Tag Archives: nawaz-shareef

ناچنے گانے والے فا رغ ،آمروں سے حلف لینے والوں نے صادق ،امین کا فیصلہ کیا،نواز شریف کی کپتان پر شدید تنقید

کوئٹہ(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ان سے احتساب کے نام پر انتقام لیا جارہا ہے اور صادق و امین کا فیصلہ وہ کررہے ہیں جنہوں نے آمروں سے حلف لیا۔میاں نوازشریف جب جلسے سے خطاب کے لیے آئے تو انہوں نے ڈائس پر موجود بلٹ پروف شیشہ ہٹوا دیا۔نوازشریف نے کہا کہ محمود اچکزئی سے نظریاتی اتفاق ہے، پشتونخوا میپ اور مسلم لیگ (ن) نظریاتی رشتے میں منسلک ہیں، مجھے نظریہ ہمیشہ عزیز رہا ہے، نظریہ کبھی نہیں چھوڑتا اور نہ چھوڑا، میری ساری سیاست نظریئے پر ہی رہے گی۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ترقی ہورہی ہے، افغانستان سے بھی اچھی سڑکیں بلوچستان میں ہیں، ا?ج بلوچستان میں پچھلے چار سالوں سے جو ترقی ہورہی ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، صوبے میں سڑکوں اور موٹرویز کا جال بچھ رہا ہے، آج سے 4 سال پہلے کا منظر عوام کو یاد ہے، بلوچستان کےا ندر کچھ بھی نہیں ہوتا تھا، یہاں ترقی کے کوئی آثار نہیں تھے۔مائنس ون کا بہانہ نہ ملا تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پرفارغ کر دیا گیا۔لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا۔ناچنے گانے والے اگلے الیکشن میں فا رغ ہو جا ئینگے۔آمروںسے حلف لینے والوں نے صادق اور امین کا فیصلہ کیا۔

ناراض لیگی اراکین اسمبلی کی سنی گئی ،منانے کا فیصلہ

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے مسلم لیگی رہنماو¿ں سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر خواجہ ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر آصف کرمانی سمیت اہم رہنماو¿ں نے شرکت کی۔ اس اہم ملاقات میں ناراض لیگی ارکان اسمبلی کے استعفوں، احتساب عدالت میں پیشی پر گفتگو، دسمبر میں جنوبی پنجاب کے دوروں سمیت دیگر اہم ملکی معاملات پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ناراض ارکان ن لیگ کا حصہ ہیں، ان کے تحفظات جلد دور کریں گے۔ نواز شریف نے سینئر رہنماو¿ں کو ناراض اراکین اسمبلی سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع مرکزی لیگی رہنما 15 دسمبر کے بعد جنوبی پنجاب کے دورے کرینگے اور ناراض اراکین کو منائیں گے۔

نواز شریف دسمبر کے پہلے ہفتے میں لندن

لاہور (ویب ڈیسک )سابق وزیر اعظم نواز شریف دسمبر کے پہلے ہفتے میں لندن جائیں گے۔نجی نیوز چینل کے مطابق نواز شریف لندن میں اپنی اہلیہ کی تیمار داری کے لیے جائیں گے۔سابق وزیراعظم ایک ہفتے تک لندن میں قیام کریں گے۔واضح رہے کہ نواز شریف پاکستان میں نیب ریفرنسز کے کیس میں احتساب عدالت کا سامنا کر رہے ہیں۔

نواز شریف کی 8ویں ،مریم نواز کی شوہر کے ہمراہ دسویں حاضری وزیر اعظم کو پھر مہلت مل گئی

لاہور،اسلام آباد(ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل کی عدم حاضری پر نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت 4 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی  مختصر سماعت کی۔اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر  کمرہ عدالت میں موجود تھے تاہم سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں نہ آئے۔اس موقع پر نواز شریف کے معاون وکیل نے عدالت کے پوچھنے پر بتایا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں اس لئے آج پیش نہیں ہو سکتے۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ تین ریفرنسز یکجا کرنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اسی ہفتے  آنے کا امکان ہے اس لئے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی جائے۔جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ پھر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست میں یہ استدعا ہونی چاہیے تھی۔عدالت نے سوال کیا کہ دو گواہ عدالت میں موجود ہیں، ان کا کیا کریں جس پر نواز شریف کے معاون وکیل نے کہا کہ اگر عدالت سمجھے ہماری وجہ سے تاخیر ہوئی توپیر سے مسلسل تین دن آجائیں گے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا، ٹرائل پر اسٹے آرڈر نہیں دیا اور اگر حکم امتناع نہیں ملا تو ٹرائل چلنا چاہیے۔نیب کے افسر نے کہا کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ کب فیصلہ سنائیں گے، ہو سکتا ہے دو ماہ میں بھی فیصلہ نہ آئے۔

