Tag Archives: Zia Shahid

عمران کی تقریر قوم کے روشن مستقبل کی نوید ، اللہ انکی مدد کرے ، میں یہ بھی جانتا ہوںکہ وہ مخالفت کی پروا کئے بغیر آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، معروف صحافی ضیا شاہد کی پر گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد نے کہا ہے کہ 51 سال سے جرنلزم میں ہوں پوری زندگی میں کبھی کسی وزیراعظم یا صدر کو ان موضوعات پر بات کرتے نہیں سنا جن پر وزیراعظم عمران خان نے بات کی، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے اور ہم سب پاکستانیوں کو بھی توفیق دے کہ ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں اور انہیں ان کے عزائم پورے کرنے میں کامیاب بنائیں۔ چینل ۵ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ عمران خان نے جو پروگرام دیا ہے اس میں کرپٹ عناصر کیلئے کوئی رعایت نہ ہو گی۔ منی لانڈرنگ، کرپشن میں ملوث عناصر کا سخت احتساب ہو گا، نیب کے ادارے کو مضبوط بنایا جائے گا اسے سہولتیں دی جائیں گی تا کہ اس کی کارکردگی میں اصافہ ہو، اسی طرح تمام اداروں کے راستے میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں گی۔ ان کی کمی کوتاہی ازخود دور ہو جائے گی وزیراعظم عمران خان نے عدالت سے غریب بیواﺅں کو سہولت دینے کی بات کر کے قوم کے دل جیت لئے میں اس بات پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں، میں بطور صحافی خوب آگاہ ہوں کہ بیواﺅں اور یتیموں پر کیا گزرتی ہے جب انہیں عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔ عمران خان نے تعلیم اور صحت کی زبوں حالی کی بات کی موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں، گندگی کے نقصانات کی بات کی جو آج سے پہلے کسی اعلیٰ عہدیدار کو کرنا نصیب نہ ہوئی۔ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی، کراچی کے ساحل سمندر کو سیاحت کیلئے خوبصورت بنانے کی بات کی۔ کیا ایسی باتیں پہلے کسی نے کبھی کی ہیں، مالدیپ چھوٹا سا ملک ہے لیکن اس نے اپنے سمندری 63 جزیروں کو اس طرح خوبصورت بنا رکھا ہےکہ ساری دنیا سے سیاح ان کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، پاکستان میں کراچی سے گوادر تک ساحل سمندر پر بے شمار جگہوں پر ساخت کی سہولیات دے کر بھاری زرمبادلہ اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کی ایسی خوبصورت تقریر کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں، انہوں نے ٹھیک کہا کہ جب کرپٹ طبقہ کے مفادات کو زک پڑے گی تو وہ ضرور چلائے گا کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔ ملک کو لوٹنے والوں اور ان موٹے پیٹ والوں کو تو یقینی طور پر خطرہ محسوس ہو گا۔ میں جس عمران خان کو جانتا ہوں وہ راستے میں آنے والی ہر مخالفت کی پرواہ کئے بغیر چلتا چلا جائے گا، اس نے 22 سال جدوجہد کی ہے جو ایک مشکل ترین کام ہے۔ عمران خان کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہے کہ وہ اسی طویل جدوجہد میں ایک بار بھی مایوس نہ ہوئے اور ظالمانہ نظام کے خلاف لڑتے رہے۔ عمران خان سیاست کی پرخار وادی کے بجائے ایک لگژری زندگی باآسانی گزار سکتے تھے، جمائما سے طلاق ہوئی تو برطانوی جج نے کہا کہ آپ اربوں کی آدھی جائیداد چھوڑ رہے ہیں تو جواب میں عمران نے کہا کہ جمائما میرے بچوں کی بہتر تربیت کر سکتی ہے۔ جج صاحب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ آپ عظیم آدمی ہیں۔ جمائما چاہتی تھی کہ عمران خان اسکے ساتھ برطانیہ میں رہیں لیکن عمران نے انکار کر دیا اور ایک طویل جدوجہد کا پرخطر راستہ اختیار کیا۔ آج وہی عمران خان پاکستانی قوم کو ایک نئے روشن مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔

بلوچستان میں فورسز کی گاڑی کو حادثہ ، 4 اہلکار شہید

خضدار(ویب ڈیسک) ضلع واشک کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوگئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک ایران سرحد کے قریب بلوچستان کے علاقے واشک میں فورسز کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ 6 افراد زخمی بھی ہوئے۔سیکورٹی اہلکاروں نے فوری امدادی کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں اور لاشوں کو سی ایم ایچ خضدار منتقل کردیا۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایف سی کا دو گاڑیوں پر مشتمل قافلہ جارہا تھا کہ ایک گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر الٹ گئی۔

کامن ویلتھ گیمز, ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے پاکستان کیلیے پہلا میڈل جیت لیا

آسٹریلیا(ویب ڈیسک ) کامن ویلتھ گیمز میں ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے پاکستان کے لیے پہلا میڈل جیت لیا۔گولڈ کوسٹ میں جاری 21 ویں دولت مشترکہ گیمز میں طلحہ طالب نے ویٹ لفٹنگ کی 62 کے جی کیٹگری کے سنیچ ایونٹ میں حریف ویٹ لفٹرز سے 5 کلو زائد ریکارڈ 132 کلو وزن اٹھایا جب کہ کلین اینڈ جرک میں 151 کلوگرام سمیت مجموعی طور پر 283 کلوگرام وزن اٹھاتے ہوئے برانز میڈل کے حقدار قرار پائے۔ واضح رہے کہ یہ کامن ویلتھ گیمز 2018 میں پاکستان کا پہلا میڈ ل ہے۔

