Tag Archives: Zia Shahid

اپنے قد سے بڑے کام کرنا سابق حکومت کی بڑی غلطی تھی: شیخ رشید

لاہور(ویب ڈیسک ) وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہےکہ سابق حکومت کی بڑی غلطی تھی وہ اپنے قد سے بڑے کام کررہے تھے اور ہر آدمی نے نوازشریف کو سمجھایا کہ اپنے سے بڑا کام نہ کرو۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نےکہا کہ نوازشریف اور مریم کی ڈیل نہیں ہوئی اس لیے انہوں نے خاموشی توڑ دی جب کہ شہبازشریف این آر او کے لیے 90 کے زاویے سے مرے جارہے ہیں، ان کی میڈیکل رپورٹ آتی ہے کہ چھت کھلی ہونی چاہیے۔وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے لیے اے سی لگا ہونا چاہیے، حوالات میں بیڈہو اور ناشتہ بہترین دیا جائے، ایسی سہولتیں اور ہفتے میں دوبار اسمبلی سے خطاب کا موقع مجھے دے کر قیدی بنایا جائے تو کبھی ضمانت کی درخواست نہ کروں۔انہوں نےکہا کہ سابق حکومت کی بڑی غلطی تھی وہ اپنے قد سے بڑے کام کررہے تھے، ہر آدمی نے نوازشریف کو سمجھایا کہ اپنے سے بڑا کام نہ کرو۔شیخ رشید نےمزید کہا کہ وزیراعظم کو تین یا پانچ سال میں الیکشن کرانےکا قانونی اور آئینی حق ہے۔وزیر ریلوے نے بتایا کہ 31 دسمبر تک ہمارے پاس ٹکٹ کی گنجائش نہیں ہوگی، دو مال گاڑیاں رواں ماہ شروع کررہے ہیں، دونوں پر کنٹینرز لانے لیجانے کی سہولت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ لاہور اور راولپنڈی کے درمیان ایک اور ٹرین چلانے کا مںصوبہ ہے، تمام ریلوے ٹریک تبدیل کریں گے۔

پی ٹی ایم وہ حد عبور نہ کرے کہ ریاست کو قدم اٹھانا پڑے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی(ویب ڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی حد عبور نہ کریں کہ پھر ریاست کو اپنی رِٹ قائم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے پڑیں۔راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی آرہی ہے اور وقت قریب ہے کہ ہم مکمل امن کی طرف چلیں گے۔آپریشن رد الفساد کے دوران ملک بھر میں کی گئی کارروائیوں کے اعدادشمار بتاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے تحت 44 بڑے آپریشن کیے گئے جس کے دوران ملک سے 32 ہزار سے زائد ہتھیار ریکور کیے گئے۔راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی واقع ہوئی ہے اور وہاں فراری ہتھیار ڈال رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افواج پاکستان کی زیادہ تر توجہ بلوچستان کی جانب ہے، تاکہ وہاں صورتحال بہتر ہو۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند سالوں میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں بہت بہتری واقع ہوئی ہے، جس کا کریڈٹ پاکستان رینجرز سندھ کو جاتا ہے، جس نے جانفشانی سے کام کیا ہے اور اس شہر کی روشنیاں واپس لوٹائی ہیں جبکہ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی ایک زمانے میں جرائم کی شرح کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر تھا لیکن اب یہاں صورتحال بہت بہتر ہے، شہر میں دہشت گردی کے واقعات میں 99 فیصد جبکہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 93 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔پشتون تحفظ موومنٹ والوں کے صرف 3 مطالبات تھے، چیک پوسٹس میں کمی، مائنز کی کلیئرنس اور لاپتہ افراد کی بازیابی، یہ وہ مطالبات ہیں جو ریاست کی ذمہ داری ہے اور وہ کررہی ہے۔چیک پوسٹس میں کمی کے مطالبے کے حوالے سے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج نے صورتحال میں بہتری آنے پر چیک پوسٹوں میں کمی کی ہے، اگلے سال پاک افغان بارڈر پر خاردار تار لگانے کا کام مکمل ہوجائے گا، جس سے صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے 15 سال جنگ لڑی، جس کے دوران بہت سے دہشت گرد مارے بھی گئے، اس وقت بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی فورس وہاں بیٹھی ہے تو یہ کیسے ثابت ہوگا کہ لاپتہ افراد ان کی فورس میں شامل نہ ہوں، یا کسی اور جگہ لڑائی ہیں استعمال نہ ہورہے ہوں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ لاپتہ افراد سے معلق 2 جگہوں پر شکایات موصول ہوئیں اور مجموعی طورپر 7 ہزار کیسز آئے، جن میں سے تقریباً 4 ہزار کیسز حل ہوچکے ہیں۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ 70 ہزار پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لڑتےہوئے شہید یا زخمی ہوئے، وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں۔ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی ایم والے ڈیڈ لائن کراس کریں گے تو ہم انہیں چارج کریں گے لیکن ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا ہوا ہے کیونکہ وہ دکھے ہوئے ہیں ان کے علاقے میں پندرہ سال جنگ ہوئی جس کا شکار ان کے بہت سے لوگ ہوئے، ان کے مسئلے سے ریاست یا فوج نے آنکھ نہیں پھیریں۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم والے اس لائن کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ان کے ساتھ وہی ہوگا جو ریاست اپنی اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لیے کرتی ہے اور ہم کریں گے۔a

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے جس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر مملک برائے داخلہ امور شہر یار آفریدی اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود ہیں۔اجلاس میں ملکی اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال سمیت چین، روس اور امریکا کے ساتھ تعلقات کی صورتحال بھی زیر غور ہے، اس کے علاوہ اجلاس میں احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