فاضل جج نے نواز شریف کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ نے تینوں ریفرنسز میں ایک فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے متبادل استدعا بھی کی ہے کہ کم از کم دو ریفرنسز ہی یکجا کر دیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے نہ آنے پر نواز شریف نے تینوں ریفرنس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی جس پر عدالت نے سماعت 4 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔

سابق وزیراعظم اپنی صاحبزادی کے ہمراہ پیشی کے لئے لاہور سے اسلام آباد پہنچے جہاں ایئرپورٹ پر میئر اسلام آباد شیخ انصر نے ان کا استقبال کیا جس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت پہنچے۔

احتساب عدالت میں مجموعی طور پر 5 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں اور آج مزید دو گواہان کے بیانات قلمبند ہونا تھے تاہم وہ آج نہ ہوسکے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ بارے نواز شریف کا حیرت انگیز جواب ،صحافی منہ دیکھتے رہ گئے

لاہور(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ بہت سی باتیں کرنی ہیں لیکن ایک دو روز ٹھہر جائیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف نیب ریفرنس میں پیشی کے لئے احتساب عدالت پہنچے جہاں سماعت شروع ہونے سے قبل انہوں نے صحافیوں سے مختصر اور غیر رسمی گفتگو کی۔صحافیوں نے پہلے مریم نواز سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے نواز شریف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی میں میرا بات کرنا بنتا نہیں۔ جس کے بعد صحافیوں نے نواز شریف سے پوچھا کہ آپ عدالتی فیصلے پر کیا کہیں گے جس پر نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دینے سے گریز کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے، بہت سی باتیں کرنی ہیں، بس ایک دو روز ٹھہر جائیں۔

نواز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ معزز جج نے انہیں کمرہ عدالت میں میڈیا سے بات کرنے سے منع کیا ہے اس لئے وہ بات نہیں کرسکتے۔

اب ایسا نہیں ہونے دینگے ،نواز شریف چُپ نہ رہے ،عدالت کے سامنے اہم اعلان

لاہور (ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سے کوئی گلا نہیں، جمہوریت اس کے قریب سے بھی نہیں گزری اور میں اسے سیاسی جماعت نہیں مانتا۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پارلیمنٹ آمروں کے کالے قوانین کو تحفظ دینے کے لئے تیار نہیں، اس کا ثبوت کل دیکھا گیا، پی ٹی آئی آمروں کی پالیسی پر گامزن ہے لیکن پیپلز پارٹی نے آمروں کے کالے قانون کی حمایت کی اس پر بہت افسوس ہوا۔نواز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی بہت عرصہ پہلے جس جدوجہد سے گزری ہے اسے قربانیوں کو اتنی جلدی فراموش کردینا سمجھ نہیں آتا، جمہوریت کے راستوں سے بھاگنے والوں کے لئے یہ کھلا پیغام ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے پر اتحادی جماعتوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں، یہ ان لوگوں کے لیے آنکھیں کھول دینے والی بات ہے جو ملک کو جمہوریت کے راستے پر نہیں چلنے دیتے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں موجود افراد کی ایک بڑی تعداد آمروں کے قانون کو تحفظ دینے کی حامی نہیں جب کہ پارلیمنٹ نے آمروں کے کالے قانون کو مسترد کردیا جو بڑی پیشرفت ہے۔

اس سے قبل احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ رولز آف گیم ایک جیسے ہونے چاہییں، ہمارے لیے عدلیہ کا کچھ اور معیار ہے اور ان کے لیے کچھ اور، جس کی وضاحت انہوں نے خود کرتے ہوئے کہا کہ میں تحریک انصاف کی بات کر رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سسیلین مافیا اور گاڈ فادر جیسے الفاظ لکھنا عدلیہ کو زیب نہیں دیتا، ہمارے فیصلے جلد آجاتے ہیں جب کہ عدلیہ کا دہرا معیار سامنے آرہا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے جو کام کیے پورا پاکستان تسلیم کر رہا ہے، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، خوشحالی آئی، جی ڈی پی ریٹ کہاں تک پہنچ گیا اور اللہ کے فضل کرم سے بجلی آئی اور بیروزگاری ختم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چین کے ساتھ کام نہیں کرنے دیا گیا، دھرنوں کے باوجود ملک نے ترقی کی اور دھرنوں کا یہ سلسلہ 2014 سے جاری ہے۔

