Tag Archives: nawaz-shareef

بچ گئے ،عدالت نے حق میں فیصلہ سنا دیا

کراچی (خصوصی رپورٹ) سندھ ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف قرض اتارو ملک سنوارو مہم کے حسابات سے متعلق درخواست مسترد کردی ہے۔بدھ کو سندھ ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، آئینی درخواست قرض اتارو ملک سنوارو مہم کے حسابات متعلق دائر کی گئی ۔دوران سماعت جسٹس منیب اخترنے کہا کہ درخواست غیر ضروری اور عدالتی وقت کا ضائع ہے،درخواست گزار درخواست میں بیان کردہ حقائق پیش نہیں کر سکے، عدالت نے درخواست مسترد کردی۔درخواست گزار نے کہا کہ قرض اتارو ملک سنوارو مہم کی بائیس ہزار آٹھ سو کھرب کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔درخواست کے مطابق یہ رقم چترال کے تاجرعبداللہ کی نشاندہی پر ہیروں کی نیلامی کے ذریعے حاصل کی گئی ،ہیروں کی نیلامی سے حاصل شدہ بائیس ہزار آٹھ سو کھرب قومی خزانے میں جمع نہیں کرائے گئے۔دائر درخواست میں کہا گیاکہ نواز شریف نے یلوکیب اسکیم میں کرپشن کے ذریعے اربوں روپے کی خرد برد کی،1998 میں قرض اتارو ملک سنوارو مہم میں لوگوں نے اپنے اثاثے اور زیورات حکومت کو دیئے،چترال کے تاجر نے نواز شریف کو چترال میں بائیس ہزارآٹھ سو کھرب مالیت کے ہیروں کی نشاندہی کی، اس ضمن میں نواز شریف کے گھر پر اجلاس ہوا۔درخواست گزارنے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم نے اپنے داماد کیپٹن صفدر کو مقامی تاجر کے ہمراہ چترال بھیجا،چترال سے ہیروں کے چھ صندوق لاہورلائے گئے، ہیروں کی نیلامی کی کارروائی نواز شریف کے گھر لاہور ماڈل ٹاون میں ہوئی۔درخواست میں مزیدکہا گیاکہ ہیروں کی نیلامی میں 35 ممالک کے نمائندوں نے حصہ لیا، سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ نے بائیس ہزار آٹھ سو کھرب کی نیلامی پر ہیرے حاصل کئے، ہیروں کی نشاندہی کرنے پر نواز شریف نے مقامی تاجر 33فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیاتھا ، نواز شریف نے ہیروں سے حاصل رقم سے اندرون و بیرون ملک رشتے داروں کے نام پر جائیدادیں بنائیں، کھربوں روپے کے ہیرے دینے والا تاجر آج بھی کسمپرسی اور مفلسی کی زندگی گزار رہا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ چترال سے ہیرے لانے والوں میں پی اے ایف کا فوجی افسر کرمانی ودیگر شامل تھے، بعد میں فوجی افسر سمیت دیگر جہاز حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔درخواست میں سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر انٹر پول،ڈی جی ایف آئی اے،سابق وزیر اعظم نواز شریف فریق نامزدہیں جبکہ سابق صدر پرویز مشرف ،سابق صدر آصف علی زرداری ،ڈی جی پی اے ایف اور نیب حکام کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

لندن میں بڑوں کی بڑی بیٹھک۔۔۔۔۔کیا ہونیوالا ہے،اہم تر ین خبر

لندن (ویب ڈیسک)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کا امکان ہے۔ شاہد خاقان عباسی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہمراہ ترکی سے لندن پہنچے جہاں ان کی نواز شریف سے ملاقات متوقع ہے۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔خیال رہے کہ وزیراعظم شاہد خان عباسی نے وفد کے ہمراہ استنبول میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔

رانا ثنا ءتیار مگر نواز شریف نے استعفیٰ رکوا دیا ،وجہ کیا بنی ،دیکھئے خبر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیصل آباد میں پیر آف سیال شریف پیر حمید الدین سیالوی کی زیر صدارت ختم نبوت کانفرنس ہوئی جہاں ایک بار پھر صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا ۔نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ پیر حمید الدین کے پاس اپنا استعفی لے کر جانے کو تیار تھے اور اس سلسلے میں زعیم قادری نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ رانا ثنا اللہ کو لے کر پیر حمید الدین سیالوی کے پاس جائیں گے لیکن پھر نواز شریف نے اچانک رانا ثنا اللہ کو پیر حمید الدین سیالوی کے پاس استعفی لے کر جانے سے روک دیا ۔ حامد میر نے بتا یا کہ نواز شریف کی سوچ یہ تھی کہ ن لیگ میری پارٹی ہے، استعفی حمید الدین سیالوی کے پاس لے کر جا یا جا رہا ہے تو میں کس بات کا صدر ہوں ؟۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد رانا ثنا اللہ نے حمید الدین سیالوی کے پاس استعفی لے کر جانے کے فیصلے سے دستبرداری ظاہر کردی۔

