Tag Archives: Saqib-Nisar

ڈی پی اوپاکپتن معاملہ؛ چیف جسٹس نے واقعے کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈی پی او پاکپتن اور خاور مانیکا کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈی پی او پاکپتن اور خاور مانیکا کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی پنجاب ابوبکر خدابخش، آر پی او ساہیوال اور ڈی پی اوپاک پتن کو نوٹسز جاری کردیے ہیں جب کہ کیس کل سماعت کے لئے مقرر کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل ڈی پی او پاکپتن کی جانب سے خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے کا معاملے سامنے ا?یا تھا جس کے بعد آئی جی پنجاب نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کردیا تھا۔خاور مانیکا کو 23 اگست کو گارڈز سمیت پولیس نے ناکے پر روکا لیکن خاور مانیکا نے گاڑی نہ روکی اور آگے نکل گئے، جس پر پولیس اہلکاروں نے پیچھا کرکے ان کی گاڑی روکی تو پولیس اہلکاروں اور خاور مانیکا کے گارڈز کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی تھی، رپورٹ ملنے کے بعد وزیراعظم نے واقعہ کو محکمانہ معاملہ قراردیتے ہوئے معاملے سے لا تعلق رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

زینب قتل کیس: چیف جسٹس کا ازخود نوٹس، شہباز شریف کا اِن ایکشن

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان نے معصوم زینب کے بہیمانہ قتل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے زیبب قتل کیس کا نوٹس لیا ہے، سپریم کورٹ کے اعلامیہ میں میڈیا رپورٹس کو حوالہ بنایا گیا ہے۔یاد رہے کہ معصوم زینب کے والد نے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی تھی، جس کے جواب میں آرمی چیف کی جانب سے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوج کو سول انتظامیہ سے تعاون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس کے ریمارکس نے سب کی آنکھیں کھول دیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے مارگلہ ہلزاسٹون کرشنگ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ ہمیں اپنے اختیارات کاعلم ہے،ہم ان سے باہر نہیں جائیں گے، فرائض میں کوتاہی پر ایکشن لیں گے،افسران معاملات کو نظرانداز نہ کریں تو سرکاری زمین کی ایک انچ پر قبضہ نہیں ہوسکتا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مارگلہ ہلزاسٹون کرشنگ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، عدالت نے اسٹون کرشنگ سے متعلق سی ڈی اے کے قواعد و ضوابط نہ ہونے پر وزیرکیڈ کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کے روبروعذر پیش کیا کہ پنجاب اوراسلام آباد کے درمیان کچھ حدود کاتنازع ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 1960 سے آج تک سی ڈی اے کے قوانین کیوں نہیں بنائے گئے، ہم نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، ہمیں جوڈیشل ایکٹوزم کا بالکل شوق نہیں، ہمیں اپنے اختیارات کاعلم ہے اور ہم ان سے باہر نہیں جائیں گے لیکن فرائض میں کوتاہی پر ایکشن لیں گے۔ افسران معاملات کو نظرانداز نہ کریں تو ایک انچ سرکاری زمین پر قبضہ نہیں ہوسکتا، پنجاب اور اسلام آباد کی حکومتیں توبھائی بھائی ہیں، دونوں بھائی بیٹھ کرمسئلہ کو حل کریں۔ عدالتی احکامات سرد خانے میں نہیں جانے چاہئیں، ہم جو معاملہ اٹھائیں گےاسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کی چیف جسٹس سے ملاقات، بھارت کی جانب سے پانی کی بندش کی طرف توجہ دلائی