شیخ مجیب کو محب وطن کہنے پر نواز شریف کے استاد ، دانشور ڈاکٹر صفدر محمود کا مضمون جراتمند انہ تحریر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ زینب بچی کے والد صاحب! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کراچی سے لے کر طورخم تک تمام والدین یہ سمجھتے ہیںکہ وہ آپ کی نہیں بلکہ ان کی بیٹی تھی اور اللہ پاک ہمارے حکمرانوں اور پولیس کے لوگوں کو توفیق عطا فرمائے۔ جو ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں۔ آپ نے جے آئی ٹی کو اس لئے مسترد کر دیا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والا کوئی پولیس افسر جے آئی ٹی میں شامل نہیں ہونا چاہتے؟اب نام تبدیل کیا گیا ہے کیا آپ کو اس پر اعتماد ہے؟ قصور سانحہ پر میری کچھ بیورو کریٹس اور بیورو چیفس سے بات ہوئی ہے اس کے علاوہ شہریوں سے بھی بات ہوئی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ نوازشریف نے بھی امین انصاری صاحب سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ زینب کے والد نے کہا ہے کہ نوازشریف ہمارے سابق وزیراعظم ہیں ضرور آئیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اپنی طور طاقت اور کوشش قاتلوں کو گرفتار کرنے پر لگا دیں۔ وزارت اطلاعات پنجاب کے وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن ہیں۔ ان کے مشیر ملک احمد خان صاحب وکیل بھی ہیں۔ ان کا تعلق بھی قصور سے ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کی ہے اس میں دعویٰ کیا ہے کہ قاتلوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ممکن ہے کل تک اسے پکڑ لیا جائے گا مظاہرین ڈی سی کے دفر کے اردگرد آئے تھے۔ مظاہرین پر گولی چلانے کا کس نے حکم دیا۔ آدھا قصور جانتا ہے کہ گولی چلانے والا کون تھا۔ میں نے ڈی سی او قصور محترمہ سائرہ خاتون نے یا تو گولی چلانے کا حکم دیا یا ان پولیس افسران نے جو موقع پر موجود تھے۔ پولیس ملازم میں محمد راشد سربراہی کر رہے تھے۔ اس میں محمد شفیق، انتظار علی اور عابد شامل تھے۔ ان چاروں کے نام اگر شہری جانتے ہیں تو کیا قصور کی پولیس اندھی، کانی، لولی لنگڑی ہے جسے سنائی نہیں دیتا۔ سب جانتے ہیں ڈی سی او کی سکیورٹی کیلئے یہ چار لوگ وہاں موجود تھے۔ جنہوں نے گولیاں چلائیں، بقول ان کے مجمع ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وزیراعلیٰ صاحب سے ہم نے کل بھی درخواست کی تھی کہ مظاہرین کے مجمع کو کنٹرول کرنے کے لئے پہلے آنسو گیس پھینکی جاتی ہے ہے۔ اس کے بعد واٹر گن استعمال کی جاتتی ہے۔ تیسری چیز ربڑ کی گولیاں ہوتی ہیں۔ جس سے مظاہرین کو منتشر کیا جاتا ہے چوتھی چیز یہ ہے کہ اگر خوانخواستہ گولی مارنے کی ضرورت پیش آ جائے تو پیروں میں گولیاں ماری جاتی ہیں۔ جس سے انسان زخمی تو ہوتا ہے مرتا نہیں۔ لیکن ماڈل ٹاﺅن اور قصور سانحہ میں سیدھی گولیاں سینوں پر فائر کی گئیں۔ آئی جی صاحب اس کا جواب تو دیں کہ سکیورٹی والوں کے فوراً ہی گولیا چلا دیں اور ایک دوسرے کو کہہ رہا ہے کہ اوپر چلاﺅ۔ ان کی آواز بھی پہچانی جا سکتی ہے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف کاٹی گئی۔ کوئی تو ہو گا جس نے انہیں گولی چلانے کا آرڈر دیا ہو گا۔ یا تو ڈی سی او محترمہ نے آرڈر دیا ہو گا جو فوراً دفتر چھوڑ کر اپنی رہائش گاہ میں چلی گئی تتھیں۔ ڈی سی او صاحب جنہیں تبدیل کیا گیا ان کا بیان ہے کہ میں نے فائر کھولنے کا آرڈر نہیں دیا تھا۔ جب سارے حقائق سامنے ہیں تو انتظامیہ والے اصلی شخص کا نام کیوں نہیں بتاتے جس نے یہ آرڈر دیا تھا۔ شہباز شریف صاحب صبح سویرے ان کے گھر گئے ھے۔ اور اچھے منتظم گنے جاتے ہیں۔ برائے کرم اے پی سی، کرائم سے پہلے ذمہ داران کا پتا تو کریں۔ بچی اور اس کے قاتلوں کا معاملہ الگ ہے۔ میں سمجھتا ہو ںکہ صوبے کا وزیر قانون کوئی ہے ہی نہیں۔ چار دنوں تک بچی غائب رہی۔ پولیس اس وقت اس شخص کو تلاش کر لیتی۔ آج کے اخبار کے رنگین صفحے پر ایس ایچ او کا بیان چھپا ہوا ہے۔ جو بچی کے رشتہ داروں کو کہہ رہا ہے کہ اس پولیس والے کو دس ہزار انعام دو۔ اس نے لاش برآمد کر لی ہے۔ ایس ایچ او صاحب خدا کا خوف کرو۔ خدا کرے کہ آپ کے بچوں کو گولیوں سے بھون دیا جائے۔ پھر تم بچے کی لاش لانے والے کو دس ہزار انعام دینا۔ آئی جی صاحب آپ تقریریں تو بہت کرتے ہیں۔ جو آپ کے پولیس والوں کی ایسی تربیت کی ہے۔ کوئی خدا کا خوف کریں۔ میرا نمائندہ بتاتا ہے کہ واقعہ کے بعد ڈی سی او سائرہ صاحبہ غائب رہیں۔ آج وہ پہلے دن دفتر آئی ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے بات تک کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ کس قسم کے افسران ہیں۔ جو پبلک سرونٹ ہیں۔ لیکن پبلک کو جواب نہیں دیتیں۔ خادم اعلیٰ صاحب ان افسران کو بھی خادم اعلیٰ بنائیں۔ پاکستان کے آرمی چیف نے جس انداز میں امریکی جبرئیل سے بات کی ہے۔ پھر سینئر سے بات کی ہے۔ اس سے پاکستانی قوم میں حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے تو کوئی ری ایکشن نہیں دکھایا۔ آرمی چیف صاحب کردار دینی چاہئے جو کہتے ہیں کہ ہم کوئی غیر جمہوری کام نہیں کریں گے اور خارجی معاملات پر بھی ڈٹ کر جواب دے رہی ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ سب سے فورس فل جوابات آرمی چیف کی جانب سے آ رہے ہیں انہوں نے بڑی ہمت سے امریکی جرنیلوں کا جواب دیا ہے۔ ٹرمپ ایک پاگل شخص ہے اس کا دور بھی گزر جائے گا۔ امریکہ میں اصل حکومت تھینک ٹین کی ہوتی ہے۔ وہاں کی یونیورسٹیاں بہت مضبوط ہیں۔ ان کی پالیسی بہت مضبوط پالیسی ہووتی ہے۔ لیکن وہ اس طرح کی دھمکیاں نہیں دیتیں۔ آج امریکی جرنیل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے اندر کسی قسم کی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکی جرنیل اورسنیٹر کے متوازن جوابات ہیں۔ یہ صورتحال کو بہتری کی طرف لے جانے والے بیانات ہیں۔ ٹرمپ کے بارے چھپا کہ اس کا معائنہ ہونے جا رہا ہے لیکن فوری اس کے ترجمان کا بیان آیا کہ اس معائنے میں دماغی معائنہ شامل نہیں ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ افغانستان میں جہاں طالبان کی اب بھی 30 فیصد حکومت قائم ہے۔ اس نے بھی اتنی قربانیاں نہیں دیں۔ پاکستان کے 70 ہزار افراد کی جانور کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ امریکی پاگل صدر کے سامنے ہم سر کو نہیں جھکا سکے۔ ملکوں کے درمیان ایک خاص قسم کا ”ڈکیورم“ ہوتا ہے حکومتیں جیسی بھی ہوں ان کے رہنماﺅں کی زبان مہذب ہوا کرتی ہے۔ مجھے کل سے بہت فون اور ای میل آئے ہیں کہ میاں نوازشریف کو مجیب الرحمن کے بارے ایسا بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔ ڈاکٹر صفدر محمود کا کالم جنگ اخبار میں لکھا ہے۔ انہوں نے ”مائی ڈیر نواز شریف“ کے عنوان سے کالم میں لکھا ہے کہ جناب اس سے زیادہ زیادتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ مسلم لیگ کا صدر ہو اور وہ مجیب الرحمن کو محب وطن قرار دے۔ جس کی بیٹی نے جماعت اسلامی کے7 رہنمائں کو پھانسی دے چکی ہے اور مزید انتظار میں ہے۔ ڈاکٹر صفدر نے نواز شریف کے بارے لکھا ہے کہ آپ شاید انڈین لابی میں گھر گئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ دو قومی نطریئے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ایک موجودہ رکن، جس کا تعلق بھی مسلم لیگ (ن) سے ہی ہے۔ اس کا نام عاشق گوپانگ ہے جس کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ والد زینب، امین انصاری نے کہا ہے کہ ابھی کچھ دیر قبل آر پی او ملتان مجھ سے ملاقات کر کے گئے ہیں، انہوں نے مجھے اعتماد میں لیا ہے اور ہمارے لڑکوں سے بھی بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اور زینب آپ کی نہیں ہماری بھی بیٹی ہے۔ آپ توقع رکھیں ہم پورے اخلاص کے ساتھ تفتیش کر رہے ہیں اور جلد اس کا رزلٹ دیں گے۔ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) راحت لطیف نے کہا ہے کہ نوازشریف صاحب کا اصل روپ اب سامنے آیا ہے۔ میں مجیب الرحمن کو خود بھی ملا ہوا ہوں۔ اس دن جب انہیں پیرول پر والدہ سے ملنے کیلئے لایا گیا۔ نوازشریف کو اپنا دماغی معائنہ کروانا چاہئے۔ میں اس وقت آرمی میں تھا جب مجیب الرحمن سے ملا۔ انہوں نے اپنے چھ نکات دیئے تھے۔ شاید نواز شریف بھی ان کی طرح کہتے ہیں کہ میرے سینے میں بہت سارے راز دفن ہیں۔ مجھے مجبور نہ کیا جائے کہ انہیں بیان کر دوں نواز شریف تین مرتبہ اقتدار میں آئے۔ لیکن اقتدار چھیننے کے بعد شاید وہ صدمے میں ہیں۔ نوازشریف کے بیان پر جوڈیشری کو ”سوموٹو“ ایکشن لینا چاہئے۔ ضرور نوازشریف سے پوچھنا چاہئے کہ انہوں نے ایسی بات کیوں کی۔ جس بندے کا دماغ درست نہ ہو۔ وہ بہکی بہکی باتیں کیا کرتا ہے میں نے ایک مسلم لیگی سے بات کی اس نے جواب دیا کہ میاں صاحب کا کچھ اور مطلب تھا۔ حکومت نے ابھی بھی انہیں سرکاری پروٹوکول دے رکھا ہے۔ انہیں دوبارہ پارٹی کا صدر چن لیا ہے۔

چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کی چیف جسٹس سے ملاقات، بھارت کی جانب سے پانی کی بندش کی طرف توجہ دلائی

لاہور (خصوصی رپورٹر) جمعہ کی صبح سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار سے روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ انہوں نے چیف جسٹس صاحب سے بھارت کی طرف سے پاکستان کے اہم ترین مسئلے یعنی مشرقی دریاﺅں ستلج اور راوی میں پانی کی سو فیصد بندش کی طرف ان کی توجہ دلائی اور کہا کہ پاکستان اور بھارت میں انڈس واٹر ٹریٹی 1960ءکے باوجود بھارت سال بھر ہمارا سارا پانی بند نہیں کر سکتا کیونکہ یہ معاہدہ زرعی پانی کا ہے اور انٹرنیشنل واٹر کنونشن 1970ءکے مطابق پانی کے دیگر تین استعمال یعنی گھریلو پانی، آبی حیات اور ماحولیات کیلئے مخصوص پانی کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی حکومت اور متاثرہ عوام اس ضمن میں انٹرنیشنل کورٹ میں جا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے بڑی توجہ سے ان کی معروضات سنیں اور کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں ماحولیات پر بہت زور دیا جارہا ہے۔ میں نے خود کئی برس پہلے نوائے وقت میں محترم مجید نظامی مرحوم کا تفصیلی بیان پڑھا تھا جس میں سیلاب کے زمانے کے سوا بھارت کی طرف سے ہمارے دو دریاﺅں کے پانی کی مکمل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ میں پانی کی کمی کے مسئلے سے بخوبی واقف ہوں اور پاکستان کو اس امر کاجائزہ لینا ہو گا کہ کیا ٹریٹی 1960ءکے اندر ایسی کوئی قانونی گنجائش ہے کہ ہم اس کی رو سے ستلج اور راوی کیلئے بھی کچھ پانی کا مطالبہ کر سکیں۔ اس مسئلے کا قانونی پہلو سے جائزہ لینا ہو گا۔ تاکہ کوئی راستہ نکالا جا سکے۔ انہوں نے چیف ایڈیٹر خبریں کی کاوشوں کو سراہا جن کی تفصیل ان کے سامنے بیان کی گئی تھی اور کہا کہ آپ اس ایشو پر ضروری مواد جمع کریں میں بھی ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس پر غور کروں گا۔ انہوں نے جناب ضیا شاہد کو دعوت دی کہ اس مسئلے پر آپ بھی تیاری کریں، قانون کے ماہرین اور آبی ماہرین سے مشورے مکمل کریں اور دو ہفتے بعد ہم ایک بار پھر ملیں گے۔ خدا کرے کوئی قانونی شکل نکل آئے تاکہ مستقبل میں پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے پیش نظر ہماری آنے والی نسلوں کو تکلیف دہ مسائل سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