عمران کی تقریر قوم کے روشن مستقبل کی نوید ، اللہ انکی مدد کرے ، میں یہ بھی جانتا ہوںکہ وہ مخالفت کی پروا کئے بغیر آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، معروف صحافی ضیا شاہد کی پر گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد نے کہا ہے کہ 51 سال سے جرنلزم میں ہوں پوری زندگی میں کبھی کسی وزیراعظم یا صدر کو ان موضوعات پر بات کرتے نہیں سنا جن پر وزیراعظم عمران خان نے بات کی، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے اور ہم سب پاکستانیوں کو بھی توفیق دے کہ ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں اور انہیں ان کے عزائم پورے کرنے میں کامیاب بنائیں۔ چینل ۵ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ عمران خان نے جو پروگرام دیا ہے اس میں کرپٹ عناصر کیلئے کوئی رعایت نہ ہو گی۔ منی لانڈرنگ، کرپشن میں ملوث عناصر کا سخت احتساب ہو گا، نیب کے ادارے کو مضبوط بنایا جائے گا اسے سہولتیں دی جائیں گی تا کہ اس کی کارکردگی میں اصافہ ہو، اسی طرح تمام اداروں کے راستے میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں گی۔ ان کی کمی کوتاہی ازخود دور ہو جائے گی وزیراعظم عمران خان نے عدالت سے غریب بیواﺅں کو سہولت دینے کی بات کر کے قوم کے دل جیت لئے میں اس بات پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں، میں بطور صحافی خوب آگاہ ہوں کہ بیواﺅں اور یتیموں پر کیا گزرتی ہے جب انہیں عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔ عمران خان نے تعلیم اور صحت کی زبوں حالی کی بات کی موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں، گندگی کے نقصانات کی بات کی جو آج سے پہلے کسی اعلیٰ عہدیدار کو کرنا نصیب نہ ہوئی۔ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی، کراچی کے ساحل سمندر کو سیاحت کیلئے خوبصورت بنانے کی بات کی۔ کیا ایسی باتیں پہلے کسی نے کبھی کی ہیں، مالدیپ چھوٹا سا ملک ہے لیکن اس نے اپنے سمندری 63 جزیروں کو اس طرح خوبصورت بنا رکھا ہےکہ ساری دنیا سے سیاح ان کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، پاکستان میں کراچی سے گوادر تک ساحل سمندر پر بے شمار جگہوں پر ساخت کی سہولیات دے کر بھاری زرمبادلہ اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کی ایسی خوبصورت تقریر کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں، انہوں نے ٹھیک کہا کہ جب کرپٹ طبقہ کے مفادات کو زک پڑے گی تو وہ ضرور چلائے گا کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔ ملک کو لوٹنے والوں اور ان موٹے پیٹ والوں کو تو یقینی طور پر خطرہ محسوس ہو گا۔ میں جس عمران خان کو جانتا ہوں وہ راستے میں آنے والی ہر مخالفت کی پرواہ کئے بغیر چلتا چلا جائے گا، اس نے 22 سال جدوجہد کی ہے جو ایک مشکل ترین کام ہے۔ عمران خان کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہے کہ وہ اسی طویل جدوجہد میں ایک بار بھی مایوس نہ ہوئے اور ظالمانہ نظام کے خلاف لڑتے رہے۔ عمران خان سیاست کی پرخار وادی کے بجائے ایک لگژری زندگی باآسانی گزار سکتے تھے، جمائما سے طلاق ہوئی تو برطانوی جج نے کہا کہ آپ اربوں کی آدھی جائیداد چھوڑ رہے ہیں تو جواب میں عمران نے کہا کہ جمائما میرے بچوں کی بہتر تربیت کر سکتی ہے۔ جج صاحب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ آپ عظیم آدمی ہیں۔ جمائما چاہتی تھی کہ عمران خان اسکے ساتھ برطانیہ میں رہیں لیکن عمران نے انکار کر دیا اور ایک طویل جدوجہد کا پرخطر راستہ اختیار کیا۔ آج وہی عمران خان پاکستانی قوم کو ایک نئے روشن مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔

بلوچستان میں فورسز کی گاڑی کو حادثہ ، 4 اہلکار شہید

خضدار(ویب ڈیسک) ضلع واشک کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوگئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک ایران سرحد کے قریب بلوچستان کے علاقے واشک میں فورسز کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ 6 افراد زخمی بھی ہوئے۔سیکورٹی اہلکاروں نے فوری امدادی کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں اور لاشوں کو سی ایم ایچ خضدار منتقل کردیا۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایف سی کا دو گاڑیوں پر مشتمل قافلہ جارہا تھا کہ ایک گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر الٹ گئی۔

کامن ویلتھ گیمز, ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے پاکستان کیلیے پہلا میڈل جیت لیا

آسٹریلیا(ویب ڈیسک ) کامن ویلتھ گیمز میں ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے پاکستان کے لیے پہلا میڈل جیت لیا۔گولڈ کوسٹ میں جاری 21 ویں دولت مشترکہ گیمز میں طلحہ طالب نے ویٹ لفٹنگ کی 62 کے جی کیٹگری کے سنیچ ایونٹ میں حریف ویٹ لفٹرز سے 5 کلو زائد ریکارڈ 132 کلو وزن اٹھایا جب کہ کلین اینڈ جرک میں 151 کلوگرام سمیت مجموعی طور پر 283 کلوگرام وزن اٹھاتے ہوئے برانز میڈل کے حقدار قرار پائے۔ واضح رہے کہ یہ کامن ویلتھ گیمز 2018 میں پاکستان کا پہلا میڈ ل ہے۔