لاہور (خصوصی رپورٹر) جمعہ کی صبح سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار سے روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ انہوں نے چیف جسٹس صاحب سے بھارت کی طرف سے پاکستان کے اہم ترین مسئلے یعنی مشرقی دریاﺅں ستلج اور راوی میں پانی کی سو فیصد بندش کی طرف ان کی توجہ دلائی اور کہا کہ پاکستان اور بھارت میں انڈس واٹر ٹریٹی 1960ءکے باوجود بھارت سال بھر ہمارا سارا پانی بند نہیں کر سکتا کیونکہ یہ معاہدہ زرعی پانی کا ہے اور انٹرنیشنل واٹر کنونشن 1970ءکے مطابق پانی کے دیگر تین استعمال یعنی گھریلو پانی، آبی حیات اور ماحولیات کیلئے مخصوص پانی کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی حکومت اور متاثرہ عوام اس ضمن میں انٹرنیشنل کورٹ میں جا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے بڑی توجہ سے ان کی معروضات سنیں اور کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں ماحولیات پر بہت زور دیا جارہا ہے۔ میں نے خود کئی برس پہلے نوائے وقت میں محترم مجید نظامی مرحوم کا تفصیلی بیان پڑھا تھا جس میں سیلاب کے زمانے کے سوا بھارت کی طرف سے ہمارے دو دریاﺅں کے پانی کی مکمل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ میں پانی کی کمی کے مسئلے سے بخوبی واقف ہوں اور پاکستان کو اس امر کاجائزہ لینا ہو گا کہ کیا ٹریٹی 1960ءکے اندر ایسی کوئی قانونی گنجائش ہے کہ ہم اس کی رو سے ستلج اور راوی کیلئے بھی کچھ پانی کا مطالبہ کر سکیں۔ اس مسئلے کا قانونی پہلو سے جائزہ لینا ہو گا۔ تاکہ کوئی راستہ نکالا جا سکے۔ انہوں نے چیف ایڈیٹر خبریں کی کاوشوں کو سراہا جن کی تفصیل ان کے سامنے بیان کی گئی تھی اور کہا کہ آپ اس ایشو پر ضروری مواد جمع کریں میں بھی ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس پر غور کروں گا۔ انہوں نے جناب ضیا شاہد کو دعوت دی کہ اس مسئلے پر آپ بھی تیاری کریں، قانون کے ماہرین اور آبی ماہرین سے مشورے مکمل کریں اور دو ہفتے بعد ہم ایک بار پھر ملیں گے۔ خدا کرے کوئی قانونی شکل نکل آئے تاکہ مستقبل میں پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے پیش نظر ہماری آنے والی نسلوں کو تکلیف دہ مسائل سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

 

تاریخی فیصلہ سے قبل ،چیف جسٹس آف پاکستان کی معذرت ۔۔۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عمران خان اور جہانگیر نااہلی کیس کا اہم فیصلہ سنانے کے لئے چیف جسٹس کمرہ عدالت میں پہنچ گئے اور انہوں نے فیصلہ سنانا شروع کردیا، فیصلہ سنانے سے پہلے چیف جسٹس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ایک صفحے پر غلطی ہوگئی تھی جس کو ٹھیک کرنے کی وجہ سے 250صفحات پڑھنے پڑھ گئے اس لئے تاخیر سے آنے پر معذرت خواہ ہیں۔

کراچی:مرادعلی شاہ صاحب سن لیں ،اگر آلودہ پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ۔۔۔