 

بھارتی آبی جارحیت کیخلاف للکار ، یورپی یونین نے ضیا شاہد اور محمد علی درانی کو بلا لیا

ملتان(رپورٹ: مہدی شاہ، طارق اسماعیل، تصاویر: خالد اسماعیل) ستلج راوی بیاس کا سارا پانی بند کیوں؟ پاکستان کو خشک اور بنجر کرنے کی گھناﺅنی بھارتی سازش اور بھارت کی آبی دہشت گردی کے حوالے سے ستلج پل کے ساتھ دریا کے اندر روزنامہ خبریں کے زیراہتمام عوامی اکٹھ ہوا۔ عوامی اکٹھ میں چیف ایڈیٹر ”خبریں“ جناب ضیاشاہد نے خصوصی طور پر شرکت کی اور بھارت کی آبی دہشت گردی پر بھارت اور غلط معاہدہ کرنے والوں کو للکارا۔ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر وسیم اختر، سابق سنیٹر محمد علی درانی، دانشور، کالم نگار اور تجزیہ نگار مکرم خان، اجمل ملک، جام حضور بخش سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ پانی کی بندش اور بھارت کی آبی دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والے عوامی اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے سابق سنیٹر محمدعلی درانی نے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے اپنے صحافتی کیریئر کی گولڈن جوبلی پر ستلج، راوی، بیاس کو ریت میں تبدیل کرنے کے جرم کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جناب ضیاشاہد کی طرف سے بھارت کی آبی دہشت گردی اور خطے کے 3کروڑ سے زائد عوام کو پیاس سے مارنے کی سازش کو بے نقاب کئے جانے پر انہیں برطانیہ اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی طرف سے دعوت نامے ملے ہیں اور وہاں جا کر بھارت کی آبی دہشت گردی بارے بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی آبی دہشت گردی پر بڑے بڑے سیاستدان اور ذمہ دار کیوں خاموش ہیں؟ بہاولنگر کے ایک سپوت نے خطے کے مظلوم عوام کی آواز بن کر دنیا کو باور کرایا ہے کہ ستلج راوی کے واسی، وادی ستلج کو ہاکڑہ نہیںبننے دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت پاکستان اپنی ذمہ داری سمجھے اور سندھ طاس معاہدے سے ملنے والی رقم سے دریائے ستلج میںپانی کے بہاﺅ کو برقرار رکھنے کے لئے تریموں سے تریموںاسلام لنک نکالے۔ انہوںنے کہا کہ مودی نے پاکستان کا پانی روک کر ثابت کیا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک نہیںبلکہ ایک مذہبی جنونی ملک ہے اور پاکستان کے عوام کو پیاس سے مارنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو خطے کے عوام کے حقوق کے لئے جھکنا اور اقوام متحدہ کو بھارت کو آبی ماحولیاتی دہشت گرد ڈیکلیئر کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے جس طریقے سے آبی دہشت گردی کی ہوئی ہے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی عدالتوں سمیت کوئی بھی اس کی اجازت نہیںدیتا۔ انہوں نے جناب ضیاشاہد کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانی کے حصول کی کاوش اور تحریک کسی سیاست کی غرض سے نہیں چلا رہے بلکہ خطے کی مٹی اور واسیوں سے محبت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان سفارتی سطح پر بھرپور احتجاج کرے کہ بھارت پاکستان کے دریاﺅں کا پانی روک کر عوام کی جانوں سے کھیلنے سے باز رہے۔ ممبر صوبائی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میںجماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے عوامی اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے بھارت کے حکمرانوں سے ذاتی تعلقات اور دوستی نبھانے کے لئے ملک اور قوم کے حقوق کا سودا کیا ہے اور دشمنوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت سے اپنے حصے کے پانی کے حصول کے لئے جو تحریک جناب ضیاشاہد نے شروع کی ہے اس کے مثبت اور دور رس نتائج برآمد ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں تریموں سے نہر نکالنے کا جو منصوبہ تھا اس پر فوری عمل کیا جائے اور حکومت پانی کے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے ، کیونکہ ہم ستلج سے ہیں اور ستلج ہم سے ہے۔ انہوںنے جناب ضیاشاہد کو پانی کے حصول کے لئے شروع کی گئی تحریک پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹروسیم اختر نے کہا کہ جناب ضیاشاہد کی پانی کے حصول کی کاوشوں سے بھارت کی آبی دہشت گردی اور ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں کے حوالے سے شعور وآگہی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیں پینے، آبی حیات، جنگلی حیات اور ماحالیات کے لئے بھی پانی دےدے تو اس سے زیرزمین پانی کی سطح بھی بہتر ہوگی۔ زراعت کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ زیرزمین پانی کا لیول بہتر ہونے سے پینے کے پانی میں آرسینک جیسے مضرصحت ذرات اور مادے بھی کم ہوجائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ آبی معاہدے کے مطابق بھی ستلج میں 32فیصد پانی آنا ضروری ہے لیکن بھارت پانی پر قبضہ کرکے ہماری زرعی زمینوں کو بنجر بنانے پر تلا ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ 2018ءکے الیکشن میں بھی ہمیں ایسے فیصلے کرنا ہونگے جو ہمارے حقوق کی بات کریں اور پانی کے حصول کے لئے تحریک میں شامل ہو کر پانی حاصل کرنے کویقینی بنائیں۔ معروف دانشور، تجزیہ نگار اور کالم نگار مکرم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب ضیاشاہد کی طرف سے بھارت سے پانی کے حصول کے لئے شروع کی جانے والی تحریک کی گونج اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ چکی ہے۔ انہوںنے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے دریائے ستلج کے پاکستان میں داخل ہونے سے لیکر بہاولپور تک کے علاقوں کا دورہ کیا اورعلاقے میںپانی کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ستلج واسی جناب ضیاشاہد کی تحریک میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے حصے کے پانی کے حصول کے لئے آواز بنیں اور اپنا حصہ ڈالیں۔ ضلع کونسل لودھراں کے چیئرمین میاں راجن سلطان پیرزادہ نے کہا کہ ہمیں ستلج، راوی اور بیاس کے لئے جنگلی حیات، آبی حیات، جنگلات اور پینے کے مقاصد کے لئے پانی کے حصول کے لئے عالمی عدالتوں میں بھرپور طریقے سے کیس لڑنا چاہےے۔انہوں نے کہاکہ بھارت، ستلج، بیاس اور راوی کے پانی پرقبضے کے بعد چناب، جہلم اور سندھ کے پانی پر قبضے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو بنیا ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے رہا ہے اور ہمیں جناب ضیاشاہد کی کاوشوں سے دریاﺅں کی بحالی کرانی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے ہمارے ملک کو مکمل بنجر بنانے کی ٹھان لی ہے اور ہم اپنے پانی کے حصول کے لئے بھارت سے ہر فورم پر دوٹوک بات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ سب ملکر بھارت کی آبی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کریں اوردنیا بھارت پر دباﺅ ڈالے تاکہ بھارت مجبور ہو کر ہمارے حصے کا پانی ستلج سمیت دریاﺅں میں چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ عوامی تحریک بحالی صوبہ بہاولپور (رجسٹرڈ) کے مرکزی صدر محمد اجمل ملک نے عوامی اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے بہاولپور صوبہ کی بحالی اور ستلج کے پانی کے حصول کے لئے آواز بلند کرکے مایوس اور مظلوم عوام میں امید کی کرن پیدا کی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ستلج کے پانی کے حصول سے بہاولپور کے زیرزمین پانی کی سطح بہترہونے سے یہاں زندگی دوبارہ مسکرائے گی اور اس مسکراہٹ اور خوشی کے پیچھے جناب ضیاشاہد کی کاوشیں یاد رکھی جائیں گی۔ تحریک صوبہ بہاولپور کے مرکزی چیئرمین جام حضور بخش لاڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ستلج ہماری اور آنے والی نسلوں کی زندگی ہے اور اس کے بغیر ہمارا وجود ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے علاقے کی زمینوں کے لٹے ہوئے سہاگ کا دکھ بانٹا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم سب کو اس تحریک میں ساتھ چلنا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کو سرتسلیم ختم کرنا پڑے گا اور عوام کو چاہےے کہ وہ جناب ضیاشاہد کا بھرپور ساتھ دیں۔ تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل، دانشور ملک حبیب اللہ بھٹہ، بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدرملک اعجاز ناظم، مرکزی انجمن تاجران کے صدر حافظ محمد یونس، نواب آف بہاولپور نواب صادق محمدخان عباسی کے پوتے میاں محمد یوسف عباسی اور ملک غلام مصطفےٰ چنڑ سمیت شرکاءنے بھی گفتگو کی۔ روزنامہ خبریں کے زیراہتمام ہونے والے عوامی اکٹھ میں حافظ آباد سے حسنین اکبر اور محمد اسلم باہو (بابا گروپ) نے بھی شرکت کی اور مخصوص منفرد لباس میں وارث شاہ کی تخلیق ہیر پڑھی۔ پس منظر میں دھیمے میوزک کی دھنوں کے ساتھ وارث شاہ کی ہیر نے ستلج کے بیٹ میںسماں باندھ دیا۔ شرکاءنے ”بابا گروپ“ کو سراہا۔حسنین اکبر اور محمد اسلم باہو نے اس موقع پر کہا کہ وہ جناب ضیاشاہد کی محبت میں حافظ آباد سے بہاولپور آئے ہیں۔ تقریب کے بعد شرکاءبابا گروپ کے ساتھ تصاویر بنواتے رہے۔ روزنامہ خبریں کے زیراہتمام بھارت کی آبی دہشت گردی کے خلاف دریائے ستلج میں ہونے والے عوامی اکٹھ میں دریا کے بیٹ سے ریت کے ذرات اڑتے رہے۔ رپورٹنگ ٹیم کے کاغذوں پر بھی ریت کے ذرات پڑتے رہے۔دریا میںجس جگہ پانی رواں ہونا چاہےے تھا وہاں سے ریت اڑ اڑ کر شرکاءپرپڑتی رہی۔ عوامی اکٹھ کے شرکاءدریا کے اندر چلے گئے اور ریت کے ڈھیر پر خشک دریا میں تصاویر بناتے رہے۔ شرکاءنے تقریب کو ایک یادگار تقریب قرار دیا۔
عوامی اکٹھ

