تازہ تر ین

سرکاری ہسپتالوں سے نو مولود بچوں کا اغوا سنگین مسئلہ ،حکومت فوراًنوٹس لے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ گزشتہ روز عمران خان سے ہماری ملاقات ہوئی تھی اخبارات کے ایڈیٹروں، چینلز کے مالکان کی۔ یہ ملاقات اڑھائی پونے تین گھنٹے جاری رہی اس میں سب سے بڑی خبر جو آج میڈیا پر آئی کہ شاید ہمیں آئی ایم ایف جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے کیونکہ اس سے پہلے میں دو غیر ملکی دورے کرنا چاہتا ہوں اور ہو سکتا ہے کہ ان دوروں میں کوئی معاملہ ایسا ہو جائے کہ ہمیں ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے آج تاریخیں آ گئی ہیں ان دوروں کی 23 اکتوبر کو سعودی عرب جا رہے ہیں عمران خان صاحب سعودی عرب میں سب سے بڑا مسئلہ جو ہے پاکستان کو بہت مرتبہ سپورٹ دی ہے۔ اور سعودیہ کی سپورٹ کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ سال بھر کے لئے جتنا تیل ادھار پاکستان کو دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سال تک پاکستان کی تیل کی ضرورت جو ہے اس پر ہمیں پیسے نہیں خرچ کرنے پڑیں گے اور بہت بڑی رقم جو ہے وہ بچ رہے گی۔ اس کے علاوہ 3 نومبر کو وزیراعظم چین جا رہے ہیں۔ چائنا کے بارے میں ہمیں امید ہے کہ ہمیں کچھ نہ کچھ وہاں سے سپورٹ مل سکتی ہے کسی قسم جس سے ہمارے کچھ احراجات کم ہو جائیں اور کچھ نہ کچھ ہمیں مالی امداد مل سکے یہ دو معاملات تھے جن کے بارے میں گزشتہ شام جب ہم عمران خان صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے ان کی طرف اشارہ کیا تھا اور اس پر ہم نے بھی بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا خدا کرے کہ کوئی ایسی صورت نکل آئے کہ اگر ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا بھی پڑے تو ہمیں زیادہ بڑی امداد کے لئے نہ جانا پڑے اور جتنے ہمارے اپنے مالی معاملات درست ہوں گے اتنا اتنا ہمیں کڑی اور سخط شرائط پر آئی ایم ایف سے قرض نہیں لینا پڑے گا۔ اگلے تین چار دن میں اس کا پتہ چل جائے گا۔اصل میں جو غیر ملکی دورے ہوتے ہیں یہ دونوں ملکوں کے اشتراک سے ان کی تاریخ طے ہوتی ہے۔ دونوں کے درمیان معاملات کی رفتار جو ہوتی ہے کبھی ایسی نہیں ہوتی کہ فوراً ہو جائے ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ سابق سفیر عابدہ حسین نے کہا ہے کہ مختلف مواقع پر سعودی عرب نے ہمیں ادھار تیل دیا ہے اور اب بھی وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں گرانٹ بھی ڈونیٹ بھی دے سکتے ہیں اور چین کا بھی ہے کہ وہ یہ چاہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے شکنجے میں نہ آئیں تو وہ ہماری مالی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں امکانات کے دائرے میں ہیں۔
ضیا شاہد نے بیگم عابدہ حسین سے سوال کیا کہ لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ان دو ملکوں کے علاوہ بھی کوئی دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جو اس مرحلے پر ہماری کچھ مدد کر سکتے ہیں خاص طور پر مسلم ممالک کیا ان میں سے ترکی ایک بڑا ملک ہے۔ کیا وہاں سے بھی کوئی مدد مل سکتی ہے کیونکہ نواز دور میں جو جوائنٹ وینچرز کوئی اس طرح کی مالی مدد نہیں ہوئی جس سے کوئی وقتی طور پر فوری مالی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔
بیگم عابدہ حسین نے کہا ترکی کی اقتصادی حیثیت اتنی مضبوط نہیں جا رہی لیکن بہرحال ہم ان کی طرف رجوع کر سکتے ہیں اور وہ پاکستان کے لئے احسن جذبات تو رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایران بھی ہے اس کے اقتصادی حالات کوئی اچھے نہیں لیکن وہ تجارتی طور پر ہماری معاونت کر سکتے ہیں۔ یہ دو ریاستیں ہیں اور پھر روس کی جانب کی ہمیں توجہ دینا ہو گی تو اس کے پاس پیسہ بہت ہے تو ہمیری مدد کر سکتے ہیں۔