پانچ ججوں کے فیصلے سے ملک کا ستیا ناس ہونا شروع ہوگیا ،نواز شریف کی عدلیہ پر شدید تنقید،سب دنگ رہ گئے

لندن (ویب ڈیسک)سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پہلے ایک ڈکٹیٹر نے ہماری حکومت ختم کی اور اب پانچ ججوں کے فیصلے سے ملک کا ستیا ناس ہونا شروع ہوگیا ہے۔ لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا لیکن اس کا یہ صلہ ملا کہ ہمیں ملک بدر کردیا گیا، جو ریفرنسزمیرے خلاف بنائے گئے ہیں میں ان کو قطعاً نہیں مانتا کیوں کہ یہ انتقام پر مبنی ہے اور ملک میں انتشار پھیلانے کے مترادف ہے۔نوازشریف کا کہنا تھا کہ ایک ڈکٹیٹر نے ہماری حکومت کو ختم کیا اور اب پانچ ججوں کے فیصلے سے ملک کا ستیا ناس ہونا شروع ہوگیا ہے، پاکستان میں گزشتہ 70 سال سے یہ گھناو¿نا مذاق ہورہا ہے جب کہ ہم سے پہلے بھی دہشت گردی تھی اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا اور سب رپورٹس منظرعام پر آنی چاہییں ورنہ کمیشن بنانے کا کیا فائدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی اور کو بھی پکڑو، صرف نوازشریف کا ہی گلا دبوچتے ہو، یہی وجہ ہے کہ جو ملک میں اندھیرے پیدا کرتے ہیں وہ عیش کررہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ ملک میں اب لوڈشیڈنگ ختم ہورہی ہے اور بجلی وافر مقدار میں موجود ہے جب کہ 2013 میں 20،20 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی مگر ہم ملک میں روشنیاں واپس لائے اور لوگوں کی توقعات پر پورا اترے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 2013 سے دھرنے ہی دیکھتے رہے ہیں، نجانے پاکستان میں کیا رواج بن گیا ہے کہ دھرنے سے کم میں بات ہی نہیں کرتے۔

نا اہل نواز شریف کو پھر دھچکا اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اور فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کی ریفرنسز یکجا کرنے کی تینوں درخواستیں مسترد کر دیں۔عدالت نے احتساب عدالت کو نواز شریف کا ٹرائل جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا، نواز شریف نے ایون فیلڈ، عزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز یکجا کرنے کی استدعا کی تھی۔

ناچنے گانے والے فا رغ ،آمروں سے حلف لینے والوں نے صادق ،امین کا فیصلہ کیا،نواز شریف کی کپتان پر شدید تنقید

کوئٹہ(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ان سے احتساب کے نام پر انتقام لیا جارہا ہے اور صادق و امین کا فیصلہ وہ کررہے ہیں جنہوں نے آمروں سے حلف لیا۔میاں نوازشریف جب جلسے سے خطاب کے لیے آئے تو انہوں نے ڈائس پر موجود بلٹ پروف شیشہ ہٹوا دیا۔نوازشریف نے کہا کہ محمود اچکزئی سے نظریاتی اتفاق ہے، پشتونخوا میپ اور مسلم لیگ (ن) نظریاتی رشتے میں منسلک ہیں، مجھے نظریہ ہمیشہ عزیز رہا ہے، نظریہ کبھی نہیں چھوڑتا اور نہ چھوڑا، میری ساری سیاست نظریئے پر ہی رہے گی۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ترقی ہورہی ہے، افغانستان سے بھی اچھی سڑکیں بلوچستان میں ہیں، ا?ج بلوچستان میں پچھلے چار سالوں سے جو ترقی ہورہی ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، صوبے میں سڑکوں اور موٹرویز کا جال بچھ رہا ہے، آج سے 4 سال پہلے کا منظر عوام کو یاد ہے، بلوچستان کےا ندر کچھ بھی نہیں ہوتا تھا، یہاں ترقی کے کوئی آثار نہیں تھے۔مائنس ون کا بہانہ نہ ملا تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پرفارغ کر دیا گیا۔لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا۔ناچنے گانے والے اگلے الیکشن میں فا رغ ہو جا ئینگے۔آمروںسے حلف لینے والوں نے صادق اور امین کا فیصلہ کیا۔