کشن گنگا پر عالمی عدالت کے فیصلہ سے بھارت ہمارا سارا پانی نہیں روک سکتا

لاہور (سیاسی رپورٹر) ”خبریں“ کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے گزشتہ روز پاکستان کمشنر برائے انڈس واٹرز مرزا آصف بیگ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور بھارت اور پاکستان کے مابین انڈس واٹر ٹریٹی 1960کے مختلف آرٹیکلز پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے پانی پر معاہدے کے باوجود اس امر کا جائزہ لیا کہ کیا ہم بھارت کو ماحولیات کے نام پر ستلج اور راوی میں کچھ پانی چھوڑنے کے لئے مجبور کر سکتے ہیں اور اگر وہ نہ مانے تو پہلے کی طرح عالمی عدالت میں جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر عالمی آبی قوانین کے ماہر راس مسعود بھی موجود تھے۔ کمشنر مرزا آصف بیگ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ درست نہیں کہ ہم بھارت سے دو مرتبہ مقدمہ ہار گئے تھے بلکہ کشن گنگا جسے پاکستان میں دریائے نیلم کہتے ہیں کے حوالے سے پاکستان مقدمہ جیت گیا تھا اور عالمی عدالت نے بھارت کو ہدایت کی تھی کہ وہ ماحولیات کے لیے دریا میں پانی کو پاکستانی آزاد کشمیر میں آنے دے کیونکہ وہ سارا پانی بند نہیں کرسکتا۔ کمشنر مرزا آصف بیگ نے کہا کہ عالمی عدالت میں جانے کے لیے بھرپور تیاری کرنا پڑتی ہے ہم نے بعض اہم امور کے سلسلے میں تجاویز دی ہیں جس پر مینی پی سی ون تیار کر کے بھیج دیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے باوجود اس معاہدے کے تحت بھارت سے مزید پانی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لئے عالمی سطح کے مسلمہ ماہرین سے تحریری رائے لینا پڑتی ہے اور عالمی عدالت صرف بین الاقوامی اور مستند ماہرین کی آرا کو مانتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ محض افواہ تھی کہ سابق کمشنر جماعت علی شاہ بھارتی مفادات کی حمایت کر رہے تھے اس لئے ان کو الگ کیا گیا۔ مرزا آصف بیگ نے کہا کہ میں اس عرصے کے دوران آبی انجینئر کی حیثیت سے سندھ طاس کمیشن کا ایڈوائزر رہا ہوں اور میں نے سارے معاملات کو قریب سے دیکھا ہے۔ متعدد سوالوں کے جواب میں آصف بیگ نے کہا کہ جماعت علی شاہ کی عمر ساٹھ برس ہو گئی تھی اور قواعد کے مطابق انہیں ریٹائر ہونا تھا یا اگر حکومت چاہتی تو انہیں مدت ملازمت میں توسیع دے سکتی تھی شاید اس وقت کچھ مفاد پرست لوگوں نے جو نہیں چاہتے تھے کہ جماعت علی شاہ کو توسیع ملے ان کے بارے میں یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ وہ بھارتی مفادات کا تحفظ کر رہے تھے حالانکہ میرے خیال میں اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں تھی موجودہ کمشنر نے کہا کہ کشن گنگا (پاکستانی آزاد کشمیر کے علاقہ میں اس کا نام دریائے نیلم ہے) کے سلسلے میں پاکستان کی طرف سے عالمی عدالت میں ہمیں کامیابی ملی تھی اور عدالت نے بھارت سے کہا تھا کہ پاکستان کا یہ مطالبہ درست ہے کہ ماحولیات کے لیے دریا میں پانی چھوڑنا ضروری ہے اور بھارت سارے کا سارا پانی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس نقطے کی بنیاد پر اور اس فیصلے کی روشنی میں ستلج اور راوی کے لیے بھی ہمیں کیس تیار کرنا چاہیے اور بھارت سے ماحولیات کے نام پر پانی طلب کرنا چاہیے کہ وہ ان دریاﺅں کا پانی مکمل طور پر پاکستانی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے نہیں روک سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں مرزا آصف بیگ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ 1970کے بعد جو انٹرنیشنل واٹر کنونشن ہوا اور اس کے فیصلے پوری دنیا میں لاگو ہوئے ان کی روشنی میں ہمارا بھارت کے سامنے کچھ کیس بنتا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ لوگوں نے اشارہ کیا ہے کہ بھارت گنڈا سنگھ والا قصور میں دریائے ستلج میں صاف پانی مکمل طور پر بند کرکے اپنی طرف سے ایک سائیڈ سے سیوریج کا پانی دریائے ستلج میں ڈال رہا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہمیں اس سلسلے میں بین الاقوامی اور مسلمہ آبی ماہرین سے مستند رائے لیکر ہماری ماحولیات کو پراگندہ کرنے اور دریائے ستلج میں سیوریج کا پانی بڑی مقدار میں شامل کرنے سے انسانی صحت کےلئے جو خطرات پیدا ہو رہے ہیں ان پر اپنا کیس تیار کرنا چاہیے کیونکہ آج کی دنیا 1960کی نسبت ماحولیات اور عوام کی صحت کے لئے مضر سیوریج کے پانیوں کی تازہ اور صاف پانی میں ملاوٹ کا سختی سے نوٹس لے رہی ہے۔ مرزا آصف بیگ نے کہا کہ ہمارے دریاﺅں میں مضر صحت صنعتی فضلے کو بغیر صفائی کے ڈال دیا جاتا ہے جس سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کی صحت کا معیار بری طرح تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے دلدوز لہجے میں کہا کہ جب ماحولیات کے محکمے والوں سے بات کرتے ہیں تو اکثر اوقات ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہمارے صنعتی اداروں اور فیکٹریوں کے مالکان اس قدر بااثر ہیں کہ وہ سرکاری افسروں ا ور اہلکاروں کو دھمکاتے ہیں کہ ان کے صنعتی فضلے کے بارے میں شکایت اٹھائی تو اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھوگے اور انہیں اپنی زبان بند رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ مرزا آصف بیگ کے علاوہ عالمی آبی قوانین کے ماہر راس مسعود نے بھی اس مسئلے کے متعدد پہلوﺅں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر خبریں ٹیم کے رازش لیاقت پوری بھی موجود تھے۔

