All posts by Asif Azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

لاہور میں بچوں کے اغوا کا سلسلہ نہ رک سکا

لاہور (خصو صی رپورٹر) صوبائی دار الحکومت میں بچو ںکے اغواءسلسلہ رو ک نہ سکا ۔ ساند ہ کے علاقہ میں نا معلوم افرا د 11سالہ بچے کو اغواءکرکے لے گئے ، پو لیس نے موقع پر پہنچ کر کا رروا ئی کا آغاز
کردےا ہے ۔ پو لیس کے مطا بق ساند ہ کا ر ہا ئشی 11سالہ نو ر علی جو گزشتہ روز گھر سے با ہر نکلا اور پر سرا ر طو ر پر لا پتہ ہو گےا ۔کچھ گھنٹے گزرنے کے بعد جب نو ر علی واپس نہ آےا تو اہل خا نہ کو تشوےش لا حق ہو ئی جس پر اسکی مقامی علاقہ سمےت د ےگر مقامات اور ر شتہ دارو ں کے گھرو ں میں تلا ش کی گئی لےکن کامےا بی نہ ملی جس پر نو ر علی کے اہل خانہ نے پو لیس کو اطلا ع کی ، پو لیس نے موقع پر پہنچ کر کا رروا ئی کا آغاز کرتے ہو ئے تفتےش شروع کردی ہے ۔ پو لیس کا کہنا ہے کہ تفتےش جا ر ی ہے جلد نو ر علی کا سرا غ لگا لےا جائے گا ۔

کاسٹیبل کا بیوہ بھائی یتیم بھتیجوں کے گھر زرعی ارزضی پر قبضہ خاتون بچوں سمیت دربدر دھکے کھاتے گردے کی مریضہ

وہاڑی (رپورٹ شیخ خالد مسعود ساجد) مبینہ طور پر جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹ کے ذریعے محکمہ پولیس میں بھرتی ہونے والے کانسٹیبل محمد ایوب نمبر859/ci حال تعینات تھانہ سٹی وہاڑی نے بیوہ خاتون اور یتیم بچوں کاک جینا دوبھر کر دیا۔ لاکھوں روپے کا 6کنال 10 مرلے زرعی رقبہ اور تعمیر شدہ مکان و دیگر سامان پر قبضہ کر کے انہیں گھر سے نکال دیا۔ بیوہ خاتون انصاف کےلئے در در کے دھکے کھا کر درد گردہ کی مریضہ بن گئی۔ پولیس پیٹی بھائی کی مدد کرنے لگی جس پر خاتون نے خبریں گروپ آف نیوز پیپرز چینل ۵ کی ہیلپ لائن پر کال کر کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد سے انصاف دلانے کی اپیل کر دی۔ ڈی پی او وہاڑی عمر سعید ملک نے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کو 3روز کے اندر انکوائری کر کے کارروائی کا حکم دے دیا۔ تفصیل کے مطابق چک نمبر81/wb وہاڑی کی رہائشی نور بی بی بیوہ ظہور حسین وصلی کے شوہر کا 9 سال قبل انتقال ہو گیا تھا جس کی وراثتی زمین 6 کنال 10مرلہ اور تعمیر شدہ مکان پر بیوہ اور اس کے دو بچے 12سالہ بیٹے اور 10 سالہ بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر تھی کہ 2سال قبل ظہور حسین کے بڑے بھائی محمد ایوب وصلی جو محکمہ پولیس میں کانسٹیبل ہے نے بیوہ بھابھی اور یتیم بھتیجے بھتیجی کے رقبہ پر قبضہ کر کے جعلی معاہدہ بنا کر عدالت سے حکم امتناعی جاری کروا لیا جس بابت اس وقت کے ڈی پی او محمد صادق ڈوگر کو درخواست دی کہ معاہدہ جعلی ہے جس پر محمد ایوب کانسٹیبل کارروائی کے ڈر سے پنچایت کے ذریعے یہ کہہ کر کہ وہ زمین کا قبضہ واپس کر دے گا۔ عدالت سے رٹ واپس لے لی ڈی پی او صادق ڈوگر کا تبادلہ ہونے پر زمین کا نہ صرف قبضہ واپس کیا بلکہ رہائشی مکان اور بقیہ دو کنال پر بھی قبضہ کر کے بیوہ اور یتیم بچوں کو گھر سے نکال دیا جس پر خاتون نے موجودہ ڈی پی او عمر سعید ملک کو درخواست دی جس کو ڈیڑھ سال کا عرصہ ہو چکا ہے مگر پولیس نے ماتحت افسران اور عملہ پیٹی بھائی کے خلاف کوئی کارروائی کرتا نظر نہیں آ رہا نہ ہی 2سال سے رقبہ بیوہ اور یتیم بچوں کو ملا ہے۔ پہلے ڈی ایس پی صدر عمران رشید نے 8ماہ تک تاریخ پہ تاریخ دے کر ذلیل و خوار کیا اور آخر میں تحریر کر دیا کہ بیوہ ونڈہ کروا کر محکمہ مال کے ذریعے رقبہ حاصل کرے جعلی معاہدہ کے بارے میں لکھا کہ قابل دست اندازی نہ ہے جو داخل دفتر کردی گئی جس پر نئی درخواست پر ڈی ایس پی انویسٹی گیشن مظہر وٹو کو دی گئی جنہوں نے اپنے ریڈر سب انسپکٹر ملک خالد اعوان کو زبانی حکم دیا کہ کانسٹیبل کےخلاف کارروائی کروائی جائے جس کے اگلے روز ڈی ایس پی مظہر وٹو کا ڈی ایس پی انویسٹی گیشن کے اختیارات ایس پی انویسٹی گیشن میڈم زبیدہ پروین کو مل گئے 15دن تک سب انسپکٹر خالد نے چکر دئیے رکھے اور داخل دفتر کر دی۔ جس پر بیوہ نور بی بی نے جسٹس آف پیس /ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید زاہد حسین شاہ کی عدالت میں رٹ دائر کردی ، جنہوں نے سماعت کے بعد ڈی پی او وہاڑی عمر سعید ملک کو ہدایت کی کہ فی الفور انکوائری کرکے کانسٹبیل کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے بیوہ کی داد رسی کی جائے جس پر ڈی پی او عمر سعید ملک نے ڈی ایس پی سجاد ٹکا کو انکوائری کا حکم دیا جنہوں نے تحریری طور پر کانسٹیبل محمد ایوب وصلی کیخلاف مورخہ 23-9-17کو دفعہ 420, 468, 471کے تحت مقدمہ درج کرکے فوری معطل کیا جائے ، یتیم بچوں اور بیوہ کی زمین و مکان واپس دلایاجائے جو ڈی پی او کے آفس میں پہنچ گئی مگر ایک ماہ تک سٹاف نے مبینہ طور پر دبائے رکھی جس پر کانسٹیبل کی طرف سے بتایا گیا کہ کانسٹیبل چھٹی پر تھا جسکی وجہ سے اسکی سماعت کے بغیر انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوتے ہیں جس پر ڈی پی او وہاڑی عمر سعید ملک نے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر لیگل مظہر وٹو کو 3دن کے اندر انکوائری مکمل کرکے رپورٹ طلب کرلی جس پر ڈی ایس پی مظہر وٹو کو نے 6نومبر کو انکوائری کیلئے فریقین کو طلب کرلیا، بیوہ خاتون نور بی بی نے خبریں گروپ کے چیف ایڈیٹر جناب ضیاشاہد کو دعائیں دیں ، نور بی بی نے اپنے بھائی محمد عبداللہ ، رشتہ داروں عمر فاروق اور محمد مجاہد کے ہمراہ خبریں ٹیم سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے ضلعی صدر میاں فہیم اقبال قاضی اور ضلعی خاتون جنرل سیکرٹری نوشین ملک کو محمد ایوب کے بارے میں بتایا کہ محمد ایوب نے 79/WBکے گورنمنٹ ہائی سکول سے جماعت ہفتم تک تعلیم حاصل کی ، انہوں نے سکول سرٹیفکیٹ بھی دکھایا جبکہ جعلسازی سے گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول وہاڑی کے سلسلہ نمبر 4696فائل نمبر 24/79سے مڈل کا سرٹیفکیٹ پیش کرکے یوسی میں ملازمت حاصل کی، جبکہ ہفتم کے سرٹیفکیٹ میں اسکی تاریخ پیدائش 15/12/63ہے جبکہ مڈل سرٹیفکیٹ میں 15/12/59ہے جبکہ سکول میں ریکارڈ میں نام راشد لطیف ولد محمد لطیف ہے انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب آئی جی پنجاب آر پی او ملتان ڈی پی او وہاڑی عمر سعید ملک سے اس جعلی سرٹیفکیٹ پر نوکری حاصل کرنےوالے جعلساز محمد ایوب کانسٹیبل سے نہ صرف رقبہ واپس دلایاجائے بلکہ 30/35سال تک سرکاری تنخواہ وصول کرکے جرم کا ارتکاب کیا ہے کروڑوں کی تنخواہ واپس لی جائے اور محکمہ سے برخاست کیا جائے۔