شیخ مجیب کو محب وطن کہنے پر نواز شریف کے استاد ، دانشور ڈاکٹر صفدر محمود کا مضمون جراتمند انہ تحریر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ زینب بچی کے والد صاحب! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کراچی سے لے کر طورخم تک تمام والدین یہ سمجھتے ہیںکہ وہ آپ کی نہیں بلکہ ان کی بیٹی تھی اور اللہ پاک ہمارے حکمرانوں اور پولیس کے لوگوں کو توفیق عطا فرمائے۔ جو ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں۔ آپ نے جے آئی ٹی کو اس لئے مسترد کر دیا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والا کوئی پولیس افسر جے آئی ٹی میں شامل نہیں ہونا چاہتے؟اب نام تبدیل کیا گیا ہے کیا آپ کو اس پر اعتماد ہے؟ قصور سانحہ پر میری کچھ بیورو کریٹس اور بیورو چیفس سے بات ہوئی ہے اس کے علاوہ شہریوں سے بھی بات ہوئی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ نوازشریف نے بھی امین انصاری صاحب سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ زینب کے والد نے کہا ہے کہ نوازشریف ہمارے سابق وزیراعظم ہیں ضرور آئیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اپنی طور طاقت اور کوشش قاتلوں کو گرفتار کرنے پر لگا دیں۔ وزارت اطلاعات پنجاب کے وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن ہیں۔ ان کے مشیر ملک احمد خان صاحب وکیل بھی ہیں۔ ان کا تعلق بھی قصور سے ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کی ہے اس میں دعویٰ کیا ہے کہ قاتلوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ممکن ہے کل تک اسے پکڑ لیا جائے گا مظاہرین ڈی سی کے دفر کے اردگرد آئے تھے۔ مظاہرین پر گولی چلانے کا کس نے حکم دیا۔ آدھا قصور جانتا ہے کہ گولی چلانے والا کون تھا۔ میں نے ڈی سی او قصور محترمہ سائرہ خاتون نے یا تو گولی چلانے کا حکم دیا یا ان پولیس افسران نے جو موقع پر موجود تھے۔ پولیس ملازم میں محمد راشد سربراہی کر رہے تھے۔ اس میں محمد شفیق، انتظار علی اور عابد شامل تھے۔ ان چاروں کے نام اگر شہری جانتے ہیں تو کیا قصور کی پولیس اندھی، کانی، لولی لنگڑی ہے جسے سنائی نہیں دیتا۔ سب جانتے ہیں ڈی سی او کی سکیورٹی کیلئے یہ چار لوگ وہاں موجود تھے۔ جنہوں نے گولیاں چلائیں، بقول ان کے مجمع ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وزیراعلیٰ صاحب سے ہم نے کل بھی درخواست کی تھی کہ مظاہرین کے مجمع کو کنٹرول کرنے کے لئے پہلے آنسو گیس پھینکی جاتی ہے ہے۔ اس کے بعد واٹر گن استعمال کی جاتتی ہے۔ تیسری چیز ربڑ کی گولیاں ہوتی ہیں۔ جس سے مظاہرین کو منتشر کیا جاتا ہے چوتھی چیز یہ ہے کہ اگر خوانخواستہ گولی مارنے کی ضرورت پیش آ جائے تو پیروں میں گولیاں ماری جاتی ہیں۔ جس سے انسان زخمی تو ہوتا ہے مرتا نہیں۔ لیکن ماڈل ٹاﺅن اور قصور سانحہ میں سیدھی گولیاں سینوں پر فائر کی گئیں۔ آئی جی صاحب اس کا جواب تو دیں کہ سکیورٹی والوں کے فوراً ہی گولیا چلا دیں اور ایک دوسرے کو کہہ رہا ہے کہ اوپر چلاﺅ۔ ان کی آواز بھی پہچانی جا سکتی ہے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف کاٹی گئی۔ کوئی تو ہو گا جس نے انہیں گولی چلانے کا آرڈر دیا ہو گا۔ یا تو ڈی سی او محترمہ نے آرڈر دیا ہو گا جو فوراً دفتر چھوڑ کر اپنی رہائش گاہ میں چلی گئی تتھیں۔ ڈی سی او صاحب جنہیں تبدیل کیا گیا ان کا بیان ہے کہ میں نے فائر کھولنے کا آرڈر نہیں دیا تھا۔ جب سارے حقائق سامنے ہیں تو انتظامیہ والے اصلی شخص کا نام کیوں نہیں بتاتے جس نے یہ آرڈر دیا تھا۔ شہباز شریف صاحب صبح سویرے ان کے گھر گئے ھے۔ اور اچھے منتظم گنے جاتے ہیں۔ برائے کرم اے پی سی، کرائم سے پہلے ذمہ داران کا پتا تو کریں۔ بچی اور اس کے قاتلوں کا معاملہ الگ ہے۔ میں سمجھتا ہو ںکہ صوبے کا وزیر قانون کوئی ہے ہی نہیں۔ چار دنوں تک بچی غائب رہی۔ پولیس اس وقت اس شخص کو تلاش کر لیتی۔ آج کے اخبار کے رنگین صفحے پر ایس ایچ او کا بیان چھپا ہوا ہے۔ جو بچی کے رشتہ داروں کو کہہ رہا ہے کہ اس پولیس والے کو دس ہزار انعام دو۔ اس نے لاش برآمد کر لی ہے۔ ایس ایچ او صاحب خدا کا خوف کرو۔ خدا کرے کہ آپ کے بچوں کو گولیوں سے بھون دیا جائے۔ پھر تم بچے کی لاش لانے والے کو دس ہزار انعام دینا۔ آئی جی صاحب آپ تقریریں تو بہت کرتے ہیں۔ جو آپ کے پولیس والوں کی ایسی تربیت کی ہے۔ کوئی خدا کا خوف کریں۔ میرا نمائندہ بتاتا ہے کہ واقعہ کے بعد ڈی سی او سائرہ صاحبہ غائب رہیں۔ آج وہ پہلے دن دفتر آئی ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے بات تک کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ کس قسم کے افسران ہیں۔ جو پبلک سرونٹ ہیں۔ لیکن پبلک کو جواب نہیں دیتیں۔ خادم اعلیٰ صاحب ان افسران کو بھی خادم اعلیٰ بنائیں۔ پاکستان کے آرمی چیف نے جس انداز میں امریکی جبرئیل سے بات کی ہے۔ پھر سینئر سے بات کی ہے۔ اس سے پاکستانی قوم میں حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے تو کوئی ری ایکشن نہیں دکھایا۔ آرمی چیف صاحب کردار دینی چاہئے جو کہتے ہیں کہ ہم کوئی غیر جمہوری کام نہیں کریں گے اور خارجی معاملات پر بھی ڈٹ کر جواب دے رہی ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ سب سے فورس فل جوابات آرمی چیف کی جانب سے آ رہے ہیں انہوں نے بڑی ہمت سے امریکی جرنیلوں کا جواب دیا ہے۔ ٹرمپ ایک پاگل شخص ہے اس کا دور بھی گزر جائے گا۔ امریکہ میں اصل حکومت تھینک ٹین کی ہوتی ہے۔ وہاں کی یونیورسٹیاں بہت مضبوط ہیں۔ ان کی پالیسی بہت مضبوط پالیسی ہووتی ہے۔ لیکن وہ اس طرح کی دھمکیاں نہیں دیتیں۔ آج امریکی جرنیل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے اندر کسی قسم کی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکی جرنیل اورسنیٹر کے متوازن جوابات ہیں۔ یہ صورتحال کو بہتری کی طرف لے جانے والے بیانات ہیں۔ ٹرمپ کے بارے چھپا کہ اس کا معائنہ ہونے جا رہا ہے لیکن فوری اس کے ترجمان کا بیان آیا کہ اس معائنے میں دماغی معائنہ شامل نہیں ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ افغانستان میں جہاں طالبان کی اب بھی 30 فیصد حکومت قائم ہے۔ اس نے بھی اتنی قربانیاں نہیں دیں۔ پاکستان کے 70 ہزار افراد کی جانور کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ امریکی پاگل صدر کے سامنے ہم سر کو نہیں جھکا سکے۔ ملکوں کے درمیان ایک خاص قسم کا ”ڈکیورم“ ہوتا ہے حکومتیں جیسی بھی ہوں ان کے رہنماﺅں کی زبان مہذب ہوا کرتی ہے۔ مجھے کل سے بہت فون اور ای میل آئے ہیں کہ میاں نوازشریف کو مجیب الرحمن کے بارے ایسا بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔ ڈاکٹر صفدر محمود کا کالم جنگ اخبار میں لکھا ہے۔ انہوں نے ”مائی ڈیر نواز شریف“ کے عنوان سے کالم میں لکھا ہے کہ جناب اس سے زیادہ زیادتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ مسلم لیگ کا صدر ہو اور وہ مجیب الرحمن کو محب وطن قرار دے۔ جس کی بیٹی نے جماعت اسلامی کے7 رہنمائں کو پھانسی دے چکی ہے اور مزید انتظار میں ہے۔ ڈاکٹر صفدر نے نواز شریف کے بارے لکھا ہے کہ آپ شاید انڈین لابی میں گھر گئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ دو قومی نطریئے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ایک موجودہ رکن، جس کا تعلق بھی مسلم لیگ (ن) سے ہی ہے۔ اس کا نام عاشق گوپانگ ہے جس کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ والد زینب، امین انصاری نے کہا ہے کہ ابھی کچھ دیر قبل آر پی او ملتان مجھ سے ملاقات کر کے گئے ہیں، انہوں نے مجھے اعتماد میں لیا ہے اور ہمارے لڑکوں سے بھی بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اور زینب آپ کی نہیں ہماری بھی بیٹی ہے۔ آپ توقع رکھیں ہم پورے اخلاص کے ساتھ تفتیش کر رہے ہیں اور جلد اس کا رزلٹ دیں گے۔ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) راحت لطیف نے کہا ہے کہ نوازشریف صاحب کا اصل روپ اب سامنے آیا ہے۔ میں مجیب الرحمن کو خود بھی ملا ہوا ہوں۔ اس دن جب انہیں پیرول پر والدہ سے ملنے کیلئے لایا گیا۔ نوازشریف کو اپنا دماغی معائنہ کروانا چاہئے۔ میں اس وقت آرمی میں تھا جب مجیب الرحمن سے ملا۔ انہوں نے اپنے چھ نکات دیئے تھے۔ شاید نواز شریف بھی ان کی طرح کہتے ہیں کہ میرے سینے میں بہت سارے راز دفن ہیں۔ مجھے مجبور نہ کیا جائے کہ انہیں بیان کر دوں نواز شریف تین مرتبہ اقتدار میں آئے۔ لیکن اقتدار چھیننے کے بعد شاید وہ صدمے میں ہیں۔ نوازشریف کے بیان پر جوڈیشری کو ”سوموٹو“ ایکشن لینا چاہئے۔ ضرور نوازشریف سے پوچھنا چاہئے کہ انہوں نے ایسی بات کیوں کی۔ جس بندے کا دماغ درست نہ ہو۔ وہ بہکی بہکی باتیں کیا کرتا ہے میں نے ایک مسلم لیگی سے بات کی اس نے جواب دیا کہ میاں صاحب کا کچھ اور مطلب تھا۔ حکومت نے ابھی بھی انہیں سرکاری پروٹوکول دے رکھا ہے۔ انہیں دوبارہ پارٹی کا صدر چن لیا ہے۔

چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کی چیف جسٹس سے ملاقات، بھارت کی جانب سے پانی کی بندش کی طرف توجہ دلائی

لاہور (خصوصی رپورٹر) جمعہ کی صبح سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار سے روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ انہوں نے چیف جسٹس صاحب سے بھارت کی طرف سے پاکستان کے اہم ترین مسئلے یعنی مشرقی دریاﺅں ستلج اور راوی میں پانی کی سو فیصد بندش کی طرف ان کی توجہ دلائی اور کہا کہ پاکستان اور بھارت میں انڈس واٹر ٹریٹی 1960ءکے باوجود بھارت سال بھر ہمارا سارا پانی بند نہیں کر سکتا کیونکہ یہ معاہدہ زرعی پانی کا ہے اور انٹرنیشنل واٹر کنونشن 1970ءکے مطابق پانی کے دیگر تین استعمال یعنی گھریلو پانی، آبی حیات اور ماحولیات کیلئے مخصوص پانی کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی حکومت اور متاثرہ عوام اس ضمن میں انٹرنیشنل کورٹ میں جا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے بڑی توجہ سے ان کی معروضات سنیں اور کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں ماحولیات پر بہت زور دیا جارہا ہے۔ میں نے خود کئی برس پہلے نوائے وقت میں محترم مجید نظامی مرحوم کا تفصیلی بیان پڑھا تھا جس میں سیلاب کے زمانے کے سوا بھارت کی طرف سے ہمارے دو دریاﺅں کے پانی کی مکمل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ میں پانی کی کمی کے مسئلے سے بخوبی واقف ہوں اور پاکستان کو اس امر کاجائزہ لینا ہو گا کہ کیا ٹریٹی 1960ءکے اندر ایسی کوئی قانونی گنجائش ہے کہ ہم اس کی رو سے ستلج اور راوی کیلئے بھی کچھ پانی کا مطالبہ کر سکیں۔ اس مسئلے کا قانونی پہلو سے جائزہ لینا ہو گا۔ تاکہ کوئی راستہ نکالا جا سکے۔ انہوں نے چیف ایڈیٹر خبریں کی کاوشوں کو سراہا جن کی تفصیل ان کے سامنے بیان کی گئی تھی اور کہا کہ آپ اس ایشو پر ضروری مواد جمع کریں میں بھی ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس پر غور کروں گا۔ انہوں نے جناب ضیا شاہد کو دعوت دی کہ اس مسئلے پر آپ بھی تیاری کریں، قانون کے ماہرین اور آبی ماہرین سے مشورے مکمل کریں اور دو ہفتے بعد ہم ایک بار پھر ملیں گے۔ خدا کرے کوئی قانونی شکل نکل آئے تاکہ مستقبل میں پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے پیش نظر ہماری آنے والی نسلوں کو تکلیف دہ مسائل سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

 

بھارتی آبی جارحیت کیخلاف للکار ، یورپی یونین نے ضیا شاہد اور محمد علی درانی کو بلا لیا

