیں تاہم جائے استاذ خالی است‘ والی بات۔ شہباز کی جگہ خالی ہے وہ پُرنہیں ہو سکتی، جب تک نوازشریف کا آپریشن نہیں ہو جاتا شہباز شریف وطن واپس نہیں آ جاتے اس وقت پاکستان کی سیاست میں کوئی ہلچل نہیں ہو گی۔ وزیراعظم کچھ چیزوں پر سبسڈی دے رہے ہیں کچھ کے نرخ کم کر رہے ہیں عام طور پر جب بھی کوئی بحران ہو ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ کچھ نہ کچھ چیزوں کو سستی کرنے کے لئے حکومتی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ چودھری شجاعت نے کہا ہے کہ میں نے عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ چاپلوسی کرنے والوں سے بچیں۔ یہ جو آپ کے پاس بیٹھے ہیں کہ نوازشریف کی چاپلوسی کرنے والے تھے اب آپ کے پاس بیٹھے ہیں ضیا شاہد نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ کرنا تو عمران خان کو کرنا ہے لیکن چودھری شجاعت کی بات صحیح ہے۔ چودھری شجاعت ہمیشہ سچی اور کھری کرتے ہیں ان کی بات میں تلخی بھی ہوتی ہے۔ لیکن سچائی ہوتی ہے۔ عمران خان ان کے مشورے پر کان دھریں۔ آج کے حکمرانوں کو چودھری صاحب کی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہ دی،ڈیبی ابراہمس اقلیتوں کے لیے بھارت محدود ہو چکا ،عمران خان

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے جھوٹے آپریشن کا سہارا لے سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم سے برطانوی پارلیمنٹ ارکان کے وفد نے ملاقات کی، جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق آل پارٹیز پارلیمانی کشمیر گروپ وفد کی قیادت چیئرمین ڈیبی ابرہمس نے کی، وزیر اعظم نے کشمیری عوام کی جدوجہد اور حق خود ارادیت کے لئے پاکستان کی حمایت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، اور جموں و کشمیر تنازعہ پر گروپ کی مستقل توجہ ور وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گروپ کی رپورٹس کے کردار کی تعریف کی۔اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے بھارت کی غیرقانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں انسانیت سوز حالات سے متعلق وفد کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 80 لاکھ کشمیری گزشتہ چھ ماہ سے ایک فوجی محاصرے میں ہیں، کشمیریوں سے انسانی حقوق اور آزادیاں چھین لی گئیں ہیں۔بھارتی قیادت کی جارحانہ بیان بازی سے خطے کے امن کو لاحق خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت آر ایس ایس سے متاثر ہوکر ہندوتوا نظریے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے، ہندوتوا نظریہ ہندوستان کی اقلیتوں کے لئے بھی جگہ محدود کررہا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کارروائیوں سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کے لئے ہندوستان جھوٹے آپریشن کا سہارا لے سکتا ہے، جنوبی ایشیائ میں امن ، سلامتی اور استحکام کے لئے جموں و کشمیر تنازعہ کا ایک مستقل اور دیرپا حل ضروری ہے، عالمی برادری انسانیت کے خلاف بھارت کے جرائم کے حوالے سے شعور اجاگر کرے، اور جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے بھارت پر دباو¿ ڈالے۔پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی تحریک کی حمایت جاری رکھے گا،پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے کشمیر پر آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کے ممبران نے ایل او سی کے دونوں اطراف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے اطلاعات کی تصدیق کےلئے آئے تھے ،بھارت نے ایسا نہ ہونے دیا گیا،پاکستان نے ہمیں اس حوالے سے آزادی فراہم کی،ہم بھارت کو دوبارہ کہتے ہیں خطے میں جانے اور اپنی آنکھوں سے صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت دی جائے، ہم ایک غیر جانبدار اور آزاد گروپ ہیں،ہم پرو پاکستان یا اینٹی انڈیا نہیں ، پرو ہیومن رائٹس گروپ ہیں، ہم یہاں پر برطانوی حکومت کی نمائندگی نہیں کر رہے،ہم کشمیر پر ایک گروپ کے طور ہر کام کر رہے ہیں ،ہم ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ پارلیمانی گروپ ہیں ، برطانوی حکام پر اپنا دباﺅ جاری رکھیں گے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ آل پارٹیز کشمیر گروپ ایک انتہائی اہم فورم ہے جس سے کشمیری عوام کی بہت امیدیں وابستہ ہیں، پانچ اگست 2019ءکے یکطرفہ اقدامات کی وجہ سے جموں و کشمیر پر بین الاقوامی اداروں خصوصاً کشمیر گروپ کی جانب سے نظرثانی رپورٹ مرتب کی جائے اور نئی صورت حال پر دوبارہ غور کیا جائے۔ منگل کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے دفتر خارجہ میں برطانوی پارلیمنٹ کے کشمیر پر آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کے ممبران نے ملاقات کی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمانی گروپ کا پاکستان اور آزاد کشمیر کے دورے پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ آپ کا دورہ جموں کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے آپ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، یہی مسئلہ جموں و کشمیر کے عوام کے لئے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ آل پارٹیز کشمیر گروپ ایک انتہائی اہم فورم ہے جس سے کشمیری عوام کی بہت امیدیں وابستہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ گروپ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے،گروپ کی 2018 میں کشمیر پر رپورٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اقدامات کی وجہ سے صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جموں و کشمیر پر بین الاقوامی اداروں خصوصاً کشمیر گروپ کی جانب سے ایک نظرثانی رپورٹ مرتب کی جائے اور نئی صورت حال پر دوبارہ غور کیا جائے۔بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ مجھے دفتر خارجہ میں ان آٹھ اراکین پارلیمان کو خوش آمدید کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے ،ڈیبی ابراہم کی خواہش تھی کہ وہ مقبوضہہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی صورتحال اپنی آنکھون سے دیکھیں۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان نے جو رویہ اپنایا وہ دنیا نے دیکھا،ان کو دہلی سے ڈی پورٹ کیا گیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہاہے کہ امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیس کی جانب سے ریسرچ اور پالیسی سازی میں کیے گئے اقدامات قابل تعریف ہیں،مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کی جانب سے حالیہ اقدامات سے خطے میں تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔بدھ کو امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیس کی صدر نینسی لِنڈبرگ نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے دفتر خارجہ میں ملاقات کی جس میں ادارے کے نائب صدر اینڈریو ویلڈر بھی موجود تھے ۔ادارے کی صدر نے وزیر خارجہ کو ادارے کی مختلف شعبوں میں تحقیق اور سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوںنے کہاکہ امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیس 1984 سے مختلف شعبہ جات میں تحقیق سے وابستہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ گذشتہ سترہ سال سے یہ ادارہ افغانستان میں مقامی حکومتوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ ریسرچ اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اتحاد جادو سے قائم ،چاہوں گا موقع ملے حکومت گرادوں ،بلاول بھٹو مایوس کا رکنوں کو خوش کرنے کی کوشش ہے ،فردوس عاشق اعوان