زندگی فانی آخرت ہمیشہ کیلئے ہے، مسلمانوں تیاری کرو : مولانا اسمعیل

رائےونڈ (نامہ نگار) اللہ نے دعوت و تبلیغ کا پیغام نبی اکرم کے ذریعے پوری امت تک پہنچایا ،یہ پیغام تمام زمانوں کیلئے تھا ،اس پیغام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا اب امت محمدی کی اولین ذمہ داری ہے، اس پیغام کو مان کر اللہ کو راضی کرکے جنت حاصل کرلیں یا نہ مان کر اللہ کی ناراضگی کے نتیجہ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم خرید لیں ، یہ صرف ہم پر منحصر ہے اور یہ اجتماع اس پیغام کو سمجھنے اور سمجھانے کی تربیت گاہ ہے ،یہاں کسی کا کوئی فرقہ نہیں، کوئی تنقید نہیں کی جاتی ،صرف اللہ اور اس کے رسول کی بات کی جاتی ہے ، کہ یہ دنیا موت کی تیاری کی جگہ ہے ،انسان جو کچھ بھی کرے صرف یہ سوچ ذہن میں رکھ لے کہ وہ آخرت کی تیاری کررہا ہے تو انسان کے سارے مسائل اللہ خود بخود ہی ختم کردے گا ۔ سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع کے پہلے مر حلے کے دوسرے روز پنڈال میں 5لاکھ کے قریب فرزندان اسلام کو مولانا محمد اسماعیل نے اپنے بیان میں کہا کہ حضو راقدس نے قسم کھا کر فرمایا کہ تم امت مسلماں امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کرتے رہو ،قبر میں جب منکر نکیر سوال کریں گے تو کیا جواب دے گا، تبلیغی مرکز میںمنکر نکیر کے سوالوں کا جواب دینے کی تعلیم پر ہی سارا دارومدار ہے، یہ دنیا فانی ہے اور یہ چند دنوں کی ہے آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے، ظالموں کو ظلم سے روکتے رہو اور حق بات کی طرف کھینچ کرلاتے رہو، تمہارے قلوب بھی اسی طرح غلط کردیئے جائیں گے جس طرح ان ظالموں کے کردیئے گئے ہیں ،تم بہترین امت ہو، لوگوں کے نفع رسانی کے لیے نکالے گئے ہو،تم لوگ نیک کام کا حکم کرتے رہو اور برے کاموں سے روکتے رہواوراللہ تعالی پر ایمان رکھتے رہو، تبلیغی مرکز پاکستان کے علاوہ دنیا بھرمیں سب سے بڑی دین سیکھنے اورسکھانے کی درسگاہ ہے ،مسلمان بھائیوزندگی فانی ہے، اس پر ایک سیکنڈکا بھی بھروسہ نہیں ہے، دین سیکھنے میں پہل کرنے والوںکے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کی بشارت دی ہے ،شہر، قصبوں، گاو¿ں گاو¿ں اور گلی ،محلوں میں پھیل جاو¿ اور چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک دین سیکھنے اور سکھانے کی دعوت دے کر انکو دین پھیلانے سیکھانے کے عمل میں شامل کرکے اللہ تعالیٰ کے دربار میں بلند ی کے مراتب حاصل کرنے والے بن جاو¿ ،سالانہ اجتماع میں واپس لوٹنے پر ان کو اپنی اور اپنے مسلمان بھائیوں کی طرف سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اوروہ لوگ قابل احترام ہیں جوا للہ تعالیٰ کے حکم کو گلی محلوں دور دراز کے علاقوں میں مشکلات سے گذر کر کاروبار مال اہل وعیال کو چھوڑ کر دینی فریضہ انجام دینے والے اللہ تعالیٰ کے دربار میں انکے بلند درجات ہیںمسلمانوں آو¿ سب ملکر عہد کریں کہ اس نیک مشن کو پورا کرنے کے لیے چار،دس، چالیس، نوے اورایک سوبیس دنوں کا چلہ لگانے کے لیے اپنے آپکو پیش کرتاہوں تاکہ کل رب العزت کے دربار میں یہ کہہ سکوں کہ میں نے ساری زندگی گناہ اور غفلت میں گذاردی لیکن تیری راہ پر تیرے مقرب حضرات کی تقلید کرتے ہوئے میں نے بھی دین سیکھنے اور سکھانے کی کوشش کی تھی دنیا سے منہ موڑ کر خالص تیری رضا کے لیے وقت صرف کیا تھا ،تبلیغی پنڈال میں دوسرے روز بھی فضا میں سموگ کی تہہ چھائی رہی ،محکمہ صحت نے کیمپ لگایا ہوا ہے لیکن زیادہ رش تبلیغی پنڈال میں موجود اجتماعی کیمپ میں تھا ،پولیس سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہے ،آنے جانے والوں کی چیکنگ کیلئے واک تھرو گیٹ لگائے گئے ہیں ،غلط پارکنگ کرنے والی گاڑیوں کو لفٹر اٹھاتے رہے ،صفائی کے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں ،کہیں بھی گرد اڑتی دکھائی نہیں دی ،ٹریفک کا عملہ بھی ہمہ وقت چوکس نظر آتا ہے ،پنڈال میں نماز جمعہ مولانا محمد اسماعیل نے پڑھایا ،جس کے دوران شرکاءبیٹھ کر لیٹ کر کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے بیان سنتے رہے ،پنڈال میں چاروں اوٹ سپیکرز لگائے گئے ہیں ،آج ہفتہ کے دن نماز ظہر کے بعد تبلیغی جماعت کے فیورٹ عالم دین مولانا طارق جمیل کا خصوصی بیان ہوگا،قافلوں کی شرکت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