ناراض لیگی اراکین اسمبلی کی سنی گئی ،منانے کا فیصلہ

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے مسلم لیگی رہنماو¿ں سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر خواجہ ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر آصف کرمانی سمیت اہم رہنماو¿ں نے شرکت کی۔ اس اہم ملاقات میں ناراض لیگی ارکان اسمبلی کے استعفوں، احتساب عدالت میں پیشی پر گفتگو، دسمبر میں جنوبی پنجاب کے دوروں سمیت دیگر اہم ملکی معاملات پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ناراض ارکان ن لیگ کا حصہ ہیں، ان کے تحفظات جلد دور کریں گے۔ نواز شریف نے سینئر رہنماو¿ں کو ناراض اراکین اسمبلی سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع مرکزی لیگی رہنما 15 دسمبر کے بعد جنوبی پنجاب کے دورے کرینگے اور ناراض اراکین کو منائیں گے۔

نواز شریف دسمبر کے پہلے ہفتے میں لندن

لاہور (ویب ڈیسک )سابق وزیر اعظم نواز شریف دسمبر کے پہلے ہفتے میں لندن جائیں گے۔نجی نیوز چینل کے مطابق نواز شریف لندن میں اپنی اہلیہ کی تیمار داری کے لیے جائیں گے۔سابق وزیراعظم ایک ہفتے تک لندن میں قیام کریں گے۔واضح رہے کہ نواز شریف پاکستان میں نیب ریفرنسز کے کیس میں احتساب عدالت کا سامنا کر رہے ہیں۔

نواز شریف کی 8ویں ،مریم نواز کی شوہر کے ہمراہ دسویں حاضری وزیر اعظم کو پھر مہلت مل گئی

لاہور،اسلام آباد(ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل کی عدم حاضری پر نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت 4 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی  مختصر سماعت کی۔اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر  کمرہ عدالت میں موجود تھے تاہم سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں نہ آئے۔اس موقع پر نواز شریف کے معاون وکیل نے عدالت کے پوچھنے پر بتایا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں اس لئے آج پیش نہیں ہو سکتے۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ تین ریفرنسز یکجا کرنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اسی ہفتے  آنے کا امکان ہے اس لئے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی جائے۔جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ پھر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست میں یہ استدعا ہونی چاہیے تھی۔عدالت نے سوال کیا کہ دو گواہ عدالت میں موجود ہیں، ان کا کیا کریں جس پر نواز شریف کے معاون وکیل نے کہا کہ اگر عدالت سمجھے ہماری وجہ سے تاخیر ہوئی توپیر سے مسلسل تین دن آجائیں گے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا، ٹرائل پر اسٹے آرڈر نہیں دیا اور اگر حکم امتناع نہیں ملا تو ٹرائل چلنا چاہیے۔نیب کے افسر نے کہا کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ کب فیصلہ سنائیں گے، ہو سکتا ہے دو ماہ میں بھی فیصلہ نہ آئے۔

فاضل جج نے نواز شریف کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ نے تینوں ریفرنسز میں ایک فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے متبادل استدعا بھی کی ہے کہ کم از کم دو ریفرنسز ہی یکجا کر دیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے نہ آنے پر نواز شریف نے تینوں ریفرنس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی جس پر عدالت نے سماعت 4 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔

سابق وزیراعظم اپنی صاحبزادی کے ہمراہ پیشی کے لئے لاہور سے اسلام آباد پہنچے جہاں ایئرپورٹ پر میئر اسلام آباد شیخ انصر نے ان کا استقبال کیا جس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت پہنچے۔

احتساب عدالت میں مجموعی طور پر 5 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں اور آج مزید دو گواہان کے بیانات قلمبند ہونا تھے تاہم وہ آج نہ ہوسکے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ بارے نواز شریف کا حیرت انگیز جواب ،صحافی منہ دیکھتے رہ گئے