نواز شریف بچ نکلے ۔۔۔بڑی خوشخبری مل گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کا نااہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے پر پابندی کا بل قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے مستر دکر دیا گیاہے ۔تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے بل کو مسترد ہونے کا اعلان کیا تو نوید قمراپنی کرسی پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے ووٹنگ کے عمل کو چیلنج کیا جس کے بعد سپیکر نے ووٹنگ کی گنتی کا عمل شروع کروایا جس کے بعد صورتحال مکمل طور پر واضح ہو گئی ۔نمبر گیم میں ن لیگ نے بازی ماری اور بل کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا ۔پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل کے حق میں 98ممبر نے اپنی رائے کا اظہار کیا جبکہ اس بل کی مخالفت میں 163ممبر ز نے ووٹ دیا ۔سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے 167 ارکان موجود ہیں جب کہ حکومتی اتحادیوں جے یو آئی (ف) کے 13، فنکشنل لیگ کے 5 اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 3 ارکان بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن میں شامل پیپلز پارٹی کے 45، تحریک انصاف کے 33، ایم کیو ایم کے 24، جماعت اسلامی کے 4 جب کہ مسلم لیگ (ق) اور اے این پی کے 2 ارکان شریک ہیں۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے آرٹیکل 203 میں ترمیم کا بل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے پیش کیا۔واضح رہے کہ بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ آج کے اجلاس میں نوازشریف کی صدارت کو بچانے کیلئے بہت سے اراکین اسمبلی اجلاس میں نہیں آئیں لیکن یہ درست ثابت نہیں ہوا ن لیگ کی بڑی تعداد اسمبلی میں موجود ہے۔

الیکشن 2018ء بارے نواز شریف خود میدان میں آگئے ،بڑا اعلان کر دیا

‎لاہور(خصوصی رپورٹ) مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی صدارت میں جاتی امرا میں5 گھنٹے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں حدیبیہ کیس، آئندہ انتخابات، آئینی ترمیم ،حلقہ بندیوں سمیت اہم امور زیر غور آئے ،اسمبلیاں تحلیل کرنے اور قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے سینیٹ الیکشن موخر کرانے کی ہر کوشش ناکام بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ عوامی رابطہ مہم کے تحت ہر 15 دن میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،نوازشریف انتخابی مہم کی قیادت کرینگے ، اجلاس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ ، وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف، وزیر اعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری ،سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق اور دیگر رہنما شریک ہوئے ،تمام شرکانے نواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا جو فیصلہ نواز شریف کریں گے اس پر تمام پارٹی رہنما لبیک کہیں گے ، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ن لیگ کو انصاف نہ ملنے کا شکوہ جاری رکھا جائے گا اور جب بھی عوامی جلسہ یا کوئی اجلاس ہو گا اس میں اس پر بھرپور آوا ز اٹھائی جائے گی اور جب پارلیمانی پارٹی مکمل ہو جائے گی تو فیصلہ کیا جائے گا کہ انتخابات کے بعد وزیرا عظم کون ہو گا؟آئندہ انتخابات کیلئے عوامی رابطہ مہم شروع کرتے ہوئے جلسے کئے جائیں گے جس میں نواز شریف مقامی قیادت کے ساتھ خطاب کریں گے اور عوام کو مسلم لیگ ن کے منشور سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی سزا ملنے کا ذکر بھی کیا جائے گا، پارٹی کو مزید فعال بنانے کے لئے خالی عہدے فوری پر کئے جائیں گے ، انتخابات کو مقررہ وقت پر یقینی بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق پارٹی کی اکثریت نے مفاہمت کی حمایت کر دی جبکہ جہاں ضرورت ہو گی سینئر قیادت خود پہنچ کر کارکنوں کو متحرک کرے گی، نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ (ن) دو دھڑوں میں تقسیم نظر آئی، مزاحمت یا مفاہمت کی سیاست کو لے کر شرکا میں اختلاف رائے دیکھنے میں آیا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، شہبازشریف اور احسن اقبال نے نوازشریف کو مفاہمت کی سیاست کا مشورہ دیا، شہبازشریف نے کہا محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، صرف نقصان ہوگا جب کہ نوازشریف نے دونوں جانب کا مقف سنا لیکن کوئی فیصلہ نہیں دیا، ذرائع نے بتایا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اداروں کے آئینی حدود سے تجاوز پر آواز اٹھائی جائے گی، (ن) لیگ الیکشن میں تاخیر اور دھاندلی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی جب کہ پارٹی قیادت کی کردار کشی کی مہم کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی،مائنس نواز شریف کسی صورت قبول نہیں،آئی این پی اور این این آئی کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ جمہو ریت اور پار لیمنٹ کا مکمل تحفظ کیا جائیگا،عام انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونے دیں گے ،(ن) لیگ عوام دوست پالیسوں کی وجہ سے قوم کے دلوں میں بستی ہے ،جمہوری نظام کی مضبوطی اور ملک و قوم کی خدمت ہمارا مشن ہے ، اس پر ہر صورت کاربند رہیں گے ،حکومت رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھی اور اس نے 2013 میں ملنے والے پہاڑ جیسے مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کیں اور اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں،عوام حالات سے واقفیت رکھتے ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کی عدالت میں جائیں گے ،اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے ،قبل از وقت انتخابات کی بات عمران خان کے سوا کوئی اور نہیں کررہا۔