عمران خان نہیں جانتے سیکیورٹی اور پروٹوکول میں فرق ہے

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے تو نکال دیا گیا لیکن عوام کے دلوں سے نہیں، نوازشریف نے دن رات محنت کر کے عوام کی خدمت کی ہے، وہ کیوں ملک چھوڑ کر جائینگے،
دہشتگردی کا خاتمہ کرنے والے لیڈر کو ملک سے بھاگنے کی ضرورت نہیں، عمران خان کو خود اپنے پروٹوکول کی وجہ سے یاد نہیں رہتا کہ سکیورٹی اور پروٹوکول میں کیا فرق ہے۔ جمعہ کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ نوازشریف ملک کا اثاثہ ہیں اور انہیں عوام کی خدمت کی سزا مل رہی ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ اگر دل میں چور ہوتا تو نوازشریف سپریم کورٹ کو خط نہ لکھتے بلکہ انہوں نے تو خود کو خاندان سمیت احتساب کیلئے پیش کردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے والے لیڈر کو ملک سے بھاگنے کی ضرورت نہیں اور وہ تو صرف ووٹ کے تقدس کی خاطر عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نوازشریف نے دن رات محنت کر کے عوام کی خدمت کی ہے،وہ کیوں ملک چھوڑ کر جائینگے۔ ان کے ساتھ تو پوری پاکستان کی عوام کھڑی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ میاں نوازشریف نے جھوٹے الزامات پر بھی خود کو احتساب کے لئے پیش کیا۔ احتساب کی روایت ملک میں شروع ہو چکی ہے، اب اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ پاکستان کے عوام، آئین اور قانون کے لئے نوازشریف عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے اس وقت بھی صبر، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا۔ جب انہیں سیسیلین مافیا کہا گیا اور پاکستان کی حکومت کو سیسیلین مافیا کہا گیا، گاڈ فادر کہا گیا تو انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ فیئر ٹرائل ہونا چاہئے اور فیئرٹرائل اور ناانصافی کی بات کرنا توہین عدالت نہیں ہوتی اور جمہوریت کی تقویت کی بات کرنا اور ووٹ کے تقدس کی بات کرنا کسی طرح بھی کسی قسم کی جارحیت نہیں، یہ ان کا موقف ہے، مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف پورے شریف خاندان کے ساتھ سپریم کورٹ میں بھی پیش ہوئے، متنازعہ جے آئی ٹی میں بھی پیش ہوئے اور اس کے بعد نیب عدالت میں جتنی کارروائی ہوئی۔ اس میں بھی پیش ہوئے، نوازشریف کی اہلیہ لندن میں زیرعلاج ہیں، اس لئے وہ لندن گئے تھے۔ نوازشریف پاکستان سے کیوں جائیں گے جس پاکستان کو انہوں نے اتنے زیادہ تحفے دیئے۔ عوام کی خدمت کی، محبت کی، سی پیک دیا، ملک کو اندھیروں سے نکالا، ملک کو دیوالیے سے نکالا، لوگوں کی دن رات محنت کر کے خدمت کی، وہ کیوں پاکستان چھوڑ کر جائینگے۔ ان کے ساتھ تو پاکستان کی پوری عوام کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف تیسری دفعہ ملک کے منتخب وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے ملک کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ اس سے زیادہ ان کو سکیورٹی دینی چاہئے اور عمران خان کو خود اپنے پرٹوکول کی وجہ سے یہ یاد نہیں رہتا کہ سکیورٹی اور پروٹوکول میں کیا فرق ہے۔ نوازشریف پاکستان کے لئے سب سے اہم شخصیت ہیں۔ پاکستان کا سرمایہ ہیں، اس سے زیادہ سکیورٹی ان کو دینی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ اب اس احتساب سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو اصل چور ہیں۔ اب ان کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

حضرت داتا گنج بخشؒ کے974ویں سالانہ عرس مبارک کے سلسلے میں خصوصی تقریب آج ہوگی

لاہور (آن لائن) حضرت مخدوم سید علی بن عثمان
ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخشؒ کے974ویں سالانہ عرس مبارک کے سلسلے میںایک خصوصی تقریب آج ہفتہ 4نومبر کو ساڑھے دس بجے صبح ایوان کارکنان تحریک پاکستان ،لاہور میں منعقد ہو رہی ہے ۔اس تقریب کی صدارت صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور زعیم حسین قادری کریں گے ۔ اس موقع پرممتاز دانشور ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کی کتاب ”زادالابرار“ کی تقریب رونمائی بھی ہو گی۔ تقریب کا اہتمام نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا ہے۔