ملتان(رپورٹ: مہدی شاہ، طارق اسماعیل، تصاویر: خالد اسماعیل) ستلج راوی بیاس کا سارا پانی بند کیوں؟ پاکستان کو خشک اور بنجر کرنے کی گھناﺅنی بھارتی سازش اور بھارت کی آبی دہشت گردی کے حوالے سے ستلج پل کے ساتھ دریا کے اندر روزنامہ خبریں کے زیراہتمام عوامی اکٹھ ہوا۔ عوامی اکٹھ میں چیف ایڈیٹر ”خبریں“ جناب ضیاشاہد نے خصوصی طور پر شرکت کی اور بھارت کی آبی دہشت گردی پر بھارت اور غلط معاہدہ کرنے والوں کو للکارا۔ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر وسیم اختر، سابق سنیٹر محمد علی درانی، دانشور، کالم نگار اور تجزیہ نگار مکرم خان، اجمل ملک، جام حضور بخش سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ پانی کی بندش اور بھارت کی آبی دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والے عوامی اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے سابق سنیٹر محمدعلی درانی نے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے اپنے صحافتی کیریئر کی گولڈن جوبلی پر ستلج، راوی، بیاس کو ریت میں تبدیل کرنے کے جرم کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جناب ضیاشاہد کی طرف سے بھارت کی آبی دہشت گردی اور خطے کے 3کروڑ سے زائد عوام کو پیاس سے مارنے کی سازش کو بے نقاب کئے جانے پر انہیں برطانیہ اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی طرف سے دعوت نامے ملے ہیں اور وہاں جا کر بھارت کی آبی دہشت گردی بارے بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی آبی دہشت گردی پر بڑے بڑے سیاستدان اور ذمہ دار کیوں خاموش ہیں؟ بہاولنگر کے ایک سپوت نے خطے کے مظلوم عوام کی آواز بن کر دنیا کو باور کرایا ہے کہ ستلج راوی کے واسی، وادی ستلج کو ہاکڑہ نہیںبننے دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت پاکستان اپنی ذمہ داری سمجھے اور سندھ طاس معاہدے سے ملنے والی رقم سے دریائے ستلج میںپانی کے بہاﺅ کو برقرار رکھنے کے لئے تریموں سے تریموںاسلام لنک نکالے۔ انہوںنے کہا کہ مودی نے پاکستان کا پانی روک کر ثابت کیا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک نہیںبلکہ ایک مذہبی جنونی ملک ہے اور پاکستان کے عوام کو پیاس سے مارنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو خطے کے عوام کے حقوق کے لئے جھکنا اور اقوام متحدہ کو بھارت کو آبی ماحولیاتی دہشت گرد ڈیکلیئر کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے جس طریقے سے آبی دہشت گردی کی ہوئی ہے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی عدالتوں سمیت کوئی بھی اس کی اجازت نہیںدیتا۔ انہوں نے جناب ضیاشاہد کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانی کے حصول کی کاوش اور تحریک کسی سیاست کی غرض سے نہیں چلا رہے بلکہ خطے کی مٹی اور واسیوں سے محبت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان سفارتی سطح پر بھرپور احتجاج کرے کہ بھارت پاکستان کے دریاﺅں کا پانی روک کر عوام کی جانوں سے کھیلنے سے باز رہے۔ ممبر صوبائی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میںجماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے عوامی اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے بھارت کے حکمرانوں سے ذاتی تعلقات اور دوستی نبھانے کے لئے ملک اور قوم کے حقوق کا سودا کیا ہے اور دشمنوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت سے اپنے حصے کے پانی کے حصول کے لئے جو تحریک جناب ضیاشاہد نے شروع کی ہے اس کے مثبت اور دور رس نتائج برآمد ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں تریموں سے نہر نکالنے کا جو منصوبہ تھا اس پر فوری عمل کیا جائے اور حکومت پانی کے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے ، کیونکہ ہم ستلج سے ہیں اور ستلج ہم سے ہے۔ انہوںنے جناب ضیاشاہد کو پانی کے حصول کے لئے شروع کی گئی تحریک پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹروسیم اختر نے کہا کہ جناب ضیاشاہد کی پانی کے حصول کی کاوشوں سے بھارت کی آبی دہشت گردی اور ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں کے حوالے سے شعور وآگہی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیں پینے، آبی حیات، جنگلی حیات اور ماحالیات کے لئے بھی پانی دےدے تو اس سے زیرزمین پانی کی سطح بھی بہتر ہوگی۔ زراعت کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ زیرزمین پانی کا لیول بہتر ہونے سے پینے کے پانی میں آرسینک جیسے مضرصحت ذرات اور مادے بھی کم ہوجائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ آبی معاہدے کے مطابق بھی ستلج میں 32فیصد پانی آنا ضروری ہے لیکن بھارت پانی پر قبضہ کرکے ہماری زرعی زمینوں کو بنجر بنانے پر تلا ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ 2018ءکے الیکشن میں بھی ہمیں ایسے فیصلے کرنا ہونگے جو ہمارے حقوق کی بات کریں اور پانی کے حصول کے لئے تحریک میں شامل ہو کر پانی حاصل کرنے کویقینی بنائیں۔ معروف دانشور، تجزیہ نگار اور کالم نگار مکرم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب ضیاشاہد کی طرف سے بھارت سے پانی کے حصول کے لئے شروع کی جانے والی تحریک کی گونج اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ چکی ہے۔ انہوںنے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے دریائے ستلج کے پاکستان میں داخل ہونے سے لیکر بہاولپور تک کے علاقوں کا دورہ کیا اورعلاقے میںپانی کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ستلج واسی جناب ضیاشاہد کی تحریک میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے حصے کے پانی کے حصول کے لئے آواز بنیں اور اپنا حصہ ڈالیں۔ ضلع کونسل لودھراں کے چیئرمین میاں راجن سلطان پیرزادہ نے کہا کہ ہمیں ستلج، راوی اور بیاس کے لئے جنگلی حیات، آبی حیات، جنگلات اور پینے کے مقاصد کے لئے پانی کے حصول کے لئے عالمی عدالتوں میں بھرپور طریقے سے کیس لڑنا چاہےے۔انہوں نے کہاکہ بھارت، ستلج، بیاس اور راوی کے پانی پرقبضے کے بعد چناب، جہلم اور سندھ کے پانی پر قبضے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو بنیا ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے رہا ہے اور ہمیں جناب ضیاشاہد کی کاوشوں سے دریاﺅں کی بحالی کرانی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے ہمارے ملک کو مکمل بنجر بنانے کی ٹھان لی ہے اور ہم اپنے پانی کے حصول کے لئے بھارت سے ہر فورم پر دوٹوک بات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ سب ملکر بھارت کی آبی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کریں اوردنیا بھارت پر دباﺅ ڈالے تاکہ بھارت مجبور ہو کر ہمارے حصے کا پانی ستلج سمیت دریاﺅں میں چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ عوامی تحریک بحالی صوبہ بہاولپور (رجسٹرڈ) کے مرکزی صدر محمد اجمل ملک نے عوامی اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے بہاولپور صوبہ کی بحالی اور ستلج کے پانی کے حصول کے لئے آواز بلند کرکے مایوس اور مظلوم عوام میں امید کی کرن پیدا کی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ستلج کے پانی کے حصول سے بہاولپور کے زیرزمین پانی کی سطح بہترہونے سے یہاں زندگی دوبارہ مسکرائے گی اور اس مسکراہٹ اور خوشی کے پیچھے جناب ضیاشاہد کی کاوشیں یاد رکھی جائیں گی۔ تحریک صوبہ بہاولپور کے مرکزی چیئرمین جام حضور بخش لاڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ستلج ہماری اور آنے والی نسلوں کی زندگی ہے اور اس کے بغیر ہمارا وجود ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے علاقے کی زمینوں کے لٹے ہوئے سہاگ کا دکھ بانٹا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم سب کو اس تحریک میں ساتھ چلنا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کو سرتسلیم ختم کرنا پڑے گا اور عوام کو چاہےے کہ وہ جناب ضیاشاہد کا بھرپور ساتھ دیں۔ تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل، دانشور ملک حبیب اللہ بھٹہ، بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدرملک اعجاز ناظم، مرکزی انجمن تاجران کے صدر حافظ محمد یونس، نواب آف بہاولپور نواب صادق محمدخان عباسی کے پوتے میاں محمد یوسف عباسی اور ملک غلام مصطفےٰ چنڑ سمیت شرکاءنے بھی گفتگو کی۔ روزنامہ خبریں کے زیراہتمام ہونے والے عوامی اکٹھ میں حافظ آباد سے حسنین اکبر اور محمد اسلم باہو (بابا گروپ) نے بھی شرکت کی اور مخصوص منفرد لباس میں وارث شاہ کی تخلیق ہیر پڑھی۔ پس منظر میں دھیمے میوزک کی دھنوں کے ساتھ وارث شاہ کی ہیر نے ستلج کے بیٹ میںسماں باندھ دیا۔ شرکاءنے ”بابا گروپ“ کو سراہا۔حسنین اکبر اور محمد اسلم باہو نے اس موقع پر کہا کہ وہ جناب ضیاشاہد کی محبت میں حافظ آباد سے بہاولپور آئے ہیں۔ تقریب کے بعد شرکاءبابا گروپ کے ساتھ تصاویر بنواتے رہے۔ روزنامہ خبریں کے زیراہتمام بھارت کی آبی دہشت گردی کے خلاف دریائے ستلج میں ہونے والے عوامی اکٹھ میں دریا کے بیٹ سے ریت کے ذرات اڑتے رہے۔ رپورٹنگ ٹیم کے کاغذوں پر بھی ریت کے ذرات پڑتے رہے۔دریا میںجس جگہ پانی رواں ہونا چاہےے تھا وہاں سے ریت اڑ اڑ کر شرکاءپرپڑتی رہی۔ عوامی اکٹھ کے شرکاءدریا کے اندر چلے گئے اور ریت کے ڈھیر پر خشک دریا میں تصاویر بناتے رہے۔ شرکاءنے تقریب کو ایک یادگار تقریب قرار دیا۔
عوامی اکٹھ