 

نواز شریف پر دوبارہ فرد جرم عائد

اسلام آباد(ویب ڈیسک)احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف پر فردجرم عائد کر دی گئی ہے ۔نوازشریف کا صحت جرم سے انکار، سابق وزیر اعظم 25منٹ تک روسٹرم پر کھڑے رہے ،نوازشریف نے کہا کہ میرے خلاف سیاسی اوربدنیتی پر مبنی کیسز بنائے گئے ۔اس موقع پر نوازشریف نے عدالت سے استفسار کیا کہ 6ماہ پر ریفرنسز کا فیصلہ ہوجائیگا تو عدالت کے جج محمد بشیر نےکہا کہ چھ ماہ کا وقت سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا ہے ،مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی فرد جرم میں ترمیم کردی گئی۔واضح رہے کہ اس سےپہلے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب کے تین ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد کردی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت کر رہے ہیں۔اس موقع پر فاضل جج نے نواز شریف کی تین ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔گزشتہ روز نواز شریف کی تین ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر ان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل مکمل کئے تھے۔سابق وزیراعظم نواز شریف آج پانچویں مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اس سے قبل   وہ 26 ستمبر، 2 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے تھے۔سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے لئے مری سے پنجاب ہاؤس پہنچے جہاں سے وہ پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ احتساب عدالت کے لئے روانہ ہوئے جب کہ اس موقع پر مریم نواز بھی ان کے ہمراہ تھیں۔سابق وزیراعظم کی آمد کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے۔پولیس، ایف سی اور ایلیٹ فورس کے اہلکار تعینات ہیں جب کہ خواتین اہلکار بھی فرائض انجام دے رہی ہیں۔احتساب عدالت مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں عائد فرد جرم میں ترمیم کی درخواست کو بھی سنے گی۔کیس کا پس منظر:سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتسابعدالت میں دائر کئے جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن، حسین ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا۔ملزمان کی پیشیاںسابق وزیراعظم نواز شریف نیب ریفرنس کا سامنا کرنے کے لئے چار مرتبہ26 ستمبر، 2 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ذاتی حیثیت میں احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔دیگر ملزمان میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر 6،6 مرتبہ 9، 13، 19، 26 اکتوبر،3 اور 7 نومبر کو احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے انہیں مفرور ملزم قرار دے کر ان کا کیس الگ کردیا تھا۔