بیت المقدس کو اسرائیلی صدر مقام تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے پر دنیا بھر میں احتجاج:ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ طاہر القادری نے ملاقات کے دوران مجھے کہا تھا کہ ہم اب قانونی جنگ لیں گے سڑکوں پر نہیں آئے گے۔ لیکن پریس کانفرنس میں انہوں نے شک کا اظہار کیا ہے کہ رپورٹ میں سے کچھ حصوں کو نکال دیا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بیورو کریسی کی طرف سے ملنے والی یہ کاپی مکمل نہیں ہے۔ جب انہیں عدالت سے کاپی ملے گی تو شاید وہ مطمئن ہوں گے۔ اس لئے وہ اپنا پریشر بڑھا رہے ہیں۔ اخبارات کی لیڈ سٹوری کے مطابق پنجاب حکومت اتنی بھی معصوم نہیں۔ وکلاءکی آرا کے مطابق پی اے ٹی کی کوشش ہو گی کہ وہ پنجاب حکومت کے کردار کو لے کر ضرور عدالت میں سوال اٹھائے۔ رانا ثناءاللہ کا کہنا بھی درست ہے کہ رپورٹ میں کسی جگہ پر شہباز شریف کا رول متعین نہیں کیا گیا، نہ ہی ان کے بارے شکایت کی گئی ہے۔ میڈیا نمائندگان، سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ بھی چاہیں گے کہ مصدقہ نقول انہیں مل جائیں اور دیکھیں کہ پنجاب حکومت کا نام کیوں استعمال کیا جا رہا ہے ایک بات تو ثابت ہے کہ رکاوٹیں ہٹانے کا حکم رانا ثناءاللہ کی جانب سے آیا تھا۔ اس کے بعد گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا۔ اس پر ساری بحث کا دارومدار ہے۔ پولیس افسران موجودہ حکومت کے خلاف بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے جب تک کہ وہ ریٹائر نہ ہو جائیں یا انہیں عدالت بلا کر نہ پوچھے۔ رانا ثناءاللہ قبول کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹریٹ میں ہونے والی میٹنگ کے دوران انہوں نے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا۔ دوسری جانب شہباز شریف کہتے ہیں کہ آپریشن ہوتا رہا اور مجھے علم ہی نہیں ہوا۔ ماہر قانون دان خالد رانجھا سے پوچھتے ہیں کہ کیا توقیر شاہ جو کہ دوسرے ملک میں سفیر مقرر ہیں ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا واقعی انہیں وزیراعلیٰ نے حکم دیا تھا کہ ایکشن کیا جائے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ معاملات نچلی عدالتوں سے شروع ہوں گے یا ہائیکورٹ سے اسے شروع کیا جائے گا۔ اگر کسی کو تسلی نہ ہو تو براہ راست سپریم کورٹ اس معاملے کو اپنے ذمہ لے لے۔ قانون کے مطابق ایک ایس ایچ او بھی وزیراعلیٰ سے تفتیش کر سکتا ہے۔ جے آئی ٹی کی اصطلاح اس طرح سے متعارف ہوئی کہ پولیس کے دو بندے اور دوسری ایجنسیوں کے دو بندے۔ سمجھا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی اچھا پرفارم کر سکتی ہے۔ لیکن نوازشریف صاحب کے کیس میں جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی تھی کہ اتنے بڑے کیس میں ہمیں آزادی سے کام کرنے نہیں دیا جا رہا۔ نامعلوم طاہر القادری اب کیا ڈیمانڈ کریں گے۔ لیکن اس بات میں جان ہے کہ سپریم کورٹ سو موٹو ایکشن لے لے۔ بڑا مشکل لگتا ہے کہ صوبے کا وزیر قانون تو کم از کم اس معاملے میں ملوث دکھائی دیتا ہے ایسی صورت میں جے آئی ٹی کی تشکیل آسان کام نہیں ہو گا۔ جسٹس خلیل الرحمن کی ایک اور رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجفی رپورٹ بالکل ناقص ہے اس میں غلطیاں ہی غلطیاں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو پنجاب حکومت نے ہی کہا تھا۔ ان کے صاحبزادے پنجاب حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل ہیں۔ دوسری رپورٹ ساتھ ہی جاری کرنے کا کیا مقصد تھا؟ جو پچھلی کی نفی کرتی ہو؟ جسٹس (ر) خلیل الرحمن تو کافی عرصہ سے ریٹائر ہو چکے ہیں؟ کیا ان سے پہلے کہا گیا تھا کہ رپورٹ کے بارے دوسری رپورٹ تیار کریں۔ اسرائیل کا مقصد تل ابیب سے اپنے دارالحکومت کو بیت المقدس شفٹ کرنے کا یہ ہے کہ وہ کافی فاصلے پر تھا وہ اپنا کنٹرول موثر بنانے کے لئے ایسا کرنا چاہتے ہیں دوسرے نمبر پر یہ کہ مسلمان اپنے قبلہ اول پر حملہ کرنے سے پہلے بہت سوچیں گے۔ سارے مسلمان ممالک بھی اس لئے اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ امید یہ تھی کہ امریکہ بھی اس کی مخالفت کرے گا۔ مگر اس نے اس کو تسلیم کر لیا ہے جس پر دنیا بھر میں شدید احتجاج ہو گا۔ رانا ثناءایک بہادر راجپوت ”رانا“ ہیں۔ ان کی مونچھوں کا اسٹائل بتاتا ہے کہ وہ کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔ شاید وہ یہ سلسلہ اسی طرح چلاتے رہیں۔انہیں سکون نصیب نہیں میں نے حافظ سعید سے ملاقات کے دوران انہیں اپنی تینوں کتابیں پیش کی ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا کہ نظر بندی کے دور میں مجھے ایک کتاب ملی ہے۔ ”امی جان“ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے شروع سے آخر تک کتاب ایک ہی سیٹنگ میں ختم کی۔ انہوں نے مجھ سے پانی کے مسئلے کے بارے پوچھا۔ میں نے انہیں سندھ طاس معاہدے کے بارے وضاحت کی جو 1960ءمیں ہوا۔ اس کی رو سے بھارت نے جن دریاﺅں کا پانی مکمل طور پر روک رکھا ہے۔ وہ اس کا مجاز نہیں ہے۔ اس پر حافظ صاحب نے کہا کہ میں اور میرے ساتھ آپ کی بات کو ”انڈوز“ کرتے ہیں۔ یہ معاملہ بہت اہم ہے۔ ماہر قانون دان، خالد رانجھا نے کہا ہے کہ پی اے ٹی اگر چاہتے تو آسانی سے مصدقہ کاپی حاصل کر سکتی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ شائع شدہ رپورٹ میں سے کوئی چیز نکالی گئی ہو گی۔ رپورٹ سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ پنجاب حکومت نے طاہر القادری کے بندوں کو ”پھینٹی“ لگانے کا حکم دیا۔ ہو سکتا ہے پولیس نے تجاوز کیا ہو لیکن اسے پنجاب حکومت کی جانب سے حکم دیا گیا۔ گواہیاں اگر جھوٹی ہوں تو ملزم کے گلے پڑ جاتی ہیں۔ اس بات کے شواہد رپورٹ میں کہیں نہیں مل رہے کہ وزیراعلیٰ نے انہیں روکنے کا حکم دیا ہو۔ اس بات کے شواہد بھی موجود نہیں کہ چیف منسٹر کے سیکرٹری نے پولیس کو روکنے کا حکم دیا ہو۔ شرم کی بات ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد کمیشن کی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ اس معاملے کا حل یہ ہے کہ سپریم کورٹ ماڈل ٹاﺅن پر جے آئی ٹی بنا دے اور اس کی تفتیش ان کے سپرد کر دے اور وہ وقت کے ساتھ تعین کرے کہ کون کون اس سانحہ میں ملزم ہے۔ معاملے کا سادہ حل یہی ہے کہ سپریم کورٹ ایک ایسی جے آئی ٹی بنائے جس پر فریقین کو اعتماد ہو۔ ماہر قانون دان جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ نجفی رپورٹ کے جج صاحب ابھی حیات ہیں۔ اگر رپورٹ میں سے کچھ اجزاءنکالے گئے ہیں تو ان سے پوچھا جا سکتا ہے۔ عدالت سے جانا ایک آسان بات ہے کہ جناب یہ وہ رپورٹ نہیں ہے جو جج صاحب نے لکھی تھی۔ اس میں سے کچھ اجزاءخارج کئے گئے ہیں۔ جج صاحب سے مصدقہ نقل حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ رپورٹ فیصلہ تو نہیں ہے لیکن ایک ہائی لیول کے جج نے وقوع کو ”ایگزامن“ کیا۔ جس میں شہباز شریف صاحب نے حلف نامہ کی جمع کروایا۔ جس وقت یہ معاملات عدالت میں کھلیں گے۔ تو دونوں جانب کو سمن کیا جا سکے گا۔ فیصلہ تو نہیں ہے لیکن ایک اہم رپورٹ ہے۔ ماہرقانون دان اکرم شیخ نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر 2014ءمیں دو ایف آئی آر درج ہوئیں۔ تفتیش کے دوران جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی مقرر کر دی گئی اس کے بعد حکومت پنجاب نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ جوڈیشل ٹربیونل بنا دیا جائے تا کہ واقعات دوبارہ نہ ہو سکیں۔ بھٹو دور میں شکیل الرحمن صاحب کا ایک کمیشن بنا تھا۔ وہ کمیشن بھی سیکشن (3) کے تحت بنایا گیا تھا۔ اس میں احمد رضا قصوری صاحب مدعی تھے۔ ان پر جرح کی اجازت طلب کی گئی۔ کورٹ نے قبول کیا کہ اس قسم کی رپورٹوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ نہ یہ تنازع طے کرتی ہیں نہ ان کی جوڈیشل پروسیڈنگ کی حیثیت ہوتی ہے اس لئے باقر نجفی صاحب کی رپورٹ ایک رپورٹ ہی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے اس طرح جسٹس (ر) خلیل الرحمن صاحب نے جو رپورٹ دی ہے۔ وہ ان کی اپنی رائے ہے ان کی رائے بھی قابل احترام ہے۔ باقر نجفی کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے اگر یہ رپورٹ کہہ بھی دیتی کہ فریقین یوں کریں! یوں کریں! تب بھی فریقین اس کے پابند نہیں تھے۔ اسے ”نان بائنڈنگ رپورٹ“ کہہ سکتے ہیں۔ خلیل الرحمن کی رپورٹ میں ایک منتق ہے۔ ایک سوچ ہے اور ملکی قانون کی تاریخ کے عین مطابق ہے۔ نجفی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے اس نے کسی کو مجرم یا ملزم ثابت نہیں کیا۔ یہ واقعات بیان کرتی ہے اور پنجاب تک پہنچ جاتی ہے۔ میرا نوازشریف صاحب سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص فیس دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو میں اس سے فیس کی ڈیمانڈ نہیں کرتا۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن شہباز شریف نہ سہی سیکرٹری توقیر شاہ کا کیا رول تھا :ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ماڈل ٹاﺅن سانحہ کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ یہ حکومت کی جانب سے اچھا اقدام ہے گزشتہ رات میری ملاقات طاہر القادری سے ہوئی تھی ان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب حکومت نے رپورٹ شائع نہ کی تو ہم اس کے خلاف احتجاج شروع کر دیں گے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو کال بھی دے دی تھی۔ اچھا ہے معاملات عدالتوں میں اور مذاکرات میں حل ہونے چاہئیں۔ سڑکوں پر جنگ لڑنا درست نہیں ہے۔ رانا ثناءاللہ نے رپورٹ پر پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ اس پر شہباز شریف صاحب کا نام موجود نہیںہے۔ یہ بات درست ہے کہ میاں شہباز شریف کا نام اس میں موجود نہیں ہے۔ ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ رانا ثناءاللہ کو حکم ملا تھا۔ جو توقیر شاہ کی طرف سے آیا تھا۔ جو سی، ایم کے پرسانل سیکرٹری تھے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سیکرٹری نے سی ایم کی اجازت سے یہ حکم دیا ہو گا۔ اب بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں کیا سیکرٹری تو سی ایم، اتنے نازک معاملے پر وزیر قانون کو ہدایات جاری کر سکتا ہے۔ اگر شہباز شریف صاحب کا موقف درست سمجھا جائے تو کیا سیکرٹری اتنے ”ہتھ چھٹ“ تھے کہ انہوں نے سی ایم سے پوچھے بغیر ہی احکامات جاری کر دیئے۔ رانا ثنا نے چیف سیکرٹری کے کمرے میں صلاح مشورے میں حصہ لیا تھا۔ انہیں محسوس ہوا تھا کہ سکیورٹی مسائل کی وجوہات کی بنا پر طاہر القادری کے گھر کے اردگرد موجود رکاوٹیں مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ رانا ثناءنے یہ بات قبول کی ہے کہ انہوں نے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ توقیر شاہ صاحب بیرون ملک ہیں اور انہیں سفیر مقرر کیا جا چکا ہے اگر انہیں عدالت نے بلایا تو وہ ضرور آئیں گے۔ طاہر القادری 40 سال سے میرے پڑوسی ہیں۔ اب بھی ان کے گھر کے باہر پہرہ دار موجود ہیں جو چیک کر کے کسی کو اندر جانے دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ طاہر القادری کے کارکنوں نے ہمارے دفتر کا گھیراﺅ کیا تھا۔ انسان کا کسی سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔ طاہر القادری نے مجھے بتایا کہ اب وہ قانونی جنگ لڑیں گے۔ طاہر القادری کا کہنا ہے کہ رانا ثنا اس کے اہل نہیں ہیں کہ جس پر چاہیں چڑھائی کر دیں۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں 100 لوگوں کو گولیاں لگیں اور 14 افراد جاں بحق ہوئے۔ قادری صاحب کے اس موقف میں وزن تو لگتا ہے کیونکہ وزیراعلیٰ کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا اور اہم فیصلہ ہو نہیں سکتا۔ پولیس نے طاہر القادری کے گھر کا گھیراﺅ 9 بجے یا اس سے کچھ پہلے کیا۔ شہباز شریف کا گھر زیادہ فاصلے پر نہیں۔ انہیں زیادہ سے زیادہ دس، گیارہ بجے تک پتا چل جانا چاہئے تھا۔ شہباز شریف کا قول ہے کہ انہیں ٹی وی کے ذریعے معاملے کا لیٹ پتا چلا۔ لاہور کے واقعہ کا کوئی تعلق میاں محمد نوازشریف سے نہیں بنتا۔ بعض ٹی وی چینل کا کہنا یہ ہے کہ رپورٹ میں سے کافی مفاد نکال دیا گیا ہے اگر طاہر القادری اور ان کے ساتھی بھی یہی شکایت کرتے ہیں۔ قانونی طور پر ان کی تسلی کس طرح ممکن ہے اس کا مشورہ ماہر قانون ایس ایم ظفر ہی ہمیں دے سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے کارکن پارٹی قیادت سے ناراض بھی ہیں اور مایوس بھی۔ پارٹی حکمت عملی اب ایسی لگتی ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر بلاول بھٹو کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے اب تسلسل کے ساتھ رابطہ مہم شروع کر دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں میں نے ان کی تیاریاں دیکھیں، حاجی نواز کھوکھر صاحب میرے ہوٹل میں آئے۔ دو ڈھائی گھنٹے ہم نے بات چیت کی، ان کے بھائی تاجی کھوکھر کا ڈیرہ بہت بڑا ہے۔ انہوں نے جیل میں مجھ سے کہا کہ جب تک چودھری نثار موجود ہیں میری ضمانت نہیں ہو گی ایسا ہی ہوا چودھری نثار فارغ ہوئے ویسے ہی ان کی ضمانت ہو گئی۔ وہ جانوروں کے شوقین ہیں۔ انہوں نے اپنے بڑے گھر میں ایک چڑیا گھر بنا رکھا ہے جہاں شہر ریچھ اور سانپ وغیرہ موجود ہیں۔ پی پی پی بلاول کی لاﺅنچنگ کر رہی ہے۔ آصف زرداری بلاول کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں بلاول میں میچور نہیں آ گئی ہے۔ تقریر بھی اچھی کرنے لگے ہیں۔ آصف زرداری ایک ذہین انسان ہیں۔ امید ہے وہ بلاول کی سیاسی قربانی نہیں دیں گے اور نوازشریف سے مفاہمت نہیںکریں گے۔ اور بلاول کو آزادانہ کھیلنے دیں گے۔ سنیٹر حمد اللہ نے چیئرمین سینٹ کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ اگر سینٹ میں ختم نبوت کے حوالے سے کوئی ترمیم آئی تو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ اس پر ہر گز ہرگز نظرثانی کی گنجائش نہیںہے۔ اس پر تمام سیاسی پارٹیاں متفق ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک کو خوش کرنے کے لئے کیا مذہبی معاملات کو چھیڑا جا رہا ہے؟ ترامیم کی کوشش ابھی بھی جاری ہیں؟ ماہر قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ ماڈل ٹاﺅن کی رپورٹ منظر عام پر آنا بہت اچھا ہے۔ اب شفافیت کا دور شروع ہو گا۔ اور عوام میں موجود ابہام اب ختم ہو جائے گا۔ یہ ملک اور جمہوریت دونوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ رپورٹ میں بڑے لوگوں کے نام شامل نہیں ہیں۔ الزام ایک دوسرے کو بچانے کے لئے پولیس پر لگائے گئے ہیں، سوال یہ بنتا ہے کہ اگر اس رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں تھا تو حکومت نے اسے چھپانے کی کوشش کیوں کی۔ اسے تو اگلے دن ہی شائع ہو جانا چاہئے تھا۔ اگرچہ اس رپورٹ میں بڑے بڑے لوگوں کے نام نہیں ہیں پھر بھی رپورٹ میں کسی جانب کو اشارہ کیا گیا ہو گا کہ کوتاہی کس جانب سے ہوئی رپورٹ میں جج صاحبان کے دستخط موجود ہوں گے۔ اگر کسی کا بیان اس رپورٹ کے خلاف آتا ہےتو ججز صاحبان ضرور اس کی تردید کریں گے۔ میںنے تمام حقائق دیکھ کر ہی اس کا نتیجہ اخذ کرتا ہوں۔ جے یو آئی (ف) کے سنیٹر حمد اللہ نے کہا ہے کہ سینٹ کی ہیومن کمیٹی میں یہ مباحثہ جاری تھا۔ میں سمجھا کہ یہ پچھلے معاملے کو اس کی اہمیت کی بنیاد پر زیربحث لائے ہیں۔ توہین رسالت میں ترمیم کس کی چاہت ہے؟ حلف نامے کی تبدیلی پر ملک میں کس قدر انتشار برپاہوا۔ پورا ملک حکومت کے خلاف امڈ آیا۔ اس کے باوجود ہیومن کمیٹی میں یہ ترمیم زیر بحث ہے۔ بحیثیت ایک سنیٹر، سیاستدان اور مسلمان کے میری ذمہ داری بنتی ہے کہ چیئرمین سینٹ کو آگاہ کروں کہ یہ ابھی تک زیر بحث کیوں ہے۔ توہین رسالت کیکوئیبھیتبدیلی یا ترمیم قابل قبول نہیں ہے کیا یہ سزائے موت کو عمر قید بنانا چاہتے ہیں، ملکی اساس، قانونی تقاضے اور اپنے فرائض سمجھتے ہوئے میں نے ایک خط چیئرمین کو بھجوایا ہے کہ آپ اپنا آئینی کردار ادا کرتے ہوئے اسے روکیں۔ 13،14 نومبر کے اخبارات میں ایک بہت بڑی خبر فرنٹ پر چھپی ہے کہ جنیوا میں ایک کنونشن ہو رہا ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ پاکستان توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرے۔ کیونکہ یہ انسانی حقوق کی پامالی میں آتا ہے۔