کشن گنگا پر عالمی عدالت کے فیصلہ سے بھارت ہمارا سارا پانی نہیں روک سکتا

لاہور (سیاسی رپورٹر) ”خبریں“ کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے گزشتہ روز پاکستان کمشنر برائے انڈس واٹرز مرزا آصف بیگ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور بھارت اور پاکستان کے مابین انڈس واٹر ٹریٹی 1960کے مختلف آرٹیکلز پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے پانی پر معاہدے کے باوجود اس امر کا جائزہ لیا کہ کیا ہم بھارت کو ماحولیات کے نام پر ستلج اور راوی میں کچھ پانی چھوڑنے کے لئے مجبور کر سکتے ہیں اور اگر وہ نہ مانے تو پہلے کی طرح عالمی عدالت میں جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر عالمی آبی قوانین کے ماہر راس مسعود بھی موجود تھے۔ کمشنر مرزا آصف بیگ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ درست نہیں کہ ہم بھارت سے دو مرتبہ مقدمہ ہار گئے تھے بلکہ کشن گنگا جسے پاکستان میں دریائے نیلم کہتے ہیں کے حوالے سے پاکستان مقدمہ جیت گیا تھا اور عالمی عدالت نے بھارت کو ہدایت کی تھی کہ وہ ماحولیات کے لیے دریا میں پانی کو پاکستانی آزاد کشمیر میں آنے دے کیونکہ وہ سارا پانی بند نہیں کرسکتا۔ کمشنر مرزا آصف بیگ نے کہا کہ عالمی عدالت میں جانے کے لیے بھرپور تیاری کرنا پڑتی ہے ہم نے بعض اہم امور کے سلسلے میں تجاویز دی ہیں جس پر مینی پی سی ون تیار کر کے بھیج دیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے باوجود اس معاہدے کے تحت بھارت سے مزید پانی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لئے عالمی سطح کے مسلمہ ماہرین سے تحریری رائے لینا پڑتی ہے اور عالمی عدالت صرف بین الاقوامی اور مستند ماہرین کی آرا کو مانتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ محض افواہ تھی کہ سابق کمشنر جماعت علی شاہ بھارتی مفادات کی حمایت کر رہے تھے اس لئے ان کو الگ کیا گیا۔ مرزا آصف بیگ نے کہا کہ میں اس عرصے کے دوران آبی انجینئر کی حیثیت سے سندھ طاس کمیشن کا ایڈوائزر رہا ہوں اور میں نے سارے معاملات کو قریب سے دیکھا ہے۔ متعدد سوالوں کے جواب میں آصف بیگ نے کہا کہ جماعت علی شاہ کی عمر ساٹھ برس ہو گئی تھی اور قواعد کے مطابق انہیں ریٹائر ہونا تھا یا اگر حکومت چاہتی تو انہیں مدت ملازمت میں توسیع دے سکتی تھی شاید اس وقت کچھ مفاد پرست لوگوں نے جو نہیں چاہتے تھے کہ جماعت علی شاہ کو توسیع ملے ان کے بارے میں یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ وہ بھارتی مفادات کا تحفظ کر رہے تھے حالانکہ میرے خیال میں اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں تھی موجودہ کمشنر نے کہا کہ کشن گنگا (پاکستانی آزاد کشمیر کے علاقہ میں اس کا نام دریائے نیلم ہے) کے سلسلے میں پاکستان کی طرف سے عالمی عدالت میں ہمیں کامیابی ملی تھی اور عدالت نے بھارت سے کہا تھا کہ پاکستان کا یہ مطالبہ درست ہے کہ ماحولیات کے لیے دریا میں پانی چھوڑنا ضروری ہے اور بھارت سارے کا سارا پانی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس نقطے کی بنیاد پر اور اس فیصلے کی روشنی میں ستلج اور راوی کے لیے بھی ہمیں کیس تیار کرنا چاہیے اور بھارت سے ماحولیات کے نام پر پانی طلب کرنا چاہیے کہ وہ ان دریاﺅں کا پانی مکمل طور پر پاکستانی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے نہیں روک سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں مرزا آصف بیگ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ 1970کے بعد جو انٹرنیشنل واٹر کنونشن ہوا اور اس کے فیصلے پوری دنیا میں لاگو ہوئے ان کی روشنی میں ہمارا بھارت کے سامنے کچھ کیس بنتا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ لوگوں نے اشارہ کیا ہے کہ بھارت گنڈا سنگھ والا قصور میں دریائے ستلج میں صاف پانی مکمل طور پر بند کرکے اپنی طرف سے ایک سائیڈ سے سیوریج کا پانی دریائے ستلج میں ڈال رہا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہمیں اس سلسلے میں بین الاقوامی اور مسلمہ آبی ماہرین سے مستند رائے لیکر ہماری ماحولیات کو پراگندہ کرنے اور دریائے ستلج میں سیوریج کا پانی بڑی مقدار میں شامل کرنے سے انسانی صحت کےلئے جو خطرات پیدا ہو رہے ہیں ان پر اپنا کیس تیار کرنا چاہیے کیونکہ آج کی دنیا 1960کی نسبت ماحولیات اور عوام کی صحت کے لئے مضر سیوریج کے پانیوں کی تازہ اور صاف پانی میں ملاوٹ کا سختی سے نوٹس لے رہی ہے۔ مرزا آصف بیگ نے کہا کہ ہمارے دریاﺅں میں مضر صحت صنعتی فضلے کو بغیر صفائی کے ڈال دیا جاتا ہے جس سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کی صحت کا معیار بری طرح تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے دلدوز لہجے میں کہا کہ جب ماحولیات کے محکمے والوں سے بات کرتے ہیں تو اکثر اوقات ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہمارے صنعتی اداروں اور فیکٹریوں کے مالکان اس قدر بااثر ہیں کہ وہ سرکاری افسروں ا ور اہلکاروں کو دھمکاتے ہیں کہ ان کے صنعتی فضلے کے بارے میں شکایت اٹھائی تو اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھوگے اور انہیں اپنی زبان بند رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ مرزا آصف بیگ کے علاوہ عالمی آبی قوانین کے ماہر راس مسعود نے بھی اس مسئلے کے متعدد پہلوﺅں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر خبریں ٹیم کے رازش لیاقت پوری بھی موجود تھے۔