ن لیگ کے پچاس روٹھے شیر ،نواز شریف برہم ،اہم ہدایت جاری

لاہور (خصوصی رپورٹ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں ن لیگ کے ارکان کی عدم دلچسپی‘ بار بار فون کرنے کے باوجود نہ پہنچے۔ ن لیگ کے ارکان اسمبلی کو 2 اور 3 نومبر کے اجلاسوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ یہ پیغام دیا جارہا تھا کہ وہ اپنی شرکت کو لازمی بنائیں کیونکہ دو تاریخ کو نوازشریف اچانک پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر خطاب کر سکتے ہیں۔ ن لیگ کے ذرائع کے مطابق نوازشریف کی لندن سے واپسی سے پہلے ن لیگ نے پلان بنایا تھا کہ 2 نومبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تمام ارکان اسمبلی کو شرکت کے لئے پابند کیا جائے گا اور جب تمام ارکان موجود ہوں گے تو نوازشریف سے ملاقات کے بہانے ان سب کو بلا کر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بنا دیا جائے گا اور یہ تاثر دیا جائے گا کہ تمام ارکان اسمبلی نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 2 نومبر کے اجلاس میں ن لیگ کے ارکان اسمبلی کی تعداد مکمل نہ ہونے پر پارلیمانی اجلاس اور نوازشریف سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع نہ کرایا جاسکا جس پر نوازشریف نے سخت برہمی کا اظہار بھی کیا۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف کی عدالت میں پیشی کے بعد دوبارہ ارکان اسمبلی کی اسلام آباد میں حاضری کو چیک کرکے فیصلہ کیا جانا تھا کہ آیا نوازشریف اسلام آبا د میں رکیں اور ن لیگ کے ارکان اسمبلی سے خطاب کریں۔ ذرائع کے مطابق پیشی کے بعد نوازشریف کو انن کے قریبی ساتھیوں نے بتایا کہ بہت سے ارکان اسمبلی نہ تو ابھی تک اسلام آباد پہنچے ہیں اور نہ ہی ان سے رابطے ہورہے ہیں جس پر نوازشریف پھر ناراض ہوئے اور وہاںرکنے کی بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے ن لیگی ارکان کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ نوازشریف سے ملاقات کے علاوہ اسمبلی بھی کوئی اچھی قراردادیں بھی لائی جارہی ہیں۔ تمام تر اقدامات اور رابطوں کے باوجود 50 سے زائد ن لیگ کے ارکان اجلاس میں شرکت نہیں ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے تین وفاقی وزراءکو اب یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ناراض ارکان سے جلد از جلد رابطے کرکے ان کو راضی کریں اور جب تک تمام ارکان راضی نہ ہوں اس وقت تک ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہ بلایا جائے۔

”ڈیل یا این آر او “۔۔۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد نواز شریف کی غیر رسمی گفتگو

 اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والی عدلیہ کا حامی نہیں اور ملک کا عدالتی نظام درست ہونا چاہیے۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمات کیا ہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا، جب سپریم کورٹ کے ججز نے خود یہ بات کہی کہ یہ کرپشن کا کیس نہیں تو سمجھ نہیں آتا کہ پھر ہم پیشیاں کیوں بھگت رہے ہیں۔نوازشریف نے کہا کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہمارے خلاف کون سے کیسز قائم کیے گئے ہیں اور کیا یہ کرپشن، کک بیکس یا رشوت لینے کے مقدمات ہیں؟، کیا ہمیں اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ختم ہو رہی ہے، یا اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ سی پیک سے ملک میں سرمایہ کاری آ رہی ہے اور کراچی میں امن اور معیشت مضبوط ہورہی ہے، کیا جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے کسی اور ملک میں بھی ایسا ہوتا ہے؟۔نواز شریف نے کہا کہ اس سے پہلے اسٹاک مارکیٹ تاریخ میں کبھی اتنی بلند سطح پر نہیں گئی، ہمارے دور میں ملک میں رکارڈ ترقی ہوئی، زرمبادلہ کے زخائر میں اضافہ ہوا، ہم نے پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کیا۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کسی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہورہی اور نہ کوئی این آر او ہورہا ہے، 17 سال سے ٹیکنوکریٹ حکومت کا سن رہا ہوں، عدالتوں میں ہزاروں کیسز زیر التواء ہیں، کبھی نہیں سنا کہ کوئی سپر جج نگرانی کر رہا ہو، توہین عدالت باہر سے نہیں اندر سے بھی ہوتی ہے جب کہ عدالتی نظام درست ہونا چاہیے۔نوازشریف نے مزید کہا کہ نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والی عدلیہ کا حامی نہیں، میں نے آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ کیلئے جدوجہد کی، شریف خاندان میں کوئی اختلاف نہیں، کچھ لوگ باہر سے اختلافات دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں،  ٹکراؤ کی بات ہوتی ہے تو جو ہمیں ٹکر مارتے ہیں انہیں کوئی نہیں پوچھتا، جب بھی مارچ آتا ہے تو مارچ کی افواہیں گرم ہو جاتی ہی۔مشرف کے ٹرائل سے متعلق سوال پر میاں نوازشریف خاموش رہے اور آصف زرداری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ میرے خلاف گالیاں نہیں نکال رہے بلکہ کسی اور کو خوش کررہے ہیں، ایسے وقت میں تو جمہوری پارٹیوں کو اکٹھا ہونا چاہیے۔