”پشاور “دہشتگردی میں فوج سے بھی پہلے پولیس فورس کی دلیرانہ کاروائی قابل تحسین :ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیاشاہد نے کہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف بادشاہ ہیں وہ جو چاہیں عدالتوں کے بارے کہہ سکتے ہیں کسی اور کی کیا مجال کہ اس انداز میں عدالت کے بارے بیان دے سکے۔ اگر یہی معاملہ چلتا رہا تو بڑھتے بڑھتے چھوٹی عدالتوں تک چلا جائے گا۔ لوڈشیڈنگ ختم ہونے کے بارے میں تمام علاقوں سے رپورٹ طلب کی ہے کل ضرور حقائق سامنے لائیں گے۔اویس لغاری صاحب نے اپنے والد کے نظریات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ن لیگ میں شامل ہو گئے۔اویس لغاری بھی اس وقت عاقل بالغ تھے جب ان کے والد نے میاں نواز شریف کی حکومت پر کرپشن کا الزام لگا کر فارغ کیا۔ یہ پرویز مشرف دور میں بھی وزیر رہے۔ یہی پرویز مشرف کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملایا کرتے تھے۔ اب ان کو ساری خوبیاں مسلم لیگ ن میں دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان کی سیاست نرالی ہے، شاعر مشرق نے جو خواب دیکھا اس کو قائداعظم نے عملی صورت میں پیش کیا۔ علامہ اقبال نے جرمنی میں جا کر فلاسفی میں پی ایچ ڈی کی۔ انہوں نے اپنے کلام میں کہاجمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میںبندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے یہ جمہوریت ”فیوڈل کلڈ“ کی جمہوریت ہے سندھ میں تمام وڈیرے حکومت میں ہیں۔ پنجاب میں ذوالفقار علی بھٹو نے لوئر مڈل کلاس کے حنیف رامے اور ممتاز کاہلوں وغیرہ کو ٹکٹ دیے تھے۔ جبکہ سندھ میں تمام وڈیروں کو ٹکٹ دیے۔ کے پی کے میں پولیس کو سارے ملک میں ناموری ملی ہے۔ جنہوں نے فوج کے ساتھ مل کر اور فوج سے پہلے ہی بڑی ہمت اور جرا¿ت کا مظاہرہ کیا اور پشاور میں دہشتگردوں کے حملے پر قابو پایا۔ پرویز خٹک اور عمران خان کا مو¿قف ہے کہ کے پی کے میں پولیس کو غیرسیاسی کر دیا گیا ہے اور وہ اب کام کرتی ہے۔ دہشتگردوں کو قابو کرنے پر ہم کے پی کے کی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ افغان مہاجرین کے آنے اور جانے کی وجہ سے پولیس کو کے پی کے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ افغان مہاجرین کے اکثر رشتہ دار اس جانب رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ پرویز خٹک صاحب آپ فرمائیے کہ جس سارے دہشتگرد افغانستان سے آتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ پاک فوج نے بھی کوشش کی آپ کے علم میں ہے کہ کچھ پابندیاں لگائی جانی چاہئیں۔ اسفند یار ولی سے اچکزئی تک سب نے یہ کہا کہ کے پی کے پٹھانوں کا ملک ہے اور افغانستان سے آنے والے مہاجر نہیں ہیں۔ یہ ان کا وطن ہے۔ انہیں مہاجر نہ کہیں۔ سیاست میں خاموشی کا مطلب ہوتا ہے کہ ہمارے پاس جواب نہیں ہے۔ تحریک انصاف پر عائشہ گلا لئی ایک ایم پی اے صاحب اور خود جاوید ہاشمی نے بہت الزام لگائے۔پرویز خٹک صاحب کو صوبے کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ضرور جواب دینا چاہیے تھا۔ خاموشی کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ الزام لگانے والوں سے 50 فیصد متفق ہیں۔ سیاستدانوں کے ٹاپ آرڈر میں کوئی بھی ایک دوسرے کا مخالف نہیں ہوتا۔ سب ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ نواز شریف شہباز شریف کے قریبی چہیتے پرویز ملک کے بھائی جاوید اکرم ان کی بیگم معروف صنعتکار ہیں۔ اشرف مارتھ کے داماد ہمارے دوست محسن نقوی صاحب ہیں ”سٹی 42“ والے۔ وہ ساری عمر ایوان صدر میں بیٹھے رہے۔ آصف علی زرداری کے ساتھ، انہیں یہ طور طریقے آتے ہیں۔ وہ ا یک ذہین آدمی ہیں۔ لاہور میں ہونے والی شادی کے فنگشن میں ن لیگ کی ساری لیڈرشپ موجود تھی۔ اس لئے میں تو اپنے ہم وطنوں کو یہی کہوں گا کہ آپس میں نہ لڑا کرو یہ سب ایک ہیں۔ یہ پیسے والے، اقتدار والے سب ایک ہی طبقہ ہے۔ تمام سیاستدان شادی بیاہ کے فنگشن پر ایک ہوتے ہیں لہٰذا ان لیڈروں کے بیانات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔ سب اندر سے ایک ہیں۔ میں اور امتنان اسلام آباد گئے تھے وہاں بہت سے اہم اشخاص سے ملاقات رہی میںنے آئی ایس آئی کے جنرل غفور سے کہا جناب اتنی جلدی کیا تھی دھرنے کے لوگوں کو چھڑانے کی۔ اس لئے کہ (3) بندوں کے گھروں پر توحملے ہوگئے تھے۔ 21 استعفے ہو گئے تھے۔ جن میں 16 استعفے تو سیالوی صاحب کے پاس تھے۔ چھ دن انتظار کر لیتے تو مسلم لیگ ن تو آدھی فارغ ہو گئی تھی۔ مریم اورنگزیب سے چائے پی ا ور ان سے گپ شپ لگائی۔ وہ بہت پریشان تھیں، ہماری مذہبی قیادت میں اس قسم کی گالم گلوچ پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھی۔ جو اس دھرنے کے قائدین نے ماں بہن کی گالیوں کو جس طرح ”معرب“ کیا یعنی عربی کے طرز پر گالی دینا۔ جس طرح انہوں نے کرکٹ کو حرام قرار دیا۔ایک نیا مذہب سامنے آیا ہے جس میں نماز پڑھنا اتنا ضروری نہیں ہے جتنا حرمت رسول پر ڈنڈے لیکر سڑکوں پر نکلنا ضروری ہے۔ آج طاہرالقادری سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ میرا کام یہی رہا ہے کہ سینئرز سے ملاقاتیں کروں اور سونگھنے کی کوشش کروں۔
یہ نصف صدی کا قصہ ہے
دو چار برس کی بات نہیں
پچاس سالوں میں میںنے جتنا جھوٹ جتنی منافقت، جتنی چال بازی جتنی مکاری ہماری سیاست میں دیکھی، اتنی کہیں اورنہیں۔ بدقسمتی سے ہم جھوٹ بولتے ہیں، کھاتے ہیں پیتے ہیں، پہنتے ہیںاوڑھتے ہیں۔ صبح سے شام تک جھوٹ ہی جھوٹ کا سہارا لتے ہیں۔ ہم لوگوں کی باتوں پر کس طرح درست مشاہدہ نکال سکتے ہیں۔ عموماً 50 فیصد سے زیادہ تو ان کی باتوں میںجھوٹ ہوتا ہے۔ عدلیہ کو قدرت نے کمال صبر بخشا ہے۔ اسے صبر ایوب کہا جاتا ہے انہیں کچھ کہہ لیں وہ کچھ نہیں کہتے۔ ججوں میں برداشت کی انتہا ہو چکی ہے۔ ججوں کے صبر و تحمل کا مظاہرہ شروع کر رکھا ہے اچھی بات ہے۔ لیکن ڈریں اس وقت سے کہ اگر درجہ سوئم کے مجسٹریٹ تک یہ صبر آ گیا تو کیا بنے گا۔ لوگ کرسیاں اٹھا کر نچلے درجے کے مجسٹریٹ کے سر میں مارا کریں گے۔ جاوید ہاشمی نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں بھی کہہ چکے کہ نوازشریف میرا لیڈر ہے۔ وہ کہتے ہیں اتنا کچھ ہو جانے کے بعد میں نوازشریف میری بات نہیں سنتے۔ وہ مجھے وقت نہیں دیتے۔ لیکن اب وہ نواز شریف سے مل چکے۔ جاوید ہاشمی اور خواجہ سعد رفیق کے بارے کہانی چھپی تھی کہ دونوں تحریک انصاف میں جا رہے ہیں سعد رفیق نے انہیں تو دھکا دے دیا لیکن خود وہیں رہے۔ جاوید ہاشمی کو تحریک انصاف میں بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی کا ایک ہی حلقہ انتخاب تھا۔ میں نے شاہ محمود قریشی کو کہا کہ جاوید ہاشمی زیادہ دیر تحریک انصاف کے ساتھ نہیں چل پائیں گے۔ یہ پی ٹی آئی میں اندر سے جاسوسی کیلئے وہاں گئے تھے۔ جاوید ہاشمی نے عمران خان کی کمر میں اس وقت خنجر گھونپا جب انہوں نے نعرہ لگایا کہ میں ”مارشل لا“ کے خلاف اور عمران خان آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر مارشل لا لگوانا چاہتا ہے۔ جاوید ہاشمی کو جنرل ضیاءالحق نے وہاں سے اٹھایا جو اس وقت ایم پی اے بھی نہیں تھے اور فیڈرل حکومت میں وزیر بنا دیا جہاں یہ کافی عرصہ رہے۔ یہ ضیاءالحق کے انتہائی حد تک خوشامدی تھے۔ اچانک انہیں لگا کہ مارشل لا بُری چیز ہے۔ انہوں نے علم جمہوریت اٹھا لیا۔ مجھے تو ان میں ”باغی“ کا کوئی خاصہ دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ ان کی کتاب بار بار پڑھی۔ یہ صحت کے وزیر تھے اور تمام وزیروں کو ”ویاگرا“ تقسیم کیا کرتے تھے اس لئے سب ان سے بہت خوش تھے۔ ملتان کے بڑے ہوٹل میں اس وقت دو دو فلور فارما سوٹیکل کے نمائندوں سے بک ہوا کرتے تھے۔ اور لوگوں کو جگہ نہیں ملتی تھی۔ کیونکہ صحت کا وزیر ادویات کا قیمتیں بڑھایا کرتا تھا۔ چنانچہ موصوف نے وہاں یہ کام احسن طریقہ سے کیا۔ ان کی کینٹ میں گھر ہے جس کی ڈیمانڈ 98 کروڑ کر رہے ہیں۔ ایک صحافی کے سوال پر انہوں نے جواب دیا تھا کہ میرا گھر لیز پر ہے۔ یونس حبیب کا اعترافی بیان موجود ہے کہ اس نے جاوید ہاشمی کو 4 کروڑ روپے دیئے اس دور میں اچانک انتخابات کا اعلان ہو گیا۔ تحریک انصاف کے لیڈروں کی پریس کانفرنس کی ریکارڈنگ موجود ہے جس میں انہوں نے جاوید ہاشمی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے پیسے لے کر وہاں ٹکٹیں بانٹی ہیں۔ وزیراعلیٰ کے پی کے، پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پشاور میں دہشتگردوں کا حملہ ہوا ہے جس میں پولیس نے بڑی دلیری اور بہادری دکھائی جس نے آرمڈ فورسز کے آنے سے پہلے ہی ان پر قابو پا لیا۔ یہ تمام کوشش ہم پچھلے چار سال سے کر رہے ہیں۔ پولیس اب غیر سیاسی ہو چکی ہے۔ اب وہ اپنی مرضی سے درست کام کرتی ہے۔ میں تو بڑے زمانے سے صوبوں کو کہہ رہا ہوں کہ پولیس کو بااختیار کر دیں۔ افغان مہاجرین کا مسئلہ بہت پرانا ہے۔ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بارڈر محفوظ نہیں ہیں۔ یہ بارڈر بالکل کھلا ہوا تھا لوگ آزادی سے اِدھر اُدھر آتے جاتے تھے۔ اب وہاں فیسنگ کی جا چکی ہے۔ آرمی نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ جس سے حالات بہت بہتر ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ جنگ معاملات کا حل نہیں ہے۔ ہم کلیئر ہیں کہ ہماری جانب کوئی دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود نہیں دہشت گردی سے ہمیں نقصان پہنچ رہا ہے ہم ان کی کیونکر مدد کریں گے یہ بات عالمی طور پر بھی اٹھانی چاہئے۔ ہم تودہشت گردوں کے خلاف ہیں۔ ہمارے خلاف کوئی کرپشن کے ثبوت لے کر آئے ہم وضاحت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ لوگ غلط الزام لگاتے ہیں۔ ہم تو اوپن ہیں۔ یہاں احتساب کے ادارے ہی اینٹی کرپشن ہے۔ ماضی کے حکمران خود چوریاں کرتے رہے وہ سمجھتے ہیں کہ ہر کوئی ان کے جیسا ہے اس لئے وہ ہم پر بھی الزام لگاتے ہیں۔ الزام لگانے والوں کے مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں اور اٹھ کر الزام لگا دیتے ہیں۔

