All posts by Asif Azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

اسپاٹ فکسنگ کا سنسنی خیز اسکینڈل، پاکستانی کرکٹرز کے ملوث ہونے کا انکشاف

دوحا(ویب ڈیسک)کرکٹ میں اسپاٹ فکسنگ کا ایک اور سنسنی خیز اسکینڈل منظرعام پر آگیا، 12-2011 کے دوران 15 انٹرنیشنل کرکٹ میچز میں اسپاٹ فکسنگ کا انکشاف ہوا ہے۔الجزیرہ ٹی وی نے اپنے دستاویزی فلم میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ تین میچز میں پاکستانی کرکٹرز بھی اسپاٹ فکسنگ میں شامل تھے ، 7میچزمیں انگلینڈ کے کرکٹرز اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے۔رپوٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 5 میچزمیں آسٹریلوی کرکٹرز کے علاوہ دیگر ممالک کے کھلاڑی بھی شامل تھے۔اسپاٹ فکسنگ کرنے والوں میں زیادہ تر بلے باز تھے جنہوں نے بیٹنگ کے دوران پوری طرح پرفارم نہیں کیا۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق جب اسپاٹ فکسنگ کی گئی اس وقت دنیائے کرکٹ کے نامور کھلاڑی بلے بازی کررہے تھے، کرکٹرز کو اسپاٹ فکسنگ کیلئے تیار کرنے والا بھارت کا ب±کی انیل منور تھا جس کے رابطے پاکستان ، بھارت، انگلینڈ اورآسٹریلیا کے کرکٹرز سے تھے۔رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور انڈیا کے درمیان لارڈ ز کرکٹ گراﺅنڈ پر کھیلےگئے میچ، کیپ ٹاو¿ن میں کھیلے گئے جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کے میچ میں اور 12-2011 میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی پاکستان اور انگلینڈ سیریز کے کئی میچوں میں اسپاٹ فکسنگ کی گئی۔ ان میچز میں 6 ٹیسٹ، 6 ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 3 میچز شامل تھے۔ اس کے علاوہ روہت شرما، بالاجی، سریش رائنا اور آسٹریلوی کرکٹراینڈی بکل بھی تصاویرمیں نظرآرہے ہیں۔اسپاٹ فکسنگ کے حوالے سے عرب میڈیا کی دستاویزی فلم کے مطابق جو میچ فکس کیےگئے ان میں 6 ٹیسٹ، 6 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز شامل ہیں۔ 15 انٹرنیشنل میچز میں اسپاٹ فکسنگ کے 26 واقعات رونما ہوئے۔عرب ٹی وی کے مطابق اسپاٹ فکسنگ میں بھارتی فکسر انیل منور ملوث ہے جس کی بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کے ساتھ بھی تصویر ہے۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں دستاویزی ثبوت بھارتی بکی انیل منور کے حوالے سے شامل کیے گئے ہیں۔ انیل منور کی بھارتی کپتان ویرات کوہلی، روہت شرما اور عمر اکمل کے ساتھ تصاویر بھی رپورٹ میں شامل ہیں تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بکی کے ساتھ موجود کھلاڑیوں کا کسی غلط کام میں ملوث ہونا ضروری نہیں۔اس حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ وہ الجزیرہ ٹی وی کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے والے اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے جنرل منیجر الیکس مارشل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ‘آئی سی سی کرکٹ کی ساکھ کو پاک صاف رکھنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے، پروگرام میں لگائے جانے والے الزامات کو نہ صرف سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے بلکہ اس کی مکمل اور جامع تحقیقات بھی کی جائیں گی’۔الیکس مارشل کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آئی سی سی کرکٹ میں کرپشن کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتا، کھیل کو کرپشن سے پاک رکھنے کے لیے آئی سی سی پہلے سے کہیں زیادہ وسائل بروئے کار لارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور مختلف زاویوں سے اس پر کام کیا جارہا ہے۔ الیکس مارشل نے کہا کہ ہم براڈکاسٹرز کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کی تفصیلات انٹرپول کو فراہم کرنے کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں بھی اس معاملے میں آئی سی سی کی معاونت کریں گی تاکہ کھیل سے ان مجرموں کو دور رکھا جاسکے۔آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس حوالے سے مزید کوئی معلومات ہوں تو وہ آئی سی سی سے رابطہ کرسکتا ہے۔