لندن میں ہونیوالی پاکستان مخالفااشتہار بازی کی کوئی حیثیت نہیں

لندن(این این آئی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چند خبروں سے پاکستان کے عوام کی رائے تبدیل نہیں ہوسکتی ¾کرنٹ اکاﺅنٹ میں خسارہ ہے جس پر جلد قابو پالینگے ¾ انصاف عدالتیں کرتی ہیں ¾ ان کے رویئے بتاتے ہیں کہ انصاف ہورہاہے کہ نہیں ¾ فوجی عدالتوں میں کیسز بھیجنے کیلئے ہدایت جاری کر دی ہیں جن پر جلد عمل ہو گا ¾ پاکستان مخالف اشتہار بازی کی کوئی حیثیت ہیں۔ جمعہ کو نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی لندن پہنچے تو لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس نے انکا استقبال کیا ۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں لوگوں کی رائے بڑی مثبت ہے ۔ پاکستان کے عوام پاکستان پر یقین رکھتے ہیں ۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ چند خبروں سے عوام کی رائے تبدیل نہیں ہو سکتی کرنٹ اکاﺅنٹ میں خسارہ ہے جس پر جلد قابو پا لینگے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ انصاف عدالتیں کرتی ہیں انکے رویے بتاتے ہیں کہ انصا ف ہو رہا ہے کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف عدالتوں میں ہوتا ہے ۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں کیسز بھیجنے کیلئے ہدایت جاری کر دی ہیں جن پر جلد عمل ہو گا۔ لندن میں پاکستان مخالف اشتہاری مہم کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مخالف اشتہار بازی کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اسموگ عالمی فضائی آلودگی کی وجہ سے ہے جس پر جلد قابو پا لیا جائیگا ۔

حالات بہت تبدیل ہو چکے ، این آر او کا کوئی امکان نہیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ایثار رانا نے کہا ہے کہ آصف زرداری کا نوازشریف کا فون نہ سننا ہمارے سیاستدانوں کی موقع پرستی کی ایک خوبصورت مثال ہے نوازشریف مفاد پرست ہیں تو زرداری بھی ان سے کم نہیں ہیں۔ زرداری نے بھی نواز کو اس وقت چوٹ لگائی ہے جب نوازشریف کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آ رہا ہے۔ نوازشریف کے ساتھ مکافات عمل کا کھیل جاری ہے۔ لیکن اس کے باوجود ممکن نہیں کہ زرداری نوازشریف کو اکیلا چھوڑ دیں۔ اگر اس وقت این آر او ہوا تو قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی اور اس کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہو گی، عوام کا عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر اعتماد ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا، این آر او کا مطلب قوم کے مستقبل سے کھیلنا ہو گا۔ اداروں سے اخلاقی قدروں کا ختم ہو جانا افسوسناک ہے۔ عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے کرپشن کے حوالے سے عوامی شعور کو بڑھایا اور کرپٹ چہروں کو بے نقاب کیا۔ عمران خان کا این آر او کے خلاف بیان عوام کے جذبات کی عکاسی ہے۔ اگر اب دھرنا ہوا تو یہ پچھلے دھرنے کی نسبت زیادہ طاقتور اور فیصلہ کن ہو گا۔ سینئر صحافی خالد چودھری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی بات سچ ہے کہ نوازشریف مشکل میں ہوں تو پاﺅں اور مشکل سے نکل جائیں تو گریبان پکڑتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے جب بھی نوازشریف کی مدد کی نوازشریف نے بعد میں اس کے خلاف کام کیا۔ میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی سب سے پہلے نوازشریف نے کی جب وہ کالا کوٹ پہن کر عدالت چلے گئے اسی عدالت جس پر آج اعتراض کر رہے ہیں۔ این آر او کا الزام سیاستدانوں کو دیا جاتا ہے تو کیا وہ ذمہ دار نہیں ہوتے جو ان کے ساتھ این آر او کرتے ہیں۔ این آر او کے جتنے ذمہ دار سیاستدان ہیں اتنی ہی اسٹیبلشمنٹ بھی ہے۔ سول حکومت میں فوجی عدالتوں کے قیام کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ اگر فوجی عدالتیں ہی یہاں چلانی ہیں تو سول کورٹس بند کر دیں۔ نیوکلیئر پاور ہونے کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے روس کی حالت زار بھی یاد رکھیں۔ سابق آئی جی پولیس ہمایوں شفیع نے کہا کہ نوازشریف کی کوشش ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر گرینڈ الائنس بنایا جائے تا کہ کیسز میں ریلیف مل سکے تاہم اب انہیں ریلیف نہیں مل سکتا، نوازشریف کو اب الیکشن بارے سوچنا چاہئے۔ پاکستان میں حالات بہت تبدیل ہو گئے ہیں اب این آر او کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ موجودہ حالات کے تحت فوجی عدالتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت کی فوجی عدالتوں کا ماضی کی فوجی عدالتوں سے موازنہ کرنا درست نہیں ہے۔ بیوروکریسی آج بھی اپنی پرانی ڈگر پر چل رہی ہے اسے بھی حالات کے تحت خود کو تبدیل کرنا ہو گا۔ تجزیہ کار مکرم خان نے کہا کہ نوازشریف کے بارے میں نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ جب یہ مشکل میں ہوں تو پاﺅں اور مشکل سے نکل جائیں تو گریبان پکڑتے ہیں۔ نواز بارے یہی بات پیرپگاڑا، جنرل اور جمالی بھی کرتے ہیں اور تو اور ن لیگ کی ایک اہم شخصیت بھی اس بات کی تائید کرتی ہے۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کی ہر طرف باتیں ہو رہی ہیں تاہم میرے خیال میں یہ صرف ہوا میں باتیں ہیں۔ این آر او کی خبریں بھی سننے میں آ رہی ہیں جس کے خلاف عمران خان نے دھرنے کی دھمکی دیدی ہے۔ بدقسمتی سے پارلیمنٹ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام پر بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار ہو گئے تھے۔ جندال بھارتی ایجنسی ”را“ کا نمائندہ ہے وہ پاکستان میں آ کر ملاقاتیں کرتا ہے۔ فوجی عدالتیں بنائی گئیں تاہم ان کو کیسز ہی نہیں بھجوائے جا رہے اب آرمی چیف کو وزیراعظم کو خط لکھنا پڑا ہے کراچی میں لاتعداد کیسز دفن کر دیئے گئے پنجاب اور بلوچستان میں بھی بہت سے کیسز دبا دیئے گئے۔ ملٹری کورٹس کو بہت تھوڑے کیسز اب تک بھجوائے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت ملٹری کورٹس کو توسیع نہیں دے گی۔

نواز شریف بتائیں زرداری کس کو خوش کر رہے :اعتزاز حسن

لاہور(آئی این پی ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سنیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نواز شریف بتائیں آصف زرداری کس کو خوش کر رہے ہیں؟ نوازشریف کے ساتھ مل بیٹھنا مشکل ہوگیا ہے ، وہ خود مشکل میں ہیں ،جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔جمعہ کو سنیٹراعتزازاحسن نے نواز شریف کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر صوبے میں ان کی حکومت ہے اور کہتے ہیں کہ سازش ہو رہی ہے، حکومت ان کی اپنی ہے تو جمہوریت کو کس سے خطرہ ہے، نواز شریف مشکل میں ہیں ،جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ہر پردے کے پیچھے بھوت نظر آتے ہیں ،کہتا رہا ہوں کہ نواز شریف شیڈو باکسنگ کررہے ہیں۔ وہ بتائیں کہ آصف زرداری کس کو خوش کر رہے ہیں۔

ہو نہیں سکتا نواز شریف کو سزا ہو جائے اور زرداری بچ نکلیں : ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ہماری جمہوریت سازشوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ اوپر سے کچھ اندر سے کچھ ہے سیاستدان اپنے دروازے کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں جو آنا چاہے آ جائے جو جانا چاہے چلا جائے۔ برطانوی پارلیمانی نظام سے یہ سسٹم ہمارے ملک میں آیا ہے۔ لیکن وہاں جو بھی اپنی پارٹی میں ہوتاہے وہ مضبوطی سے اسی شاخ پر بیٹھا رہتا ہے۔ ہمارے سیاستدان اپنے چہروں پر تین چہرے چڑھا کر رکھتے ہیں۔ جہاں جس کی ضرورت ہو اسے سامنے لے آتا ہے۔ جیسا ہمارا ملک ہے۔ ویسی ہماری سیاست ہے، ویسے ہی ہمارے لیڈر ہی سیاسی جماعتیں بھی لڑھکتی رہتی ہیں کبھی ادھر کبھی ادھر۔ یہ اصول ہے جیسے ہم ہوتے ہیں ویسی ہماری عدالتیں ہوتی ہیں۔ ہمارا پورا سسٹم ”چوک“ ہو چکا ہے۔ ادارے ختم ہو چکے ہیں۔ قانون کی دھجیاں اُڑ چکی ہیں۔ ہمارے پیمانے تبدیل ہو چکے ہیں۔ شرفاءکے لئے فیصلے اور ہیں۔ اور بیچارے غریب کے لئے انصاف مختلف ہے۔ ایک نااہل شخص کیلئے 40 گاڑیاں آگے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ اسحاق ڈار نے گزرنا تھا تو لوگوں کے منہ دوسری جانب کروا دیئے گئے۔ دریائے ستلاج کا جب سے پانی بند ہوا ہے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ایکڑ زمین دونوں جانب سے خالی ہو گئی۔ سلیمانکی سے لے کر پنجند تک ساری زمین خالی ہو گئی۔ میں نے ”پاکستان“ اخبار نکالا تو وہاڑی کی 300 مربع زمین اکبر علی بھٹی ایم این اے نے لیز پر لے رکھی تھی۔ وہ اترے تو یہ زمین تہمینہ دولتانہ کے پاس آ گئی دریا خشک ہو گیا تو تمام زمین بڑے لوگوں نے قبضہ کر لی۔ غریب تو ایک ایک مرلہ بلکہ ایک ایک فٹ پر جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ جہانگیر ترین 500 مربع کس بنیاد پر قبضہ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ تمام اہم لوگوں نے 100 سالہ لیز پر ہزاروں مربع زمین قبضہ کر رکھی ہے۔ ہماری قوم میں زمین کی اسی قدر لالج ہے کہ خدا کی پناہ۔ لوگ یہاں بیٹھے ہیں اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں ہزاروں مربع زمین چولستان میں الاٹ ہو جاتی ہے۔ نوازشریف پر جب تک مقدمہ چل رہا ہے چلے گا۔ جب فیصلہ ہو گا تو وہ خبر ہو گی اس کے دوران بحث مباحثہ صرف میڈیا کی رونقیں ہیں۔ میں نے ایک بڑے لیڈر سے اپنے گھر یہ سوال کیا کہ اس بندے کو پکڑ رکھا ہے اس بڑے بندے نے مجھ سے پوچھا ااپ کتنے پیسے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا سیاست ہزاروں، لاکھوں سے نہیں ہوتی۔ اس پر پیسے لگتے ہیں پیسے مالدار کے پاس ہوتے ہیں وہ پیسہ لگاتا ہے تا کہ اور پیسے کمائے۔ ہماری ساری سیاست اسی اصول پر کھڑی ہے۔ میں پنجاب اسمبلی گیا اور سپیکر کو کہا کہ ہماری سلور جوبلی ہے۔ انہوں نے شفقت فرمائی مجھے چائے وغیرہ پلائی۔ میں نے بحث کی کہ لوگ اجلاس میں کیوں نہیں آتے۔ انہوں نے جواب دیا میں کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ یہ بات عمران خان کو بھی کہی کہ پہلے آپ اپنا امیدوار کامیاب کرواتے ہو پھر چار چار سال اسمبلی میں نہیں آتے۔آگے ہو کر بائیکاٹ کرتے ہو۔ میں نے اپوزیشن لیڈر محمود الرشید سے سوال کیا کہ تمہارے بندے کیوں نہیں آتے؟ خواتین ہی آ جائیں تو کورم مکمل ہو سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس دن میاں شہباز شریف اسمبلی میں آنا شروع کر دیں گے۔ ہمارے لوگ بھی آ جائیں گے۔ وہ پورے سال میں ایک بار اجلاس میں آئے۔ کتاب میں لکھا ہے پارلیمنٹرین کے ’دو‘ رول ہیں۔ نمبر ایک وہ ایک سال تمام معاملات دیکھتا ہے اور بجٹ سازی میں تجویز دیتا ہے۔ نمبر دو وہ قانون سازی کرواتا ہے یا اس میں ترامیم کرواتا ہے۔ برطانیہ میں سارا سال قانون سازی ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے یہاں قانون سازی کا معیار یہ ہے کہ وزیراعظم کو نااہلی سے بچانا ہے اگلے الیکشن مرضی کے کس طرح کروانے ہیں۔ آئین سازی کر دو۔ترامیم کر دو ہمارے ارکان پارلیمنٹ مانگتے کیا ہیں۔ کتنی نوکریاں، کتنی سہولیات؟ میاں نوازشریف کی سوئی ”کیوں نکالا“ پر اٹک گئی ہے۔ اگر ان ہی طبقات نے حکمرانی کرنی ہے تو کیوں نہ بلوچستان کی طرح باریاں بانٹ لیں۔ اسمبلی کی مدت بڑھا کر چھ سال کر دیں۔ دو سال مسلم لیگ (ن) کے کے، دو سال پی پی پی کے اور دو سال تحریک انصاف کو حکومت دے دیں۔ لمبی ایکسرسائز کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میاں نوازشریف خوبصورت انسان ہیں۔ وہ لوگوں کے دلوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ زرداری صاحب مان جائیں تو میاں صاحب کو بادشاہ بنا دیں اور انہیں دس سال دے دیں۔ ن لیگ اور پی پی پی میں مفاہمت ہو جاتی ہے سنا ہے دونوں جانب سے دو، دو رکن کمیٹی بن چکی ہے جو معاملات طے کرے گی۔ بالآخر مک مکا ہو جائے گا۔ اگر میاں نوازشریف کو نااہلی کے بعد سزا ہو گئی تو کیا لاڑکانے والا بچ جائے گا۔ ہر سوسائٹی کا کچھ نہ کچھ معیار ہوتا ہے ہری پور سے آنے والی خبر کہ باپ نے بیٹی سے نکاح کر لیا اور مولوی سمیت 7 افراد روپوش ہو گئے۔ اس سے مولوی کا معیار بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مولوی نے ولدیت کے خانے میں نام نہیں دیکھا ہو گا؟ ہماری سوسائٹی میں بے پناہ ”ریپ“ کیسز ہوتے ہیں جس میں معصوم بچیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ دار ہمارے چینل، نیٹ، موبائل کا استعمال ہے۔ موبائل پر پیغامات کھلے عام آ رہے ہیں کہ مساج سینٹر کھلے ہوئے ہیں۔ لڑکے، لڑکیاں موجود ہیں۔ ہمارے پیارے نبی نے قیامت کی دیگر نشانیوں میں ایک اہم نشانی یہ بتائی کہ جس زمانے میں بدکاری عام اور نکاح مشکل ہو جائے گا۔ قیامت قائم ہو گی۔ اس میں کتنی حکومت ہے۔ بچپن میں سنتے تھے کہ بچے اور بچیوں کی شادی اس عمر میں کر دینی چاہئے۔ لیکن سسٹم دیکھیں۔ لڑکے کو پڑھتے پڑھاتے، سیٹ ہوتے 40,35 سال گزر جاتے ہیں۔ اسی طرح بچیوں کی عمریں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ہم نے نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہم خود برائی کے راستے کھولتے ہیں اور پھر انہیں جائز قرار دیتے ہیں۔ ہر قسم کی بے حیائی کو پناہ حاصل ہے۔ ہری پور کے اس بے غیرت باپ کو الٹا لٹکا دینا چاہئے مولوی کو پٹرول ڈال کر آگ لگا دینی چاہئے۔ پولیس ہو یا عدالت کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ سینکڑوں وکیل ملزموں کو بچانے آ جائیں گے۔ برائی کا ہر راستہ محفوظ بنا رکھا ہے۔ مولوی حضرات نے نکاح رجسٹر پیچھے سے خالی چھوڑ رکھے ہوتے ہیں۔ جو بدکاری میں پکڑا جاتا ہے سب سے پہلے پچھلے ریکارڈ میں پیسے دے کر نکاح کا اندراج کرواتا ہے۔ مختاراں مائی کا کیس ہم نے پکڑا۔ سب سے پہلے خبریں وہاں پہنچا۔ میں نے گورنر خالد مقبول کو کہہ کر وہاں وزیر کو بھیجنے کو کہا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو لوگ بے پناہ خوش تھے۔ کہہ رہے تھے 5 لاکھ پنجاب حکومت نے دیا ہے۔ 10 لاکھ وزیراعظم نے دیا ہے۔ 15 لاکھ غریب لوگوں کو ملا۔ وہاں ان کے پاس چارپائی تک نہ تھی۔ ان کی موجیں لگ گئیں۔ واپسی پر میری گاڑی کے سامنے ایک بوڑھا لیٹ گیا کہ جناب ہمارا بھی انصاف کر کے جائیں۔ اس کے ساتھ 6 بندوں نے کہا میری بیٹی کے ساتھ 10 بندوں نے زیادتی کی ہے۔ وہاں کے ناظم نے اس کو گریبان سے پکڑا کہ کب یہ واقعہ ہوا۔ وہ مان گیا کہ انہیں 15 لاکھ ملے ہیں مجھے 5 لاکھ ہی دے دو۔

