لاہور(پ ر)”نواز شریف ہی نے بڑے پیمانے پر رشوت کو سیاست میں انٹروڈیوس کیا۔ کمشنوں اور مالِ حرام کی راہ بے نظیر کو نواز شریف ہی نے دکھائی۔ بے نظیر کو موقع ملا لیکن اس نے یہ مواد نواز شریف کے خلاف استعمال نہ کیا۔ انہوں نے کروڑ ہاڈالر حرام کے باہر منتقل کیے ہیں۔ نواز شریف نے وزارتِ عُلیا اور وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں سرکاری پراپرٹی سے لوگوں کو نوازا۔ جہاں آئین کے تحت بنیادی حقوق ہوں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ثابت کرنا ہو، وہاں وائٹ کالر کرائم کو ثابت کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے ٹائم اور تائیدی شہادتیں درکار ہوتی ہیں۔ بے نظیر اناڑی چور
تھیں، نوازشریف ہائی ٹیکنالوجی چور ہیں۔ جتنی مرضی ہائی ٹیکنالوجی استعمال کر لیں ایک مکافاتِ عمل بھی ہوتا ہے۔ یہ ان شاءاللہ پکڑے جائیں گے“۔ یہ اظہار سابق صدر سردار فاروق احمد خاں لغاری نے ایڈیٹر آتش فشاں منیر احمد منیر کے ساتھ انٹرویو میں کیا۔ جسے”نوازشریف اور بے نظیر- جیسا میں انہیں جانتا ہوں“ کے نام سے کتابی صورت میں مکتبہ آتش فشاں 78 ستلج بلاک علامہ اقبال ٹاو¿ن لاہور فون نمبر 0333-4332920 نے شائع کیا ہے۔سابق صدر فاروق لغاری کا مزید کہنا ہے کہ بے نظیر اور نواز شریف ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ پہل رشوت اور غلط راہوں میں نوازشریف نے کی، بے نظیر نے اس پر عمل کیا۔ نواز شریف اس لیے سب سے بڑے مجرم ہیں کہ وہ عوامی ترجیحات پر عمل نہیں کرتے۔ موٹروے سب سے بڑی غلط ترجیح ہے۔وہ ان پروگراموں کو آگے کرتے ہیں جن میں انہیں اور ان کے خاندان کو رشوت اور کمشن زیادہ ملتی ہے۔ اگر وہ میرا مواخذہ کرتے تو میں انہیں ایکسپوز کر دیتا۔ اکثر غلط کام فنانس منسٹر کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ نوازشریف پاکستان کو ایک خاندان کی حکمرانی کے طور پر چلاتے رہے، جیسا مغلیہ حکومت کے دورِزوال میں تھا۔ سیاسی عقل سے عاری یہ لوگ پاکستان کا مفاد نہیں دیکھتے۔ نوازشریف دور میں لاہور ایئرپورٹ سو ملین ڈالر کا پراجیکٹ تھا۔ اس میں تیس ملین ڈالر کمشن تھی۔ ایک اور سوال کے جواب میں فاروق لغاری نے کہا، میں نواز شریف سے کوئی توقع نہیں رکھتا تھا اس لیے کہ وہ رشوت کا قبضہ گروپ تھا اور مارشل لا کی پیداوار تھا، جبکہ بے نظیر سے لوگوں کو توقع تھی۔ آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے دوست اور نیوسٹی پراجیکٹ کے طاہر نیازی نے مجھے بتایا کہ میں نواز کھوکھر کو ہر مہینے پچاس لاکھ روپے دیتا ہوں اور بے نظیر اورآصف زرداری کو میں نے چار چار کنال کے دو سو پلاٹ دیے جن کی (اُس وقت) ویلیو دو ارب روپے تھی۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور کی وزارتِ عظمیٰ کے ذکر میں سابق صدر فاروق لغاری نے بتایا ، ایک دفعہ اعتزاز احسن اور افتخار گیلانی نے مجھے کہا آپ بے نظیر کے پاس ہمارے ساتھ چلیں کیونکہ ہم میں ان کے ساتھ بات کرنے کی جرا¿ت نہیں ہوتی۔ میں نے بے نظیر سے کہا، پہلے وزیروں پر رشوت کا الزام تھا اب آپ کے خاوند پر ہے۔ اس سے بڑھ کر لوگ آپ کی بات کرتے ہیں۔ پھر ان کی حکومت چلی گئی اور اس نے کہا، اگر ہمیں دوبارہ موقع ملاتو ہم یہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے، لیکن دوسری دفعہ اس نے اس سے بھی زیادہ غلطیاں کیں۔بے نظیر بھٹو سے اپنے اولین اختلاف کی وجہ بیان کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا، وہ میراج طیاروں کی خریداری اور قادر پور گیس کو اونے پونے بیچنے کے بڑے سودے کر رہی تھیں۔ جس سے پاکستا ن کو چار پانچ ارب کا نقصان ہو رہا تھا۔ بے نظیر کو اس سے بڑا مالِ حرام مل رہا تھا۔ میں نے یہ نہ ہونے دیا۔ جناب یہ سارے حرام کے خوگر ہیں۔ یہ جو انہوں نے بڑی امپائر بنائی ہے گورنمنٹ کی پوزیشن استعمال کر کے بنائی ہے۔ انہوں نے کروڑ ہا ڈالر حرام کے باہر منتقل کیے ہیں۔ بے نظیر پہلے سرے محل اور سوس بنکوں میں اپنے اکاو¿نٹس سے انکار کرتی تھیں، پھر مان گئیں۔ فاروق لغاری نے اس پر کہا کہ 1947ءسے جس نے حرام کمایا ہے وہ قابلِ واپسی ہے۔ جو نشاندہی کرے اسے اس جائیداد کا ایک چوتھائی ملنا چاہیے۔ عدلیہ پر کنٹرول کے حوالے سے سابق صدر کا کہنا ہے، بے نظیر عدلیہ پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول اور بالادستی چاہتی تھیں نوازشریف اس سے بھی زیادہ چاہتے تھے۔ بے نظیر فیل ہو گئی، نوازشریف کامیاب ہو گیا۔ نوازشریف نے آئین کے آرٹیکل 6 کو پامال کیا۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پنجاب، لاہور اور گوجرانوالہ سے غنڈے لا کر سپریم کورٹ پر حملہ کرایا اور حملہ آوروں کو پنجاب ہاو¿س میں دیگیں کھلائیں۔ اس کا انہیں ایک دن خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ نواز شریف نے میرے سامنے تسلیم کیا کہ ہم نے ججوں کے اوپر ورک کیا ہے اس میں کوئٹہ والی تفصیل بھی شامل ہے۔ ان کو آج تک اس کی نفی کی جرا¿ت نہیں ہوئی، کیونکہ لوگوں کی شہادتیں موجود ہیں۔ بے نظیر اور نوازشریف نے قانون کی بالا دستی پر حملے کیے، جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور فوج کے لیے مداخلت کا جواز پیش کیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں فاروق لغاری نے کہا، بے نظیر کو میں بہن سمجھتا تھا۔ کبھی اس نے میرے ساتھ بدتمیزی نہیں کی۔ ہاں، جب میں نے اسے نکالا تو اس نے مجھے گالیاں دیں۔ اگر میں اسے نہ نکالتا تو ملک ڈیفالٹ ہو جاتا۔ جب میں صدر تھا زرداری کبھی میری کرسی پر نہیں بیٹھا۔ وزارتوں کے امور میں مداخلت ضرور کرتا تھا۔ زرداری کی تو بات ہی اور تھی، ناہید خاں اس طرح منسٹروں کو انگلیوں پر اشارے کرتی تھی۔ بے نظیر اور نوازشریف نے میرے سامنے اعتراف کیا کہ ہمیں نااہل ہو جانے کا خطرہ ہے۔سابق صدر فاروق احمد لغاری نے ان انٹرویوز میں افغانستان اور طالبان پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ اور کہا کہ طالبان نے آ کرافغانستان میں پوست کی کاشت پر بڑا کنٹرول کیا، جسے امریکی لیڈروں نے بھی تسلیم کیا۔ تاہم مولانا صوفی محمد صرف مالاکنڈ میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں اور ان کے پیروکار ہیروئن اور باقی نشوں میں مبتلا ہیں۔پاکستان کے ابتدائی حکمرانوں کی دیانت داری کے حوالے سے کتاب کے مصنف منیر احمد منیر نے لکھا ہے کہ گورنر جنرل قائداعظمؒ نے اپنی سگی پھوپھی کو ملنے سے انکار کی وجہ اپنے سیکورٹی آفیسر ایف ڈی ہنسوٹیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ میں اپنے رشتے داروں کو ملنے سے اس لیے گریز کرتا ہوں کہ وہ ان ملاقاتوں کے سبب ناجائز فائدے نہ اٹھاتے پھریں اورکہا یہ نہ سمجھنا کہ تم میرے سیکورٹی آفیسر ہو اور میں آپ کو کوئی فائدہ دے سکوں گا۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاںؒ کے بیٹے کو لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب افتخار حسین ممدوٹ نے الاٹمنٹس کیں۔ لیاقت علی خاں کو پتا چلا، لاہور پہنچے، جب تک یہ الاٹمنٹس کینسل نہ کرا دیں واپس نہ گئے۔ اور اپنے ایک انتہائی قریبی کے لیے سفارش سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سفارش چلی تو رشوت بھی چلے گی۔ یہ ریت اگر چل گئی تو ملک کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ وزیراعظم چودہری محمد علی نے 1956ءکا آئین تیار اور نافذ کیا۔ بیمار پڑ گئے۔ صدر سکندر مرزا نے سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج کرانے کو کہا تو صاف انکار کر دیا کہ قومی خزانے پر میری ذات کا کوئی حق نہیں۔
