لاہور(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ بہت سی باتیں کرنی ہیں لیکن ایک دو روز ٹھہر جائیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف نیب ریفرنس میں پیشی کے لئے احتساب عدالت پہنچے جہاں سماعت شروع ہونے سے قبل انہوں نے صحافیوں سے مختصر اور غیر رسمی گفتگو کی۔صحافیوں نے پہلے مریم نواز سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے نواز شریف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی میں میرا بات کرنا بنتا نہیں۔ جس کے بعد صحافیوں نے نواز شریف سے پوچھا کہ آپ عدالتی فیصلے پر کیا کہیں گے جس پر نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دینے سے گریز کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے، بہت سی باتیں کرنی ہیں، بس ایک دو روز ٹھہر جائیں۔

نواز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ معزز جج نے انہیں کمرہ عدالت میں میڈیا سے بات کرنے سے منع کیا ہے اس لئے وہ بات نہیں کرسکتے۔

اب ایسا نہیں ہونے دینگے ،نواز شریف چُپ نہ رہے ،عدالت کے سامنے اہم اعلان

لاہور (ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سے کوئی گلا نہیں، جمہوریت اس کے قریب سے بھی نہیں گزری اور میں اسے سیاسی جماعت نہیں مانتا۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پارلیمنٹ آمروں کے کالے قوانین کو تحفظ دینے کے لئے تیار نہیں، اس کا ثبوت کل دیکھا گیا، پی ٹی آئی آمروں کی پالیسی پر گامزن ہے لیکن پیپلز پارٹی نے آمروں کے کالے قانون کی حمایت کی اس پر بہت افسوس ہوا۔نواز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی بہت عرصہ پہلے جس جدوجہد سے گزری ہے اسے قربانیوں کو اتنی جلدی فراموش کردینا سمجھ نہیں آتا، جمہوریت کے راستوں سے بھاگنے والوں کے لئے یہ کھلا پیغام ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے پر اتحادی جماعتوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں، یہ ان لوگوں کے لیے آنکھیں کھول دینے والی بات ہے جو ملک کو جمہوریت کے راستے پر نہیں چلنے دیتے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں موجود افراد کی ایک بڑی تعداد آمروں کے قانون کو تحفظ دینے کی حامی نہیں جب کہ پارلیمنٹ نے آمروں کے کالے قانون کو مسترد کردیا جو بڑی پیشرفت ہے۔

اس سے قبل احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ رولز آف گیم ایک جیسے ہونے چاہییں، ہمارے لیے عدلیہ کا کچھ اور معیار ہے اور ان کے لیے کچھ اور، جس کی وضاحت انہوں نے خود کرتے ہوئے کہا کہ میں تحریک انصاف کی بات کر رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سسیلین مافیا اور گاڈ فادر جیسے الفاظ لکھنا عدلیہ کو زیب نہیں دیتا، ہمارے فیصلے جلد آجاتے ہیں جب کہ عدلیہ کا دہرا معیار سامنے آرہا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے جو کام کیے پورا پاکستان تسلیم کر رہا ہے، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، خوشحالی آئی، جی ڈی پی ریٹ کہاں تک پہنچ گیا اور اللہ کے فضل کرم سے بجلی آئی اور بیروزگاری ختم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چین کے ساتھ کام نہیں کرنے دیا گیا، دھرنوں کے باوجود ملک نے ترقی کی اور دھرنوں کا یہ سلسلہ 2014 سے جاری ہے۔

نواز شریف بچ نکلے ۔۔۔بڑی خوشخبری مل گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کا نااہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے پر پابندی کا بل قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے مستر دکر دیا گیاہے ۔تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے بل کو مسترد ہونے کا اعلان کیا تو نوید قمراپنی کرسی پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے ووٹنگ کے عمل کو چیلنج کیا جس کے بعد سپیکر نے ووٹنگ کی گنتی کا عمل شروع کروایا جس کے بعد صورتحال مکمل طور پر واضح ہو گئی ۔نمبر گیم میں ن لیگ نے بازی ماری اور بل کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا ۔پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل کے حق میں 98ممبر نے اپنی رائے کا اظہار کیا جبکہ اس بل کی مخالفت میں 163ممبر ز نے ووٹ دیا ۔سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے 167 ارکان موجود ہیں جب کہ حکومتی اتحادیوں جے یو آئی (ف) کے 13، فنکشنل لیگ کے 5 اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 3 ارکان بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن میں شامل پیپلز پارٹی کے 45، تحریک انصاف کے 33، ایم کیو ایم کے 24، جماعت اسلامی کے 4 جب کہ مسلم لیگ (ق) اور اے این پی کے 2 ارکان شریک ہیں۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے آرٹیکل 203 میں ترمیم کا بل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے پیش کیا۔واضح رہے کہ بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ آج کے اجلاس میں نوازشریف کی صدارت کو بچانے کیلئے بہت سے اراکین اسمبلی اجلاس میں نہیں آئیں لیکن یہ درست ثابت نہیں ہوا ن لیگ کی بڑی تعداد اسمبلی میں موجود ہے۔

