All posts by Asif Azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

معصوم زینب کا وحشیانہ قتل ۔۔۔آرمی چیف کی خصوصی ہدایات سامنے آگئیں

راولپنڈی(ویب ڈیسک) آرمی چیف کی جانب سے معصوم زینب کے وحشیانہ قتل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے فوجی حکام کو سول انتظامیہ سے مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے ظلم اور بربریت کا شکار بننے والی زینب کے والدین کی اپیل پر فوجی حکام کو سول انتظامیہ سے مکمل تعاون کی ہدایت کی ہے۔آرمی چیف نے مجرموں کو گرفتار کر کے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خصوصی ہدایت کی، یاد رہے کہ مقتول زینب کے والد نے آرمی چیف سے انصاف فراہمی میں مدد کی اپیل کی تھی۔تفصیلات کے مطابق آرمی چیف نے معصوم زینب کے بہیمانہ قتل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے فوجی حکام کوسول انتظامیہ سے مکمل تعاون کی ہدایت کی ہے۔

زینب قتل کیس: چیف جسٹس کا ازخود نوٹس، شہباز شریف کا اِن ایکشن

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان نے معصوم زینب کے بہیمانہ قتل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے زیبب قتل کیس کا نوٹس لیا ہے، سپریم کورٹ کے اعلامیہ میں میڈیا رپورٹس کو حوالہ بنایا گیا ہے۔یاد رہے کہ معصوم زینب کے والد نے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی تھی، جس کے جواب میں آرمی چیف کی جانب سے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوج کو سول انتظامیہ سے تعاون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی تھی۔

معصوم زینب کا اغوا کب ہوا ۔۔۔؟ٍملزم کہاں موجود رہا ۔۔۔؟والد کے ہوش اُڑا دینے والے انکشافات

قصور (ویب ڈیسک) زیادتی کے بعد قتل کر دیے جانے والی بچی زینب کے والد نے مطالبہ کیا ہے کہ قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے۔ تفصیلات کے مطابق قصور میں زیادتی کے بعد قتل کر دیے جانے والی بچی زینب کے والد کی جانب سے نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے خصوصی گفتگو کی گئی ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ بچی کا اغوا 5 روز پہلے ہوا لیکن پولیس نے نہ بچی کو نہ ہی ملزم کو تلاش یا پکڑنے کی کوشش کی۔ملزم گھر کے آس پاس کے محلوں میں ہی موجود رہا لیکن پولیس نے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اس دوران پولیس والے ایک مرتبہ پوچھ گچھ کیلئے گھر آئے اور چائے پی کر چلے گئے۔ اس کے بعد 5 روز تک پولیس نے شکل نہیں دکھائی۔ اس دوران رشتے دار خود بچی کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن پولیس نے کوئی مدد نہیں کی۔ زینب کے والد نے مطالبہ کیا ہے کہ قاتل کو گرفتار کرکے سرعام پھانسی دی جائے۔ چیف جسٹس اور آرمی چیف کا واقعے پر نوٹس لینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

قصور میں 7سالہ بچی کا زیادتی کے بعد قتل ۔۔۔ پرتشدد احتجاج کے دوران 2 افراد جاں بحق

پنجاب (ویب ڈیسک ) قصور میں ایک اور بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا جس کا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بھی نوٹس لے لیا۔پولیس کے مطابق قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی رہائشی 7 سالہ بچی 5 جنوری کو ٹیوشن جاتے ہوئے اغواء ہوئی اور 4 دن بعد اس کی لاش کشمیر چوک کے قریب واقع ایک کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی۔پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے بتایا کہ شہر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تفتیش جاری ہے