بیت المقدس کو اسرائیلی صدر مقام تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے پر دنیا بھر میں احتجاج:ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ طاہر القادری نے ملاقات کے دوران مجھے کہا تھا کہ ہم اب قانونی جنگ لیں گے سڑکوں پر نہیں آئے گے۔ لیکن پریس کانفرنس میں انہوں نے شک کا اظہار کیا ہے کہ رپورٹ میں سے کچھ حصوں کو نکال دیا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بیورو کریسی کی طرف سے ملنے والی یہ کاپی مکمل نہیں ہے۔ جب انہیں عدالت سے کاپی ملے گی تو شاید وہ مطمئن ہوں گے۔ اس لئے وہ اپنا پریشر بڑھا رہے ہیں۔ اخبارات کی لیڈ سٹوری کے مطابق پنجاب حکومت اتنی بھی معصوم نہیں۔ وکلاءکی آرا کے مطابق پی اے ٹی کی کوشش ہو گی کہ وہ پنجاب حکومت کے کردار کو لے کر ضرور عدالت میں سوال اٹھائے۔ رانا ثناءاللہ کا کہنا بھی درست ہے کہ رپورٹ میں کسی جگہ پر شہباز شریف کا رول متعین نہیں کیا گیا، نہ ہی ان کے بارے شکایت کی گئی ہے۔ میڈیا نمائندگان، سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ بھی چاہیں گے کہ مصدقہ نقول انہیں مل جائیں اور دیکھیں کہ پنجاب حکومت کا نام کیوں استعمال کیا جا رہا ہے ایک بات تو ثابت ہے کہ رکاوٹیں ہٹانے کا حکم رانا ثناءاللہ کی جانب سے آیا تھا۔ اس کے بعد گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا۔ اس پر ساری بحث کا دارومدار ہے۔ پولیس افسران موجودہ حکومت کے خلاف بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے جب تک کہ وہ ریٹائر نہ ہو جائیں یا انہیں عدالت بلا کر نہ پوچھے۔ رانا ثناءاللہ قبول کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹریٹ میں ہونے والی میٹنگ کے دوران انہوں نے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا۔ دوسری جانب شہباز شریف کہتے ہیں کہ آپریشن ہوتا رہا اور مجھے علم ہی نہیں ہوا۔ ماہر قانون دان خالد رانجھا سے پوچھتے ہیں کہ کیا توقیر شاہ جو کہ دوسرے ملک میں سفیر مقرر ہیں ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا واقعی انہیں وزیراعلیٰ نے حکم دیا تھا کہ ایکشن کیا جائے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ معاملات نچلی عدالتوں سے شروع ہوں گے یا ہائیکورٹ سے اسے شروع کیا جائے گا۔ اگر کسی کو تسلی نہ ہو تو براہ راست سپریم کورٹ اس معاملے کو اپنے ذمہ لے لے۔ قانون کے مطابق ایک ایس ایچ او بھی وزیراعلیٰ سے تفتیش کر سکتا ہے۔ جے آئی ٹی کی اصطلاح اس طرح سے متعارف ہوئی کہ پولیس کے دو بندے اور دوسری ایجنسیوں کے دو بندے۔ سمجھا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی اچھا پرفارم کر سکتی ہے۔ لیکن نوازشریف صاحب کے کیس میں جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی تھی کہ اتنے بڑے کیس میں ہمیں آزادی سے کام کرنے نہیں دیا جا رہا۔ نامعلوم طاہر القادری اب کیا ڈیمانڈ کریں گے۔ لیکن اس بات میں جان ہے کہ سپریم کورٹ سو موٹو ایکشن لے لے۔ بڑا مشکل لگتا ہے کہ صوبے کا وزیر قانون تو کم از کم اس معاملے میں ملوث دکھائی دیتا ہے ایسی صورت میں جے آئی ٹی کی تشکیل آسان کام نہیں ہو گا۔ جسٹس خلیل الرحمن کی ایک اور رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجفی رپورٹ بالکل ناقص ہے اس میں غلطیاں ہی غلطیاں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو پنجاب حکومت نے ہی کہا تھا۔ ان کے صاحبزادے پنجاب حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل ہیں۔ دوسری رپورٹ ساتھ ہی جاری کرنے کا کیا مقصد تھا؟ جو پچھلی کی نفی کرتی ہو؟ جسٹس (ر) خلیل الرحمن تو کافی عرصہ سے ریٹائر ہو چکے ہیں؟ کیا ان سے پہلے کہا گیا تھا کہ رپورٹ کے بارے دوسری رپورٹ تیار کریں۔ اسرائیل کا مقصد تل ابیب سے اپنے دارالحکومت کو بیت المقدس شفٹ کرنے کا یہ ہے کہ وہ کافی فاصلے پر تھا وہ اپنا کنٹرول موثر بنانے کے لئے ایسا کرنا چاہتے ہیں دوسرے نمبر پر یہ کہ مسلمان اپنے قبلہ اول پر حملہ کرنے سے پہلے بہت سوچیں گے۔ سارے مسلمان ممالک بھی اس لئے اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ امید یہ تھی کہ امریکہ بھی اس کی مخالفت کرے گا۔ مگر اس نے اس کو تسلیم کر لیا ہے جس پر دنیا بھر میں شدید احتجاج ہو گا۔ رانا ثناءایک بہادر راجپوت ”رانا“ ہیں۔ ان کی مونچھوں کا اسٹائل بتاتا ہے کہ وہ کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔ شاید وہ یہ سلسلہ اسی طرح چلاتے رہیں۔انہیں سکون نصیب نہیں میں نے حافظ سعید سے ملاقات کے دوران انہیں اپنی تینوں کتابیں پیش کی ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا کہ نظر بندی کے دور میں مجھے ایک کتاب ملی ہے۔ ”امی جان“ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے شروع سے آخر تک کتاب ایک ہی سیٹنگ میں ختم کی۔ انہوں نے مجھ سے پانی کے مسئلے کے بارے پوچھا۔ میں نے انہیں سندھ طاس معاہدے کے بارے وضاحت کی جو 1960ءمیں ہوا۔ اس کی رو سے بھارت نے جن دریاﺅں کا پانی مکمل طور پر روک رکھا ہے۔ وہ اس کا مجاز نہیں ہے۔ اس پر حافظ صاحب نے کہا کہ میں اور میرے ساتھ آپ کی بات کو ”انڈوز“ کرتے ہیں۔ یہ معاملہ بہت اہم ہے۔ ماہر قانون دان، خالد رانجھا نے کہا ہے کہ پی اے ٹی اگر چاہتے تو آسانی سے مصدقہ کاپی حاصل کر سکتی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ شائع شدہ رپورٹ میں سے کوئی چیز نکالی گئی ہو گی۔ رپورٹ سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ پنجاب حکومت نے طاہر القادری کے بندوں کو ”پھینٹی“ لگانے کا حکم دیا۔ ہو سکتا ہے پولیس نے تجاوز کیا ہو لیکن اسے پنجاب حکومت کی جانب سے حکم دیا گیا۔ گواہیاں اگر جھوٹی ہوں تو ملزم کے گلے پڑ جاتی ہیں۔ اس بات کے شواہد رپورٹ میں کہیں نہیں مل رہے کہ وزیراعلیٰ نے انہیں روکنے کا حکم دیا ہو۔ اس بات کے شواہد بھی موجود نہیں کہ چیف منسٹر کے سیکرٹری نے پولیس کو روکنے کا حکم دیا ہو۔ شرم کی بات ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد کمیشن کی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ اس معاملے کا حل یہ ہے کہ سپریم کورٹ ماڈل ٹاﺅن پر جے آئی ٹی بنا دے اور اس کی تفتیش ان کے سپرد کر دے اور وہ وقت کے ساتھ تعین کرے کہ کون کون اس سانحہ میں ملزم ہے۔ معاملے کا سادہ حل یہی ہے کہ سپریم کورٹ ایک ایسی جے آئی ٹی بنائے جس پر فریقین کو اعتماد ہو۔ ماہر قانون دان جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ نجفی رپورٹ کے جج صاحب ابھی حیات ہیں۔ اگر رپورٹ میں سے کچھ اجزاءنکالے گئے ہیں تو ان سے پوچھا جا سکتا ہے۔ عدالت سے جانا ایک آسان بات ہے کہ جناب یہ وہ رپورٹ نہیں ہے جو جج صاحب نے لکھی تھی۔ اس میں سے کچھ اجزاءخارج کئے گئے ہیں۔ جج صاحب سے مصدقہ نقل حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ رپورٹ فیصلہ تو نہیں ہے لیکن ایک ہائی لیول کے جج نے وقوع کو ”ایگزامن“ کیا۔ جس میں شہباز شریف صاحب نے حلف نامہ کی جمع کروایا۔ جس وقت یہ معاملات عدالت میں کھلیں گے۔ تو دونوں جانب کو سمن کیا جا سکے گا۔ فیصلہ تو نہیں ہے لیکن ایک اہم رپورٹ ہے۔ ماہرقانون دان اکرم شیخ نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر 2014ءمیں دو ایف آئی آر درج ہوئیں۔ تفتیش کے دوران جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی مقرر کر دی گئی اس کے بعد حکومت پنجاب نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ جوڈیشل ٹربیونل بنا دیا جائے تا کہ واقعات دوبارہ نہ ہو سکیں۔ بھٹو دور میں شکیل الرحمن صاحب کا ایک کمیشن بنا تھا۔ وہ کمیشن بھی سیکشن (3) کے تحت بنایا گیا تھا۔ اس میں احمد رضا قصوری صاحب مدعی تھے۔ ان پر جرح کی اجازت طلب کی گئی۔ کورٹ نے قبول کیا کہ اس قسم کی رپورٹوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ نہ یہ تنازع طے کرتی ہیں نہ ان کی جوڈیشل پروسیڈنگ کی حیثیت ہوتی ہے اس لئے باقر نجفی صاحب کی رپورٹ ایک رپورٹ ہی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے اس طرح جسٹس (ر) خلیل الرحمن صاحب نے جو رپورٹ دی ہے۔ وہ ان کی اپنی رائے ہے ان کی رائے بھی قابل احترام ہے۔ باقر نجفی کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے اگر یہ رپورٹ کہہ بھی دیتی کہ فریقین یوں کریں! یوں کریں! تب بھی فریقین اس کے پابند نہیں تھے۔ اسے ”نان بائنڈنگ رپورٹ“ کہہ سکتے ہیں۔ خلیل الرحمن کی رپورٹ میں ایک منتق ہے۔ ایک سوچ ہے اور ملکی قانون کی تاریخ کے عین مطابق ہے۔ نجفی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے اس نے کسی کو مجرم یا ملزم ثابت نہیں کیا۔ یہ واقعات بیان کرتی ہے اور پنجاب تک پہنچ جاتی ہے۔ میرا نوازشریف صاحب سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص فیس دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو میں اس سے فیس کی ڈیمانڈ نہیں کرتا۔