الیکشن 2018ء بارے نواز شریف خود میدان میں آگئے ،بڑا اعلان کر دیا

‎لاہور(خصوصی رپورٹ) مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی صدارت میں جاتی امرا میں5 گھنٹے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں حدیبیہ کیس، آئندہ انتخابات، آئینی ترمیم ،حلقہ بندیوں سمیت اہم امور زیر غور آئے ،اسمبلیاں تحلیل کرنے اور قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے سینیٹ الیکشن موخر کرانے کی ہر کوشش ناکام بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ عوامی رابطہ مہم کے تحت ہر 15 دن میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،نوازشریف انتخابی مہم کی قیادت کرینگے ، اجلاس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ ، وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف، وزیر اعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری ،سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق اور دیگر رہنما شریک ہوئے ،تمام شرکانے نواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا جو فیصلہ نواز شریف کریں گے اس پر تمام پارٹی رہنما لبیک کہیں گے ، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ن لیگ کو انصاف نہ ملنے کا شکوہ جاری رکھا جائے گا اور جب بھی عوامی جلسہ یا کوئی اجلاس ہو گا اس میں اس پر بھرپور آوا ز اٹھائی جائے گی اور جب پارلیمانی پارٹی مکمل ہو جائے گی تو فیصلہ کیا جائے گا کہ انتخابات کے بعد وزیرا عظم کون ہو گا؟آئندہ انتخابات کیلئے عوامی رابطہ مہم شروع کرتے ہوئے جلسے کئے جائیں گے جس میں نواز شریف مقامی قیادت کے ساتھ خطاب کریں گے اور عوام کو مسلم لیگ ن کے منشور سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی سزا ملنے کا ذکر بھی کیا جائے گا، پارٹی کو مزید فعال بنانے کے لئے خالی عہدے فوری پر کئے جائیں گے ، انتخابات کو مقررہ وقت پر یقینی بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق پارٹی کی اکثریت نے مفاہمت کی حمایت کر دی جبکہ جہاں ضرورت ہو گی سینئر قیادت خود پہنچ کر کارکنوں کو متحرک کرے گی، نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ (ن) دو دھڑوں میں تقسیم نظر آئی، مزاحمت یا مفاہمت کی سیاست کو لے کر شرکا میں اختلاف رائے دیکھنے میں آیا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، شہبازشریف اور احسن اقبال نے نوازشریف کو مفاہمت کی سیاست کا مشورہ دیا، شہبازشریف نے کہا محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، صرف نقصان ہوگا جب کہ نوازشریف نے دونوں جانب کا مقف سنا لیکن کوئی فیصلہ نہیں دیا، ذرائع نے بتایا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اداروں کے آئینی حدود سے تجاوز پر آواز اٹھائی جائے گی، (ن) لیگ الیکشن میں تاخیر اور دھاندلی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی جب کہ پارٹی قیادت کی کردار کشی کی مہم کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی،مائنس نواز شریف کسی صورت قبول نہیں،آئی این پی اور این این آئی کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ جمہو ریت اور پار لیمنٹ کا مکمل تحفظ کیا جائیگا،عام انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونے دیں گے ،(ن) لیگ عوام دوست پالیسوں کی وجہ سے قوم کے دلوں میں بستی ہے ،جمہوری نظام کی مضبوطی اور ملک و قوم کی خدمت ہمارا مشن ہے ، اس پر ہر صورت کاربند رہیں گے ،حکومت رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھی اور اس نے 2013 میں ملنے والے پہاڑ جیسے مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کیں اور اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں،عوام حالات سے واقفیت رکھتے ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کی عدالت میں جائیں گے ،اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے ،قبل از وقت انتخابات کی بات عمران خان کے سوا کوئی اور نہیں کررہا۔