ہو نہیں سکتا نواز شریف کو سزا ہوجائے اور زرداری بچ نکلیں :ضیا شاہد


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ہماری جمہوریت سازشوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ اوپر سے کچھ اندر سے کچھ ہے سیاستدان اپنے دروازے کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں جو آنا چاہے آ جائے جو جانا چاہے چلا جائے۔ برطانوی پارلیمانی نظام سے یہ سسٹم ہمارے ملک میں آیا ہے۔ لیکن وہاں جو بھی اپنی پارٹی میں ہوتاہے وہ مضبوطی سے اسی شاخ پر بیٹھا رہتا ہے۔ ہمارے سیاستدان اپنے چہروں پر تین چہرے چڑھا کر رکھتے ہیں۔ جہاں جس کی ضرورت ہو اسے سامنے لے آتا ہے۔ جیسا ہمارا ملک ہے۔ ویسی ہماری سیاست ہے، ویسے ہی ہمارے لیڈر ہی سیاسی جماعتیں بھی لڑھکتی رہتی ہیں کبھی ادھر کبھی ادھر۔ یہ اصول ہے جیسے ہم ہوتے ہیں ویسی ہماری عدالتیں ہوتی ہیں۔ ہمارا پورا سسٹم ”چوک“ ہو چکا ہے۔ ادارے ختم ہو چکے ہیں۔ قانون کی دھجیاں اُڑ چکی ہیں۔ ہمارے پیمانے تبدیل ہو چکے ہیں۔ شرفاءکے لئے فیصلے اور ہیں۔ اور بیچارے غریب کے لئے انصاف مختلف ہے۔ ایک نااہل شخص کیلئے 40 گاڑیاں آگے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ اسحاق ڈار نے گزرنا تھا تو لوگوں کے منہ دوسری جانب کروا دیئے گئے۔ دریائے ستلاج کا جب سے پانی بند ہوا ہے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ایکڑ زمین دونوں جانب سے خالی ہو گئی۔ سلیمانکی سے لے کر پنجند تک ساری زمین خالی ہو گئی۔ میں نے ”پاکستان“ اخبار نکالا تو وہاڑی کی 300 مربع زمین اکبر علی بھٹی ایم این اے نے لیز پر لے رکھی تھی۔ وہ اترے تو یہ زمین تہمینہ دولتانہ کے پاس آ گئی دریا خشک ہو گیا تو تمام زمین بڑے لوگوں نے قبضہ کر لی۔ غریب تو ایک ایک مرلہ بلکہ ایک ایک فٹ پر جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ جہانگیر ترین 500 مربع کس بنیاد پر قبضہ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ تمام اہم لوگوں نے 100 سالہ لیز پر ہزاروں مربع زمین قبضہ کر رکھی ہے۔ ہماری قوم میں زمین کی اسی قدر لالج ہے کہ خدا کی پناہ۔ لوگ یہاں بیٹھے ہیں اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں ہزاروں مربع زمین چولستان میں الاٹ ہو جاتی ہے۔ نوازشریف پر جب تک مقدمہ چل رہا ہے چلے گا۔ جب فیصلہ ہو گا تو وہ خبر ہو گی اس کے دوران بحث مباحثہ صرف میڈیا کی رونقیں ہیں۔ میں نے ایک بڑے لیڈر سے اپنے گھر یہ سوال کیا کہ اس بندے کو پکڑ رکھا ہے اس بڑے بندے نے مجھ سے پوچھا ااپ کتنے پیسے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا سیاست ہزاروں، لاکھوں سے نہیں ہوتی۔ اس پر پیسے لگتے ہیں پیسے مالدار کے پاس ہوتے ہیں وہ پیسہ لگاتا ہے تا کہ اور پیسے کمائے۔ ہماری ساری سیاست اسی اصول پر کھڑی ہے۔ میں پنجاب اسمبلی گیا اور سپیکر کو کہا کہ ہماری سلور جوبلی ہے۔ انہوں نے شفقت فرمائی مجھے چائے وغیرہ پلائی۔ میں نے بحث کی کہ لوگ اجلاس میں کیوں نہیں آتے۔ انہوں نے جواب دیا میں کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ یہ بات عمران خان کو بھی کہی کہ پہلے آپ اپنا امیدوار کامیاب کرواتے ہو پھر چار چار سال اسمبلی میں نہیں آتے۔آگے ہو کر بائیکاٹ کرتے ہو۔ میں نے اپوزیشن لیڈر محمود الرشید سے سوال کیا کہ تمہارے بندے کیوں نہیں آتے؟ خواتین ہی آ جائیں تو کورم مکمل ہو سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس دن میاں شہباز شریف اسمبلی میں آنا شروع کر دیں گے۔ ہمارے لوگ بھی آ جائیں گے۔ وہ پورے سال میں ایک بار اجلاس میں آئے۔ کتاب میں لکھا ہے پارلیمنٹرین کے ’دو‘ رول ہیں۔ نمبر ایک وہ ایک سال تمام معاملات دیکھتا ہے اور بجٹ سازی میں تجویز دیتا ہے۔ نمبر دو وہ قانون سازی کرواتا ہے یا اس میں ترامیم کرواتا ہے۔ برطانیہ میں سارا سال قانون سازی ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے یہاں قانون سازی کا معیار یہ ہے کہ وزیراعظم کو نااہلی سے بچانا ہے اگلے الیکشن مرضی کے کس طرح کروانے ہیں۔ آئین سازی کر دو۔ترامیم کر دو ہمارے ارکان پارلیمنٹ مانگتے کیا ہیں۔ کتنی نوکریاں، کتنی سہولیات؟ میاں نوازشریف کی سوئی ”کیوں نکالا“ پر اٹک گئی ہے۔ اگر ان ہی طبقات نے حکمرانی کرنی ہے تو کیوں نہ بلوچستان کی طرح باریاں بانٹ لیں۔ اسمبلی کی مدت بڑھا کر چھ سال کر دیں۔ دو سال مسلم لیگ (ن) کے کے، دو سال پی پی پی کے اور دو سال تحریک انصاف کو حکومت دے دیں۔ لمبی ایکسرسائز کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میاں نوازشریف خوبصورت انسان ہیں۔ وہ لوگوں کے دلوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ زرداری صاحب مان جائیں تو میاں صاحب کو بادشاہ بنا دیں اور انہیں دس سال دے دیں۔ ن لیگ اور پی پی پی میں مفاہمت ہو جاتی ہے سنا ہے دونوں جانب سے دو، دو رکن کمیٹی بن چکی ہے جو معاملات طے کرے گی۔ بالآخر مک مکا ہو جائے گا۔ اگر میاں نوازشریف کو نااہلی کے بعد سزا ہو گئی تو کیا لاڑکانے والا بچ جائے گا۔ ہر سوسائٹی کا کچھ نہ کچھ معیار ہوتا ہے ہری پور سے آنے والی خبر کہ باپ نے بیٹی سے نکاح کر لیا اور مولوی سمیت 7 افراد روپوش ہو گئے۔ اس سے مولوی کا معیار بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مولوی نے ولدیت کے خانے میں نام نہیں دیکھا ہو گا؟ ہماری سوسائٹی میں بے پناہ ”ریپ“ کیسز ہوتے ہیں جس میں معصوم بچیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ دار ہمارے چینل، نیٹ، موبائل کا استعمال ہے۔ موبائل پر پیغامات کھلے عام آ رہے ہیں کہ مساج سینٹر کھلے ہوئے ہیں۔ لڑکے، لڑکیاں موجود ہیں۔ ہمارے پیارے نبی نے قیامت کی دیگر نشانیوں میں ایک اہم نشانی یہ بتائی کہ جس زمانے میں بدکاری عام اور نکاح مشکل ہو جائے گا۔ قیامت قائم ہو گی۔ اس میں کتنی حکومت ہے۔ بچپن میں سنتے تھے کہ بچے اور بچیوں کی شادی اس عمر میں کر دینی چاہئے۔ لیکن سسٹم دیکھیں۔ لڑکے کو پڑھتے پڑھاتے، سیٹ ہوتے 40,35 سال گزر جاتے ہیں۔ اسی طرح بچیوں کی عمریں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ہم نے نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہم خود برائی کے راستے کھولتے ہیں اور پھر انہیں جائز قرار دیتے ہیں۔ ہر قسم کی بے حیائی کو پناہ حاصل ہے۔ ہری پور کے اس بے غیرت باپ کو الٹا لٹکا دینا چاہئے مولوی کو پٹرول ڈال کر آگ لگا دینی چاہئے۔ پولیس ہو یا عدالت کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ سینکڑوں وکیل ملزموں کو بچانے آ جائیں گے۔ برائی کا ہر راستہ محفوظ بنا رکھا ہے۔ مولوی حضرات نے نکاح رجسٹر پیچھے سے خالی چھوڑ رکھے ہوتے ہیں۔ جو بدکاری میں پکڑا جاتا ہے سب سے پہلے پچھلے ریکارڈ میں پیسے دے کر نکاح کا اندراج کرواتا ہے۔ مختاراں مائی کا کیس ہم نے پکڑا۔ سب سے پہلے خبریں وہاں پہنچا۔ میں نے گورنر خالد مقبول کو کہہ کر وہاں وزیر کو بھیجنے کو کہا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو لوگ بے پناہ خوش تھے۔ کہہ رہے تھے 5 لاکھ پنجاب حکومت نے دیا ہے۔ 10 لاکھ وزیراعظم نے دیا ہے۔ 15 لاکھ غریب لوگوں کو ملا۔ وہاں ان کے پاس چارپائی تک نہ تھی۔ ان کی موجیں لگ گئیں۔ واپسی پر میری گاڑی کے سامنے ایک بوڑھا لیٹ گیا کہ جناب ہمارا بھی انصاف کر کے جائیں۔ اس کے ساتھ 6 بندوں نے کہا میری بیٹی کے ساتھ 10 بندوں نے زیادتی کی ہے۔ وہاں کے ناظم نے اس کو گریبان سے پکڑا کہ کب یہ واقعہ ہوا۔ وہ مان گیا کہ انہیں 15 لاکھ ملے ہیں مجھے 5 لاکھ ہی دے دو۔

