لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف پر بہت سے الزامات ہیں ملزم کے وکلاءزیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔ نوازشریف کے وکیل کا نقطہ نظر یہی ہونا چاہئے کہ وہ اپنے ملزم کو زیادہ سے زیادہ وقت آگے لے جا سکے اور عدالت میں مقدمہ کو پینڈنگ چھوڑے ان کو تو کوئی جلدی نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوںکہ ہر مرتبہ عدالت تاریخ دیتی ہے کہ فلاں تاریخ تک فیصلہ کر لیں اور وہ آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں اب بھی انہوں نے کہا تھا کہ مجھے تین ماہ مزید درکار ہیں مختلف دلائل دینے کے لئے۔ عدالت نے گزشتہ روز کی تاریخ تک کہا تھاکہ جو انہو ںنے کہنا ہے کہہ لیں لیکن خواجہ حارث زیادہ وقت حاصل کرنے کے لئے مزید تین مہینے چاہتے تھے عدالت نے 3 ماہ نہیں دیئے 17 دن دے دیئے ہیں۔ انہوں نے 24 دسمبر کو کہہ دیا ہے کہ زیادہ اس دن کا وقت دے سکتے ہیں۔ اسی دن ہم اس کا فیصلہ سنا دیں گے۔ عدالت کیا سزا دیتی ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ظاہر میں قانون سے واقف لوگ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اب تک نوازشریف کے وکلاءصفائی کوئی زیادہ موثر دلیل نہیں دے سکے۔ اب نوازشریف نے ایک نیا پینترا بدلا ہے کہ قطری خط کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور دوسرا انہوں نے کہاکہ میرا تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے لندن کے فلیٹس سے اور نہ ہی میرا کوئی تعلق ہے۔ بچوں کی انکم سے اور بچوں کو ان کے دادا نے پیسے دیئے تھے حالانکہ وہ پوری تفصیل بتا رہے تھے کہ کس طرح دوبئی کی فیکٹری بیچی ہے اور دبئی سے فیکٹری بیچ کر روپیہ کس طرح سے سعودی عرب لے کر گئے اور پھر وہاں سٹیل کی فیکٹری لگائی۔ اور بعد میں سعودی عرب کی فیکٹری بیچ کر وہ سارا پیسہ اس طرح وہ لندن لے کر گئے۔
نوازشریف کے خلاف سارے فیصلے جمعہ کے دن آتے ہیں اور اب 24 دسمبر کو پیر کا دن آ رہا ہے کیا اس سے فیصلہ بدل بھی سکتا ہے اس سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ عدالت کو بار بار مزید وقت دینا ممکن نہیں ہو گا زیادہ سے زیادہ وہ ایک فیصلہ دے سکتی تھی ایک مہلت دے سکتی تھی اب اس نے دے دی ہے میرا خیال ہے 24 تاریخ کو عدالت کو فیصلہ سنانا پڑے گا کیونکہ اب ویسے بھی خواجہ حارث کے پاس کون سے دلائل باقی رہ گئے ہیں انہوں نے اتنی تفصیل سے گفتگو کر لی ہے اب تقریباً 1½ دو سال سے مقدمہ دروع ہے اور مستقلاً اصل مقدمے سے پہلے پریس میں گفتگو شروع تھی قومی اسمبلی میں شروع تھی ان کی بیٹی نے ایک بات کی بیٹوں نے دوسری بات کی تھی ان کے عزیزوں رشتہ داروں نے تیسری بات کی تھی چنانچہ اتنا کچھ اس معاملے میں کہا جا چکا ہے کبھی قطری خط ان اور کبھی آﺅٹ ہو جاتا ہے اب لگتا یہی ہے کہ مزید کچھ کہنے کو باقی نہیں بچا ہے بہت زیادہ کچھ ہوا تو عدالت 7,5 دن کی اور مہلت دے دی گئی اس سے زیادہ کیس کو لٹکانا مشکل ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ٹرمپ کے خط کا جواب دینے کے سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ اس سے پہلے ہوتا یہ رہا کہ ہماری سابقہ حکومتوں نے باقاعدہ طور پر طے کیا کہ ہم آپ کی یہ جنگ لڑیں گے اور اس کے بدلے میں آپ ہمیں اتنے اخراجات دیں گے چنانچہ اب تک بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے پیسہ لینا ہے اور امریکہ یہ کہتا ہےکہ آپ نے کوئی نتائج نہیں دیئے چنانچہ جب وہ پیسے دینے کی بجائے ڈومور کہتے ہیں۔ کہ مزید کچھ کر کے دکھائیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس لحاظ سے پاکستان نے بہتر طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے کہ وزارت عظمیٰ میں ایک بات صاف طور پر کہہ دی ہے کہ ہم کرائے کے فوجی کے طور پر لڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ ہم نے اپنی پوری کوشش کی اس کے باوجود امریکہ کو ہم مطمئن نہیں کر سکے اور امریکہ بیار بار ڈومور کہتا رہا۔ اس جنگ میں ہمارے فوجی جانیں قربان کرتے رہے۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان وزیرستان کے دورے کے موقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم یہاں پرائی جنگ لڑتے رہے ہم آئندہ پرائی جنگ نہیں لڑیں گے۔ پھر انہوں نے افغانستان کے بارے میں یہ کہا کہ ہمیں یہاں کرائے کا فوجی سمجھا گیا میں یہ سمجھتا ہو ںکہ اب کافی سخت اور مضبوط موقف کا اظہار کیا ہے اور فوج ہی ہو سکتی تھی جو اس نقطہ نظر سے اختلاف کرتی لیکن فوج نے کھل کر میجر جنرل آصف غفور نے جو آئی ایس پی آر کے انچارج ہیں انہوں نے کھل کر مکمل طور پر سپورٹ کیا ہے عمران خان کو کہ ہم ان کی بات سے 100 فیصد متفق ہیں اور اس سے پہلے فوج یہ بھی کہہ چکی ہے اور عمران خان خود بھی کہہ چکے ہیں کہ میں خارجہ اور دفاعی معاملات میں فوج کے مشورے سے چلتا ہوں۔ اگرچہ اس پر بڑی لے دے کی گئی اپوزیشن والوں نے شور بھی مچایا کہ یہ کس طرح کی حکومت ہے لیکن یہ سمجھتا ہوں جیسا میں نے امریکہ کی مثال دی تھی کہ امریکہ میںبھی سٹیٹ آفس جو سیاسی فیصلے کرتا ہے اس کسے ساتھ ساتھ پینٹاگون جو دفاعی اور فوجی معاملات پر فیصلے کرتا ہے پینٹا گون کی بات سننی پڑتی ہے فوج کی بات سننی پڑتی ہے کیونکہ اگر کوئی بھی ملک کو کوئی فوجی فیصلہ کرتا ہے اور فوج کی رضا مندی حاصل نہیں کرتا تو فوج کی رائے نہیں لیتا فوج سے مشورہ نہیں کرتا۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ ملک کوئی درست فیصلہ کر سکتا ہے۔
طالبان کا عملاً افغانستان کے 60 فیصد حصے پر قبضہ ہے۔ امریکہ کی خواہش ےے پاکستان اگر چاہے بھی تو پاکستان پوری کرتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار عبداللہ گل نے کہا ہے کہ عمران خان نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ ہمیں امریکہ کی جنگ سے باہر آ جانا چاہئے لیکن ستمبر میں یوم شہداءپر عمران خان نے تقرر کی تو انہوں نے واضح اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو میں کسی اور کی جنگ سمجھتا تھا یعنی کہ انہوں نے اسے اپنا سمجھنا شروع کر دیا۔ اب وزیرستان گئے تو اب حالیہ پینرا بدلہ امریکہ نے افغانستان کے اندر اور اپنی شکست جو ہے اس کو قبول کر لیا تو اس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اپنا موقف پر یو ٹرن لے لیا۔ نکتہ چینی نہیں کر رہا لیکن میں اصولی موقف کی بات کر رہا ہوں اب حالات زلمے خلیل زاد کے کہنے پر ملا برادر اور دیگر جو افغانستان قیدی تھے ان کو جب ہم نے چھوڑا تو پاکستان کا ان پر احسان نہیں رہا بلکہ پاکستان کو امریکہ نے کہا تو چھوڑ دیا اس لئے ہمارا جو ان کے ساتھ کسی زمانے میں جو محبت کا اور اخلاص کا رشتہ تھا افغان عوام کے ساتھ وہ اب مجبوری کا ہے وہ محبت اور پیار جو تھا وہ اب نہیں رہا۔ دوسری بات افغانستان کے اندر ہم کوئی ایسی مداخلت کرتے ہیں یا مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرتے ہیں یا ہم ان کو کوئی گارنٹی دینے کی بات کرتے ہیں جیسے کہ وہ خفیہ خط جو لکھا گیا ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تو اس کے اندر یہی کہا گیا کہ گارنٹی جو ہے پاکستان دے۔ اگر پاکستان گارنٹی دے اگر پاکستان گارنٹی دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں جو کچھ ماضی میں ہوا اس کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ تھا بھی پاکستان گارنٹی دینے کی کوشش کر رہا بات کر رہا ہے یہ ایک نہایت بھیانک صورت حال ہے۔ دوسری طرف زلمے خلیل زاد نے ایک اور بات کہی کہ طالبان اس بات کے اوپر یقین دہانی دیں کہ افغان سرزمین پر جو ہے دہشت گردی باہر نہیں آئے گی اب یہاں افغان طالبان ان کی شرط مان لیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا ہے وہ دہشت گردی تھی اور جس طرح پر آج تک امریکہ نے انٹرنیشنل عدالت میں کوئی کیس چلایا نہ گوانتاناموبے کے اندر کسی آدمی کو پھانسی دی۔ ملا عبدالسلام کو بھی چھوڑ دیا گیا اس طرح کو بھی چھوڑ دیا گیا جو ملا عمر کے داماد ان کو بھی چھوڑ دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر وہ دہشتگرد تھے کو ان کو پھانسی کی سزا کیوں نہیں دی گئی۔ اس کا مطلب ہے امریکہ بہانے سے یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ اپنی شکست کامیابی کے اندر تبدیل کر دے۔ افغان طالبان کی 3 شرائط میں پہلی شرط یہ تھی کہ قیدی رہا کر دیں، ہم پر دہشتگردی کا لیبل اتار دیں۔ آج تک نائن الیون کی کوئی انکوائری پیش نہیں ہوئی۔ طالبان اگر پہلے دہشتگرد تھے تو اب وہ کیسے ختم ہو گئے جب امریکہ ان سے بات چیت کر رہا ہے۔ امریکہ واضح کہتا ہے کہ دہشتگردوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے۔ امریکہ پہلے غلط تھا یا اب غلط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا بجٹ 13 ٹریلین ڈالر بننا ہے، 17 سال کے اندر انہوں نے ایک ٹریلین ڈالر افعان جنگ میں جھونک دیا اس کے برعکس پاکستان کا بجٹ بہت چھوٹا سا ہے، 123 بلین ڈالر کا ہمیں خسارہ ہوا، 4 جرنیل افسر شہید ہو گئے، 80 ہزار کے قریب جانیں چلی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ خادم خاص احمد شاہ ہیں جن کو مولانا سمیع الحق نے بچپن سے پالا ہے، میں ان کو بڑے اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ مولانا سمیع الحق کے ساتھ بہت مودب، پیار کرنے والے مخلص انسان تھے، وہ ان کے ڈرائیور، خادم، بیٹے کی طرح بھی تھے، سیکرٹری بھی تھے۔ پوسٹمارٹم کی جہاں تک بات ہے میں اس وقت وہاں موجود تھا، مولانا کا جسم بڑی بری طرح سے کاٹ دیا گیا تھا، ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ ان کی بنیادی نسوں کو کاٹا گیا تھا یہ پروفیشنل کا کام تھا کسی اناڑی کا نہیں اسٹیٹ نے اپنا کام کیوں انجام نہیں دیا۔ حامد الحق حقانی جو کہہ رہے ہیں اس سے اختلاف رائے رکھتا ہوں لیکن پولیس کی فرانزک لیبارٹری کی تصاویر کیسے لیک ہو گئیں؟
ضیاءشاہد نے کہاکہ جب سے عمران خان نے یہ کہہ دیا کہ وقت سے پہلے بھی انتخابات ہو سکتے ہیں اسوقت سے لگتا ہے نوازشریف کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔ انکا خیال ہے مڈٹرم الیکشن ہونے والے ہیں وہ دوبارہ جیت کر آ جائیں گے۔ معروف کالم نویس نے مجھے بتایا کہ موجودہ حالات کی ذمہ دار نوازشریف اور زرداری کی حکومتیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت‘ عدالتوں‘ احتساب کا سارا نظام لزرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہندوﺅں کی زمینوں پر جو قبضہ کئے بیٹھے ہیں انکے بارے میں رمیش کمار نے بتاکر حیران کر دیا کہ لیاقت نہرو معاہدے کے تحت یہ تھا کہ بھارت میں ایسی اراضی پر مسلمان چیئرمین اور پاکستان میں ہندو چیئرمین ہو گا لیکن آج تک پاکستان میں کوئی ہندو چیئرمین نہیں بنا۔ اب قبضہ کرنے والوں نے رمیش کمار کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں‘ خوفناک بات ہے۔ سپریم کورٹ کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنی چاہئے۔ دھمکی دینے والوں کو فوری جیل میں ڈالنا چاہئے۔ چیف جسٹس فوری اس بات کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں بہت سارے غلط قوانین ہیں‘ ایک غلط قانون یہ بھی ہے کہ جب کوئی زخمی ہسپتال پہنچتا ہے تو اسکو فوری طبی امداد دینے کے بجائے کہا جاتا ہے کہ یہ پولیس کیس ہے۔پوری دنیا میں یہ خوفناک قانون موجود نہیں۔ چیف جسٹس کو فوری اس قانون پر سوموٹو مداخلت کرنی چاہئے اور زخمی کو فوری طبی امداد دینے کا قانون لاگو ہونا چاہئے۔ چیچہ وطنی میں سسرالیوں کے ظلم کا شکار ہوکر جب زخمی خاتون ہیلتھ سینٹر پہنچی تو کہا گیا کہ یہ پولیس کیس ہے۔ پولیس آئے گی تو علاج کریں گے۔
سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہاکہ چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے تباہ ہونے والے اے ٹی آر کو 2سال ہو ئے‘ اسی طرح ائربلیو‘ بوجھا‘ شاہین کے متعدد حادثات سب کے سامنے ہیں۔ پی آئی اے‘ ائربلیو اور شاہین کے ملاکر 16یا 17کے قریب کریشز آج تک ہو چکے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ کسی حادثے پر کوئی ایکشن ہوا ہو اور سزا ملی ہو۔ پی آئی اے میں سینکڑوں افراد کی ڈگری جعلی ہیں‘ پائلٹس کے علاوہ انجینئرز‘ ٹیکنیشن کی جعلی ڈگری ہیں۔ ائربلیو شاہد خاقان عباسی کے سیاسی اثرورسوخ اورائرفورس کے ریٹائرڈ لوگوں کی وجہ سے بچتی رہی۔ شاہد خاقان عباسی نے فضائیہ کے بہت سارے ریٹائرڈ لوگوں کو ائربلیو میں بھرتی کر رکھا ہے۔ جسکی وجہ انکوائریاں ٹھنڈی پڑ جاتی ہیں۔ آج تک حکومت کبھی بھی کسی طیارے کے کریش ہونے کی رپورٹ کو ظاہر نہیں کر سکی۔ 2سال بعد کہا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کے کریش ہونے والے اے ٹی آر کی رپورٹ نہیں ہے۔ جعلی ڈگری والوں پر کوئی انکوائری نہیں ہو رہی‘ اس پر نیب بھی ایکشن نہیں لے رہا۔ ایف آئی اے‘ انتظامیہ‘ پولیس‘ مقامی حکومت کوئی ایکشن نہیں لے رہا۔ انہوں نے مزید کہاکہ جعلی ڈگری کے حوالے سے سول ایوی ایشن کے عہدیداران کو سزا ملنی چاہئے‘ جانچ پڑتال کرنا اسکا کام ہے۔ جب کوئی طیارہ کریش ہوتا ہے تو سول ایوی ایشن انکوائری شروع کر دیتی ہے حالانکہ اسکی تو اپنی انکوائری ہونی چاہئے۔ جب تک کسی کو کیفرکردار تک نہیں پہنچائیں گے۔ حادثات ہوتے رہیں گے۔ میں نے آج تک کسی طیارے کے کریش ہونے کی انکوائری رپورٹ نہیں دیکھی۔ مشیر صحت پنجاب حنیف پتافی نے کہاکہ پنجاب حکومت کا اصولی مﺅقف ہے کہ ایمرجنسی میں جب کوئی زخمی آئے گا تو اسے فوری طبی امداد دی جائے گی پولیس کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ چیچہ وطنی میں جب زخمی خاتون ہیلتھ سنٹر پہنچی تو اسکو فسٹ ایڈ دی گئی لیکن سر پر شدید چوٹ کی وجہ سے ساہیوال ریفر کر دیا۔ انہوں نے وعدہ کیا جو بھی زخمی ایمرجنسی پہنچے گا تو فوری فسٹ ایڈ دی جائے گی۔ پولیس کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ قانونی تقاضے بعد میں پورے کئے جائیں گے۔
