جبکہ بچی کے لواحقین نے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی ہے۔ڈی پی او کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچی کو ملزم کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مقتولہ بچی کے والدین عمرہ کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ‘مجموعی طور پر زیادتی کے بعد قتل ہونے والی یہ آٹھویں بچی ہے اور زیادتی کا شکار بچیوں کے ڈی این اے سے ایک ہی نمونہ ملا ہے’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘قصور کے واقعات پر 5 ہزار سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی ہے جبکہ 67 افراد کا میڈیکل چیک اپ کروایا جاچکا ہے’۔آر پی او شیخوپورہ رینج ذوالفقار حمید نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بچی کی موت زیادتی کے بعد گلا دبانے کے نتیجے میں ہوئی اور اس واقعے پر ہر کوئی سوگوار ہے۔آر پی او نے اس تاثر کو رد کردیا کہ پولیس نے واقعے کے بعد تفتیش میں غفلت کا مظاہرہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بچی کے اہلخانہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی اور اہل محلہ نے بھی معاونت کی، لیکن پولیس کی غفلت کا تاثر درست نہیں۔آر پی او کے مطابق علاقے میں نصب درجنوں سی سی ٹی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینا ایک مشکل کام ہے، لیکن پولیس نے کافی دور تک جاکر سرچ کیا، فوٹیجز دیکھیں اور پھر اس میں سے متعلقہ فوٹیج نکالی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے سیکیورٹی کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔آر پی او کے مطابق ڈی این اے کے 96 نمونے ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے، جن میں سے 5 کیسز ایسے ہیں جہاں ہمیں شک ہے کہ ڈی این اے ایک جیسا ہے۔بچی کے قتل کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی اور لوگ احتجاج کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔لوگوں نے سڑکیں بلاک کردیں اور مارکیٹیں بھی بند کردی گئیں۔
جگہ جگہ پولیس کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے اور فیروز پور روڈ پر مظاہرین نے پولیس کو دھکے بھی دیئے۔مشتعل احتجاجی مظاہرین قصور میں فیروز پور روڈ پر ڈی سی آفس کا گیٹ توڑ کر اندر گھس گئے، مشتعل مظاہرین پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پتھراو¿ کیا، مظاہرین نے پولیس موبالوں کے شیشے توڑ دیئے۔حالات کشیدہ ہونے پر پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔شہریوں کا کہنا تھا کہ قصور میں ایک سال کے دوران 11 کمسن بچیوں کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا، لیکن پولیس ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔واضح رہے کہ بچی کی لاش جس جگہ سے ملی، یہ وہی مقام ہے جہاں اس سے قبل بھی ریپ کا شکار ہونے والے بچوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔ایک ماہ قبل ایک 5 سالہ بچی بھی یہاں سے نیم مردہ حالت میں ملی تھی، جو اس وقت چلڈرن ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔پولیس کے مطابق مذکورہ بچی کو بھاری مقدار میں نشہ آور ادویات دی گئی تھیں۔اس سے قبل 2015 میں بھی قصور میں بچوں کے ساتھ بدفعلی اور زیادتی کے بعد ان کی ویڈیوز بنانے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے قصور میں پیش ا?نے والے افسوسناک واقعے کا نوٹس لے لیا۔چیف جسٹس نے سیشن جج قصور اور پولیس سے واقعے کی فوری طور پر رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔وزیراعلیٰ شہباز شریف نے قصور میں مبینہ زیادتی کے بعد بچی کے قتل کا نوٹس لے لیا۔شہبازشریف نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سے رپورٹ طلب کرلی اور ہدایت کی کہ قاتلوں کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ قاتل قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے مقتول بچی کے لواحقین سے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کیس پر پیش رفت کی وہ ذاتی طور پر نگرانی کریں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو نہ صرف انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے بلکہ قرار واقعی سزا دی جائے۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی قصور میں بچی سے زیادتی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔اپنے ٹوئٹر پیغام میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ قصور میں بچی سے زیادتی کا واقعہ شریف حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ساتھ ہی انہوں نے ملزمان کے خلاف فی الفور کارروائی کی جائے۔

کمسن بچی سے زیادتی ۔۔۔دوسری طرف ملزموں کی گرفتاری بارے راناثنا ءاﷲ کا اہم بیان سامنے آگیا