قادیانیوں کا پاکستان میں اقلیت کی بجائے مسلمان کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا منصوبہ :ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد“ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے مصحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا کہ میں نے لندن اور بیلجیم میں اپنے دوستوں سے پوچھا اور دوسرے ملکوں سے بھی دوستوں سے پوچھا کہا جاتا ہے کہ قادیانی حضرات کی لیز کردہ ربوہ کی زمین کی مدت 2030 میں ختم ہونے والی ہے۔ یہ خبر گرم ہے پنجاب حکومت نے کسی مقام پر ان کے لئے جگہ مختص کر دی ہے یہ پیسے دے دیں گے اور وہاں سے سلسلہ شروع کر دیں گے اگر ان کو ربوہ سے جاری رکھنے کی اجازت نہ ملی تو بحرحال اس کا لیز 2030ءمیں ختم ہو گا۔ مراکش کے بارے کہا جاتا ہے کہ ایک لبرل ملک ہے۔ اسرائیل نے فارمولا بنایا کہ دھڑا دھڑ پیسے دو، زمینیں خریدو اور بعد میں وہ چوڑے ہو گئے کہ یہ ہمارا ملک ہے۔ اگر معلومات غلط ہیں تو احسن اقبال، رانا ثناءاللہ اور دیگر صاحبان اس کی تردید کر دیں میں مان لوں گا۔ معلومات یہ ہے کہ مراکش میں ایک علاقے میں بنی بنائی زمین، مکانات بلکہ ”ڈویلپ“ علاقہ قادیانی حضرات خرید رہے ہیں۔ نقد اور زیادہ پیسے دے کر خرید رہے ہیں۔ وہی فارمولا ہے جس کے تحت ”طل ابیب“ کو خریدا گیا تھا۔ قادیانی وہاں بسنا چاہتے ہیں۔ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ پاکستانی کچھ سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ 2018ءکے الیکشن میں ان سیاسی پارٹیوں کی مدد کریں گی قادیانی اقلیت ہے لیکن ان کاکوئی نمائندہ اسمبلی میں نہیں ہوتا۔ ملک بشیر الدین اور ان کے بھائی قادیانی سیٹ پر ایک مرتبہ الیکشن لڑے تھے۔ وہ کامیاب بھی ہو گئے تھے۔ اس کا اخبار جو ربوہ سے چھپتا تھا۔ اس میں تردید کیگئی کہ قادیانیو ںکی جماعت نے انہیں کھرا نہیں کیا۔ وہ اپنے طور پر کھڑے ہوئے۔ قادیانیوں کیکوشش تھی۔ پاکستان کی کچھ سیاسی جماعتوں کو اور کچھ سیاستدانوں کو پیش کش کی کہ آپ ہماری مدد کریں کہ ہم پر (غیر مسلم) کا یہ لیبل ختم کیا جائے۔ بقول ان کے وہ مسلمان ہیں۔ ہمیں مسلمان شہری کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا موقع دیا جائے۔ ان کی بات پر میں یقین نہیں رکھتا۔ معاف کیجئے جو کچھ اسمبلی میں ہوا۔ وہ درست نہیں تھا۔ میری تحقیق کے مطابق جو کچھ میں نے لندن سے نیو یارک سے معلومات حاصل کیں، اسی تحقیق کی وجہ سے یہ ساری معلومات میرے پاس آئیں۔ اگر خدانخواستہ یہ ترمیم پاس ہو جاتی اور اس کی مخالفت سامنے آتی تو یہی دعویٰ درست ثابت ہو جاتا۔ اگر غلط ہے تو اس کی تردید کر دیں۔ میں قبول کر لوں گا۔ راناثناءاللہ نے ہمارے پروگرام میں کہا کہ تردید کی کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان اور قادیانیوں میں فرق نہیں، ہمارا کام سچ کی تلاش ہے۔ میں نے تسلیم کیا کہ احسن اقبال کی فیملی پس منظر رکھتی ہے نواز شریف صاحب شہباز شریف صاحب ان کے والد محترم میاں شریف کو قریب سے دیکھا ہے۔ وہ دینی طور پر بہت سختی کرتے تھے۔ اپنے بچوں پر کہ صوم و صلوٰة کی پابندی کریں۔ وہ خود صبح کی نماز کے بعد اتفاق مسجد میں درس قرآن کے بعد دوپہر کے کھانے تک مسجد میں قیام کرتے تھے۔ شریف فیملی اور بالخصوص نواز شریف اور شہباز شریف خود دینی نظریات کے پکے حامی ہیں وہ کس طرح اس معاملے میں پھنس گئے۔ آپ تحقیق کریں وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہماری ان سیاستدانوں کے ساتھ ڈیل ہوئی تھی۔ اس سے بڑی خبر یہ ہے کہ انہوں نے معاہدہ کیا تھا کہ ہم 2018ءکے الیکشن میں شریک نہیں ہونگے۔ لیکن جو جماعتیں ہماری مدد کریں گی ہم مالی طور پر ان کی پوری مدد کریں گے۔ انہیں ووٹ بھی دیں گے۔ حکومتی پارٹی اس بات کی تحقیق کروائے کہ ساری دنیا میں یہ معاملہ اس وقت عام ہو چکا ہے۔ پارلیمنٹ میں ایسا کیوں ممکن ہوا۔ انوشہ رحمن، لاءگریجویٹ ہے اور اس کی فیملی بھی مذہبی بیک گراﺅنڈ رکھتی ہے۔ میں نے سنا انوشہ رحمن کو ایک ڈرافٹ موصول ہوا۔ کہ قادیانیوں کو کلیئر کریں۔ وہ مسلمان ہیں۔ انہیں اقلیت میںنہ ٹھونسا جائے۔ انہیں اوپن الیکشن میں حصہ لینے دیا جائے۔ پارٹی ٹکٹ پر یا آراد حیثیت سے الیکشن لڑنے دیا جائے۔ یہ ڈرافٹ انوشہ رحمن کے سپرد ہوا۔ لیکن یہ کیسے ہوا کہ شریف فیملی، احسن اقبال، زاہد حامد جو دینی پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ اس میں آگئے۔ شازیہ مری کا انٹرویو چھپا ہے کہ میں پارلیمانی کمیٹی کی ممبر تھی۔ وہ کہتی ہیںکہ زاہد حامد نے کہا یہ پوائنٹ چھوڑیں اس پر بات ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا اس کے منٹ موجود ہیں ہمیں اس کی ریکارڈنگ دیکھ کر بتایا جائے۔ مسلم لیگ ن کے نظام الدین سیالوی نے کہا ہے کہ پارٹی کے لیڈران دونوں صورتحال میں ذمہ دار ہیں، اگر ان سے پوچھا نہیں گیا تو بھی ذمہ داری اور اگر پوچھ کر ایسا کیا گیاتو بھی وہ ذمہ دار ہیں۔ جو اشخاص اس میں ملوث ہیں انکوائری ہونی چاہیے اور ذمہ داران کو سزا ملنی چاہیے۔ ہم دھرنے والوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن ہم نے کسی بھی در پردہ سازش کا حصہ نہ بننے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ ہمارا ایک پوائنٹ ایجنڈا ہے۔ وہ ہے ناموس رسالت کے حوالے سے جو بھی ذمہ دار ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔ یہ خالصتاً ایمان کا معاملہ ہے۔ اس میں سیاست کا ایشو ہی نہیں ہے۔ یہ ایشو اب پرانا ہو گیا۔ وزیرقانون پنجاب کی طرف سے بھی بیانات آتے رہے۔ بلکہ ہر سال کوئی نیا بیان سامنے آ جاتا ہے۔ اس وجہ سے ہم کافی تشویش کا شکار رہتے ہیں جس سے ہم اپنی لیڈرشپ کو آگاہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن شاید وہ اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ واپس جانا ہی نہیں چاہتے۔ کچھ نہ کچھ ہمیں کرنا تھا۔ وہ کچھ کرنے کے موڈ میں نہیں تھے۔ اسمبلی میں اس پر ڈیبیٹ ہوئی کہ قادیانیوں کو سکول دئیے گئے ہیں۔ میرے دادا نے 1992ءمیں بیان دیا تھا کہ قادیانیوں کو کسی بھی اہم عہدے پر نہیں ہونا چاہیے۔ ہم بھی اسی مو¿قف پر ہیں۔ وہ غیرمسلم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قادیاتی کو کسی ادارے کا ہید نہیں ہونا چاہیے۔ میں پچھلے نو دس سال سے پارٹی سے جڑا ہوا ہوں۔ جو بھی اس عرصہ میں متنازعہ چیز سامنے آئی ہے اس کے پیچھے رانا ثناءاللہ کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