 کرااچی(ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ پانی کی صورتحال سمیت سندھ کی حالت دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں صاف پانی اور نکاسی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق سٹی ناظم سید مصطفیٰ کمال عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پانی کی صورتحال میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے استفسارکیا کہ ہم دانستہ طور پر پینے کے پانی میں انسانی فضلہ شامل کر رہے ہیں، ہم لوگوں کو صاف پانی بھی مہیا نہیں کررہے، یہ سندھ حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے، آپ جہاں کہیں، وہاں جا کر اس پانی کی ایک ایک بوتل پی لیتے ہیں، کیا آپ تیار ہیں۔سماعت کے دوران واٹر کمیشن کی ویڈیو میں ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تباہی دکھائی گئی جس پروزیراعلی سندھ نے کہا کہ جو ویڈیو دکھائی گئی وہ درخواست گزار کی بنائی ہوئی ہے جب کہ صورتحال اتنی سنگین نہیں، موقع ملا تو بہت جلد سپریم کورٹ میں ویڈیو پیش کروں گا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شاہ صاحب، آپ اس ویڈیو کو چھوڑیں مگر کمیشن کی رپورٹ ہی دیکھ لیں اور اس کی سنگینی کا جائزہ لیں، ہم نے بڑے عزت، وقار اوراحترام سے آپ کو بلایا ہے، اس کیس کو مخاصمانہ نہ لیجئے گا، ہماری مدد کی ضرورت ہے تو ہم سے مدد لیں، ہم آپ کی پوری مدد کریں گے، ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اس آلودہ پانی سے نجات دلائی جائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواہش تھی کہ چئیرمین بلاول بھٹو بھی یہاں ہوتے اور صورتحال دیکھتے، بلاول بھٹو کو بھی معلوم ہوتا کہ لاڑکانہ کی کیا صورتحال ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو مسائل حل کرنے کے لیے منتخب کیا گیا، پیپلزپارٹی کی پچھلی حکومت میں کوئی معاملہ عدالت تک نہیں آیا، انتظامیہ کی ناکامی کے بعد لوگ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، ہم یہاں مسائل کے حل کے لیے آئے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو ویڈیو کورٹ روم میں دکھائی گئی ہے میڈیا کے نمائندے اپنے اپنے چینلز پر دکھائیں تاکہ عوام کو پتا چلے، سپریم کورٹ اپنے کندھے آپ کو دینے کے لئے تیار ہے، لیکن شاہ صاحب آپ کو بھی کام مکمل کرنے کی ضمانت دینا ہوگی، آپ اس قوم کے منتخب لیڈر ہیں، علم، لیڈر شپ اور قانون پر عمل کرنے والی قومیں ہی سرخروہوتی ہیں، ماضی میں جو ہوا ہم دوسرے مرحلے میں ذمہ داروں کا تعین بھی کریں گے، پینے کا پانی صوبائی معاملہ ہے، آپ ہی حل کریں گے، شاہ صاحب سن لیں یہ مسئلہ اب حل ہونا ہے، اگرآلودہ پانی سے نجات نہ دلائی تو اپنے بچوں کو کیا مستقبل دیں گے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ ہمیں حل بتا دیں کہ مسئلے کا حل ایک ہفتے میں ہوگا یا 10 دن میں، پھر اس پر ہم سب مل کر کام کریں گے اور انشاء اللہ 6 ماہ میں یہ مسئلہ حل ہوجائے گا، ہمیں جواب دینا ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے جس پر مراد علی شاہ نے کہا کہ 6 ماہ میں یہ کام مکمل نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ  آپ مہلت مانگیں گے تو ہم وقت بڑھا دیں گے، آپ کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں، کیا ہمیں نہیں پتہ رشتہ داروں کو ٹھیکے دیے جاتے ہیں، مگر ہم ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہتے، ہمیں پلان بتائیں، عدالت پورا تعاون کرے گی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ منتخب ہونے کے بعد طے کیا تھا کچھ مثالیں قائم کروں گا، سمت درست کرنے کی کوشش کررہا ہوں، یقین دلاتا ہوں آپ کو کام نظر آئے گا پرعدالت سے کچھ وقت دینے کی استدعا ہے۔چیف جسٹس نے وزیراعلی سندھ سے کہا کہ یہ طے ہے کہ یہ مسئلہ حل ہونا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ اختیارات ہوں تو حکومت پرچڑھائی کردیں، غیرجانبداری کے ساتھ عوامی مفادات کے لیے آئینی کردارادا کریں گے، جب بھی خلا ہوگا، اسے عدلیہ پُر کرتیں ہیں، سندھ میں کون کون ذمہ داریوں پر رہا یہ سب ہم ابھی نہیں دیکھ رہے لیکن جو بھی ذمہ دار رہا، اسے چھوڑیں گے نہیں، عدالت کو لکھ کر دیں یہ مسائل کب، کیسے حل کریں گے۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ ہم حکمت عملی، طریقے، مالیات اور وسائل سے متعلق عدالت کو ٹائم فریم دے دیں گے، جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لائٹ موڈ سمجھیں یا سنجیدہ، یہ طے ہے کہ کام ہونا ہے اور ہونا بھی جلدی ہے، یہ آپ ہی کا کام ہے، آپ ہی کو کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عہدے انجوائے کرنے کے لیے نہیں، خدمت کے لیے دیے جاتے ہیں، کمیٹی بناکر ان پر مت چھوڑا کریں، میں کچھ مزید کہنا نہیں چاہتا جس پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ  آپ سب کچھ کہہ بھی رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کہنا نہیں چاہتا، 6 ماہ کی مدت میں یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے، دیگر صوبوں میں بھی ایسے ہی مسائل ہیں، کہیں تو بیان کروں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے بھی نہ کہتے ہوئے، سب کہہ دیا کہ سب اچھا ہے۔