نہ یہ حکومت چل سکتی ہے اور نہ ہی ملک چلا سکتی ہے، آصف زرداری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان پرائم منسٹر سلیکٹ ہیں، نہ یہ حکومت چل سکتی ہے اور نہ ہی ملک چلا سکتی ہے۔اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ انہیں این آر او کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیوں کہ بعد میں سارے کیسزکھل گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب خودبرے نہیں ہیں بلکہ ان کی سوچ اور طور طریقے برے ہیں، انھیں لگایا ہم نے ضرور تھا مگر کرسی پر بیٹھنے کے بعد سوچ بدل جاتی ہے۔سابق صدر نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے دور میں مستقبل کی پالیسیاں بنائیں جو میاں صاحب کو پسند نہ آئیں اور جب ہم نے حکومت سنبھالی تو امریکی مدد بند ہوگئی تھی لیکن ہم نے روپے کی قدر گرنے نہیں دی۔آصف علی زرداری نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان پرائم منسٹر سلیکٹ ہیں، نہ یہ حکومت چل سکتی ہے اور نہ ہی ملک چلا سکتی ہے لہٰذا تمام سیاسی جماعتیں حکومت کیخلاف قرارداد لائیں۔پی پی صدر نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے سوال پر جواب دیا کہ مجھ پر کیسز زیادہ تر نواز شریف کے دور کے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فاصلے کم نہیں ہوسکتے۔

نوازشریف کی قانونی مشیروں سے اپنے خاندان پر بنائے گئے مقدمات پر مشاورت

لاہور (ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے اپنے اور شہباز شریف کے کیسز سمیت دیگر مقدمات کےحوالے سے قانونی مشیروں سے مشاورت کی۔ نوازشریف نے قانونی مشیروں کو شہباز شریف کے کیس میں تمام قانونی آپشن بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکلاء خواجہ حارث، اعظم نذیر تارڑ، نصیر بھٹہ اور سابق سیکریٹری پراسیکیوشن سینیٹر رانا مقبول احمد جاتی امرا لاہور پہنچے جہاں انہوں نے سابق وزیراعظم سے ملاقات کی۔ن لیگ کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے اپنی خاندان کے ارکان پر قائم مقدمات کے حوالے سے مشاورت کی۔نوازشریف نے خصوصاً شہباز شریف کیس پر بات چیت کرتے ہوئے وکلاءکو ہدایت کی کہ شہباز شریف کے کیسز پر تمام قانونی آپشن بروئے کار لائےجائیں۔اس موقع پر نصیر بھٹہ ایڈووکیٹ نے یقین دہانی کرائی کہ شہباز شریف کے آئندہ ریمانڈ کی بھرپورمخالفت کی جائے گی۔یاد رہے کہ آشیانہ ہاو¿سنگ اسکینڈل کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف جسمانی ریمانڈ پر نیب کی حراست میں ہیں۔نیب لاہور نے 5 اکتوبر کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا، تاہم ا±ن کی پیشی پر انہیں آشیانہ اقبال ہاو¿سنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

سورج کی روشنی سے بجلی بنانے کا ایک اور سستا طریقہ ایجاد

انڈیانا(ویب ڈیسک) سائنس دانوں نے سورج کی حرارت سے بجلی پیدا کرنے کے لیے شمسی (سولر) پینل کے بجائے سرامک شیٹس کے استعمال کا کامیاب تجربہ کیا ہے، اس طریقے میں لاگت بھی کم ا?تی ہے اور یہ نہایت محفوظ بھی ہے۔سائنسی جریدے نیچر کے مطابق امریکی یونیورسٹی پرڈیو کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے ایک ایسا مادہ تیار کیا ہے جو شمسی توانائی کو حرارت میں تبدیل کرکے بجلی پیدا کرسکتا ہے۔
شمسی توانائی سے حرارت اور حرارت کو برقی توانائی میں تبدیل کرنے کے اس حیرت انگیز عمل کے لیے سائنس دانوں نے سرامک کو استعمال کیا ہے اور اس عمل میں بہت کم لاگت آتی ہے ساتھ ہی یہ ماحول دوست بھی ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی کو حرارتی شکل میں جمع کرنے میں بہت کم لاگت آتی ہے جب کہ سولر پینل میں یہی عمل بیٹریوں سے کیا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے ٹربائن کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جو کہ کافی مہنگا پڑتا ہے۔سائنس دانوں نے سولر پینل سے چھن کر جمع ہونے والی کرنوں کو حرارت میں تبدیل کرنے کے عمل کے بعد اسے برقی توانائی میں تبدیل کرنے کے لیے بیٹری یا ٹربائن کے بجائے خصوصی طور پر تیار کردہ سرامک کی شیٹس کو استعمال کیا ہے جس سے حرارتی توانائی بآسانی برقی توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