لاہور(ویب ڈیسک )وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ قصور میں کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا جائے گا۔ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پیش آنے والے واقعات کے ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا اور اب بھی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا۔وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزم کے ساتھ بچی اس طرح جارہی ہے جیسے وہ بچی کا رشتہ دار یا محلہ دار ہے تاہم ملزم کو چند گھنٹے میں گرفتار کرلیا جائے گا۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے نا تو پہلے کوتاہی کی گئی اور نہ اب کی جائے گی اور یہ کہنا غلط ہے کہ پولیس نے اس کیس پر کوئی کام نہیں کیا۔صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا ہماری ذمہ داری ہے کہ ملزم کو گرفتار کیا جائے اور اسے سزا ہو، یہ سنگین واقعہ ہے۔پرتشدد احتجاج پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ لوگوں کو اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے لیکن املاک کو نقصان پہنچانا مناسب نہیں، معاملے کو سلجھانے اور ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

گرفتاری تک بچی کی تدفین نہیں کریں گے،والد زینب

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) قصورمیں اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کی گئی بچی زینب کے والد نے کہا ہے کہ جب تک ملزمان کیفرکردارتک نہیں پہنچایا جاتا بچی کی تدفین نہیں کریں گے۔انہوں نے سعودی عرب سے عمرہ کی ادائیگی کے بعد اسلام آبادایئرپورٹ پرمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ہمارے ساتھ اندوہناک سانحہ ہواہے۔ہم نے جب سے سناہم ہوش میں نہیں ہیں۔ابھی توہمیں ہوش بھی نہیں آیا۔انہوں نے کہاکہ ہمارے رشتہ داروں نے بچی کوڈھونڈنے کیلئے دن رات ایک کردیا لیکن پولیس نے کوئی تعاون نہیں کیا۔زینب کے والد نے کہاکہ اس ملک میں عام انسان محفوظ نہیں ہیں۔ ساری سکیورٹی جاتی امراء پرلگی ہوئی کیا ہم کیڑے مکوڑے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ جب تک ملزمان کیفرکردارتک نہیں پہنچائے جاتے بچی کی تدفین نہیں کریں گے۔والداور والدہ زینب نے کہاکہ ہمیں صرف انصاف چاہیے اور کچھ نہیں چاہیے۔چیف جسٹس واقعے کیخلاف ازخود نوٹس لیں۔انہوں نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اورآرمی چیف سے اپیل کی کہ انصاف فراہم کیاجائے۔ واضح رہے ننھی بچی زینب کے والدین عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔بچی کی نمازجنازہ اداکردی گئی جبکہ بچی کی تدفین والدین کے پہنچنے پرکی جائے گی۔دوسری جانب سانحہ قصور کیخلاف سراپااحتجاج لوگوں نے مطالبہ کیاہے کہ ملزمان کوگرفتارکرکے سرعام پھانسی دی جائے،جب تک ملزمان کوگرفتارنہیں کیاجاتااحتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قصور میں معصوم بچی زینب کوزیادتی کے بعد قتل کاانتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیاہے۔درندہ صفت انسان نے پہلے قتل کیاپھرلاش کوکوڑے میں پھینک دیا۔ننھی بچی کی بے حرمتی پرپوری قوم ہل کررہ گئی۔قصور میں ننھی بچی کی بے حرمتی پروکلاء ،سماجی و سیاسی اور تاجربرادری نے زبردست احتجاج کیا۔شہر میں شٹربند ہڑتال کی گئی جبکہ واقعہ کے بعد شہر میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔حالات کوکنٹرول کرنے کیلئے رینجرزطلب کرلی گئی ہے۔

معصوم زینب نے ہر آنکھ اشکبار کر دی ۔۔۔ پاکستانی کرکٹر ز کے د ل د ہلادینے والے پیغامات

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستانی کرکٹرزمحمدعامر، وہاب ریاض اور محمدحفیظ نے بھی قصور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث افرادکوسخت سزاملنی چاہیے۔تفصیلات کے مطابق قصور واقعے نے انسانیت کو جنجھوڑ دیا، سب کی آنکھیں نم اور افسوسناک واقعے نے دل ہلادئیے، پاکستانی کرکٹرزمحمدعامر، وہاب ریاض اور محمدحفیظ نے بھی قصور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملوث افرادکوسخت سزاملنی چاہیے۔پاکستانی فاسٹ بالر محمد عامر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر قصور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ پرمیرادل ٹوٹ گیا، واقعے میں ملوث افرادکوسخت سزاملنی چاہیے۔