چیف جسٹس نے وزیر اعلی سندھ سے استفسار کیا کہ سال میں دریائے سندھ کا کتنا پانی سمندر میں جاتا ہے، آپ اس پانی کو کراچی کے لوگوں کی ضروریات کیلئے کیوں استعمال نہیں کرتے۔  وزیراعلی سندھ  نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی بہت کم ہوتا ہے، جب سیلاب آتا ہے تو ہم سوچتے ہیں اور جب پانی کم ہوتا ہے تو ہم سوکھتے ہیں، پانی کی قلت کے باعث بدین اور ٹھٹہ تباہ ہورہے ہیں، دریا کا پانی کم ہونے کے باعث سمندر بڑھتا جارہا ہے، سمندر کو روکنے کیلئے جتنے پانی کی ضرورت ہے وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ جو کمیٹیاں بنتی ہیں ان کے اراکین اورسربراہ کس کس کے رشتہ دارہوتے ہیں ، ہم کسی کا نام نہیں لیں گے، جس پر وزیر اعلی نے کہا کہ تھر میں 5 سو میں سے 410 آر او پلانٹس فعال ہیں، ان پلانٹس کو اب سولرانرجی پر منتقل کیا جارہا ہے،  دوسرے مرحلے میں 650 آراو پلانٹس لگائے جارہے ہیں، سیشن جج تھرپارکر کی رپورٹ کے مطابق بھی پلانٹس فعال ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ  ہمارا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو صاف پانی ملے اور سمندر کو غلاظت سے بچایا جائے، ہم اپنا فوکس نہیں چھوڑسکتے ہمیں بتائیں کمیشن کی رپورٹ میں کوئی غلطی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پانی صاف ملنا شروع ہوجائے لوگ اس پانی سے وضو کرسکیں تو ہمارا مقصد پورا ہوجائے گا، یہاں یقین دہانی کرا کے جائیں کہ مسئلہ حل ہوجائے گا، آپ کی پارٹی کی کوششوں سے اٹھارہویں ترمیم آئی ہے اور اختیارات صوبوں کو مل گئے ہیں، تعلیم اورصحت آپ کے پاس ہے مسئلہ بھی حل کریں، ہم ایک ماہ نہیں ایک سال دینے کو تیار ہیں مگر بتائیں کب ہوگا، ہمیں ٹائم فریم دیں گے اس کے سوا کچھ نہیں اور ہم دوسرے صوبوں کو بھی کہتے ہیں صاف پانی دیں۔

بلاول بھٹو زرداری میرے بچوں کی طرح ہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ کے حیرت انگیز ریمارکس

کراچی (ویب ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ سندھ کی صورتحال پر افسوس ہے اور ہم اسے بدلنا چاہتے ہیں۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ شہر قائد میں صاف پانی کی عدم فراہمی اور نکاسی آب سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال سپریم کورٹ رجسٹری کی جانب سے طلبی پر عدالت میں موجود تھے۔کمرہ عدالت میں آلودہ پانی سے متعلق درخواست گزار شہاب اوستو کی جانب سے پیش کردہ دستاویزی فلم دکھائی گئی۔دستاویزی فلم دکھائے جانے کے وقت وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، معزز عدالت مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پورا موقع دیں گے اور سنیں گے بھی۔دستاویزی فلم مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ صاحب دستاویزی فلم دیکھ کر احساس ہوتا ہے، کیا آپ کو نہیں ہوتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس زمین پر سب سے بڑی نعمت ہی پانی ہے اور مراد علی شاہ صاحب ہم لوگوں کو صاف پانی بھی مہیا نہیں کررہے، اس کیس کو مخاصمانہ نہ لیجئےگا، ہم نے بڑے عزت و وقار اور احترام سےآپ کو بلایا ہے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جہاں کہیں وہاں جا کر اس پانی کی ایک ایک بوتل پی لیتے ہیں، اگر آپ کہیں تو میں اور آپ بھی مٹھی جا کر نہر سے ایک گلاس پانی پئیں۔چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ سندھ سے استفسار کیا کہ ہم اور آپ مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں اور اگر ہماری مدد کی ضرورت ہے تو ہم سے مدد لیں۔عوام کے پاس جاکر دعوے کرنیوالے پینے کا پانی نہیں دے سکتے، چیف جسٹچیف جسٹس ا?ف پاکستان نے وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری میرے بچوں کی طرح ہیں اور وہ دیکھیں کہ لاڑکانہ اور دیگر شہروں کے لوگ کون سا پانی پی رہے ہیں، خواہش تھی کہ بلاول بھی یہاں ہوتے اور صورتحال دیکھتے اور انہیں بھی معلوم ہوتا کہ لاڑکانہ کی کیا صورتحال ہے۔اس موقع پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ کو مسائل حل کرنے کے لئے لوگوں نے منتخب کیا، انتظامیہ کی ناکامی کے بعد لوگ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت میں کوئی معاملہ عدالت تک نہیں آیا۔کمرہ عدالت میں روسٹرم پر موجود وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جو ویڈیو عدالت میں دکھائی گئی وہ درخواست گزار کی بنائی ہوئی ہے، صورتحال اتنی سنگین نہیں، موقع ملا تو بہت جلد سپریم کورٹ میں اپنی ویڈیو پیش کروں گا۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ شاہ صاحب آپ اس ویڈیو کو چھوڑیں مگر کمیشن کی رپورٹ ہی دیکھ لیں اور اس کی سنگینی کا جائزہ لیں، کمیشن کی رپورٹ مسئلے کے حل تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اور رپورٹ میں جو نشاندہی کی گئی ہے اس سے مدد لیں۔