روشن سطروں اور چمکتے حرف والی دنیا کی انوکھی کتاب

ٹوکیو(ویب ڈیسک)جاپان میں ایک آرٹسٹ نے ایسی کتاب تیار کرلی جسے قاری جیسے جیسے پڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے آنے والی سطر روشن ہوتی چلی جاتی ہے۔جاپان کے ناول نگار یوکا اوہاشی مقامی آرٹ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور نت نئے تجربات سے اپنے مداحوں اور اساتذہ کو حیران کرتے آئے ہیں۔ اس بار وہ مداحوں کے لیے ایک روشن کتاب لے کر آئے ہیں جس کی سطریں اور حروف یوں چمکنے لگتے ہیں گویا صفحے کے زیریں حصے میں ننھے ننھے بلب نہاں ہوں، لیکن یہ چمک دمک کسی روحانیت کا معجزہ نہیں بلکہ اس چمتکار کے پیچھے ایک راز پوشیدہ ہے؟جاپانی آرٹسٹ نے اپنی کتاب کے حروف کو لیزر آری کی مدد سے کاٹ کر علیحدہ کرلیا اور حروف کی خالی جگہوں پر ایک ’ایل ای ڈی اسٹرپ‘ چسپاں کردی جب یہ ایل ڈی اسٹرپ انسانی لمس محسوس کرتی ہے تو متحرک ہوجاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بلب روشن ہوگئے ہوں اور جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے ویسے ویسے روشنی تیز ہوجاتی ہے۔جاپانی ناول نگار نے اپنی تخلیق کو سوشل میڈیا پر صارفین کے ساتھ شیئر کیا تو لوگ محو حیرت رہ گئے اور کچھ ہی وقت میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگوں نے اسے پسند کیا جب کہ 50 ہزار کے لگ بھگ افراد نے اسے ری ٹویٹ کیا جس سے اس کتاب میں لوگوں کی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔جاپانی آرٹسٹ نے مداحوں کی پذیرائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے صارفین کا شکریہ ادا کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے مداحوں کو کتاب کی عدم دستیابی کی خبر سنا کر رنجیدہ بھی کردیا تاہم انہوں نے مداحوں کو کتاب کی مارکیٹ میں دستیابی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے کی منسوخی پر روس کی امریکا کو جوابی دھمکی

ماسکو(ویب ڈیسک)امریکا کا جوہری ہتھیاروں سے متعلق معاہدہ ختم کرنے پر روس نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے امریکا کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق معاہدے کو ختم کرنے کے اعلان کو ’نہایت خطرناک قدم‘ قرار دیتے ہوئے امریکی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکا کی معاہدے سے دستبرداری چند رعایتوں کے حصول کے لیے بلیک میلنگ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اگرامریکا اسی طرح عالمی معاہدوں سے نکلتا رہا تو جوابی کارروائی کے لیے بشمول عسکری ٹیکنالوجی کے کوئی اور آپشن نہیں رہے گا۔روس کے نائب وزیر خارجہ نے عالمی قوتوں سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں اسٹریٹیجک استحکام کے لیے اس معاہدے کا برقرار رہنا بہت ضروری تھا لیکن عالمی سلامتی کے حوالے سے خاص اہمیت کے حامل معاہدے کی منسوخی سے اب نہ تو عالمی برادری کو سمجھ آئے گی اور نہ ہی کوئی امریکا کی مذمت کرے گا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1987 میں روس کے ساتھ کیے گئے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ روس مسلسل معاہدے کی خلاف وری کر رہا ہے۔ اس لیے معاہدے کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں بچا۔