لاہور (خبرنگار) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میں تو چاہوں گا موقع ملتے ہی حکومت گرا دوں اور اس کی وجہ معاشی حالات اور انسانی جمہوری حقوق پر پابندیاں ہیں،کسی غیر جمہوری سازش میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ حکومت
کوصرف آئینی طریقے سے ہٹانا چاہتے ہیں،آئی ایم ایف کے پاس ہم بھی گئے تھے لیکن ان کی ہر شرط نہیں مانی ،حکومتی وزیر کہتے ہیں آئی ایم ایف ہماری معیشت سے خوش ہے لیکن آپ آئی ایم ایف سے نہیں عوام سے پوچھیں کیا وہ آپ سے خوش ہیں،آئی ایم ایف کے ساتھ کی گئی ڈیل کو پھاڑ کر پھینکا جائے اور اس سے عوام اور ملک کے مفاد میں دوبارہ مذاکرات کئے جائیں ، امید ہے کہ شہباز شریف جلد واپس آئیں گے اور قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کریں گے،اس حکومت کو ” جادو “ سپورٹ کر رہا ہے ، ” جادو “ زبردستی اتحاد کو جھوڑ رہا ہے لیکن ایک وقت آئے گا جب جادو نہیں چلے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو اور رانا جمیل منج کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کا کوئی اسٹیک نہیں اس لئے آئی ایم ایف کی ہر شرط مان رہے ہیں،حکومت کے خلاف تحریک کے لئے تمام طبقات سے رابطے کرنے نکلا ہوں ، ہم کنونشنز ، سیمینارکے ذریعے عوام سے رابطہ کریں گے، حکومت کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود اپنی جدوجہد کرتے رہیں گے، ہم آئینی ، جمہوری اور قانونی طر یقے سے حکومت کوہٹانا چاہتے ہیں۔ صحافی کے اس سوال کہ تاثر ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کےلئے قابل قبول ہیں کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ان کے پیار کا انداز ہے ، ہمارا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں ،جب عوام کا سٹیک نہیں ہوگا تو پھر ریاست کیسے چلے گی ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جب وزیروں سے حکومت کی کارکردگی کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں گالی دیتے ہیں ،تنقید کرتے ہیں اور اپنے کارکردگی کے بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ پیپلز پارٹی نے اپنے ادوار میں عوام کےلئے انقلابی منصوبے شروع کئے ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کئی گنا اضافہ کیا ، آج موجودہ حکومت نے عام آدمی کا جینا حرام کر دیا ہے او رلوگ مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں ۔ ہم نے پہلے ہی آئی ایم ایف سے ڈیل کو پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل قرار دیا تھا ، حکومت کی اپنی رپورٹ کہہ رہی ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ،آج نالائق اور نا اہل حکومت چلا رہے ہیں ، ہم غریب اور عوام دشمن پی ٹی آئی آئی ایم ایف ڈیل کو نہیں مانتے ، ہم عوام کے معاشی قتل کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں 78فیصد اور دیہی علاقوں میں 91فیصد اشیائے خوردونوش مہنگی ہوئی ہیں اگر اسے عوام کے معاشی قتل کا نام نہ دیا جائے تو کیا کہا جائے ۔ پیپلز پارتی سمجھتی ہے کہ معیشت کو چلانا ور عوام کو معاشی انصاف اورمعاشی حقوق کا تحفظ دینا سلیکٹڈ نہیں بلکہ عوامی نمائندوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حکومتی وزیر کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف ہماری معیشت سے بہت خوش ہے ، کہتے ہیں موڈیز نے کہا ہے کہ ہم معیشت کو صحیح چلا رہے ہیں ،بلوم برگ نے کہا ہے کہ ہماری سٹاک ایکسچینج زبردست ہے ،ہم انہی وزیروں سے پوچھتے ہیں کہ لاہور، کراچی ، پشاوراور کوئٹہ کے عوام سے پوچھیں جن پر ٹیکسز کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے ، ان سے پوچھیں جن کے بچے سکول نہیں جا سکتے اور وہ اپنے بوڑھے والدین کا علاج نہیں کر اسکتے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ آئی ایم ڈی ڈیل کو پھاڑ کر پھینکا جائے اور عوام اور ملک کے مفاد میں دوبارہ مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے شہباز شریف کی واپسی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ امید ہے کہ وہ جلد واپس آئیں گے اور قائد حزب اختلاف کا کردار اسی طرح ادا کریں گے ۔ آج عوام پر ٹیکسز کو بوجھ لادھ دیا گیاہے ، مہنگائی کا سونامی آیا ہوا ہے ، اگر ہم انتخابات میں ان کے پاس جائیں گے تو وہ ہم سے سوال کریں گے ہم اس وقت کہاں تھے ، پیپلز پارٹی معاشی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے اور اس کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں گے ،جو خاموش ہیں یا موجود نہیں وہ بھی اس پر بات کریں گے ۔ پیپلز پارٹی کی کوشش جاری رہے گی ہم عوام کے معاشی حقوق کےلئے ہر جماعت کے ساتھ مل کر کام کرنے لئے تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہی پالیسی ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو بند کر دے تاکہ عوام کو نمائندگی نہ مل سکے ، جمہوری ریاستوں میں ایسا نہیں ہوتا کہ تنقید پر آواز بند کر دی جائے بلکہ مثبت تنقید کو برداشت کیا جاتا ہے اور اس سے بہتر معاشی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں ۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس کی یکطرفہ معاشی پالیسی پر کوئی بات نہ کرے اور کوئی آواز نہ اٹھائے لیکن ہم آواز اٹھاتے رہیں گے ۔ انہوںنے سندھ میں صحافی کے قتل کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے پیشکش کی ہے کہ متاثرہ فیملی اگر جوڈیشل کمیشن یا اپنی مرضی کے کسی پولیس افسر سے تحقیقات چاہتی ہے تو حکومت اس کے لئے تیار ہیں ، اس سے ایک روز قبل پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی کو بیدردی سے قتل کیا گیا ۔ انہوں نے آرٹیکل 6 کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ایک ہی شاندار فیصلہ آیا تھا اور تاریخ میں پہلی بار عدالت نے کسی آمر کو غدار کہا ، ایک عدالت فیصلہ دیتی ہے اور ایک ہفتے بعد ہی دوسری عدالت اس عدالت کو ہی غیر آئینی قرار دے دیتی ہے ، صحافی آئین سے کیسے چھیڑ چھار کر سکتا ہے لیکن جب آمر زبردستی ریاست پر قبضہ کرتا ہے تو اس کے لئے آئین میں ایک ہی آرٹیکل 6ہے جس کے تحت وہ غدار ہے اور غدار غدار ہوتا ہے۔ انہوں نے مریم نواز کی خاموشی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہاکہ جب وہ سیاسی سر گرمیاں کر ہی تھیں تو تب بھی ٹی وی پر انہیں دکھایا جاتا تھا ،وہ اپنے والد کے علاج اور تیمار داری کے لئے باہر جانا چاہتی تھیں تو انہیں یہ حق ملنا چاہیے ۔ انہوں نے حکومتی اتحاد کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ سیاسی اتحاد سیاسی بنیادوں پر بنتے ہیں ، ایم کیو ایم ایم اور (ق) لیگ والے بتائیں حکومت جو فیصلے کر رہی ہے وہ عوام کی مرضی کے مطابق ہیں ، آج نالائق حکومت نے عوام کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے ، چوہدری برادران گجرات کے عوام سے پوچھیں وہ حکومت کے فیصلوں سے خوش نہیں ہیں، اس حکومت کو ” جادو “ سپورٹ کر رہا ہے ، ” جادو “ زبردستی اتحاد کو جھوڑ رہا ہے لیکن ایک وقت آئے گا جب جادو نہیں چلے گا۔ انہوں نے آئی جی سندھ کی تبدیلی نہ ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اسلام آباد میں بھینس کسی کے گھر میں داخل ہو گئی تو آئی جی تبدیل ہو گیا ، پنجاب میں پانچ آئی جیز تبدیل ہو چکے ہیں ، وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ سے آئی جی کی تبدیلی کے حوالے سے طے کیا ۔ سندھ میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے ، کابینہ کا مطالبہ ہے کہ آئی جی سندھ تبدیل ہونا چاہیے پھر کیوں تبدیل نہیں کیا جارہا دوغلی پالیسی نہیں ہونی چاہیے ۔ قبل ازیں بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کی قیادت نے وفد نے ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی صورتحال سمیت اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو نے مہنگائی کے خلاف جلسوں اور احتجاج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم سلیکٹڈ وزیراعظم کو نہیں مانتے، عوام مسلط کی گئی تبدیلی کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے عوام مسائل کا شکار ہیں۔ سلیکٹڈ حکمران کبھی بھی عوامی مسائل حل نہیں کر سکتے،آئی ایم ایف معاہدے میں عام آدمی کے مسائل کا خیال نہیں رکھا گیا،ٹیکس کے ایسے اہداف رکھے جا رہے ہیں جس سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ رہی ہے۔ ہم بھی آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے لیکن ایسی ظالمانہ پالیسیاں نافذ نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اپنا پلان یہ ہے کہ ملک بھر میں جلسے، جلوس، سیمینار کریں گے اور ضلع ضلع جائیں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن کےلئے سیاست کرنا مشکل کر دیا گیا ہے، ہم صرف آئینی طریق کار سے حکومت کو ہٹانا چاہتے ہیں، کسی بھی غیر جمہوری سازش میں شامل نہیں ہوں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میں تو چاہوں گا موقع ملتے ہی حکومت گرا دوں اور اس کی وجہ معاشی حالات اور انسانی جمہوری حقوق پر پابندیاں ہیں،کسی غیر جمہوری سازش میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ حکومت کوصرف آئینی طریقے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی چیف سے میری ملاقات یا رابطہ نہیں ہوا۔ آرمی ایکٹ میں ترامیم کسی کے کہنے پر واپس نہیں لیں‘ ہم سلیکٹڈوزیراعظم کو نہیں مانتے‘ سازش جمہوری بھی ہوتی ہے‘ کسی بھی غیرجمہوری سازش میں شامل نہیں ہونگے۔

بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے میں پھر ناکام

پیرس (نیٹ نیوز) ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کی بھارتی کوششیں پھر ناکام ہوگئیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کو بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے مطلوبہ تین ووٹ کی حمایت حاصل ہے، گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے تاحال ووٹنگ نہیں ہوسکی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے 27 میں سے 14 اہداف پر نمایاں پیش رفت کی، نیکٹا اور صوبوں نے صوبائی سطح پر فلاحی تنظمیوں کی چانچ پڑتال مکمل کی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف میں نیکٹا کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ سنگاپور، ہالینڈ، ہانگ کانگ، کینیڈا اور امریکا نے پاکستانی اقدامات کی تعریف کی۔ ذرائع نے بتایا کہ فرانس، جاپان، سعودی عرب، برطانیہ نے بھی پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔ فنانشل یکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ کیخلاف پاکستانی کوششوں کا اعتراف کرلیا، ذرائع کے مطابق چین، ملائشیا اور ترکی سمیت دوست ممالک کی حمایت حاصل ہے، پاکستانی وفد نے ایف اے ٹی ایف کو قانون سازی، دیگر اقدامات پر بریفنگ دی اور بتایا کہ ممنوعہ تنظیموں اور افراد کیخلاف عملی کارروائی پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ چندہ جمع کرنے اور استعمال پر پابندی جبکہ اثاثے ضبط کیئے گئے، مشکوک ٹرانزیکشنز، کیش کوریئرز، ترسیلی نظام کی سخت نگرانی کی گئی، غیر قانونی دولت، ویلیو ٹرانسفر سروسز کیخلاف قوانین سخت کئے گئے۔ غیر منافع بخش تنظیموں، مالیاتی اداروں کی مکمل جانچ پڑتال نے یقین دہانی کرائی۔ حکام نے بتایا کہ بعض گروپوں کی جانب سے ٹیرر فنانسنگ کے خطراک کا سدباب کیا، قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں کے درمیان روابط میں بہتری آئی۔ حکام نے بتایا کہ ممنوعہ تنظیموں اور افراد سے متعلق یو این قراردادوں پر عمل درآمد کیا، کرنسی اور زیورات کی غیر قانونی ترسیل کیخلاف قوانین سخت کیئے گئے۔

واہگہ بارڈ دھماکا کیس: 3 مجرمان کو 5، 5 مرتبہ موت کی سزا

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے واہگہ بارڈر دھماکا کیس میں جرم ثابت ہونے پر 3 مجرمان کو 5، 5 مرتبہ سزائے موت اور 3، 3 سو سال قید کی سزا سنا دی۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں خصوصی عدالت نمبر 3 کے جج اعجاز احمد نے مذکورہ کیس پر فیصلہ سنایا۔مذکورہ کیس میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل میاں طفیل اور عبدالجبار ڈوگر نے دلائل مکمل کیے جبکہ ملزمان کی جانب سے وکیل آصف جاوید قریشی نے بھی دلائل دیے۔محریر جاری ہے‎اس کیس میں مجموعی طور پر 101 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے، جس کے بعد تمام دلائل اور گواہوں کو سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا۔عدلت نے ملزم حسیب اللہ، سعید جان اور حسین اللہ پر جرم ثابت ہونے پر انہیں 5، 5 مرتبہ سزائے موت، 3، 3 سو سال قید اور ایک، ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ساتھ ہی عدالت نے ملزم شفیق، غلام حسین اور عظم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا۔خیال رہے کہ عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ 3 افراد کے قتل کے ٹرائل کی بنیاد پر دیا گیا، اس حوالے سے عبدالجبار ڈوگر نے ڈان کو بتایا کہ واہگہ بارڈر خودکش حملے میں موت کا شکار ہونے والے افراد میں سے 3 کا پوسٹ مارٹم ہوا تھا اور اسی کے حوالے سے ٹرائل کیا گیا تھا۔

پاکستان بھارت کی ایٹمی جنگ میں 12 کروڑ افراد فوری ہلاک ہو جائینگے،میونخ سکیورٹی رپورٹ

میونخ (نیٹ نیوز) میونخ سیکورٹی رپورٹ 2020 میں پاکستان اوربھارت کے درمیان جوہری جنگ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو2025 میں بارہ کروڑسے زائد لوگ فوری طورپرہلاک ہوجائیں گے۔تفصیلات کے مطابق میونخ سکیورٹی رپورٹ 2020 جاری کردی گئی ، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی واقعہ ہوا تو پاکستان اوربھارت کے درمیان جوہری جنگ چھڑسکتی ہے، جنگہوئی پوری دنیا متاثرہوگی اور بارہ کروڑسے زائد افراد فوری طور پر ہلاک ہوجائیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا جنگ میں سو سے ڈیڑھ سوجوہری ہتھیاراستعمال ہوسکتے ہیں اور سولہ سے چھتیس ٹن کاربن کے سیاہ دھوئیں کا اخراج ہوگا۔سکیورٹی رپورٹ کے مطابق جوہری جنگ سے زمین کے درجہ حرارت میں 2 سے 5 ڈگری کمی جبکہ سورج کی روشنی میں 20 سے 35 فیصد کمی آئے گی اورزمین پر پیداواری صلاحیت 15 سے30 فیصد کم ہوجائے گی۔رپورٹ کے مطابق 2019 میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں سلامتی کی صورتحال غیر مستحکم ہے جبکہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔

کراچی میں پی ایس ایل میچز کیلئے پارکنگ اور ٹریفک پلان جاری