نوازشریف احتساب عدالت میں پیش،بڑا فیصلہ سامنے آگیا ۔۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک) شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کے لیے نوازشریف عدالت میں پیش ہوئے تاہم آج کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی۔شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز پر احتساب عدالت میں 8 سماعتیں ہوچکی ہیں جن میں نوازشریف 2 مرتبہ جب کہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر 4 مرتبہ پیش ہوئے ہیں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے گزشتہ سماعت پر پیش نہ ہونے پر سابق وزیراعظم نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے جس کےبعد نوازشریف کل لندن سے وطن واپس پہنچے جہاں نیب ٹیم نے ان سے پنجاب ہاؤس میں عدالتی سمن کی تعمیل کرائی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف تین ریفرنسز کی سماعت جج محمد بشیر کررہے ہیں۔

آج سماعت کے آغاز پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کی کاپی موصول نہ ہونے پر سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ لیا گیا جس کے تھوڑی دیر بعد احتساب عدالت کے جج نے سماعت بغیر کارروائی کے منگل 7 نومبر تک ملتوی کردی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے تک دلائل نہیں سن سکتے۔عدالت نے آج کیس میں ایس ای سی پی کے 2 گواہان کو طلب کیا تھا تاہم ان کی طلبی کا حکم نامہ بھی معطل کردیا گیا اور اب اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے معطل کی جانے والوں درخواستوں پر فیصلہ ہوگا۔عدالت میں حاضری یقینی بنانے کے لیے نواز شریف کی جانب سے مچلکے داخل کرا دیئے گئے جب کہ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی ہائیکورٹ میں درخواست ہے اور عدالت عالیہ کے فیصلے پر اہم قانونی نکات ہیں جن پر عدالت کی معاونت کرنی ہے لہٰذا وقت دیا جائے۔

سماعت ملتوی ہونے کے بعد نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر فوری طور پر عدالت سے واپس روانہ ہوگئے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست منظور کرتے ہوئے احتساب عدالت کا جوائنٹ ٹرائل چلانےکی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ 19 اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔

پاکستان پہنچتے ہی نیب کی ٹیم نے نواز شریف بارے بڑا اقدام اٹھا لیا ،دستخط بھی لے لیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں نوازشریف لندن سے وطن واپس پہنچ گئے اور  وہ اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں موجود ہیں۔میاں نوازشریف گزشتہ کئی دنوں سے اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی تیمارداری کے لیے لندن میں موجود تھے تاہم کل نیب ریفرنس کی سماعت کے موقع پر اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہونے کے لیے آج وطن واپس پہنچے ہیں۔نوازشریف کے طیارے نے اسلام آباد کے بے نظیر ایئرپورٹ پر لینڈ کیا اور اس موقع پر  ایئرپورٹ پر سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔نوازشریف کی وطن واپسی پر راجہ ظفر، الحق، پرویز رشید، سعد رفیق، مشاہد اللہ خان، چوہدری تنویر، امیر مقام، طارق فضل چوہدری اور میئر اسلام آباد شیخ انصر سمیت دیگر رہنماؤں نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔سابق وزیراعظم نے ایئرپورٹ کے راول لاؤنج میں مختصر قیام کیا جہاں انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی اور پھر گاڑیوں کے قافلے میں ایئرپورٹ سے روانہ ہوگئے۔

نوازشریف اپنی ذاتی گاڑی اور ذاتی سیکیورٹی میں اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس پہنچے۔

پنجاب ہاؤس پہنچنے پر کارکنان اور پارٹی رہنماؤں نے میاں نوازشریف کا استقبال کیا۔

سابق وزیراعظم سے پنجاب ہاؤس میں گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے ملاقات کی جب کہ ملاقات میں پرویز رشید، سعدرفیق، زاہد حامد، انوشہ رحمان بھی موجود تھیں۔

نوازشریف پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں کے اہم مشاورتی اجلاس کی صدارت کریں گے اور دن بھر ان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری رہیں گی۔

مسلم لیگ کے رہنماؤں کی بڑی تعداد پنجاب ہاؤس میں موجود ہیں جن میں طلال چوہدری، امیر مقام، مرتضیٰ جاوید عباسی اور دیگر بھی پنجاب ہاؤس میں ہیں۔