حالات بہت تبدیل ہو چکے ، این آر او کاکو ئی امکان نہیں


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ایثار رانا نے کہا ہے کہ آصف زرداری کا نوازشریف کا فون نہ سننا ہمارے سیاستدانوں کی موقع پرستی کی ایک خوبصورت مثال ہے نوازشریف مفاد پرست ہیں تو زرداری بھی ان سے کم نہیں ہیں۔ زرداری نے بھی نواز کو اس وقت چوٹ لگائی ہے جب نوازشریف کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آ رہا ہے۔ نوازشریف کے ساتھ مکافات عمل کا کھیل جاری ہے۔ لیکن اس کے باوجود ممکن نہیں کہ زرداری نوازشریف کو اکیلا چھوڑ دیں۔ اگر اس وقت این آر او ہوا تو قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی اور اس کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہو گی، عوام کا عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر اعتماد ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا، این آر او کا مطلب قوم کے مستقبل سے کھیلنا ہو گا۔ اداروں سے اخلاقی قدروں کا ختم ہو جانا افسوسناک ہے۔ عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے کرپشن کے حوالے سے عوامی شعور کو بڑھایا اور کرپٹ چہروں کو بے نقاب کیا۔ عمران خان کا این آر او کے خلاف بیان عوام کے جذبات کی عکاسی ہے۔ اگر اب دھرنا ہوا تو یہ پچھلے دھرنے کی نسبت زیادہ طاقتور اور فیصلہ کن ہو گا۔ سینئر صحافی خالد چودھری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی بات سچ ہے کہ نوازشریف مشکل میں ہوں تو پاﺅں اور مشکل سے نکل جائیں تو گریبان پکڑتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے جب بھی نوازشریف کی مدد کی نوازشریف نے بعد میں اس کے خلاف کام کیا۔ میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی سب سے پہلے نوازشریف نے کی جب وہ کالا کوٹ پہن کر عدالت چلے گئے اسی عدالت جس پر آج اعتراض کر رہے ہیں۔ این آر او کا الزام سیاستدانوں کو دیا جاتا ہے تو کیا وہ ذمہ دار نہیں ہوتے جو ان کے ساتھ این آر او کرتے ہیں۔ این آر او کے جتنے ذمہ دار سیاستدان ہیں اتنی ہی اسٹیبلشمنٹ بھی ہے۔ سول حکومت میں فوجی عدالتوں کے قیام کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ اگر فوجی عدالتیں ہی یہاں چلانی ہیں تو سول کورٹس بند کر دیں۔ نیوکلیئر پاور ہونے کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے روس کی حالت زار بھی یاد رکھیں۔ سابق آئی جی پولیس ہمایوں شفیع نے کہا کہ نوازشریف کی کوشش ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر گرینڈ الائنس بنایا جائے تا کہ کیسز میں ریلیف مل سکے تاہم اب انہیں ریلیف نہیں مل سکتا، نوازشریف کو اب الیکشن بارے سوچنا چاہئے۔ پاکستان میں حالات بہت تبدیل ہو گئے ہیں اب این آر او کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ موجودہ حالات کے تحت فوجی عدالتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت کی فوجی عدالتوں کا ماضی کی فوجی عدالتوں سے موازنہ کرنا درست نہیں ہے۔ بیوروکریسی آج بھی اپنی پرانی ڈگر پر چل رہی ہے اسے بھی حالات کے تحت خود کو تبدیل کرنا ہو گا۔ تجزیہ کار مکرم خان نے کہا کہ نوازشریف کے بارے میں نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ جب یہ مشکل میں ہوں تو پاﺅں اور مشکل سے نکل جائیں تو گریبان پکڑتے ہیں۔ نواز بارے یہی بات پیرپگاڑا، جنرل اور جمالی بھی کرتے ہیں اور تو اور ن لیگ کی ایک اہم شخصیت بھی اس بات کی تائید کرتی ہے۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کی ہر طرف باتیں ہو رہی ہیں تاہم میرے خیال میں یہ صرف ہوا میں باتیں ہیں۔ این آر او کی خبریں بھی سننے میں آ رہی ہیں جس کے خلاف عمران خان نے دھرنے کی دھمکی دیدی ہے۔ بدقسمتی سے پارلیمنٹ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام پر بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار ہو گئے تھے۔ جندال بھارتی ایجنسی ”را“ کا نمائندہ ہے وہ پاکستان میں آ کر ملاقاتیں کرتا ہے۔ فوجی عدالتیں بنائی گئیں تاہم ان کو کیسز ہی نہیں بھجوائے جا رہے اب آرمی چیف کو وزیراعظم کو خط لکھنا پڑا ہے کراچی میں لاتعداد کیسز دفن کر دیئے گئے پنجاب اور بلوچستان میں بھی بہت سے کیسز دبا دیئے گئے۔ ملٹری کورٹس کو بہت تھوڑے کیسز اب تک بھجوائے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت ملٹری کورٹس کو توسیع نہیں دے گی۔