کراچی کی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2020 کے میچز کے لیے ٹریفک پلان جاری کردیا۔واضح رہے کہ پی ایس ایل 5 کا آغاز 20 فروری (جمعرات) سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم سے ہوگا۔اسی سلسلے میں شہری انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے ٹریفکپلان جاری کیا تاکہ اسٹیڈیم آنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔تحریر جاری ہے‎ سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کی میں انتظامیہ کے جاری اعلامیے کے حوالے سے بتایا گیا کہ میچ دیکھنے کے لیے نیشنل اسٹیڈیم کراچی آنے والے تماشائیوں کو اپنا اصلی ٹکٹ اور ساتھ ہی اصلی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) دکھانا ہوگا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ تماشائیوں کو مخصوص مقامات پر پارکنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس کے تحت اسٹیڈیم آنے والے اردو یونیورسٹی گراؤنڈ، ملینیم مال کے قریب غریب نواز فٹ بال اسٹیڈیم، ایکسپو سینٹر اور اسٹیڈیم روڈ پر آغا خان ہسپتال کے بالمقابل رانا لیاقت گلز کالج میں گاڑیاں پارک کرسکیں گے۔اسی طرح سہراب گوٹ سے نیپا، لیاقت آباد نمبر 10 سے حسن اسکوائر، پیپلز چورنگی سے یونیورسٹی روڈ کی طرف ہیوی ٹریفک کی اجازت نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ شاہراہ فیصل سے اسٹیڈیم کی طرف ٹریفک کو آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ان تمام گاڑیوں کو نیپا، عسکری 4 (ملینیم)، ڈرگ روڈ سے شاہراہ فیصل یا ملینیم، نیپا سے سفورا یا نیپا سے گلشن چورنگی، سہراب گوٹھ کی طرف موڑ دیا جائے گا

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے دورہ سے پاکستان میں اسلامو فوبیا بارے تاثر ختم ہوا ،ضیا شاہد

(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ قیمتوں پر کنٹرول ایک حکم سے تو نہیں ہو سکتا اس پر عمل کرنے کے لئے مسلسل کوششیں کرنے کی ضرورت ہے جس رفتار سے وزیراعظم لگے ہوئے ہیں اس رفتار سے میرا خیال ہے اس پر ایک ماہ تک پوری توجہ دینا ہو گی پھر یہ آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے یکے بعد دیگرے یہ معاملات درست کر سکیں گے۔ جس کی وجہ سے مہنگائی پر کنٹرول میں ہو سکے گا۔ مہنگائی ہو گی تو پھر خبریں تو چلیں گی اس میں شک کہ میڈیا کا ایک حصہ ہے جو روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی چیز تلاش کر لیتا ہے جو حکومت کے بارے میں منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کون کر رہا ہے یہ ایک ایسا معاملہ جس پر مسلسل کوشش ہونی چاہئے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کے بارے میں جو باتیں ہو رہی تھیں وہ تاثر تو ختم ہو گیا۔ اسلامو فوبیا کے بارے میں خاص طور پر انہوں نے کہا جس طرح سے کرتارپور کے واقعات کو اس کے ثبوت ہی پیش کیا تھا کہ بالکل پاکستان کے خلاف دنیا میں یک طرفہ پروپیگنڈا چل رہا ہے اور وہ پروپیگنڈا یہ ہے کہ مذہبی جنوبی سوچ رکھنے ولے لوگ ہیں ایسی بات نہیں ہے پاکستان بڑا ماڈرن ملک ہے اس میں بڑے لبرل لوگ ہیں اور وہ جو اقلیتوں کے سلسلے میں دوسرے سے دو قدم آگے بڑھ کر کوشش کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنے عمل سے ثابت کر سکیں کہ ہم اقلیتوں کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں اور ان کے لئے جو بھی ہم سے ہو سکتا ہے ہم وہ کام کرنا چاہتے ہیں چنانچہ سکھوں کے بارے میں جو کچھ بھی پاکستان نے کیا اور جس طریقے سے اس پر وصیت کو مکمل کیا گیا اور جس طرح پاکستان میں سکھوں کی پذیرائی ہوتی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان جو ہے وہ اقلیتوں کے بارے کتنے ماڈرن جذبات اور تاثرات رکھتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے مسلمان ملکوں کو چاہئے کہ وہ خاص طور پر جس طرح پاکستان کرتار پور کا مسئلہ ہے سکھوں کا مسئلہ ہےے پاکستان میں اقلیتوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے جس طریقے سے سہولتیں بہم پہنچائی جاتی ہیں تا کہ یہ تاثر واضح ہو کہ ہم تو اقلیتوں کے لئے اتنا کچھ کر رہے ہیں جبکہ انڈیا جو ہے وہ اپنے ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے 22 کروڑ سے اوپر مسلمان ہیں ان کے بارے میں وہ کیا کر رہا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے پاکستان دنیا کے سامنے اپنا کیس پیش کر رہا ہے دنیا کے سامنے اور دنیا دیکھ رہی ہے ہم کیا کیا کر رہے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں بھی۔ ماضی میں بھی ہم نے کیا کیا۔ پاکستان کے خلاف اسلامو فوبیا کی فضا صاف ہو رہی ہے جو اسلامو فوبیا کی اصطلاح کے تحت جو کہا جاتا تھا جس طرح سے پاکستان کو پینٹ کیا جاتا تھا وہ غلط تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مذہبی سکالر پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف ہو اگر اب اگر جہالت کے نام پر کوئی مخالف ہے اس کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے تو اس کو آپ سکالر تو نہیں کہہ سکتے۔ علماءاس سلسلے میں عوام کو آگاہ کریں کہ اسلام میں قطرے پلانے کی ممانعت نہیں ہے۔ کسی بھی مسلمان ملک میں اس قسم کی پابندی نہیں ہے۔ یہاں پاکستان میں علمی مباحثہ کے بعد اس فضا کو ختم کرنا ہو گا۔ سیکرٹری جنرل نے سکھوں کو سہولتوں کے حوالے سے تعریف کی۔ ایک وقت تھا کہ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے ہوتے تھے ان خواتین اور مردوں کو مختص کیا جاتا تھا اب وہ پوزیشن نہیں رہی، آہستہ آہستہ فضا تبدیل ہو رہی ہے۔ رعد میزائل کروز کا تجربہ بارے ضیاشاہد نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی میزائل ٹیکنالوجی میں انڈیا سے بہتر پوزیشن میں ہے اب ایک کے بعد دوسرا تجربہ ہو رہا ہے اس سے صاف لگتا ہے کہ میزائل ٹیکنالوجی میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔

آرنلڈ کی عمران خان کو موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں شرکت کی دعوت

ٹیکساس(نیٹ نیوز) ہالی وڈ اداکار و سیاستدان آرنلڈ شوارزینگر کی وزیر اعظم عمران خان کو آسٹریا میں ہونے والی کلائمیٹ چینج کانفرنس میں شرکت کی عوت۔ہالی ووڈ اداکار آرنلڈ شوارزینگر نے وزیر اعظم عمران خان کو آسٹریا کے عالمی اجلاس میں مدعو کیا۔ تفصیلات کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پاکستان کی جدو جہد اور کامیابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کےلئے دعوت دی گئی ہے۔ہالی ووڈ اداکار نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لئے دوسرے عالمی رہنماﺅں کے ساتھ عمران خان کو بھی دعوت نامہ بھیجے جانے کی تصدیق کردی ہے۔وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل میڈیافوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد نے ”آرنلڈ شوارزینگر کی طرف سے آسٹریا کے عالمی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو دعوت نامہ“ کے عنوان سے ویڈیوپیغام ٹویٹر اکاﺅنٹ پر شیئر کیا گیا ہے۔ڈاکٹر ارسلان خالد نے ٹویٹ میں مزید لکھا کہ دنیا پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دنیا کو بچانے کی کوششوں کو تسلیم کررہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو آسٹرین عالمی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جارہی ہے تاکہ وہ عالمی رہنماﺅں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے آگاہ کر سکیں۔