ضیا شاہد نے سیدہ عابدہ حسین سے سوال کیا کہ جس طرح کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف امریکہ کی چھتر چھایا میں ہے کیونکہ آئی ایم ایف کے جو رکن ممالک ہیں ان پر امریکہ کی بڑی چھاپ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نہ چاہے تو آئی ایم ایف سے مدد بھی نہیں مل سکتی اور آئی ایم ایف کی شرائط بھی بڑی کڑی ہوتی ہیں کہ ملکوں کے لئے ذرا انہیں ماننا بھی کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ کسی قسم کی شرائط ہوتی ہیں کہ جس کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف بہت بڑی کڑی شرائط پر قرض دیتا ہے۔
بیگم عابدہ حسین نے جواب دیا کہ بنیادی طور پر آئی ایم ایف جو قرضہ دیتا ہے وہ ترقیاتی اخراجات کو روک دیتی ہیں ان کا یہ اصرار ہوتا ہے کہ خرچ کم کئے جائیں اور جو ہمارے قرض ہیں ان کی ادائیگی اس کی رفتار کو بہتر کیا جائے۔
سابق صدر پرویز مشرف کی بیماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ آج کے روزنامہ امت میں یہ خبر ہے۔ امت کراچی کا بڑا اخبار جس نے یہ خبر دی ہے کہ پرویز مشرف صاحب کو ایڈز کی تشخیص ہو گئی ہے۔ لیکن اس سے پہلے میں ایک واقعہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے سپریم کورٹ میں ایک بند لفافہ دیا گیا کہ پرویز مشرف صاحب جس مرض میں اس کا اس میں ذکر ہے اس میں مرض کا نام نہیں دیا گیا البتہ یہ کہا گیا تھا کہ یہ مرض جان لیوا ہو سکتا ہے اب میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس کا جواب تو ان کے ڈاکٹر امجد صاحب ہی دے سکتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ پرویز مشرف کی بیماری کافی سیریس ہے۔ اگر کمیشن ان کا بیان باہر جا کر لے لے تو وہ مقدمہ آگے بڑھ سکتا ہے۔
وال سٹریٹ کی خبر جس میں شریف خاندان پر الزام ہے کہ کے الیکٹرک کے سودے میں انہوں نے 2 کروڑ ڈالر لئے ہیں۔ یہ پیسے انہوں نے عارف نقوی سے وصول کئے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ یہ الزام تو ہے لیکن عام طور پر وال سٹریٹ جرنل جیسا اخبار جتنے سخت قوانین امریکہ میں ہیں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ایک اخبار نے غلط خبر دی ہے تو وہ اخبار جو ہے اس پر اتنی کڑی ضرب عدالتی کارروائی میں پڑتی ہے کہ بعض اخبارات تو صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں جن کو اتنے جرمانے ہوئے ہیں کہ وہ اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ سکے۔ وال سٹریٹ جرنل بڑا اخبار ہے اگر انہوں نے رقم بھی بتائی ہے اور نام بھی دیا ہے کہ کے الیکٹرک کے سودے میں اتنی رشوت دی گئی تھی۔ مجھے تو ذاتی طور پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ یہ خبر درست ہو گی۔
چیف جسٹس پاکستان نے 5 ہسپتالوں بارے نوٹس لے لیا ہے ان کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی فیس ہے اس کو فیکس کریں۔ بار بار فیس نہیں لی جائے گی عوام کو بڑی شدید مشکلات کا سامنا تھا لاکھوں روپے عوام سے بٹورے جا رہے تھے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے یہ بڑا انقلابی قدم اٹھایا ہے میں نے اس تفصیلی آرڈر اور اس پر جو عدالتی افسر کی مہر ہے اور ان کے دستخط ہیں وہ خود دیکھے ہیں ایک تو یہ ہے کہ لاہور کے بڑے بڑے ہسپتالوں میں جیسے ڈاکٹرز ہسپتال نمبرون پر ہے اور پھر نیشنل ہسپتال اس انتظامیہ کا ایک اور بڑا ہسپتال ہے۔ سرجی میڈ ہسپتال ہے جہاں بڑی بڑی فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔
ضیا شاہد نے ڈاکٹر یاسمین راشد سے سوال کیا کہ جو شکایات لاہور میں بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں کے بارے میں جو تفصیلی خبر ہے اس میں جس طرح کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ایک دفعہ فیس لے گا۔ نرس کے اخرجات ایک ہی دفعہ دیئے جائیں گے اور مقرر کردہ ہے کہ ایک مرتبہ فیس لانے کی زیادہ سے زیادہ مقدار یہ ہو گی۔ اس سے کچھ مریضوں کو سہولت ہو گی اور آپ کیا سمجھتے ہیں اور یہ قابل عمل بھی ہو گا کیونکہ کوئی پولیس تو ہر ہسپتال میں کھڑی ہو نہیں سکتی اگر ہسپتال والے جن کے پاس مریض بیچارے جان بچانے کے لئے جاتے ہیں تو جو بھی ان کی شرائط ہوتی ہیں ان کو مان لیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس آرڈر کے بعد بارے میں؟
ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر تو عدالتی حکم ہے اس پر میرے لئے کمنٹ کرنا بڑا مشکل ہے۔ اصل میں جو یہ ڈیوٹی ہے انہوں نے ہیلتھ کیئر کمیشن کو دی تھی اور ہیلتھ کیئر کمیشن نے ساری فیس سٹرکچر پر انویسٹی گیٹ کرنا تھا اور اس پر اپنی رپورٹ دینا تھی اور رپورٹ کے مطابق ہر کوئی انہوں نے آگے فیصلے کرنے تھے۔ دو باتیں بہت اہم ہیں کرنے کی۔ ایک تو یہ ہے کہ جی مریضوں کے لئے سرکاری ہسپتال تو موجود ہیں اور میرا خیال ہے کہ آپ جانتے ہیں جو افورڈ نہیں کر سکتے وہ سرکاری ہسپتالوں میں آیا کریں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہسپتالوں کو عملدرآمد کرنا پڑے گا، کسی نے نہیں کہا تو سخت ایکشن ہو سکتا ہے۔ بڑے ہسپتالوں کی فیسیں ناقابل بیان حد تک بڑھ گئی تھیں۔ ہسپتال کے کمرے میں کرایہ فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے سے زیادہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو بس پر سبسڈی ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کے حق میں ہوں۔ سبسڈی عوام کے پیسے سے ہی دی جاتی تھی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عوام ہی کے پیسے سے سبسڈی مشہوری کیلئے دی گئی تھی۔ نون لیگ کے دور میں لوگ خاموش رہے اور سمجھتے رہے کہ چیزیں سستی مل رہی ہیں حالانکہ صورتحال اس کے برعکس تھی، قومی خزانے سے ہی ان پر صرف کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معروف شاعر احمد فراز کے بیٹے شبلی فراز بھی اس 3 رکنی کمیٹی میں شامل تھے جنہوں نے اعتراض کیا کہ پی ٹی اے (PTA) موبائل فون تصدیق کے حوالے سے لوگوں کو الجھا رہا ہے جو موبائل استعمال کرنا چاہتا ہے اس کو اجازت دی جائے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ ٹیکس کٹوتی ختم کرنے کا بڑا فیصلہ دے چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے چھوٹے شہروں میں ہسپتالوں سے نومولود بچے غائب ہو جانے کی شکایات بہت زیادہ ہیں۔ حافظ آباد میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر شدید احتجاج بھی ہوا۔ ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں کہ بیا پیدا ہو تو اس کی جگہ بیٹی رکھ دی جاتی ہے۔ ایسے واقعات میں ہسپتال کا عملہ ہی ملوث ہوتا ہے۔
سنیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ موبائل فون تصدیق کے حوالے سے آئی ٹی کمیٹی میں بات ہوتی تھی۔ گزشتہ روز میٹنگ میں شبلی فراز سمیت دوسرے رہنما بھی تھے۔ جی ٹی اے نے موبائل رجسٹریشن کیلئے 8484 نمبر دیا تھا۔ پاکستان میں بدقسمتی سے چوری شدہ، چائنہ سے آنے والے امپورٹڈ اور سمگل شدہ ایک ہی آئی ایم ای آئی پر لاکھوں فون ہیں۔ جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے جب کسی فون کو ٹریس کرنا چاہتے ہیں تو نہیں ہوتا۔ اس مسئلے پر ہم نے آخری ادوار میں بھی کوشش کی تھی۔ دراصل ٹیلی کام سیکٹر میں کچھ لوگوں نے پیسے بنانے کا پورا پروگرام بنایا تھا۔ سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ کیا بیلنس ڈلوانے پر ٹیکس ختم کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی اے جو کر رہا تھا اس سے امیروں کے مہنگے فون چلتے رہنے تھے جبکہ غریبوں کے سستے فون بند ہو جانے تھے، جس کی ہم نے مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ دُعا ہے مشرف کو ایڈز نہ ہو۔ چیف جسٹس ہی جانتے ہیں لفافے میں کیا تھا، وہ بہتر فیصلہ کریں گے۔ میموگیٹ سکینڈل کو بطور وزیر داخلہ بھی ڈیل کیا تھا۔ حسین حقانی اس وقت امریکہ میں ہیں۔ اس میں بھی لیگل چیزیں جس میں چھانٹی کی ضرورت ہے۔ یقین ہے چیف جسٹس معاملے کی تہہ میں جائیں گے۔ جب تحقیقات کروائیں گے تو فیصلہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔
نمائندہ حافظ آباد جاوید اسد نے بتایا کہ شہر کے نواحی گاﺅں کی زہرہ بی بی کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں آپریشن ہوا، وارڈ میں منتقل کیا تو ایک بچہ، اس نے کہا میرے 2 بچے تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے خاتون کے الزام پر انکوائری کا حکم جاری کر دیا ہے۔



خاص خبریں



سائنس اور ٹیکنالوجی



تازہ ترین ویڈیوز



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv